شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ: تاریخی حقائق اور روایات

Read in English
فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کتاب دفاع صحابہ رضی اللہ عنھم سے ماخوذ ہے۔

شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ دس محرم 61ھ کو شہید ہوئے، آپ کی شہادت برحق ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بیان کے مطابق آپ کو اہل کوفہ نے شہید کیا۔ اس وقت کوفہ میں دشمنانِ صحابہ کے دو بڑے گروہ خوارج اور روافض موجود تھے، جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی جنگ کی اور ان کو شہید کیا۔
یزید کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل قرار دینا بے ثبوت اور بے حقیقت بات ہے۔ یہ دراصل قاتلینِ حسین رضی اللہ عنہ نے سازش کی کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا خون یزید کے ہاتھوں میں تلاش کیا جائے۔ اس سے ان کو بڑا فائدہ یہ ہوا کہ وہ اہل بیت کی دشمنی سے بری ہو گئے۔ اسی کو بنیاد بنا کر امت مسلمہ میں پھوٹ ڈال دی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں یہ تاثر دیا کہ قتلِ حسین رضی اللہ عنہ میں ان کا ہاتھ ہے، خصوصاً وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، جنہوں نے یزید کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ یزید کو قاتلِ حسین رضی اللہ عنہ قرار دے کر مسلمانوں کی حمایت اور مدارات حاصل کر لی۔ اس کی بنیاد جھوٹ پر تھی۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے ہرگز ہرگز خروج نہیں کیا، کیا بچوں کے ساتھ خروج کیا جاتا ہے یا لشکر اور فوج کے ساتھ؟ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے اہل خانہ تھے، آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت مظلومانہ شہادت ہے۔ یہ روافض کی گھڑی ہوئی روایات کا اثر ہے کہ ہمارے بعض سنی بھائی بھی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو خروج کے پس منظر میں دیکھنے لگتے ہیں، حالاں کہ کوئی صحیح یا حسن سند اس پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ کا کربلا میں کسی سے کوئی معرکہ ہوا ہو، جنگ ہوئی ہو، تیر چلے ہوں، پانی بند ہوا ہو، خواتین کی بے حرمتی ہوئی ہو، بچوں کو نوکِ نیزہ پر چڑھایا گیا ہو، یا آپ نے کوئی فوجیں تیار کی ہوں۔ اسلام کی ثقہ تاریخ میں ایسی باتوں کا کوئی ذکر نہیں ملتا، حتیٰ کہ دورِ صحابہ میں بھی ایسی بات کا کوئی وجود نہیں۔ یہ سب جھوٹ ہے، جو روافض نے اسلامی تاریخ میں داخل کرنے کی سازش کی ہے۔
صرف اتنا ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو بے خبری میں شہید کر دیا گیا۔ آپ کی شہادتِ باسعادت کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں دے دی تھی۔ ہر مسلمان آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت پر دکھی ہے۔ ہمیں آپ کی شہادت پر وہی انداز اختیار کرنا چاہیے، جو اس وقت صحابہ، اہل بیت رسول اور دیگر مسلمانوں نے اختیار کیا تھا۔
ہم کہتے ہیں کہ جس نے جگر گوشۂ رسول کو شہید کیا یا آپ کی شہادت میں معاونت کی یا آپ کی شہادت پر راضی ہوا، اس پر اللہ، فرشتوں اور ساری کائنات کی لعنت ہو۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے نوافل اور فرائض قبول نہ کرے۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی بنیاد پر اہل اسلام سے الگ فرقہ بنا لینا اور کئی ایک ضروریاتِ دین کا انکار کر دینا درست نہیں۔ جو کچھ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے موقع پر کیا جاتا ہے، یہ اسلام کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش اور مجرمانہ سازش ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
رأيت النبى صلى الله عليه وسلم، فيما يرى النائم بنصف النهار وهو قائم أشعث أغبر، بيده قارورة فيها دم، فقلت: بأبي أنت وأمي يا رسول الله، ما هذا؟ قال: هذا دم الحسين وأصحابه، لم أزل ألتقطه منذ اليوم فأحصينا ذلك اليوم فوجدوه قتل فى ذلك اليوم.
