مضمون کے اہم نکات
توحيد فى العادت اور شرك فى العادت
توحید فی العادت کا مطلب یہ ہے: کہ اپنی عادتوں میں اللہ تعالیٰ کو اکیلا اور لاشریک سمجھنا۔
شرک فی العادت کا مطلب یہ ہے: کہ اپنی عادات میں توحید کو مد نظر نہ رکھنا۔ اس میں مندرجہ ذیل امور قابل ذکر ہیں:
شرکیہ نام رکھنا:
شرکیہ نام رکھنا مثلاً پیر بخش، میانداد، تحفه دستگیر وغیرہ۔ یہ نام بدل کر اللہ بخش، اللہ داد، تحفہ رحمن، عبد الرحمن، عبدالوہاب، عبداللہ جیسے توحید والے نام رکھنے چاہئیں، جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہﷺ نے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے نام تبدیل کیے۔
غیر اللہ کی قسم کھانا:
اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھانا شرک ہے۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے کہ اول تو مسلمان قسم ہی نہ اٹھائے لیکن اگر مجبور ہو جائے تو صرف اللہ کی قسم اٹھائے اور رسول اللہﷺ نے فرمایا: کہ غیر اللہ کی قسم کھانا شرک ہے۔
غیب کی باتیں پوچھنا:
نجومیوں وغیرہ سے غیب کی باتیں معلوم کرنے جانا اور ان پر یقین بھی رکھنا شرک ہے، جیسا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کہ جو شخص خبریں دینے والے کے پاس جائے، اس سے کوئی بات پوچھے تو اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ [مسلم، کتاب السلام، باب تحريم الكهانة و إتيان الكهان:2230]
اس وقت میرے سامنے اخبار جنگ لاہور مورخہ 17اپریل 1999ء ہے۔ جس کے صفحہ 8پر روحانیات کے ماہر اور دست شناس ایک باریش نجومی محمد یسین وٹو کی پیشین گوئیاں بیان کی گئی ہیں۔ جن کا عنوان ہے مستقبل میں کیا ہونے والا ہے؟ اس مضمون میں نجومی مذکور نے مندرجہ ذیل پیشین گوئیاں کی ہیں:
[1] صدر کلنٹن کسی بڑے حادثے سے دوچار ہو جائیں گے۔
[2] بھارتی وزیر اعظم واجپائی اقتدار سے محروم ہو جائیں گے۔
[3] پاکستان میں وافر مقدار میں معدنیات دریافت ہوں گئیں، جس سے ملک خوشحال ہو جائے گا۔
[4] نواز شریف اپنا موجودہ دور حکومت مکمل کریں گے۔
[5] مارشل لاء کا دور دور تک امکان نہیں۔
اب مارچ 2004ء ہے یعنی ان پیشین گوئیوں کو 5سال مکمل ہو چکے ہیں۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ یہ باتیں سو فیصد جھوٹ ثابت ہو چکی ہیں۔
کلنٹن اب تک کسی حادثے سے دوچار نہیں ہوا۔
نہ واجپائی وزیر اعظم بھارت اب تک اقتدار سے محروم ہوا ہے۔
نہ معدنیات مذکور اب تک دریافت ہوئیں ہیں اور نہ ہی پاکستان خوشحال ہوا ہے۔
جنرل مشرف نے اکتوبر 1999ء میں حکومت پاکستان پر قبضہ کر لیا، نواز شریف اور اس کی حکومت برطرف کر دی گئی۔ اب تک نواز شریف جدہ میں ہیں اور وہاں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ سچ فرمایا خالق کا ئنات نے:
[قُلۡ لَّا یَعۡلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ الۡغَیۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ؕ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ]
