مضمون کے اہم نکات
صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما اور شراب
شراب حرام ہے، اس کی حرمت نازل ہونے سے پہلے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم پی بھی لیا کرتے تھے، شراب کی حرمت کے بعد بھی بعض صحابہ سے شراب پینا ثابت ہے، ان پر حد بھی قائم ہوئی، حد قائم ہونے کے بعد کسی کو ملامت کرنا جائز نہیں۔
شیخین سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے کبھی شراب نہیں پی، شراب کی حرمت سے پہلے، نہ بعد، جاہلیت میں، نہ اسلام میں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
حرم أبو بكر الخمرة على نفسه فلم يشربها فى جاهلية، ولا إسلام.
”سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کبھی شراب نہیں پی، جاہلیت میں نہ اسلام میں، انہوں نے خود پر اسے حرام قرار دے رکھا تھا۔“
(حلية الأولياء لأبي نعيم الأصبهاني : 160/7 وسنده حسنٌ)
عالم اہل بیت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
بلغ عمر بن الخطاب أن فلانا باع خمرا، فقال : قاتل الله فلانا، ألم يعلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : قاتل الله اليهود حرمت عليهم الشحوم، فجملوها فباعوها .
”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ فلاں شخص شراب بیچتا ہے تو فرمایا : اللہ اسے برباد کرے، اسے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم معلوم نہیں کہ اللہ یہود کو برباد کرے، ان پر چربی حرام کی گئی تو وہ اسے پگھلا کر بیچنے لگے۔“
(صحيح البخاري : 2223 ، صحیح مسلم : 1582)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے برسر منبر فرمایا :
أما بعد، نزل تحريم الخمر …. والخمر ما خامر العقل .
”خبر دار شراب کی حرمت نازل ہو چکی ہے۔ شراب وہ ہے، جو عقل میں فتور ڈالے۔“
(صحيح البخاري : 5581)
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبدالرحمن کو شراب پینے پر تعزیراً کوڑے لگائے، جبکہ ان پر حد قائم ہو چکی تھی۔
(السنن الكبرى للبيهقي : 312/8-313 وسنده صحيح)
نیز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبید اللہ پر شراب کی حد قائم کی۔
(مصنف عبد الرزاق : 17028 ، مؤطأ الإمام مالك : 842/2، سنن النسائي : 5780 ، شرح معاني الآثار للطحاوي : 222/4 وسنده صحيح)
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا شرابی پر حد قائم کرنا ثابت ہے۔
(صحيح البخاري : 6773)
الغرض شیخین سے یہ تو ثابت ہے کہ انہوں نے شراب پر حد لگائی، اس کی حرمت بیان کی لیکن یہ ثابت نہیں زندگی کے کسی لمحے میں انہوں نے شراب پی ہو۔ بعض شبہات، جو اس سلسلہ میں پیش کئے جاتے ہیں، ان کا جائزہ پیش خدمت ہے۔
شبہ نمبر 1
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
إني لأسقي أبا طلحة وأبا دجانة وسهيل بن البيضاء، خليط بسر وتمر، إذ حرمت الخمر ، فقذفتها، وأنا ساقيهم وأصغرهم .
”میں ابوطلحہ، ابو دجانہ، سہیل بن بیضا رضی اللہ عنہم کو کھجوروں کی شراب پلاتا تھا، شراب کی حرمت نازل ہوئی، تو میں نے اسے پھینک دیا، میں ان کا ساقی اور عمر میں ان سے چھوٹا تھا۔“
(صحيح البخاري : 5600)
تبصرہ :
➊ یہ شراب کی حرمت سے پہلے کا واقعہ ہے، جیسا کہ الفاظ سے ظاہر ہے۔
➋ ان لوگوں میں سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا نام نہیں۔
➌ تفسیر ابن مردویہ میں ہے کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی ان میں شامل تھے۔
(فتح الباري لابن حجر : 37/10)
یہ بے سند روایت ہے علمی دنیا میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
شبہ نمبر 2
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ یہ بیان کرتے ہیں :
كنت ساقي القوم تينا، وزبيبا، أخلطناهم جميعا، وكان فى القوم رجل يقال له : أبو بكر رجل من كنانة، فلما شرب .