”میں دن کے وقت سو رہا تھا کہ خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، آپ پراگندہ بالوں کے ساتھ دھول میں اٹے تھے، آپ کے ہاتھ میں ایک بوتل تھی اور بوتل میں خون، عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ کیا ہے؟ فرمایا: یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے۔ اس کے بعد میں پھر دن گننے لگا اور جس دن آپ نے خواب میں بتایا تھا، اسی دن سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی۔“
(مسند الإمام أحمد : 242/1 ، 283 وسنده حسن)
اسے امام حاکم رحمہ اللہ (398/4) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر ”صحیح“ کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے، حافظ بوصیری رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”صحیح“ کہا ہے۔
(اتحاف الخيرة المهرة : 238/7)
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
رجال أحمد رجال الصحيح.
”مسند احمد کی اس حدیث کے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں۔“
(مجمع الزوائد : 194/9)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے، تو :
في يده تربة حمراء يقلبها فقلت: ما هذه التربة يا رسول الله؟ قال: أخبرني جبريل عليه السلام أن هذا يقتل بأرض العراق للحسين فقلت: يا جبريل، أرني تربة الأرض التى يقتل بها، فهذه تربتها.
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں سرخ مٹی تھی اور آپ اسے الٹ پلٹ کر رہے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ مٹی کیسی ہے؟ فرمایا: مجھے جبرئیل علیہ السلام بتا کر گئے ہیں کہ حسین کو سرزمین عراق میں شہید کر دیا جائے گا، تو میں نے جبریل سے کہا: اس زمین کی مٹی مجھے دکھائیے، یہ وہی مٹی ہے۔“
(المعجم الكبير للطبراني : 308/23 ، دلائل النبوة للبيهقي : 468/6 ، وسنده حسن)
موسیٰ بن یعقوب زمعی جمہور ائمہ حدیث کے نزدیک حسن الحدیث ہے، نیز اس کی متابعت عباد بن اسحاق نے مشیختہ ابن طہمان (3) میں کی ہے۔
اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر ”صحیح“ قرار دیا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أتي عبيد الله بن زياد برأس الحسين عليه السلام، فجعل فى طست، فجعل ينكت، وقال فى حسنه شيئا، فقال أنس: كان أشبههم برسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان مخضوبا بالوسمة.
”عبید اللہ بن زیاد کے پاس سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک ایک برتن میں لایا گیا، عبید اللہ چھڑی کے ساتھ زمین کریدنے لگا اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے حسن کی تعریف کی، تب سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: حسین رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ مشابہ تھے، آپ نے نیل کے پودے کی مہندی لگا رکھی تھی۔“
(صحيح البخاري : 3748)
عبدالرحمن بن ابی نعم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
سأله عن المحرم؟ قال: شعبة أحسبه يقتل الذباب، فقال: أهل العراق يسألون عن الذباب، وقد قتلوا ابن ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقال النبى صلى الله عليه وسلم: هما ريحانتاي من الدنيا.
”ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے محرم (احرام باندھنے والا) کے متعلق سوال کیا کہ اگر وہ مکھی مار دے تو؟ فرمایا: اہل عراق بھی عجیب ہیں، مکھی کو مارنے سے متعلق پوچھتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو شہید کر چکے ہیں، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ یہ دنیا میں میرے پھول ہیں۔“
(صحيح البخاري : 3753)
شہر بن حوشب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
سمعت أم سلمة، زوج النبى صلى الله عليه وسلم حين جاء نعي الحسين بن علي، لعنت أهل العراق فقالت : قتلوه قتلهم الله، غروه وذلوه، لعنهم الله.
”سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر آئی، تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اہل عراق پر لعنت فرمائی اور فرمایا: اللہ ان کو قتل کرے، جنہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا، انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو دھوکہ دے کر پھنسا لیا، اللہ کی لعنت ہو ان (عراقیوں) پر۔“
(مسند الإمام أحمد : 298/6 ، وسنده حسن)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
سمعت الجن تنوح على الحسين بن على رضي الله عنه.
”میں نے ایک جن کو سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر روتے ہوئے سنا۔“
(معجم الطبراني الكبير : 21/3 ، فضائل الصحابة لأحمد : 1373 ، وسنده صحيح)
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لو كنت فيمن قتل الحسين بن علي، ثم غفر لي، ثم أدخلت الجنة، استحييت أن أمر على النبى صلى الله عليه وسلم، فينظر فى وجهي.