کہہ دیجیے! اللہ کے سوا آسمان اور زمین میں کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا، انھیں اس کی بھی خبر نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ (النمل:65)
میں نوائے وقت کا با قاعدہ قاری ہوں، پچھلے کئی سالوں سے نوائے وقت لاہور میں چھپنے والی نجومیوں کی پیش گوئیاں جمع کر رہا ہوں، ان کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
یسین وٹو کی پیش گوئیاں:
① نوائے وقت لاہور کا سنڈے میگزین صفحه15 مورخہ 12 اپریل 1998ء:
[1] نواز شریف :بطور وزیر اعظم پانچ سال پورے کریں گے، البتہ شہباز شریف نواز شریف سے آگے نکلتے نظر آرہے ہیں۔
[2] مسئلہ کشمیر نواز دور ہی میں حل ہو گا اور اس ضمن میں عمل میں آنے والا فیصلہ پاکستان کے حق میں بہتر ہوگا۔
[3] 2001ء سے 2003ء کے درمیان جماعت اسلامی نواز شریف کی سپورٹ کرے گی اور خارجہ سطح پر ایک اسلامی بلاک وجود میں آئے گا جس میں پاکستان کے علاوہ سعودی عرب، ایران، عراق اور سوڈان وغیرہ شامل ہوں گے۔
[4] سرحد اسمبلی میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔
آپ نوٹ فرمائیں: کہ مندرجہ بالا سب پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں ۔ اکتوبر 1999ء میں نواز شریف کی حکومت ختم کر دی گئی اور وہ اب جدہ میں ہیں۔
② روزنامہ جنگ لاہور 17 اپریل 1999ء صفحہ 8
[1] رواں سال میں امریکہ کے صدر بل کلنٹن کسی حادثے سے دو چار ہوں گے۔
[2] واجپائی وزیر اعظم بھارت اس سال اقتدار سے محروم ہو جائیں گے اور بھارت میں شدید انتشار پھیلے گا۔
[3] اس سال سر زمین پاکستان سے نایاب معدنیات نکلیں گی۔
[4] اس سال کے اختتام تک نواز حکومت کئی کامیابیاں حاصل کرے گی۔
[5] نواز شریف کی حکمت اپنی میعاد پوری کرے گی ۔ 28 اکتوبر1999ء کے بعد اپوزیشن مزید کمزور ہو گی۔
[6] ملک میں مارشل لاء کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔
[7] عمران خان اور جمائما میں کبھی علیحدگی نہیں ہوگی ۔
[8] شریعت بل اسی سال منظور ہو جائے گا۔
آپ نے غور فرمایا:کہ وٹو صاحب کی مندرجہ بالا سب پیش گوئیاں 100فیصد غلط ثابت ہوئیں۔
③ نوائے وقت لاہور مورخہ 29 اپریل 2004ء:
[1] مستقبل قریب میں ملک میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔
[2] پیڑیاٹس کی وساطت سے پیپلز پارٹی کا جنرل مشرف کے ساتھ سمجھوتا ہوتا نظر آ رہا ہے۔
[3] آئندہ سال ملک میں عام انتخابات ہوں گے جن میں پیپلز پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہو گی۔
[4] جنرل پرویز مشرف 31 دسمبر 2004ء سے پہلے بہر صورت وردی اتار دیں گے اور صدر پاکستان کی حیثیت سے کام کرتے رہیں گے۔
وٹو صاحب کی مندرجہ بالا سب پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔ اس وقت نوائے وقت لاہور مورخہ17 مارچ 2005ء میرے سامنے ہے، جس کے صفحہ 12 پر بےنظیر کا بیان ہے کہ حکومت پیڑیانس کو وزارتوں سے ہٹا دے تو مفاہمت میں پیش رفت ہو سکتی ہے۔ حالانکہ وٹو صاحب اس کے الٹ فرما رہے ہیں۔
