اصحاب ثلاثہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نظر میں
بعض اطراف سے یہ غوغا اٹھایا جاتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اصحاب ثلاثہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو ظالم اور غاصب سمجھتے تھے، یہ بہت بڑا جھوٹ، حقائق سے بغاوت اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر بہتان ہے، حقیقت اس کے برعکس ہے، دلائل ملاحظہ ہوں :
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا :
ألا أخبركم بخير هذه الأمة بعد نبيها؟ أبو بكر، ثم قال: ألا أخبركم بخير هذه الأمة بعد أبى بكر؟ عمر.
”میں آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت کے بہترین شخص کے بارے میں خبر نہ دوں؟ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، پھر فرمایا، کیا میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بعد امت کے بہترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔“
(زوائد مسند الإمام أحمد : 1/106 ، 110 وسنده حسن والحديث صحيح متواتر)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (661۔728ھ) لکھتے ہیں :
قد تواتر عنه.
”یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے متواتر منقول ہے۔“
(منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة والقدرية : 308/1)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
قال على رضي الله عنه: خير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر، وعمر، هذا والله العظيم قاله على وهو متواتر عنه؛ لأنه قاله على منبر الكوفة فلعن الله الرافضة ما أجهلهم؟
”سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں برسر منبر فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کی بہترین ہستیاں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ اللہ عظیم کی قسم ! یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے تواتر کے ساتھ منقول ہے، اللہ تعالیٰ رافضیوں پر لعنت کرے! وہ کتنے جاہل ہیں۔“
(سیر أعلام النبلاء : 28/15)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774۔700ھ) لکھتے ہیں :
قد ثبت عنه بالتواتر.
”یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔“
(البداية والنهاية : 370/7)
محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ نے اپنے والد گرامی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا :
أى الناس خير بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: أبو بكر، قلت: ثم من؟ قال: ثم عمر، وخشيت أن يقول: عثمان، قلت: ثم أنت؟ قال: ما أنا إلا رجل من المسلمين.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بہترین ہستی کون ہے؟ فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ، عرض کیا: پھر کون؟ فرمایا: عمر رضی اللہ عنہ، پھر اس ڈر سے کہ مزید پوچھا، تو آپ عثمان رضی اللہ عنہ کا نام لیں گے، میں نے کہا: ابا جان! پھر تو آپ ہیں نا؟ فرمایا: میں تو ایک عام مسلمان ہوں۔“
(صحيح البخاري: 3671، سنن أبي داود: 4629 ، مصنف ابن أبي شيبة: 473/7، السنة لابن أبي عاصم: 1204، 1206، الشريعة للآجري: 1866، 1869، الاعتقاد للبيهقي: 517، واللفظ له وسنده صحيح)
فائدہ جلیلہ :
ابو مالک اشجعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن حنفیہ رحمہ اللہ سے کہا :
أبو بكر كان أول القوم إسلاما؟ قال: لا، قلت: فيما علا وسبق حتى لا يذكر أحد غير أبى بكر؟ قال: كان أفضلهم إسلاما حتى لحق بالله عز وجل.
”کیا (مطلق طور پر) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے پہلے مسلمان ہوئے تھے؟ کہا: نہیں، میں نے کہا: پھر کس بنا پر اس درجہ فائق ہوئے کہ ان کے بغیر کسی کا ذکر ہی نہیں ہوتا؟ فرمایا: آپ اسلام میں تاحیات افضل رہے۔“
(السنة لابن أبي عاصم : 1255 ، مصنف ابن أبي شيبة : 12/7 وسنده صحيح)
عبد خیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برسرمنبر فرماتے سنا :
قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم واستخلف أبو بكر رضى الله عنه فعمل بعمله وسار بسيرته حتى قبضه الله عز وجل على ذلك، ثم استخلف عمر فعمل بعملهما وسار بسيرتهما حتى قبضه الله عز وجل على ذلك.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے، آپ رضی اللہ عنہ نے اسوہ رسول کی پیروی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر عمل کیا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی حالت میں فوت کر دیا، آپ رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ نامزد ہوئے، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا طرز عمل اختیار کیا اور ان کی سیرت پر عمل کیا، یہاں تک کہ اللہ کو پیارے ہو گئے۔“
(زوائد مسند الإمام أحمد : 127/1 وسنده صحيح)
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
قال لي النبى صلى الله عليه وسلم ولأبي بكر: مع أحدكما جبريل، ومع الآخر ميكائيل، وإسرافيل ملك عظيم يشهد القتال ويكون فى الصف.
