رسول اللہ ﷺ کی پسندیدہ چیزیں: احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: ابو عبیدہ محمد ثاقب
مضمون کے اہم نکات

نبی علیہ السلام کی محبوب و پسندیدہ چیزیں

[1] نماز

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[وجعلت قرة عيني في الصلاة]

میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔

[سنن النسائی: 3391، مسند احمد: 14037]

[2] خوشبو

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[حبب إلي من الدنيا النساء والطيب]

دنیا کی چیزوں میں سے عورتیں اور خوشبو میرے لیے محبوب بنائی گئی ہیں۔

[سنن النسائی: 3391، مسند احمد: 14037]

[3] ازواجِ مطہرات / حلال ازدواجی محبت

اسی حدیث میں ہے:

[حبب إلي من الدنيا النساء]

دنیا کی چیزوں میں سے عورتیں میرے لیے محبوب بنائی گئی ہیں۔

[سنن النسائی: 3391، مسند احمد: 14037]

[4] سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا

سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے پوچھا: لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

[عائشة]

عائشہ۔

[صحیح البخاری: 3662، صحیح مسلم: 2384]

[5] سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ

اسی حدیث میں ہے کہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے پوچھا: مردوں میں کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

[أبوها]

ان کے والد، یعنی ابو بکر رضی اللہ عنہ۔

[صحیح البخاری: 3662، صحیح مسلم: 2384]

[6] سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما

رسول اللہ ﷺ نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا:

[اللهم إني أحبهما فأحبهما]

اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔

[صحیح البخاری: 3747، صحیح مسلم: 2421]

[7] سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ

رسول اللہ ﷺ سیدنا حسن اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما کو گود میں لے کر فرمایا کرتے تھے:

[اللهم أحبهما فإني أحبهما]

اے اللہ! ان دونوں سے محبت فرما، کیونکہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں۔

[صحیح البخاری: 3735]

[8] انصار رضی اللہ عنہم

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[اللهم أنتم من أحب الناس إلي يعني الأنصار]

میرا اللہ! (گواہ ہے) تم ان لوگوں میں سے ہو جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔“ آپ کی مراد انصار سے تھی۔

[صحیح البخاری: 3786، صحیح مسلم: 2508]

[9] احد پہاڑ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[هذا جبل يحبنا ونحبه]

یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔

[صحیح البخاری: 4083، صحیح مسلم: 1392]

[10] دائیں جانب سے شروع کرنا

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

[كان النبي ﷺ يعجبه التيمن في تنعله، وترجله، وطهوره، وفي شأنه كله]

نبی ﷺ کو جوتا پہننے، کنگھی کرنے، وضو کرنے اور اپنے تمام کاموں میں دائیں طرف سے شروع کرنا پسند تھا۔

[صحیح البخاری: 168، صحیح مسلم: 268]

[11] میٹھا اور شہد

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

[كان رسول الله ﷺ يحب الحلواء والعسل]

رسول اللہ ﷺ میٹھی چیز اور شہد پسند فرماتے تھے۔

[صحیح البخاری: 5431، صحیح مسلم: 1474]

[12] کدو / لوکی

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

[فرأيت النبي ﷺ يتتبع الدباء من حوالي الصحفة]

میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ پیالے کے کناروں سے کدو تلاش کر کے کھا رہے تھے۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

[فلم أزل أحب الدباء من يومئذ]

اس دن سے میں بھی کدو پسند کرنے لگا۔

[صحیح البخاری: 5379، صحیح مسلم: 2041]

[13] آسانی اختیار کرنا

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

[ما خير رسول الله ﷺ بين أمرين إلا أخذ أيسرهما، ما لم يكن إثما]

رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو کاموں میں اختیار دیا گیا تو آپ ﷺ نے آسان کام اختیار فرمایا، جب تک وہ گناہ نہ ہوتا۔

[صحیح البخاری: 3560، صحیح مسلم: 2327]

[14] جامع دعا

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

[كان النبي ﷺ يحب الجوامع من الدعاء، ويدع ما سوى ذلك]

نبی ﷺ جامع دعائیں پسند فرماتے تھے، اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیتے تھے۔

[سنن ابو داؤد: 1482]