④ نوائے وقت لاہور مورخہ 14 مئی 2004ء:
[1] جمالی حکومت کو بیرونی اور اندرونی نامساعد حالات کے باوجود سال رواں میں کوئی خطرہ نہیں، تاہم آئندہ سال 2005ء غیر معمولی تبدیلیوں کا سال ہے اور اسی سال جنرل الیکشن بھی ہوں گے جس میں پیپلز پارٹی واضح اکثریت حاصل کرے گی۔
[2] واجپائی کی پارٹی کی طرح امریکہ کے صدر بھی الیکشن ہار جائیں گے۔
وٹو صاحب کا کہنا سب غلط ثابت ہوا۔
⑤ نوائے وقت لاہور مورخہ 5 نومبر 2004ء:
[1] نومبر 2005ء تک اتحادی فوجیں عراق سے نکل جائیں گی۔
[2] صدر پرویز مشرف سال رواں میں 31 دسمبر سے پہلے وردی اتار دیں گے۔
وٹو صاحب کی سب پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔
⑥ نوائے وقت لاہور مورخه 15 اکتوبر 2004ء:
[1] آئندہ امریکی صدارتی انتخابات میں صدر جارج ڈبلیو بش جیت جائیں گے۔
[2] صدر مشرف کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا آغاز کر دیں گے۔
[3] حکمرانوں کو سال رواں کی اس آخری سہ ماہی میں مشکلات اور پیچیدگیاں در پیش ہوں گی۔
سب پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں، پہلے یسین وٹو صاحب نے مندرجہ بالا تحریر میں 14مئی 2004ء کی پیش گوئی میں کہا کہ واجپائی کی پارٹی کی طرح امریکہ کے صدر بھی الیکشن ہار جائیں گے اور پھر15 اکتوبر 2004ء کی پیش گوئی میں فرمایا کہ آئندہ امریکی صدارتی انتخابات میں صدر جارج ڈبلیو بش جیت جائیں گے۔ ان کی ان دو متضاد پیش گوئیوں سے مجھے ایک لطیفہ یاد آگیا، ایک جاہل میراثی کا جاہل پیر تھا، جاہل میراثی نے جاہل پیر سے عرض کی کہ میری بھینس حاملہ ہے، بتائیں وہ کٹی دے گی یا کٹا؟ جاہل پیر نے جواب دیا اول تو کٹی دے گی نہیں تو کٹاوٹ پر پڑا ہوا ہے۔ یہی بات یسین وٹو صاحب نے کہی که صدر بش یا تو الیکشن ہار جائے گا یا پھر جیت جائے گا۔
نوائے وقت لاہور سنڈے میگزین صفحہ 19مؤرخہ 13 اپریل 1998ء میں خالد پرویز ملک صاحب ایڈووکیٹ کا مضمون شائع ہوا کہ 2000ء تک تیسری عالمی جنگ متوقع ہے۔ 2000ء کرہ ارض کا آخری سال ہوگا، سب موت کی نیند سو جائیں گے، 2000ء میں دنیا ختم ہو جائے گی۔
یہ سب غلط ثابت ہوا۔
⑦ جنگ لاہور مورخہ 22 فروری 2000ء میں ہمایوں افضل کی چار پیش گوئیاں ہیں:
[1] سیارگان کی چال کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں اتحاد نہ ہو سکے گا۔
[2] الطاف حسین کو ذہنی تفکرات کی وجہ سے اگست 2000ء تک ہارٹ اٹیک ہونے کا خطرہ ہے۔
[3] مسلم لیگ (ن) جون 2000ء تک کئی دھڑوں یا کئی دھڑوں میں تقسیم ہو جائے گی۔
[4] بے نظیر بھٹو جون 2000ء کے بعدسے اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کردیں کی۔
یہ چاروں پیش گوئیاں غلط ثابت ہو چکی ہیں۔
⑧ اور پھر نوائے وقت لاہور مورخہ30 جون 2004ء میں ان کی تین پیش گوئیاں ہیں:
[1] 29جون 2004ء کے پاکستانی زائچہ کے مطابق موجودہ اسمبلیاں ستمبر اکتوبر تک چل سکیں گی۔
[2] موجودہ سسٹم میں شوکت عزیز کا وزیر اعظم بننے کا امکان نہیں۔
[3] پیش گوئی کے مطابق ستمبر تا نومبر 2004ء کے درمیانی عرصہ میں نئے سسٹم کے تحت حکومت سازی ہوگی۔