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ آپ میں سے ایک کے ساتھ جبریل علیہ السلام اور دوسرے کے ساتھ میکائیل علیہ السلام ہیں، جبکہ اسرافیل علیہ السلام عظیم فرشتہ ہیں، جو لڑائی میں حاضر ہوتے ہیں اور جنگی صفوں میں موجود ہوتے ہیں۔“
(المستدرك على الصحيحين للحاكم: 68/3، السنة لابن أبي عاصم: 1252، مصنف ابن أبي شيبة: 16/12، وسنده حسن، والحديث صحيح)
امام حاکم رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”صحیح“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
إنا قد عرفنا يا أبا بكر فضيلتك، وذكر قرابتهم من رسول الله صلى الله عليه وسلم وحقهم، فتكلم أبو بكر، فقال: والذي نفسي بيده لقرابة رسول الله صلى الله عليه وسلم أحب إلى أن أصل من قرابتي.
”ابوبکر! ہم آپ کی فضیلت و مرتبہ کے اقراری ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اہل بیت کی قرابت داری اور ان کے حقوق کا ذکر کیا۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں سے حسن سلوک مجھے اپنے عزیز و اقارب سے زیادہ عزیز ہے۔“
(صحيح البخاري : 3711، 3712، صحیح مسلم : 1758)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
تشهد على بن أبى طالب، ثم قال: إنا قد عرفنا يا أبا بكر فضيلتك، وما أعطاك الله، ولم ننفس عليك خيرا ساقه الله إليك، ولكنك استبددت علينا بالأمر، وكنا نحن نرى لنا حقا لقرابتنا من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلم يزل يكلم أبا بكر حتى فاضت عينا أبى بكر.
”سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا اور کہا : ابو بکر! ہم آپ کی فضیلت پہچانتے ہیں اور اللہ نے جو آپ کو مرتبہ عطا کیا ہے، اس سے واقف ہیں اور جو خلافت اللہ تعالیٰ نے آپ کو دے رکھی ہے، اس کو آپ سے چھیننے میں رغبت نہیں رکھتے لیکن آپ نے خود ہی یہ حکومت حاصل کر لی (ہم سے مشورہ نہیں کیا)، حالانکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت کی بنا پر اس (مشورہ) میں اپنا حق سمجھتے تھے، پھر وہ مسلسل اس مسئلہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے گفتگو کرتے رہے حتی کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔“
(صحيح البخاري : 4241 ، 4240 ، صحیح مسلم : 1759)
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا :
وضع عمر على سريره فتكنفه الناس يدعون ويصلون قبل أن يرفع وأنا فيهم، فلم يرعني إلا رجل آخذ منكبي، فإذا على بن أبى طالب فترحم على عمر وقال: ما خلفت أحدا أحب إلى أن ألقى الله بمثل عمله منك، وأيم الله إن كنت لأظن أن يجعلك الله مع صاحبيك، وحسبت إني كنت كثيرا أسمع النبى صلى الله عليه وسلم يقول: ذهبت أنا وأبو بكر وعمر، ودخلت أنا وأبو بكر وعمر، وخرجت أنا وأبو بكر وعمر.
”سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (شہادت کے بعد) چارپائی پر رکھ دیئے گئے، جنازہ اٹھانے سے پہلے لوگ چاروں طرف کھڑے تھے اور آپ کے لیے دعا واستغفار کر رہے تھے۔ میں بھی ان میں شامل تھا، اچانک سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے کندھے سے پکڑ کر اپنی طرف متوجہ کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعائے رحمت کی اور فرمایا: آپ کے بعد بھلا کون ہے، جس کی مثل عمل کر کے اللہ کے دربار میں حاضری مجھے محبوب رہی ہو؟ مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے ساتھیوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے ساتھ جگہ دے گا، کیوں کہ میں اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتا تھا کہ میں، ابوبکر اور عمر گئے، میں، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے، میں، ابوبکر اور عمر نکلے۔“
(صحيح البخاري: 3685 ، صحیح مسلم: 2389)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے راضی تھے، ان کے لیے دعائے رحمت کرتے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی بتاتے تھے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
اقضوا كما كنتم تقضون، فإني أكره الاختلاف، حتى يكون للناس جماعة ، أو أموت كما مات أصحابي .
”اہل عراق! جن لونڈیوں سے تمہاری اولاد ہے، ان کی آزادی کے بارے میں آپ جو فیصلہ کرنا چاہتے ہیں کیجئے، میں اس مسئلہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ سے اختلاف نہیں کرنا چاہتا، تاکہ وحدت امت قائم رہے اور میں خلفائے ثلاثہ کے طریقے پر ہی فوت ہو جاؤں۔“
(صحيح البخاري : 3707 وسنده صحيح)
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
صلى أبو بكر رضى الله عنه العصر، ثم خرج يمشي، فرأى الحسن يلعب مع الصبيان، فحمله على عاتقه، وقال : بأبي شبيه بالنبي لا شبيه بعلي، وعلى يضحك.
”سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز عصر ادا کرنے کے بعد گلی میں نکلے، تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا اور انہیں کندھے پر اٹھا لیا، فرمایا : میرے باپ قربان، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہہ ہیں، علی رضی اللہ عنہ کے مشابہہ نہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہنس دیئے۔“
(صحيح البخاري : 3542)
سالم بن ابی حفصہ رحمہ اللہ کے بارے میں ہے :
سألت أبا جعفر محمد بن على وجعفر بن محمد، عن أبى بكر، وعمر، فقالا لي : يا سالم تولاهما وابرأ من عدوهما فإنهما كانا إمامي هدى ، قال سالم : وقال لي جعفر بن محمد : يا سالم أيسب الرجل جده؟ أبو بكر جدي لا نالتني شفاعة محمد صلى الله عليه وسلم يوم القيامة إن لم أكن أتولاهما وأبرأ من عدوهما.
”میں نے ابو جعفر محمد بن علی (امام باقر رحمہ اللہ) اور جعفر بن محمد (امام صادق رحمہ اللہ) سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا : سالم! ان سے محبت رکھیے اور ان کے دشمنوں سے اظہار برأت کیجئے، کیونکہ وہ دونوں ہدایت کے امام تھے، سالم کہتے ہیں: مجھے جعفر بن محمد صادق رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا: سالم! بھلا بندہ اپنے دادا کو بھی گالی دے سکتا ہے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے دادا ہیں، مجھے قیامت کے دن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب نہ ہو، اگر میں ان (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ) سے محبت نہ رکھوں اور ان کے دشمنوں سے اظہار برأت نہ کروں۔“
(الاعتقاد للبيهقي : 506 ، وسنده حسن)
فرزند علی محمد ابن حنفیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
كنت مع على ، وعثمان محصور، قال : فأتاه رجل فقال : إن أمير المؤمنين مقتول، ثم جاء آخر فقال : إن أمير المؤمنين مقتول الساعة، قال : فقام علي، قال محمد : فأخذت بوسطه تخوفا عليه، فقال : خل لا أم لك، قال : فأتى على الدار، وقد قتل الرجل، فأتى داره فدخلها، وأغلق عليه بابه، فأتاه الناس فضربوا عليه الباب، فدخلوا عليه فقالوا : إن هذا الرجل قد قتل ولا بد للناس من خليفة، ولا نعلم أحدا أحق بها منك، فقال لهم على : لا تريدوني، فإني لكم وزير خير مني لكم أمير ، فقالوا : لا والله ما نعلم أحدا أحق بها منك، قال : فإن أبيتم على فإن بيعتي لا تكون سرا، ولكن أخرج إلى المسجد فمن شاء أن يبايعني بايعني، قال : فخرج إلى المسجد فبايعه الناس .
