صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت و عدالت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کتاب دفاع صحابہ رضی اللہ عنھم سے ماخوذ ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب کے بارے میں بے شمار قرآنی آیات اور احادیثِ متواترہ ہیں۔ اول سے اہلِ علم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت اور فضیلت پر کتابیں تصنیف کی ہیں۔
حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں :
الأحاديث فى فضل الصحابة، رضي الله عنهم، على الإطلاق كثيرة مشهورة فى الصحيحين وغيرهما، وأما فضائلهم على الخصوص لطائفة ولأشخاص، فأكثر من أن تحصر.
”مطلق طور پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت میں بخاری و مسلم وغیرہ کی بہت سی مشہور احادیث ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے انفرادی فضائل کے بارے میں اتنی احادیث ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔“
(تهذيب الأسماء واللغات : 15/1)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں :
هذه الأحاديث مستفيضة بل متواترة فى فضائل الصحابة والثناء عليهم وتفضيل قرنهم على من بعدهم من القرون، فالقدح فيهم قدح فى القرآن والسنة.
”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل، ان کی مدح و ثنا اور بعد والوں پر ان کی فضیلت کے متعلق احادیث مشہور، بلکہ متواتر ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم پر طعن درحقیقت قرآن و حدیث پر طعن ہے۔“
(مجموع الفتاویٰ : 430/4)
حافظ سخاوی رحمہ اللہ (902ھ) فرماتے ہیں :
هذا باب لا انتهاء له.
”فضائلِ صحابہ رضی اللہ عنہم پر تالیفات کی کوئی انتہا نہیں۔“
(فتح المغيث : 120/4)

صحابی کی تعریف :

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں :
أصح ما وقفت عليه من ذلك أن الصحابي من لقي النبى صلى الله عليه وسلم مؤمنا به، ومات على الإسلام، فيدخل فيمن لقيه من طالت مجالسته له أو قصرت، ومن روى عنه أو لم يرو، ومن غزا معه أو لم يغز، ومن رآه رؤية ولو لم يجالسه، ومن لم يره لعارض كالعمى.
”میرے مطابق صحابی کی سب سے صحیح تعریف یہ ہے کہ جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کی حالت میں ملاقات کی ہو اور حالتِ اسلام میں وفات پائی ہو۔ ملاقات کرنے والوں میں وہ صحابہ بھی داخل ہیں، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں لمبا عرصہ گزارا اور وہ بھی شامل ہیں، جنہوں نے تھوڑا عرصہ گزارا، نیز وہ صحابہ بھی شامل ہیں، جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی اور وہ بھی، جنہوں نے حدیث بیان نہیں کی، وہ بھی جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں غزوہ کیا اور وہ بھی، جنہوں نے غزوہ نہیں کیا، وہ بھی جنہوں نے محض دیدار کیا، مگر مجلس اختیار نہیں کی اور وہ بھی جنہوں نے کسی عارضے کے پیشِ نظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار نہیں کیا، جیسے نابینا ہونا۔“
(الإصابة في تمييز الصحابة : 158/1)

تمام صحابہ رضی اللہ عنہم جنتی ہیں :

اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ انبیاء کے علاوہ کوئی بھی معصوم نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اہلِ خیر تھے، ہمیشہ اللہ کی رضا کے متلاشی اور اس کے عذاب سے ڈرنے والے تھے۔ وہ بہترین زمانے کے لوگ تھے، لیکن اس سب کے باوجود وہ معصوم نہیں تھے، بلکہ بتقاضائے بشریت ان سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے معافی کا اعلان کر دیا ہے اور ہمیشہ کے لیے اپنی رضا و رحمت کا وعدہ کر لیا ہے۔
تمام صحابہ رضی اللہ عنہم جنتی ہیں۔ بعد والوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی بعض لغزشوں کی بنیاد پر انہیں اپنی آراء کا تختۂ مشق بنا لیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام لغزشوں کو معاف کر دیا ہے۔ وہ مغفور و مرحوم ہیں اور جنت کے وارث ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ
”سب صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔“
(سورۃ الحدید : 10)
فرمانِ الٰہی ہے :
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ
”بلاشبہ جن لوگوں کے لیے ہم نے جنت کا فیصلہ کیا ہے، وہ جہنم سے دور کر دیے جائیں گے۔“
(سورۃ الأنبیاء : 101)
فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
لَٰكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ وَأُولَٰئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ‎88 أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
”رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے اپنے مال و جان کے ساتھ جہاد کرتے ہیں، ان کے لیے بھلائیاں ہیں اور یہی کامیاب لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے باغات تیار کیے ہیں، جن کے نیچے دریا بہتے ہیں، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے۔“
(سورۃ التوبہ : 88۔89)
فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
لَقَد تَّابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
”اللہ تعالیٰ نے نبی اور مہاجرین و انصار، جو مشکل وقت میں نبی کا اتباع کرتے رہے، کی توبہ قبول کی، بعد اس کے کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ٹیڑھے ہونے کو تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی، بلاشبہ وہ ان پر شفقت کرنے والا اور خوب رحم کرنے والا ہے۔“
(سورۃ التوبہ : 117)
امام ابوبکر آجری رحمہ اللہ (360ھ) فرماتے ہیں :
وعدهم الجنة خالدين فيها أبدا، وأخبرنا أنه قد رضي عنهم ورضوا عنه : أُولَٰئِكَ حِزْبُ اللَّهِ ۚ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ(سورۃ المجادلۃ : 22)
”اللہ تعالیٰ نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے جنت کا وعدہ کیا ہے، وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، نیز اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔ فرمانِ الٰہی ہے : أُولَٰئِكَ حِزْبُ اللَّهِ ۚ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یہ اللہ کا گروہ ہے، یاد رکھو کہ اللہ کا گروہ ہی کامیاب ہونے والا ہے۔“
(الشريعة : 1624/4)
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) فرماتے ہیں :
كلهم عدول فاضل من أهل الجنة.
”تمام صحابہ رضی اللہ عنہم عادل، فاضل اور جنتی ہیں۔“
(الإحكام في أصول الأحكام : 90/5)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں :
إنا نشهد لهم بالجنة كما استقر على ذلك مذهب أهل السنة.
”ہم صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے جنت کی گواہی دیتے ہیں، جیسا کہ اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔“
(منهاج السنة : 203/6)
نیز فرماتے ہیں :
من جزم فى واحد من هؤلاء بأن له ذنبا يدخل به النار قطعا فهو كاذب مفتر، فإنه لو قال ما لا علم له به لكان مبطلا، فكيف إذا قال ما دلت الدلائل الكثيرة على نقيضه؟
”جس نے کسی ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے متعلق بالجزم کہا کہ اس کا ایسا گناہ ہے، جس کی وجہ سے وہ قطعی طور پر جہنم میں داخل ہوگا، تو وہ جھوٹا اور بہتان باز ہے، کیونکہ یہ بات اگر وہ اس کے متعلق کرے، جس کا اسے علم نہیں، تو بھی غلط کار ہے، پھر بھلا اس کے متعلق کیسے کہہ سکتا ہے، جس کے جہنمی ہونے کے برعکس کثیر دلائل موجود ہیں؟“
(مجموع الفتاوى : 432/4)
کتبِ احادیث میں بعض ایسے اشخاص بھی ہیں، جن کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کی خبر دی ہے، یاد رہے کہ وہ سب منافقین تھے، صحابہ رضی اللہ عنہم نہیں۔

تمام صحابہ ثقہ و عدول ہیں :