”میں ساقی تھا، ہم لوگ انجیر اور کشمش کی شراب بناتے تھے، قوم میں ایک شخص بنو کنانہ سے ابوبکر نام کا تھا، جب اس نے شراب پی لی تو …“
(مسند البزار : 7532)
تبصرہ :
سند سخت ضعیف ہے۔
”مطر بن میمون متروک ہے۔“
(التقريب لابن حجر : 6703)
یہ بنو کنانہ کے ابو بکر نامی کسی فرد کا ذکر ہے، نہ کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا۔
شبہ نمبر 3
علامہ زمخشری نے لکھا ہے :
حتى شربها عمر .
”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شراب پی لی۔“
(ربيع الأبرار : 9/5)
تبصرہ :
بے سند بات ہے، اس سے دلیل پکڑنا جائز نہیں۔
اسی طرح طبری کی روایت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں، نیز روایت منقطع ہے، زید بن علی ابو قموص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔
شبہ نمبر 4
اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں :
”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبیذ کو پسند کرتے تھے۔“
(مؤطأ الإمام مالك : 894/2)
تبصره :
یہاں ایک مشروب کی بات ہورہی ہے، جو نبیذ ہے، نہ کہ خمر یعنی شراب کی۔
شبہ نمبر 5
حسان بن مخارق رحمہ اللہ کہتے ہیں :
بلغني أن عمر بن الخطاب، ساير رجلا فى سفر وكان صائما، فلما أفطر أهوى إلى قربة لعمر معلقة فيها نبيد قد خضخضها البعير ، فشرب منها فسكر، فضربه عمر الحد، فقال له : إنما شربت من قربتك، فقال له عمر : إنما جلدناك لسكرك .
”مجھے یہ خبر ملی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر میں ایک شخص روزے سے تھا، اس نے عمر رضی اللہ عنہ کے مشکیزے سے نبیذ پی لی، اسے نشہ ہو گیا، عمر رضی اللہ عنہ نے حد لگائی، عرض کیا : میں نے تو آپ کے مشکیزے سے پیا تھا؟ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حد ہم نے آپ کو اس لئے لگائی ہے کہ آپ کو نشہ ہو گیا تھا۔“
(مصنف ابن أبي شيبة : 502/6)
تبصره :
سند ضعیف ہے۔
➊ مبلغ نا معلوم ہے۔
➋ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پینے کا تو ذکر نہیں۔
➌ نبیذ کا شراب میں تبدیل ہو جانا ممکن ہے۔
➍ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا کوڑے لگانا دلیل ہے کہ وہ ایسی نبیذ پینا جائز نہیں سمجھتے تھے۔ جو شراب میں تبدیل ہو چکی ہو۔
نوٹ :
نبیذ حلال ہے، اگر اس میں نشہ پیدا ہو جائے، تو حرام ہے۔ سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے نشے والی نبیذ پینا بھی ثابت نہیں۔
شبہ نمبر 6
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
إني كنت من أشرب الناس لها فى الجاهلية .
”میں جاہلیت میں سب سے زیادہ شراب پیا کرتا تھا۔“
(تاريخ المدينة لابن شبه : 813/3)
تبصرہ :
سند ضعیف ہے۔ سماک بن حرب رحمہ اللہ مختلط ہیں اور حماد بن سلمہ رحمہ اللہ نے ان سے قبل از اختلاط نہیں سنا۔
فائدہ :
شراب کی حرمت نازل ہوئی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا :
اللهم بين لنا فى الخمر بيانا شافيا.
”اے اللہ! شراب کے بارے میں کوئی شافی و کافی بیان نازل فرما دے۔“
تو سورۃ البقرۃ کی آیت (219) نازل ہو گئی، پھر یہی کلمات کہے، تو سورۃ النساء کی آیت (43) نازل ہو گئی، پھر یہی دعا کی، تو سورۃ المائدہ کی آیت (91) نازل ہو گئی، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر ہم شراب سے رک گئے۔
(سنن أبي داود : 3670 ، سنن النسائي : 5555 ، سنن الترمذي : 3049)
سند ضعیف ہے۔
➊ ابو اسحاق رحمہ اللہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
➋ عمرو بن شرحبیل ابو میسرہ رحمہ اللہ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل ہے۔
الاوسط للطبرانی اور مستدرک حاکم میں اس کی متابعت ہوئی ہے، وہ سند ضعیف ہے، اس میں حماد بن حمید رحمہ اللہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہیں۔ نیز ابو اسحاق رحمہ اللہ کا عنعنہ بھی ہے۔
تنبیہ :
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے :
إن رجلا من الأنصار دعاه وعبد الرحمن بن عوف فسقاهما قبل أن تحرم الخمر، فأمهم على فى المغرب فقرأ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ فخلط فيها، فنزلت : لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ
”ایک انصاری شخص نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی دعوت کی اور دونوں کو شراب پلائی، اس وقت شراب حرام نہیں ہوئی تھی۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مغرب کی امامت کروائی اور سورۃ الکافرون کی قراءت کی، تو الفاظ خلط ملط ہو گئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی : لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ ”نشے میں نماز مت پڑھو، تاآنکہ تم جان لو کہ کیا کہہ رہے ہو۔“
(سنن أبي داود : 3671 وسنده حسن)
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هذا حديث حسن صحيح غريب.
”یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔“
(سنن الترمذي تحت الحديث : 3026)
امام حاکم رحمہ اللہ (307/2) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔
تنبیہ :
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے شراب پینا ثابت نہیں۔
عبد اللہ بن بریدہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
دخلت أنا وأبي على معاوية فأجلسنا على الفرش، ثم أتينا بالطعام فأكلنا، ثم أتينا بالشراب فشرب معاوية، ثم ناول أبي، ثم قال: ما شربته منذ حرمه رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قال معاوية : كنت أجمل شباب قريش وأجوده ثغرا، وما شيء كنت أجد له لذة كما كنت أجده وأنا شاب غير اللبن، أو إنسان حسن الحديث يحدثني.
”میں اور میرے والد گرامی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے ہمیں قالین پر بٹھایا، ہمیں کھانا پیش کیا گیا، ہم نے کھایا، پھر کوئی مشروب (نبیذ وغیرہ) لایا گیا، معاویہ رضی اللہ عنہ نے پیا اور میرے ابو کو تھما دیا اور فرمایا : جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (نشے والی نبیذ) کو حرام قرار دیا، میں نے کبھی نہیں پیا، مزید فرمایا: میں قریش میں سب سے زیادہ خوبصورت نوجوان اور عمدہ دانتوں والا تھا اور جو لذت مجھے تب آتی تھی، آج نصیب نہیں ہوتی، سوائے دودھ کے یا کسی انسان کی اچھی اچھی باتیں سننے کے۔“
(مسند الإمام أحمد : 347/5)
تبصرہ :
سند ضعیف ہے۔ عبد اللہ بن بریدہ رحمہ اللہ سے حسین بن واقد رحمہ اللہ کی روایت منکر ہوتی ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
عبد الله بن بريدة الذى روى عنه حسين بن واقد ما أنكرها.
”عبد اللہ بن بریدہ رحمہ اللہ کی وہ روایات، جو ان سے حسین بن واقد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، کس قدر منکر ہیں؟“
(العلل ومعرفة الرّجال برواية ابنه عبد الله : 1420)
یہ جرح مفسر ہے، جو ناقابل رد ہے۔
تاریخ دمشق لابن عساکر (420/34) میں ایک واقعہ مذکور ہے :
غزا عبد الرحمن بن سهل الأنصاري فى زمان عثمان ومعاوية أمير على الشام فمرت به روايا خمر تحمل، فقال إليها عبد الرحمن برمحه فبقر كل راوية منها فناوشه غلمانه حتى بلغ شأنه معاوية فقال: دعوه فإنه شيخ قد ذهب عقله فقال: كذب، والله ما ذهب عقلي ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهانا أن ندخل بطوننا وأسقيتنا وأحلف بالله لئن أنا بقيت حتى أرى فى معاوية ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبقرن بطنه.
”سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ شام کے امیر تھے، عبد الرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ ایک غزوہ پر تھے کہ ان کے پاس سے شراب کی مشکیں گزریں، انہوں نے نیزے سے وہ مشکیں پھاڑ دیں، لڑکوں نے انہیں روکا، یہ واقعہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا، تو کہنے لگے: چھوڑ دیجئے! بوڑھے ہو چکے ہیں اور ان کی عقل جواب دے گئی ہے، عبد الرحمن رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اللہ کی قسم! میری عقل ٹھیک ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا تھا کہ شراب ہمارے پیٹوں یا برتنوں میں رہے، اللہ کی قسم! میں نے اپنی زندگی میں معاویہ رضی اللہ عنہ کو شراب پیتے دیکھا، تو ان کا پیٹ پھاڑ دوں گا۔“
(تاریخ دمشق لابن عساکر: 420/34)
تبصرہ :
سند ضعیف ہے۔
➊ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
➋ بریدہ بن سفیان اسلمی رحمہ اللہ ضعیف ہیں۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ”متروک“ کہا ہے۔
(الضعفاء والمتروكون : 134)