”ان دنوں جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ محصور تھے، میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ایک شخص حاضر ہوا، کہنے لگا : امیر المومنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے، پھر ایک اور آدمی نے خبر دی کہ ابھی ابھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے، میں نے کسی اندیشہ کے پیش نظر انہیں کمر سے تھام لیا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہ ہوئی آپ کی ماں، چھوڑیئے! آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے، دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو چکے ہیں، واپس گھر آگئے، دروازہ بند کر لیا۔ لوگ آپ کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹانے لگے، دروازہ کھولا، تو آپ کے پاس آکر کہنے لگے، عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، اب ضروری ہے کہ کوئی خلیفہ ہو! اور ہم سمجھتے کہ اس منصب کا اہل آپ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میرے بارے ایسا مت سوچئے، میں بجائے اس کے کہ امیر بنوں، وزیر ہی بہتر ہوں۔ لوگ کہنے لگے: اللہ کی قسم! آپ سے زیادہ اس منصب کا اہل کوئی نہیں ہے۔ فرمایا: اگر مجھے ہی بنانا چاہتے ہو، تو میری بیعت چھپ کر نہیں ہو گی، میں مسجد چلا جاتا ہوں، جسے بیعت کرنی ہو وہاں آکر بیعت کر لے۔ آپ مسجد کی طرف نکل گئے، وہاں لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی بیعت کی۔“
(فضائل الصحابة للإمام أحمد بن حنبل : 969 وسنده صحيح)
یہاں واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ خیال بالکل بے بنیاد ہے کہ آپ خلافت بلافصل کے دعویدار تھے، آپ رضی اللہ عنہ تو چوتھے خلیفہ ہونے پر راضی نہیں، بلکہ وزیر رہنا چاہتے ہیں، چہ جائیکہ خلافت بلافصل کا دعوی کریں۔
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
إن ابن عمر صلى على تسع جنائز جميعا، فجعل الرجال يلون الإمام، والنساء يلين القبلة، فصفهن صفا واحدا، ووضعت جنازة أم كلثوم بنت على امرأة عمر بن الخطاب، وابن لها، يقال له زيد، وضعا جميعا، والإمام يومئذ سعيد بن العاص، وفي الناس ابن عمر، وأبو هريرة، وأبو سعيد، وأبو قتادة، فوضع الغلام مما يلي الإمام .
”سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نو میتوں پر اکٹھی نماز جنازہ ادا کی۔ مردوں کو امام کی جانب اور عورتوں کو قبلہ کی جانب رکھا اور سب کو ایک لائن میں رکھ دیا، جبکہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا اور ان کے بیٹے زید کو اکٹھا رکھا۔ نماز جنازہ سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے پڑھائی، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ بچہ امام کی جانب رکھا گیا۔“
(سنن النسائي : 1980 ، سنن الدارقطني : 79/2، 80، السنن الكبرى للبيهقي : 33/4 وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ابن الجارود رحمہ اللہ (545) نے ”صحیح“ کہا ہے۔
اس کی سند کو حافظ نووی رحمہ اللہ (المجموع شرح المهذب : 224/5) نے حسن، جبکہ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنير : 385/5) اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (التلخيص الحبير : 146/2) نے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔
معلوم ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا شرف دامادی حاصل ہے، جو کہ باہمی محبت و مودت کا غماز ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
ما كنا نبعد أن السكينة تنطق على لسان عمر .
”ہمارا رجحان تھا کہ سکینت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر جاری ہوتی ہے۔“
(جامع معمر بن راشد : 20380 وسنده حسن)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں :
أما من تعرض إلى أحد من الصحابة بسب فهو شيعي غال نبرأ منه، ومن تعرض لأبي بكر وعمر فهو رافضي خبيث حمار، نعوذ بالله منه.
”جس نے کسی ایک بھی صحابی کو برا بھلا کہا، وہ غالی شیعہ ہے، ہم اس سے اعلان برأت کرتے ہیں اور جو ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کرے، وہ خبیث رافضی اور گدھا ہے، ہم اس سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔“
(تاريخ الإسلام : 146/5)