”اگر (بالفرض والمحال) میں قاتلینِ حسین میں شریک ہوں اور میرا یہ جرم معاف کر دیا جائے، جنت میں بھی چلا جاؤں، تب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کرنے سے شرم محسوس کروں گا۔“
(المعجم الكبير للطبراني : 212/3 ، ح 2928 ، وسنده حسن)
مخضرم تابعی، ابورجاء عطاردی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
لا تسبوا عليا ولا أهل هذا البيت، فإن جارا لنا من بلهجيم قال: ألم تروا إلى هذا الفاسق الحسين بن على قتله الله، فرماه الله بكوكبين فى عينيه، فطمس الله بصره.
”سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل بیت کو برا بھلا مت کہو، ہمارا ایک ہمسایہ، جس کا تعلق بلهجيم سے تھا، اس نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو فاسق قرار دیا اور کہا کہ اللہ اس کو قتل کرے، تو اللہ کی جانب سے دو ستارے ٹوٹے اور اس کی آنکھوں میں پڑے اور اللہ نے اس کی آنکھیں پھوڑ دیں۔“
(المعجم الكبير للطبراني : 112/3 ، وسنده صحيح)
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
مصائب میں ماتم کرنا یا اس کا وقت مقرر کر لینا تو بالکل بھی دین نہیں ہے، یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا، نہ سابقین اولین میں سے کسی نے کیا، نہ تابعین نے اور نہ اہل بیت کے معزز لوگوں نے ایسا کوئی کام کیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، تو ان کے اہل خانہ موجود تھے، اسی طرح سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، تب بھی ان کے اہل خانہ موجود تھے، اس پر کئی برس بیت گئے، مگر کسی نے ایسا کام نہیں کیا، وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے پیرو تھے، انہوں نے ماتم جیسی بدعت ایجاد نہیں کی، نہ نوحے کیے، بلکہ صبر کرتے تھے اور اللہ و رسول کے حکم پر عمل پیرا تھے، وہ پریشانی میں دکھی اور غمگین تو ہوتے تھے لیکن یہ کام نہیں کرتے تھے۔
(حقوق أهل البيت ص : 46)
مزید فرماتے ہیں :
أما من قتل الحسين أو أعان على قتله أو رضي بذلك فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين؛ لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا.
”جس نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا یا ان پر اعانت کی یا اس پر راضی ہوا، اس پر اللہ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ اس سے کوئی فرض یا نفل قبول نہیں کرے گا۔“
(مجموع الفتاوى: 487/4)
مورخِ اسلام، حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
كل مسلم ينبغي له أن يحزنه هذا الذى وقع من قتله رضي الله عنه، فإنه من سادات المسلمين وعلماء الصحابة، وابن بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم التى هي أفضل بناته، وقد كان عابدا وشجاعا وسخيا، ولكن لا يحسن ما يفعله الشيعة من إظهار الجزع والحزن الذى لعل أكثره تصنع ورياء، وقد كان أبوه أفضل منه، وهم لا يتخذون مقتله مأتما كيوم مقتل الحسين، فإن أباه قتل يوم الجمعة وهو خارج إلى صلاة الفجر …. سنة أربعين، وكذلك عثمان كان أفضل من علي، عند أهل السنة والجماعة، وقد قتل وهو محصور فى داره فى أيام التشريق من شهر ذي الحجة سنة ست وثلاثين، وقد ذبح من الوريد إلى الوريد، ولم يتخذ الناس يوم مقتله مأتما، وكذلك عمر بن الخطاب، وهو أفضل من عثمان وعلي، قتل وهو قائم يصلي فى المحراب صلاة الفجر، وهو يقرأ القرآن، ولم يتخذ الناس يوم قتله مأتما، وكذلك الصديق كان أفضل منه، ولم يتخذ الناس يوم وفاته مأتما، ورسول الله صلى الله عليه وسلم، سيد ولد آدم فى الدنيا والآخرة، وقد قبضه الله إليه كما مات الأنبياء قبله، ولم يتخذ أحد يوم موته مأتما يفعلون فيه ما يفعله هؤلاء الجهلة من الرافضة يوم مصرع الحسين، ولا ذكر أحد أنه ظهر يوم موتهم وقبلهم شيء مما ادعاه هؤلاء يوم مقتل الحسين من الأمور المتقدمة، مثل كسوف الشمس والحمرة التى تطلع فى السماء وغير ذلك.
