اونٹ کو نحر کرنے کا مسنون طریقہ قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

اونٹ کو نحر کرنا

باقی جانوروں کو لٹا کر ذبح کرنا اور اونٹ کے بائیں گھٹنے کو باندھ کر کھڑے کھڑے نحر کرنا افضل و مستحب عمل ہے، دلائل حسب ذیل ہیں۔
① اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
﴿وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّن شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ ۖ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ﴾
اور قربانی کے بڑے جانور، ہم نے انھیں تمھارے لیے اللہ کی نشانیوں سے بنایا ہے، تمھارے لیے ان میں بڑی خیر ہے۔ سو ان پر اللہ کا نام لو، اس حال میں کہ گھٹنا بندھے کھڑے ہوں۔
سورة الحج: 36

تفسیر :

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ﴿صَوَافَّ﴾ کی تفسیر قیاما ہے (یعنی اونٹوں کو کھڑا کر کے نحر کرو)۔
صحیح بخاری، کتاب الحج، باب نحر البدن قائما۔
② مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ﴿صَوَافَّ﴾ کی تفسیر یوں بیان فرمائی:
معقولة إحدى يديها، قائمة على ثلاث قوائم
”نحر کے وقت اونٹ کی ایک (بائیں) ٹانگ بندھی ہو اور وہ تین ٹانگوں پر کھڑا ہو۔“
حسن : تفسیر طبری: 632/18۔
③ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ونحر النبى صلى الله عليه وسلم بيده سبع بدن قياما
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سات اونٹ اپنے ہاتھ سے نحر کیے کہ وہ کھڑے تھے۔“
صحیح بخاری کتاب الحج، باب من نحر هدیة بیده: 1712۔ سنن ابو داؤد، كتاب المناسك، باب في الاقران: 1796
④ زیاد بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
رأيت ابن عمر رضي الله عنهما أتى على رجل قد أناخ بدنته ينحرها، قال: ابعثها قياما مقيدة، سنة محمد صلى الله عليه وسلم
میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ ایک آدمی کے پاس آئے جو اپنے اونٹ کو بٹھا کر نحر کر رہا تھا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اسے کھڑا کر کہ اس کا ایک گھٹنا بندھا ہو، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے۔
صحیح بخاری کتاب الحج، باب نحر الإبل مقيدة: 1713۔ صحیح مسلم، كتاب الحج، باب استحباب نحر الابل: 132۔ سنن أبي داؤد، كتاب المناسك، باب كيف تنحر البدن: 1768۔ مسند أحمد : 139/2۔

فوائد:

① امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اونٹ کو تین ٹانگوں پر کھڑا کر کے اور بایاں گھٹنا باندھ کر نحر کرنا مستحب ہے، شافعی، مالک، احمد اور جمہور علماء کا یہی موقف ہے۔ ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اونٹ کو کھڑا کر کے اور بٹھا کر نحر کرنے کی فضیلت برابر ہے، لیکن مؤخر الذکر دونوں طریقے خلاف سنت ہیں۔
شرح النووى: 69/9-70۔
② حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مذکورہ صفت تینوں ٹانگوں پر کھڑا کر کے اور بایاں گھٹنا باندھ کر اونٹ کو نحر کرنا افضل ہے اور جاہل کو سنت کی تعلیم دینا اور خلاف سنت فعل پر خاموش نہ رہنا مستحب فعل ہے، اگرچہ خلاف سنت کام پر خاموشی اختیار کرنا مباح ہے۔
فتح البارى: 699/3

نحر کرنے کا مسنون طریقہ:

ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
والسنة نحر الإبل قائمة معقولة يدها اليسرى، فيضربها بالحربة فى الوهدة التى بين أصل العنق والصدر
”اونٹ کو نحر کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ نحر کے وقت اونٹ کھڑا ہو اور بایاں بازو بندھا ہوا ہو، پھر نحر کرنے والا اس کی گردن اور سینے کے درمیان گڑھے میں نیزہ مارے۔ یہ نحر کا مسنون طریقہ ہے اور مالک، شافعی، اسحاق اور اہل منذر رحمہ اللہ نے اس طریقہ کو مستحب قرار دیا ہے۔“
المغني لابن قدامه : 181/7۔