یہ سب کی سب غلط ثابت ہوئیں۔
⑨ اسی طرح نوائے وقت لاہور مورخہ 27 فروری 2004ء میں مشہور نجومی ڈاکٹر محمد اسحاق کی9 پیش گوئیاں تھیں :
[1] ڈاکٹر عبد القدیر خان 19مئی کے بعد اپنے زوال سے نکل جائیں گے اور آئندہ پاکستان کے صدر ہوں گے۔
[2] اگست تک کا عرصہ حکمرانوں کے لیے اچھا نہیں۔
[3] کسی سرکردہ لیڈر کی اچانک موت ہوگی، جس سے ملک میں سیاسی ماحول پیچیدہ اور افراتفری ہوگی۔
[4] 15 مارچ کے بعد تبدیلیوں کا دور ہو گا۔
[5] میاں شہباز شریف 15 مارچ کے بعد کسی بھی وقت پاکستان میں ہوں گے، ان کو ستمبر سے قبل بہت بڑی ذمہ داری سونپی جائے گی۔
[6] محترمہ بےنظیر بھٹو پر اپریل میں ایک بڑے ملکی سانحہ کے بعد واپس آجائیں گی۔
[7] امریکی صدر جارج بش الیکشن ہار جائیں گے۔
[8] ہندوستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی دوبارہ الیکشن جیت جائے گی۔
[9] سونیا گاندھی پر قاتلانہ حملہ ہو گا۔
یہ سب کی سب غلط ثابت ہوئیں۔
⑩ اسی طرح ثناء خاں نجومی کی نوائے وقت لاہور مورخہ 11 جولائی 2004ء میں شائع شدہ 5 پیش گوئیاں غلط اور لغو ثابت ہوئیں:
[1] اگلے تین مہینے اہم ہیں۔
[2] مرکز اور صوبوں میں سیاسی رد و بدل ہو گا۔
[3] شوکت عزیز جمالی کی طرح نہیں جائیں گے۔
[4] شوکت عزیز اور جنرل مشرف کی کبھی ہم آہنگی ممکن نہیں۔
[5] یقیناً ملک میں ڈرامائی تبدیلی آئے گی، خاص طور پر دسمبر کا مہینہ بہت بھاری ہے۔
⑪ زمرد حسین نقوی کی نوائے وقت لاہور میں یکم اکتوبر 2004ء کی پانچ پیش گوئیاں:
[1] صدر پرویز مشرف کے حوالے سے اکتوبر 2004ء انتہائی حساس اور نازک ہے۔ خاص طور پر اکتوبر کا دوسرا اور تیسرا ہفتہ۔
[2] وزیر اعظم شوکت عزیز کے معاملہ میں اکتوبر نومبر 2004ء اور فروری 2005ء کے آخری تین ہفتے اہم ہیں ۔
[3] موجودہ اسمبلیاں کب اپ سیٹ ہوتی ہیں، اثرات کا آغاز 12 نومبر 2004ء سے سترہ اٹھارہ دسمبر 2004ء تک کے درمیانی عرصہ میں ہوگا۔
[4] بے نظیر اور آصف زرداری کے مستقبل کے ضمن میں اکتوبر نومبر 2004ء فیصلہ کن مہینے ہیں۔
[5] نواز شریف اور شہباز شریف اپنے نحس وقت کا بیشتر حصہ گزار چکے ہیں۔ پاکستان واپسی کے حوالے سے 12 نومبرسے 14 دسمبر 2004ء تک کا عرصہ انتہائی اہم ہے۔
یہ سب پیش گوئیاں غلط ثابت ہو چکی ہیں۔
⑫ اور 2 نومبر 2004 ء کی یہ پیش گوئی کہ 2 نومبر کے امریکی الیکشن متنازع رہیں گے، غلط ثابت ہوئی۔
اسی طرح بھارتی نجومی پھمن کی نوائے وقت لاہور مورخہ 30 اکتوبر 2004ء میں شائع شدہ یہ پیش گوئی کہ بش کے ستارے گردش میں ہیں، کیری انتخاب جیت لیں گے، غلط ثابت ہوئی۔
علم نجوم کے متعلق حدیث:
[عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من اقتبس علما من النجوم ، اقتبس شعبة من السحر زاد ما زاد]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ اخذ کیا تو اس نے اتنا ہی جادو اخذ کیا، وہ جتنا اضافہ کرے گا اتنا ہی اضافہ ہو گا۔ [سنن ابی داؤد:3905]،[سنن ابن ماجۃ:3726]