”مسلمان کو ان کے ساتھ پیش آنے والے حادثے پر دکھی ہونا چاہیے، کیونکہ وہ سادات المسلمین اور علمائے صحابہ میں سے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے افضل بیٹی کے صاحبزادے، بہادر اور سخی انسان تھے، لیکن شیعہ کا یہ طریقہ کار بالکل بھی درست نہیں ہے، کیونکہ اس میں اکثر تصنع اور ریا پایا جاتا ہے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے والد ان سے زیادہ افضل تھے، لیکن یہ لوگ ان کی شہادت پر ماتم نہیں کرتے۔ اسی طرح اہل سنت کے نزدیک سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے افضل تھے، آپ کو محصور کر کے شہید کر دیا گیا، 36 ہجری میں جب ذوالحجہ کے ایام چل رہے تھے، ان کو ذبح کر دیا گیا، رگِ جاں کٹ گئی، لیکن ان کی شہادت پر ماتم نہیں کیا جاتا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب فجر کی نماز میں قرآن پڑھ رہے تھے، شہید کر دیے گئے، یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی افضل ہیں، مگر ان کا ماتم نہیں ہوا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سب سے افضل، مگر آپ کے یومِ وفات کو ماتم نہیں ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا و آخرت میں سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد کے سردار ہیں، آپ فوت ہوئے، تو کسی نے بھی اس طرح ماتم نہیں کیا، جیسے یہ جہلا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر کرتے ہیں۔ ایسی کوئی روایت مذکور تک نہیں ہوئی کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر سورج گرہن لگا ہو یا آسمان سے سرخی پھوٹی ہو، یہ جاہلوں کی بنائی ہوئی باتیں ہیں۔“
(البداية والنهاية : 57/11)
اسلم منقری رحمہ اللہ کہتے ہیں :
دخلت على الحجاج، فدخل سنان بن أنس قاتل الحسين، فإذا شيخ آدم فيه حناء، طويل الأنف فى وجهه برص، فأوقف بحيال الحجاج، فنظر إليه الحجاج، فقال: أنت قتلت الحسين؟ قال: نعم، قال: وكيف صنعت به؟ قال: دعمته بالرمح، وهبرته بالسيف هبرا، فقال له الحجاج: أما إنكما لن تجتمعا فى دار.
”میں حجاج بن یوسف کے پاس حاضر ہوا، تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل سنان بن انس بھی آگیا تھا، ہم نے دیکھا کہ وہ گندمی رنگ کا بوڑھا ہے اور اس نے مہندی لگا رکھی تھی، ناک لمبوتری اور چہرے پر کالے اور سرخ دانے نکلے ہوئے تھے، اس کو حجاج کے سامنے کھڑا کیا گیا، حجاج نے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا : کیا تو نے حسین کو قتل کیا ہے؟ کہنے لگا: ہاں! حجاج نے پوچھا: کیسے قتل کیا؟ کہنے لگا: نیزہ مارا اور پھر تلوار سے، حجاج کہنے لگا کہ تم دونوں ایک جگہ پر اکٹھے نہیں ہو گے۔“
(المعجم الكبير للطبراني : 111/3)
سند ضعیف ہے، ابوبکر بن عیاش نے ”سوء الحفظ“ ہونے کے بعد یہ روایت کی ہے۔
عمارہ بن عمیر رحمہ اللہ کہتے ہیں :
لما جيء برأس عبيد الله بن زياد وأصحابه نضدت فى المسجد فى الرحبة فانتهيت إليهم وهم يقولون: قد جاءت قد جاءت، فإذا حية قد جاءت تخلل الرؤوس حتى دخلت فى منخري عبيد الله بن زياد فمكثت هنيهة، ثم خرجت فذهبت حتى تغيبت، ثم قالوا: قد جاءت، قد جاءت، ففعلت ذلك مرتين أو ثلاثا.
”عبید اللہ بن زیاد اور اس کے ساتھیوں کا سر لایا گیا تو رحبہ کی مسجد میں رکھ دیا گیا، میں وہاں پہنچا، تو لوگ کہہ رہے تھے کہ آ گیا، آ گیا، اچانک ایک سانپ آیا، وہ عبید اللہ کے نتھنوں سے داخل ہوا، تھوڑی دیر رہا اور پھر نکل گیا، اور غائب ہو گیا، لوگ پھر کہنے لگے کہ آ گیا، آ گیا، سانپ نے پھر وہی عمل دہرایا، اور یہ کام دو تین دفعہ ہوا۔“
(سنن الترمذي : 3780)
سند اعمش کے عنعنہ کی وجہ سے ”ضعیف“ ہے۔
مورخِ اسلام حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
الحسين رضى الله عنه شهيد قتل بسيف أهل الشر.
”سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو شرپسندوں کی تلوار سے شہید کیا گیا۔“
(سير أعلام النبلاء: 388/21)