گستاخِ صحابہ کی سزا :
علامہ سرخسی حنفی رحمہ اللہ (483ھ) فرماتے ہیں :
من طعن فيهم فهو ملحد منابذ للإسلام دواؤه السيف إن لم يتب.
”جس نے صحابہ پر طعن کیا، وہ ملحد اور مخالفِ اسلام ہے، اگر یہ توبہ نہ کرے، تو اس کا علاج تلوار ہے۔“
(أصول السرخسي : 134/2)
علامہ ابوالحسن علی بن عبد الکافی سبکی رحمہ اللہ (756ھ) فرماتے ہیں :
إنني كنت بالجامع الأموي ظهر يوم الاثنين سادس عشر جمادى الأولى سنة خمس وخمسين وسبعمائة فأحضر إلى شخص شق صفوف المسلمين فى الجامع وهم يصلون الظهر ولم يصل وهو يقول: لعن الله من ظلم آل محمد ويكرر ذلك فسألته من هو فقال: أبو بكر، قلت: أبو بكر الصديق رضي الله عنه، قال: أبو بكر وعمر وعثمان ويزيد ومعاوية فأمرت بسجنه وجعل غل فى عنقه، ثم أخذه القاضي المالكي فضربه وهو مصر على ذلك، وزاد فقال: إن فلانا عدو الله، وشهد عندي عليه بذلك شاهدان وقال: إنه مات على غير الحق وأنه ظلم فاطمة ميراثها وأنه يعني أبا بكر كذب النبى صلى الله عليه وسلم فى منعه ميراثها، وكرر عليه المالكي الضرب يوم الاثنين المذكور ويوم الأربعاء ثامن عشر الشهر المذكور وهو مصر على ذلك، أحضروه يوم الخميس تاسع عشر الشهر بدار العدل وشهد عليه فى وجهه فلم ينكر ولم يقل ولكن صار كلما سئل يقول: إن كنت قلت فقد علم الله تعالى وكرر السؤال عليه مرات وهو يقول هذا الجواب، ثم أعذر إليه فلم يبد دافعا ثم قيل له: تب، فقال: تبت عن ذنوبي وكرر عليه الاستتابة وهو لا يزيد فى الجواب، على ذلك البحث فى المجلس فى كفره وفي قبول توبته ببعض ما تضمنته هذه الكراسة فحكم القاضي المالكي بقتله فقتل.
”میں ایک دفعہ ظہر کے وقت جامع مسجد اموی میں موجود تھا، یہ 16 جمادی الاولیٰ، سن 755 ہجری، بروز سوموار کی بات ہے۔ میرے پاس جامع اموی میں ایک شخص (علی بن ابی الفضل بن محمد بن حسین بن کثیر) حاضر ہوا۔ لوگ نماز پڑھ رہے تھے، اس نے نماز نہیں پڑھی، بلکہ صفیں چیرتا ہوا میرے پاس پہنچا، زبان سے بار بار یہ کہہ رہا تھا : اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے، جس نے آل محمد پر ظلم کیا۔ میں نے پوچھا : کس نے ظلم کیا؟ بولا: ابو بکر۔ میں نے پوچھا: ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ؟ کہنے لگا: ہاں، ہاں، ابو بکر، عمر، عثمان، یزید اور معاویہ، یہ سب۔ تو میں نے حکم دیا کہ اس شخص کے گلے میں طوق ڈال کر قید کر دیا جائے۔ پھر اسے قاضی مالکی نے پکڑا اور مارا، مگر یہ اپنی بات پر ڈٹا رہا، بلکہ ایک اور بات کہی۔ اس وقت میرے پاس دو گواہ بھی موجود تھے۔ کہنے لگا: فلاں اللہ کا دشمن ہے اور وہ حق پر فوت نہیں ہوا، اس نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو میراث سے محروم کر کے ظلم کیا اور اس نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی میراث روک کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولا۔ اس کی مراد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔ قاضی مالکی نے اسے اس دن کئی بار مارا، پھر بدھ والے دن 18 جمادی الاولیٰ کو بھی مارا، مگر وہ اپنی بات پر ڈٹا رہا۔ پھر اسے جمعرات 19 جمادی الاولیٰ کو عدالت میں پیش کیا گیا اور اس کے سامنے گواہ پیش کیے گئے۔ اس نے انکار نہیں کیا اور نہ کوئی بات کی، البتہ ہر سوال کے جواب میں یہی کہتا رہا: اگر میں نے ایسا کہا ہے، تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ پھر اس پر بار بار سوال دہرایا گیا، مگر وہ یہی جواب دیتا رہا۔ پھر اسے اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع دیا گیا، مگر اس نے اپنے دفاع میں کچھ نہ کہا۔ پھر اسے کہا گیا کہ توبہ کر لو، تو اس نے کہا: میں اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہوں۔ بار بار اسے توبہ کرنے کو کہا گیا، مگر وہ جواب میں اس سے زائد کچھ نہ کہتا تھا۔ اس مجلس میں اس کے کفر اور قبولِ توبہ کے متعلق بحث ہوئی، اس میں سے بعض کا ذکر اس تحریر میں کر دیا گیا ہے۔ پھر قاضی مالکی نے اس کے قتل کا فیصلہ سنایا اور اسے قتل کر دیا گیا۔
(فتاوى السبكي : 570/2۔571 ، البداية والنهاية لابن كثير : 561/18)
علامہ ملا علی قاری حنفی رحمہ اللہ (1014ھ) فرماتے ہیں :
الكتاب والسنة مشحونان بمناقبهم وفضائلهم، وهم الذين نصروا نبيهم فى اجتهاده، وجاهدوا فى الله حق جهاده، فتحوا بلاد الإسلام، وحفظوا الأحكام وسائر العلوم من سيد الأنام، وانتفع بهم علماء الأعلام ومشايخ الكرام، وقد علمنا الله فى كتابه أن نقول فى حقهم : رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ ، وقد ظهرت طائفة لاعنة ملعونة، إما كافرة أو مجنونة، حيث لم يكتفوا باللعن والطعن فى حقهم، بل نسبوهم إلى الكفر بمجرد أوهامهم الفاسدة وأفهامهم الكاسدة من أن أبا بكر وعمر وعثمان رضي الله تعالى عنهم أخذوا الخلافة وهى حق على بغير حق، والحال أن هذا باطل بالإجماع سلفا وخلفا، ولا اعتبار بإنكار المنكرين.
کتاب و سنت صحابہ کرام کے فضائل و مناقب سے لبریز ہیں، انہوں نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر میدان میں نصرت کی، اللہ کی راہ میں جہاد کیا، جیسے جہاد کرنے کا حق تھا، شہروں کے شہر فتح کیے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے احکام دینیہ اور دیگر علوم شرعیہ کو محفوظ کیا، جن سے کبار اہل علم اور مشائخ نے استفادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں تعلیم دی ہے کہ ہم ان کے حق میں یہ کہیں :رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ ”ہمارے رب ! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو معاف فرما، جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں۔“ ایک ملعون گروہ جو (صحابہ پر) لعن طعن کرتا ہے، ظاہر ہوا ہے، جو یا تو کافر ہیں یا پاگل۔ وہ صحابہ کرام کے حق میں صرف لعن و طعن پر اکتفا نہیں کرتے، بلکہ اپنے فاسد خیالات اور گھٹیا سوچ کی بنا پر ان کی طرف کفر کی نسبت کرتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ناحق خلافت چھین لی تھی، جبکہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا حق تھا۔ حالانکہ اس کے باطل ہونے پر پہلے اور بعد والوں کا اجماع ہے اور منکروں کے انکار کا کوئی اعتبار نہیں۔
(مرقاة المفاتيح : 3437/8)