[15] اچھی بات / نیک فال

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[لا عدوى ولا طيرة، ويعجبني الفأل الصالح: الكلمة الحسنة]

مجھے نیک فال پسند ہے۔

[صحیح البخاری: 5756، صحیح مسلم: 2223]

[16] قمیص

ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

[كان أحب الثياب إلى رسول الله ﷺ القميص]

رسول اللہ ﷺ کو کپڑوں میں سب سے زیادہ قمیص پسند تھی۔

[سنن ابو داؤد: 4025، سنن الترمذی: 1762، سنن ابن ماجہ: 3575]

[17] یمن کی چادر / حِبَرَہ

انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

[كان أحب الثياب إلى النبي ﷺ أن يلبسها الحبرة]

نبی ﷺ کو پہننے کے لیے کپڑوں میں سب سے زیادہ حِبَرَہ پسند تھی۔

[صحیح البخاری: 5813، صحیح مسلم: 2079]

حِبَرَہ: یمن کی دھاری دار چادر۔

[18] قرآن دوسروں سے سننا

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا:

[اقرأ علي]

مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔

میں نے عرض کیا: کیا میں آپ کو پڑھ کر سناؤں حالانکہ آپ پر نازل ہوا؟ فرمایا:

[إني أحب أن أسمعه من غيري]

میں پسند کرتا ہوں کہ اسے اپنے علاوہ کسی اور سے سنوں۔

[صحیح البخاری: 5050، صحیح مسلم: 800]

[19] عائشہ رضی اللہ عنہا کے بعد فاطمہ رضی اللہ عنہا اہلِ بیت میں محبوب تھیں

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

[ما رأيت أحدا كان أشبه سمتا ودلا وهديا برسول الله ﷺ من فاطمة]

میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو رسول اللہ ﷺ کے انداز، چال ڈھال اور طریقے میں مشابہ نہیں دیکھا۔

اور احادیث میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی عظیم محبت و فضیلت ثابت ہے، مثلاً:

[فاطمة بضعة مني]

فاطمہ میرا ٹکڑا ہے۔

[صحیح البخاری: 3714، صحیح مسلم: 2449]

یہاں لفظ “أحب” صراحتاً نہیں، مگر محبتِ فاطمہ رضی اللہ عنہا قطعی طور پر ثابت ہے۔

[20] سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ

صحابہ کرام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو کہتے تھے:

[حب رسول الله ﷺ]

رسول اللہ ﷺ کے محبوب۔

[صحیح البخاری: 3730، صحیح مسلم: 2425]

[21] سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ

اسامہ رضی اللہ عنہ کو کہا جاتا تھا:

[الحب ابن الحب]

محبوب، محبوب کے بیٹے۔

[صحیح البخاری: 3730، صحیح مسلم: 2425]

یعنی اسامہ رضی اللہ عنہ خود بھی نبی ﷺ کو محبوب تھے اور ان کے والد زید رضی اللہ عنہ بھی محبوب تھے۔

[22] مہاجرین و انصار

نبی ﷺ نے فرمایا:

[لولا الهجرة لكنت امرأ من الأنصار]

اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک شخص ہوتا۔

[صحیح البخاری: 3779، صحیح مسلم: 1059]

اور فرمایا:

[اللهم اغفر للأنصار، ولأبناء الأنصار، وأبناء أبناء الأنصار]

اے اللہ! انصار کو، انصار کے بیٹوں کو، اور انصار کے پوتوں کو بخش دے۔

[صحیح البخاری: 3796، صحیح مسلم: 2506]

[23] مدینہ منورہ

رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے بارے میں دعا فرمائی:

[اللهم حبب إلينا المدينة كحبنا مكة أو أشد]

اے اللہ! مدینہ کو ہمارے لیے محبوب بنا دے، جیسے ہمیں مکہ محبوب ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

[صحیح البخاری: 1889، صحیح مسلم: 1376]

[24] مکہ مکرمہ

نبی ﷺ نے مکہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

[والله إنك لخير أرض الله، وأحب أرض الله إلى الله، ولولا أني أخرجت منك ما خرجت]

اللہ کی قسم! تو اللہ کی بہترین زمین ہے، اور اللہ کو اللہ کی زمین میں سب سے محبوب ہے، اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ جاتا تو میں نہ نکلتا۔

