علمِ غیب صرف اللہ کے لیے خاص ہے: صفتِ علم کا اثبات اور باطل عقائد کا رد

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ عبداللہ ناصر رحمانی کی شرح کتاب التوحید من صحیح بخاری سے ماخوذ ہے۔

کتاب التوحید

بَاب: قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:[عَالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا] (الجن:26). وَ:[إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ] (لقمان:34). وَ:[أَنْزَلَهُ بِعِلْمِهِ] (النساء:166). [وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنْثَى وَلا تَضَعُ إِلا بِعِلْمِهِ] (فاطر:11). [إِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ] (فصلت:47).
قَالَ يَحْيَى: [الظَّاهِرُ] عَلَى كُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا. [وَالْبَاطِنُ] (الحديد:3): عَلَى كُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا.
سورۃ الجن27: میں استثنا ہے کہ رسول جو اس کا نمائندہ ہے اس کے بندوں کی طرف اسے آگاہی دیتا ہے کچھ غیبی امور کی ورنہ کسی کو اپنے غیب سے مطلع نہیں فرماتا۔
علم الغیب اللہ تعالی کا خاصہ ہے، عالم الغیب ترکیبی نام ہے جو اللہ تعالی کے لیے مخصوص ہے۔ اللہ تعالی ہی ہر غیب اور حاضر کو جاننے والا ہے۔

سوال: غیب کیا ہے؟

جواب: لغوی اعتبار سے مصدر ہے، اس سے مراد ہر وہ شے جو ہم سے غائب اور اوجھل ہو۔
کسی بھی شے کا ادراک پانچ حواس سے ہوتا ہے۔
[1] بصر (دیکھ کر)
[2] سن کر
[3] چکھ کر
[4] چھو کر
[5] سونگھ کر
پانچ حواس جو انسان کو دیے گئے ہیں، ان پانچ میں سے کسی ایک کے ساتھ وہ کسی شے کا ادراک حاصل کرتا ہے۔ اگر کوئی چیز ان سارے حواس سے دور ہو وہ غیب کہلاتی ہے۔ ہمیں اس کا علم نہیں صرف اللہ تعالی کو اس کا علم ہے۔ وہ عالم الغیب ہے۔
والشہادۃ: کا معنی ہے جو چیز ہمارے سامنے موجود جس کو ہم دیکھ رہے اور سن رہے ہیں۔ یا چکھ کر اس کا علم حاصل کر رہے ہیں، جو ہمارے حواس کے دائرہ میں ہے۔
اللہ تعالی عالم الغیب والشہادہ: کہ اللہ تعالی ہر غیب اور حاضر چیز کو جاننے والا، پوری کائنات کا علم اس کے پاس ہے، یہ علم اللہ تعالی کی صفت ہے اور یہ اللہ تعالی کی ذاتی صفت ہے، یہ صفت لازمہ بھی کہلاتی ہے۔ یہ وہ صفت ہے جو اللہ تعالی کی ذات کے ساتھ ہمیشہ قائم، ہمیشہ وہ جاننے والا ہے اور کوئی لمحہ ایسا نہیں ہے کہ اس کا علم کام نہ کرتا ہو، ہر چیز جانتا ہے، ہمیشہ سے جانتا ہے، یہ صفت علم، صفت لازمہ، صفت ذاتیہ یا وہ صفت جو قائم بذاتہ ہے۔
ایک صفت فعلیہ ہوتی ہے: جو صفت اختیاریہ کہلاتی ہے لازمہ نہیں۔
اللہ کے اختیار میں کوئی کام انجام دینا (جیسے) علیم سمیع اور بصیر ہے یہ صفات لازمہ ہیں۔
مگر صفات فعلیہ صفات اختیاریہ ہیں کوئی بھی کام اللہ تعالی انجام دے یا نہ دے، صفت کلام ہے۔ کہ اللہ تعالی ہر وقت نہیں کلام کرتا، جب چاہے کلام کرے اور جب چاہے نہ کلام کرے۔
صفت نزول: آسمان اوّل کی طرف نزول کرنا جب چاہے اللہ تعالی نزول فرما لے۔ احادیث میں رات کے وقت نزول ثابت ہے۔
[عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ينزل ربنا تبارك وتعالى كل ليلة إلى السماء الدنيا حين يبقى ثلث الليل الآخر…]

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ (صحیح البخاری:1145)
حج کے موقع پر میدان عرفات میں اللہ تعالی کا نزول ثابت ہے۔
[وما من يوم أفضل عند الله من يوم عرفة ينزل الله إلى السماء الدنيا فيباهي بأهل الأرض أهل السماء]

اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرفہ کے دن سے زیادہ فضیلت والا دن اور کوئی نہیں ہے اس دن میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور آسمان والوں کے سامنے اہل زمین پر فخر کا اظہار کرتا ہے] (صحیح ابن حبان:3853)
یہ صفات اختیاریہ ہیں صفات فعلیہ ہیں۔
مطلقا علم اللہ تعالی کی صفت ذاتیہ ہے، یہ کسی کو حاصل نہیں۔
عالم الغیب کسی کا نام رکھنا ناجائز ہے، اور اللہ کے علاوہ کسی شخصیت میں علم الغیب کا عقیدہ کفر ہے۔
اللہ تعالی فرماتا ہے: [قُلۡ لَّا یَعۡلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ الۡغَیۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ؕ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ]
کہہ دے اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے غیب نہیں جانتا اور وہ شعور نہیں رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ (النمل:65)
علم الغیب اللہ تعالی کی صفت ذاتیہ ہے اللہ تعالی کا روزی دینے کا جو منصب ہے وہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ علیم ہے اس کو ساری مخلوقات بحر و بر کا علم ہے اس کا علم ہر مخلوق اور سارے خزانوں پر محیط ہے۔
یہ باب قائم کر کے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے گمراہ فرقہ جہمیہ کا رد کیا ہے وہ اللہ تعالی کے ناموں کو نہیں مانتے حالانکہ قرآن سے اللہ تعالی کے نام ثابت ہیں اس باب میں جو آیات امام بخاری رحمہ اللہ نے پیش کیں ان میں صفت علم کا ذکر ہے۔
سورۃ لقمان 34: سے مقصود صفت علم کا اثبات
سورۃ النساء 166: سے مقصود صفت علم کا اثبات
سورۃ فاطر 11: سے مقصود صفت علم کا اثبات
حمل کی ساری مدت اللہ تعالی کے علم میں ہے کہ اللہ تعالی حمل کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے۔
سورہ فصلت آیت 47: قیامت کے وقوع کا وقت اور سارے احوال اللہ تعالی کے علم میں ہیں۔
معتزلہ اللہ تعالی کی صفت، صفت علم کے منکر ہیں۔
اور ایک فرقہ قدریہ جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں یہ تقدیر کا انکار اللہ تعالی کے علم میں سابق کی بنا پر کرتے ہیں یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کو پہلے سے (نعوذباللہ) کسی شے کا علم نہیں ہوتا جب ایک کام ہو جاتا ہے تو اللہ تعالی کو معلوم ہوتا ہے۔ علم سابق کا انکار حالانکہ علم سابق تقدیر کے ارکان ہیں، ان میں سے ایک لازمی رکن ہے۔
رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:
[عن عبد الله بن عمرو بن العاص، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: كتب الله مقادير الخلائق قبل أن يخلق السماوات والأرض بخمسين ألف سنة، قال: وعرشه على الماء.]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی تقادیر، آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ دی تھیں اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ (صحیح المسلم:2653)
اپنے علم کی بنیاد پر لکھی تھی سارے احوال اس کے علم میں ہیں، تمام احوال کو جانتا ہے یہ اس کا علم سابق ہے۔ ہر ،،ماکان،، جو کچھ ہو چکا جانتا ہے۔ ،،ما یکون،، جو ہونے والا ہے اس کو بھی جانتا ہے۔ یہ سارے نصوص اللہ تعالی کے علم سابق کو ثابت کرتے ہیں جبکہ فرقہ قدریہ جو تقدیر کا منکر ہے اور تقدیر پر ایمان لانے کا اہم شعبہ جو ہے، وہ اللہ کے لیے علم سابق کو ماننا ہے، اس کا وہ انکار کرتے ہیں۔
اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ہم ان تمام نصوص کی روشنی میں اللہ تعالی کی صفت پر ایمان لاتے ہیں وہی ذات عالم الغیب ہے۔ اور کوئی شخصیت کوئی جن فرشتہ انسان وغیرہ غیب نہیں جانتا۔ یہ اللہ تعالی کا خاصہ ہے اللہ کے علاوہ کسی اور مخلوق میں اس علم میں علم الغیب کو پیدا کرنا یہ ضلالت ہے کفر ہے۔
قال یحیی: امام فرّاء کا نام ہے جو کہ مشہور نحوی ہیں۔
یحیی بن زیاد الفراء ثقہ محدث اور تفسیر میں بھی ماہر تھے۔
تفسیر کا نام: معانی القران للفراء
بعض علماء ظاہر سے مراد ظاہری نعمت مراد لیتے ہیں زمین و اسمان چاند و سورج وغیرہ ان تمام کا خالق اللہ رب العزت ہے ان تمام مخلوقات کی بنا پر وہ ظاہر ہے کہ ہم اس کو جانتے ہیں کہ اللہ ہی ان کا خالق ہے اور باطن کا معنی یہ ہے کہ وہ لوگوں سے چھپا ہوا ہے۔