سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور معاذ رضی اللہ عنہ کا واقعہ: ایک سخت ضعیف روایت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کتاب دفاع صحابہ رضی اللہ عنھم سے ماخوذ ہے۔

لَوْلَا مُعَاذٌ لَّهَلَكَ عُمَرُ

جاء رجل إلى عمر بن الخطاب رضى الله عنه فقال: يا أمير المؤمنين إني غبت عن امرأتي سنتين فجئت وهى حبلى فشاور عمر رضى الله عنه ناسا فى رجمها، فقال معاذ بن جبل رضي الله عنه: يا أمير المؤمنين إن كان لك عليها سبيل فليس لك على ما فى بطنها سبيل فاتركها حتى تضع، فتركها فولدت غلاما قد خرجت ثناياه فعرف الرجل الشبه فيه فقال: ابني ورب الكعبة، فقال عمر رضي الله عنه : عجزت النساء أن يلدن مثل معاذ، لولا معاذ لهلك عمر.
”سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : امیر المومنین! میں دو سال اپنی بیوی سے دور رہا، ابھی واپس آیا ہوں، تو وہ حاملہ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے مشورہ کیا کہ اسے رجم کر دیں؟ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا : ماں کو تو آپ رجم کر سکتے ہیں، لیکن بچے کو رجم کرنے کا حق نہیں! لہذا وضع حمل تک اس کا معاملہ موقوف کر دیں۔ تو انہوں نے چھوڑ دیا۔ عورت نے بچہ جنم دیا، تو اس کے اگلے دانت نکل چکے تھے۔ اس آدمی نے جب بچے کی اپنے ساتھ مشابہت دیکھی تو کہنے لگا: رب کعبہ کی قسم یہ بچہ میرا ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بعد تو مائیں بانجھ ہو گئیں، معاذ نہ ہوتے، تو عمر ہلاک ہو جاتا۔“
(سنن سعید بن منصور : 2076 ، مُصنف ابن أبي شيبة : 543/5 ، مصنف عبد الرزاق : 354/7 ح : 13454 ، سنن الدارقطني : 3876 ، السنن الكبرى للبيهقي : 443/7 ، تاریخ ابن عساکر : 488/58)
سند سخت ضعیف ہے۔
اعمش ”مدلس“ ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
”اشیاخ منا“ مبہم و نامعلوم ہیں۔
ابن عساکر میں ”اشیاخ منا“ کا واسطہ نہیں۔ ابو سفیان رحمہ اللہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