[سنن الترمذی: 3925، سنن ابن ماجہ: 3108]

[25] مسلسل کیا جانے والا عمل، اگرچہ تھوڑا ہو

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: اللہ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

[أدومه وإن قل]

جو عمل ہمیشہ کیا جائے، اگرچہ تھوڑا ہو۔

اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

[وكان أحب الدين إليه ما داوم عليه صاحبه]

نبی ﷺ کے نزدیک سب سے محبوب دین/عمل وہ تھا جس پر آدمی پابندی کرے۔

[صحیح البخاری: 43، صحیح مسلم: 785]

[26] پیر اور جمعرات کا روزہ

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے، آپ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:

[إن أعمال العباد تعرض يوم الاثنين والخميس، فأحب أن يعرض عملي وأنا صائم]

بندوں کے اعمال پیر اور جمعرات کو پیش کیے جاتے ہیں، پس میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اس حال میں پیش ہو کہ میں روزے سے ہوں۔

[سنن الترمذی: 747، مسند احمد: 21753]

[27] شعبان کے روزے

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

[وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ]

میں نے آپ ﷺ کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا۔

[صحیح البخاری: 1969، صحیح مسلم: 1156]

اور ایک روایت میں ہے:

[كان أحب الشهور إلى رسول الله ﷺ أن يصومه شعبان]

رسول اللہ ﷺ کو روزہ رکھنے کے لیے مہینوں میں سب سے محبوب شعبان تھا۔

[سنن النسائی: 2352، سنن ابو داؤد: 2431]

[28] رات کی نماز / قیام اللیل

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ رات کو اتنا قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک پھٹ جاتے۔ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں حالانکہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے ہیں؟ فرمایا:

[أفلا أحب أن أكون عبدا شكورا]

کیا میں پسند نہ کروں کہ شکر گزار بندہ بنوں؟

[صحیح البخاری: 4837، صحیح مسلم: 2820]

[29] وتر

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[إن الله وتر يحب الوتر، فأوتروا يا أهل القرآن]

اللہ وتر ہے اور وتر کو پسند فرماتا ہے، پس اے اہلِ قرآن! وتر پڑھا کرو۔

[سنن ابو داؤد: 1416، سنن الترمذی: 453]

یہ اصلًا اللہ کی پسند ہے، لیکن نبی ﷺ نے امت کو اس کی ترغیب دی اور خود بھی وتر کا اہتمام فرمایا۔

[30] مسواک

نبی ﷺ نے فرمایا:

[لولا أن أشق على أمتي، لأمرتهم بالسواك عند كل صلاة]

اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا۔

[صحیح البخاری: 887، صحیح مسلم: 252]

یہاں لفظ “أحب” نہیں، مگر آپ ﷺ کی شدید رغبت اور پسند واضح ہے۔

[31] غسل، طہارت اور پاکیزگی

آپ ﷺ کو طہارت کا اہتمام محبوب تھا، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

[كان النبي ﷺ يعجبه التيمن في تنعله، وترجله، وطهوره، وفي شأنه كله]

نبی ﷺ کو جوتا پہننے، کنگھی کرنے، طہارت حاصل کرنے اور اپنے تمام کاموں میں دائیں جانب سے شروع کرنا پسند تھا۔

[صحیح البخاری: 168، صحیح مسلم: 268]

[32] مسکراہٹ اور خندہ پیشانی

سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

[مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ ﷺ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي]

جب سے میں مسلمان ہوا، نبی ﷺ نے مجھے اپنے پاس آنے سے نہیں روکا، اور جب بھی مجھے دیکھا تو میرے چہرے پر مسکرا دیے۔

[صحیح البخاری: 3035، صحیح مسلم: 2475]

[33] سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت

غزوۂ خیبر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[لأعطين الراية غدا رجلا يحب الله ورسوله، ويحبه الله ورسوله]

میں کل جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔

پھر آپ ﷺ نے جھنڈا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیا۔

[صحیح البخاری: 3009، صحیح مسلم: 2406]

[34] سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ

رسول اللہ ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

[يا معاذ، والله إني لأحبك]

اے معاذ! اللہ کی قسم، میں تم سے محبت کرتا ہوں۔

[سنن ابو داؤد: 1522، مسند احمد: 22119]