اور مختلف نجومیوں کی پیش گوئیوں کی صداقت کے متعلق آپ اس باب میں پڑھ چکے ہیں،
لیکن تفسیر مراد آبادی میں لکھا ہے: علم نجوم حق ہے۔ (الصافات:89، ف:87)
اللہ پر ایمان اور ستاروں پر ایمان:
ستاروں کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ انسان کی قسمت پر اثر انداز ہوتے ہیں، سراسر غلط ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ ستاروں سے لوگ رات کو راستہ معلوم کرتے ہیں۔
ستاروں سے اللہ تعالی نے دنیا کے آسمان کو مزین فرمایا ہے اور یہ شیطانوں کے لیے مار ہیں۔ ان تین چیزوں کے علاوہ ستاروں کے متعلق کوئی چیز قرآن اور صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے اور اس سلسلہ میں صحیح حدیث بیان کی جاتی ہے۔
رسول الله ﷺ نے حدیبیہ میں صحابہ کرام رضي اللہ عنہم اجمعین کو صبح کی نماز پڑھائی اور رات کو بارش ہو چکی تھی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپﷺ نے لوگوں کی طرف چہرہ مبارک کیا اور فرمایا: تم جانتے ہو تمھارا رب کیا فرماتا ہے؟ انھوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول (ﷺ) خوب جانتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی فرماتا ہے صبح کو کچھ بندے میرے مومن ہوئے، کچھ کافر جس نے کہا کہ اللہ کے فضل سے اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی وہ تو میرا مؤمن ہے،اور ستاروں کا منکر۔ اور جس نے کہا فلاں ستارے کے فلاں جگہ آنے سے بارش ہوئی ، وہ میرا منکر اور ستاروں کا مومن۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب يستقبل الإمام الناس إذا سلم:841]
ریا کاری:
مسلمان کو ہر کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنا چاہیے۔ اگر وہ کوئی کام کرتا ہے اور اس میں دکھلاوا (یعنی) ریا کاری کرتا ہے تو وہ شرک ہے۔ (الماعون:6) اسی طرح صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: قیامت کو سب سے پہلے جن کا فیصلہ ہوگا وہ ریا کار مجاہد، ریا کار عالم اور ریا کارسخی ہوں گے، جن کو ریا کاری کی وجہ سے اوندھے منہ گھسیٹتے ہے ہوئے فرشتے جہنم میں ڈال دیں گے۔ [صحيح مسلم، كتاب الامارة، باب من قاتل للرياء والسمعة استحق النار:1905]
جاندار کی تصویر بنانا:
صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تصویر میں بنانے والے کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جو تصویر تو نے بنائی اس میں جان ڈال۔
[بخاری، کتاب اللباس، باب عذاب المصورين يوم القيامة:5951]،[مسلم، کتاب اللباس والزينة، باب تحريم تصوير صورة الحيوان…الخ:2108]
اسی طرح زمانے کو برا کہنے سے بھی سختی سے منع کیا گیا ہے۔
[قال أبو هريرة رضي الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:الله يسب بنو آدم الدهر وأنا الدهر بيدي الليل والنهار]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان زمانہ کو گالی دیتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں، میرے ہی ہاتھ میں رات اور دن ہیں۔ [صحيح البخاری:6181]