تمام صحابہ رضی اللہ عنہم مؤمن ہیں، ان کا دین معتبر ہے، وہ دین میں ثقہ اور عادل ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کی عدالت، دین اور امانت مسلم ہے، خود اللہ تعالیٰ نے ان کی عدالت بیان کی ہے۔ اللہ نے ان کے ذریعے تمام امت پر حجت قائم کی ہے، انہیں دین کا راوی بنایا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اداؤں کا پیکر بنایا ہے، یوں صحابہ رضی اللہ عنہم معیارِ ایمان بن گئے، بلکہ ایمان کی دلیل بن گئے۔
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا ليبلغ الشاهد منكم الغائب.
”خبردار! آپ میں سے جو حاضر ہیں، وہ غائب کو پہنچا دیں۔“
(صحيح البخاري : 105 ، صحيح مسلم : 1679)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
إن أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم كلهم عدول ثقات.
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم عادل اور ثقہ ہیں۔“
(صحيح ابن حبان : 442/6)
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
إن الله نظر فى قلوب العباد، فوجد قلب محمد صلى الله عليه وسلم خير قلوب العباد، فاصطفاه لنفسه، فابتعثه برسالته، ثم نظر فى قلوب العباد بعد قلب محمد، فوجد قلوب أصحابه خير قلوب العباد، فجعلهم وزراء نبيه، يقاتلون على دينه.
”اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں کو دیکھا، تو محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل سب بندوں کے دلوں سے بہترین پایا، تو اسے اپنی نبوت کے لیے منتخب فرما لیا اور رسالت دے کر مبعوث فرمایا، پھر محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کے بعد بندوں کے دلوں کو دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے دلوں کو سب سے بہترین پایا، تو انہیں اپنے نبی کے وزیر اور ساتھی بنا دیا، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے لیے قتال کرتے ہیں۔“
(مسند الإمام أحمد : 3600 وسنده حسن)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
إن الله تبارك وتعالى نزه أقدار أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ثلب قادح، وصان أقدارهم عن وقيعة منتقص، وجعلهم كالنجوم يقتدى بهم، وقد قال تبارك وتعالى : إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ثم قال : يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ فمن أخبر الله عز وجل أنه لا يخزيه فى القيامة، وقد شهد له باتباعه ملة إبراهيم حنيفا، لا يجوز أن يجرح بالكذب، لأنه يستحيل أن يقول الله تبارك وتعالى : يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ ثم يقول النبى صلى الله عليه وسلم : من كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار، فيطلق النبى صلى الله عليه وسلم إيجاب النار لمن أخبر الله عز وجل أنه لا يخزيه فى القيامة، بل الخطاب فى الخبر وقع على من بعد الصحابة، وأما من شهد التنزيل وصحب الرسول صلى الله عليه وسلم فالثلب لهم غير حلال، والقدح فيهم ضد الإيمان، والتنقص لأحدهم نفس النفاق، لأنهم خير الناس قرنا بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم بحكم من : وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ 3 إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ
”بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے عیب کی تنزیہ کر دی ہے، جو عدالت میں قدح کا باعث ہو، ان کی شخصیات کو ایسے گناہ سے محفوظ رکھا ہے، جو ان کی شان میں تنقیص کا سبب ہو اور انہیں ایسے ستاروں کی مانند بنایا ہے، جن کی پیروی کی جاتی ہے۔ باری تعالیٰ نے فرمایا : إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ابراہیم کے قریبی وہ ہیں، جنہوں نے ان کا اتباع کیا اور یہ نبی اور ان پر ایمان لانے والے، اللہ تعالیٰ مؤمنوں کا ولی ہے۔ نیز فرمانِ الٰہی ہے : يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ نبی اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کرے گا۔ پس جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ انہیں روزِ قیامت رسوا نہیں کرے گا اور ان کے متعلق یہ بھی گواہی دی ہو کہ وہ موحد ابراہیم علیہ السلام کی ملت کا اتباع کرنے والے ہیں، تو ایسی شخصیت پر جھوٹ کی جرح کرنا جائز نہیں، کیونکہ جس کے متعلق اللہ تعالیٰ خبر دے کہ : يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ نبی اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کرے گا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں: جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنا لے۔ تو اس کے بارے میں ایسا محال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے جہنم واجب ہونے کی وعید سنائیں، باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں روزِ قیامت رسوا نہ کرنے کی خبر دی ہے۔ بلکہ حدیث میں خطاب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد والے مسلمانوں کو ہے۔ رہے وہ لوگ، جو نزولِ قرآن کے شاہد اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے والے ہیں، تو ان کے حق میں جرح و قدح حلال نہیں، ان پر قدح دراصل ایمان کی ضد ہے، ان میں سے کسی کی تنقیص عین نفاق ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کا زمانہ سب سے بہترین ہے، اس کی خبر اس شخصیت نے دی ہے، جس کے متعلق اللہ نے فرمایا : وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ 5 إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش سے نہیں بولتے، بلکہ وہی بات کرتے ہیں، جو انہیں وحی کی جاتی ہے۔“
(كتاب المجروحين : 36/1)
حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں :
هم خير القرون، وخير أمة أخرجت للناس، ثبتت عدالة جميعهم بثناء الله عز وجل عليهم وثناء رسوله عليه السلام، ولا أعدل ممن ارتضاه الله لصحبة نبيه ونصرته، ولا تزكية أفضل من ذلك، ولا تعديل أكمل منه.
”صحابہ رضی اللہ عنہم کا زمانہ بہترین زمانہ تھا، وہ امت کے بہترین افراد تھے، جنہیں لوگوں کی ہدایت کے لیے پیدا کیا گیا تھا۔ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کی عدالت ثابت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ثنا کی ہے۔ اس سے بڑا عادل کوئی نہیں، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی صحبت اور نصرت کے لیے پسند فرما لیا ہو، اس سے افضل تزکیہ اور اس سے کامل تعدیل کوئی نہیں۔“
(الاستيعاب : 1/1)
حافظ خطیب ابوبکر بغدادی رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں :
إن عدالة الصحابة ثابتة معلومة بتعديل الله لهم وإخباره عن طهارتهم واختياره لهم فى نص القرآن.
”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت ثابت اور معلوم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآنی نصوص میں ان کی تعدیل کی ہے اور ان کے پاک باز اور پسندیدہ ہونے کی خبر دی ہے۔“
(الكفاية ص : 46)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں :
كان الصحابة كلهم ثقات باتفاق أهل العلم بالحديث والفقه.
”تمام محدثین اور فقہاء کا اتفاق ہے کہ سارے کے سارے صحابہ رضی اللہ عنہم ثقہ ہیں۔“
(منهاج السنة : 457/2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں :
قد اتفق أهل السنة على أن الجميع عدول، ولم يخالف فى ذلك إلا شذوذ من المبتدعة.
”اہلِ سنت کا اتفاق ہے کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم عادل ہیں، بعض بدعتیوں کے علاوہ اس میں کسی نے مخالفت نہیں کی۔“
(الإصابة : 131/1)

عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم :

علامہ زرکشی رحمہ اللہ (794ھ) فرماتے ہیں :
قال الإبياري: وليس المراد بعدالتهم ثبوت العصمة لهم، واستحالة المعصية، وإنما المراد قبول رواياتهم من غير تكلف بحث عن أسباب العدالة، وطلب التزكية، إلا من يثبت عليه ارتكاب قادح، ولم يثبت ذلك، والحمد لله، فنحن على استصحاب ما كانوا عليه فى زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم، حتى يثبت خلافه، ولا التفات إلى ما يذكره أهل السير، فإنه لا يصح، وما صح فله تأويل صحيح، ولا عبرة برد بعض الحنفية روايات أبى هريرة، وتعليلهم بأنه ليس بفقيه، فقد عملوا برأيه فى الغسل ثلاثا من ولوغ الكلب وغيره.
”علامہ علی بن اسماعیل ابیاری رحمہ اللہ (616ھ) کہتے ہیں : صحابہ رضی اللہ عنہم کے عادل ہونے سے مراد یہ نہیں کہ وہ معصوم عن الخطا تھے اور ان سے گناہ سرزد ہونا محال تھا، بلکہ عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم سے مراد یہ ہے کہ ان کی روایت مطلق طور پر قبول ہے، ان کے اسبابِ عدالت و تزکیہ کے متعلق بحث و تحقیق کی ضرورت نہیں، الا یہ کہ کسی میں جرح ثابت ہو جائے، مگر ایسا کچھ ثابت نہیں، والحمد للہ۔ لہٰذا ہم صحابہ رضی اللہ عنہم کو ویسا ہی عادل سمجھتے ہیں، جیسے وہ عہدِ نبوی میں تھے، یہاں تک کہ اس کے خلاف ثابت ہو جائے۔ جو کچھ اہلِ سیر صحابہ رضی اللہ عنہم کے متعلق بیان کرتے ہیں، ان کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا، کیونکہ وہ ثابت نہیں اور جو کچھ ثابت ہے، اس کی صحیح تاویل موجود ہے۔ نیز یہ بھی معتبر نہیں کہ بعض احناف نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بعض روایات رد کی ہیں اور علت یہ بتائی کہ آپ رضی اللہ عنہ غیر فقیہ تھے، جبکہ خود احناف نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بعض آراء پر عمل کیا ہے، مثلاً جب کتا برتن میں منہ ڈال دے، تو اسے تین مرتبہ دھویا جائے گا۔“
(البحر المحيط في أصول الفقه : 189/6)