ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں قرآنی گواہی

Read in English
فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کتاب دفاع صحابہ رضی اللہ عنھم سے ماخوذ ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی براءت

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر منافقین نے تہمت لگائی، اللہ تعالیٰ نے آپ کی براءت قرآن کریم میں نازل فرمائی۔
تابعی کبیر، مسروق رحمہ اللہ (62ھ) کے بارے میں ہے :
كان إذا حدث عن عائشة، قال: حدثتني الصديقة ابنة الصديق، البريئة المبرأة كذا وكذا.
”آپ رحمہ اللہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے، تو فرماتے: مجھے صدیقہ بنت صدیق اور پاک دامن، جنہیں الزام سے بری کر دیا گیا، نے اس اس طرح حدیث بیان کی۔“
(طبقات ابن سعد : 51/8 ، تاريخ ابن أبي خيثمة : 4120 ، وسنده صحيح)
امام ابن شاہین رحمہ اللہ (385ھ) فرماتے ہیں :
نزل القرآن ببراءتها ست عشرة آية متوالية.
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی براءت میں لگاتار سولہ آیات نازل ہوئیں۔“
(شرح مذاهب أهل السنة تحت الرقم : 190)
ابو منصور معمر بن احمد اصبہانی رحمہ اللہ (418ھ) فرماتے ہیں :
إن عائشة الصديقة بنت الصديق حبيبة حبيب الله مبرأة من كل دني، طاهرة من كل ريبة، فرضي الله عنها.
”عائشہ صدیقہ بنت صدیق، حبیب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی حبیبہ ہیں، ہر قسم کے عیب سے بری ہیں اور ہر الزام سے پاک ہیں، رضی اللہ عنہا۔“
(الحجّة في بيان المَحَجَّة لقوّام السنة : 248/1 ، وسنده صحيح)
امام ابونعیم اصبہانی رحمہ اللہ (430ھ) فرماتے ہیں :
الصديقة بنت الصديق العتيقة بنت العتيق حبيبة الحبيب وأليفة القريب سيد المرسلين محمد الخطيب المبرأة من العيوب المعراة من ارتياب القلوب لرؤيتها جبريل رسول علام الغيوب عائشة أم المؤمنين رضي الله تعالى عنها.
”صدیقہ بنت صدیق، عتیقہ بنت عتیق، حبیب خدا کی حبیبہ، سید المرسلین محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کے قریب، عیوب سے پاک، دل میں پیدا ہونے والے تمام شکوک و شبہات سے بری، جن کی تصویر جبریل علیہ السلام نے اللہ علام الغیوب کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی تھی۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔“
(حلية الأولياء : 43/2)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا :
أنزل الله براءتك من فوق سبع سماوات.
”اللہ نے آپ کی براءت سات آسمانوں کے اوپر سے نازل کی ہے۔“
(مسند الإمام أحمد : 276/12 ، 349 ، الرد على الجهمية للدارمي ص : 57 المستدرك على الصحيحين للحاكم : 8/4 ، وسنده حسن)
اس روایت کو امام حاکم رحمہ اللہ نے ”صحیح“ کہا ہے اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
ایک روایت کے الفاظ ہیں :
نزل عذرك من السماء.
”آپ کی براءت آسمانوں (کے اوپر) سے اُتری ہے۔“
(صحیح البخاری : 4753)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ما كان الله ليجعل عائشة زوجة لرسول الله صلى الله عليه وسلم إلا وهى طيبة، لأنه أطيب من كل طيب من البشر، ولو كانت خبيثة لما صلحت له، لا شرعا ولا قدرا، ولهذا قال: اُولٰٓىٕكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ أى هم بعداء عما يقوله أهل الإفك والعدوان.
”اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی اسی لیے بنایا کہ وہ پاک دامن تھیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں زیادہ پاک دامن ہیں۔ سیدہ ناپاک ہوتیں، تو شرعی طور پر آپ کی زوجہ نہ ہوتیں، نہ آپ کے شایان شان ہی ہوتیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اُولٰٓىٕكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا يَقُوْلُوْنَ
”لوگوں کے الزامات سے یہ ہستیاں بری ہیں۔ یعنی یہ اہل افک اور دشمنوں کی باتوں سے کوسوں دور ہیں۔“
(النور: 26 ، تفسير ابن كثير : 35/6)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
”جو لوگ پاک دامن، بھولی بھالی مومن خواتین پر تہمت لگاتے ہیں، وہ دنیا اور آخرت میں ملعون ہیں، نیز ان کے لیے بہت بڑا عذاب تیار ہے۔“
(النور : 23)
عالم اہل بیت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :
نزلت فى عائشة خاصة.
”یہ آیت خاص سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی۔“
(تفسير ابن أبي حاتم : 2556/8 ، وسنده صحيح)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں :
قد بين ابن عباس أن هذه الآية إنما نزلت فيمن يقذف عائشة وأمهات المؤمنين لما فى قذفهن من الطعن على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعيبه فإن قذف المرأة أذى لزوجها كما هو أذى لابنها لأنه نسبة له إلى الدياثة وإظهار لفساد فراشه فإن زناء امرأته يؤذيه أذى عظيما، ولعل ما يلحق بعض الناس من العار والخزي بقذف أهله أعظم مما يلحقه لو كان هو المقذوف.
”سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے واضح کر دیا ہے کہ یہ آیت (النور : 23) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دوسری امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن پر تہمت لگانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، کیوں کہ یہ درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن ہے۔ بیوی پر تہمت شوہر کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہے، جیسا کہ بیٹے کے لیے ہوتی ہے، کیونکہ یہ اس کے گھٹیا پن اور بدنسل ہونے کی دلیل ہے۔ بیوی زنا کی مرتکب ہو، تو خاوند کے لیے رسوائی ہے۔ عین ممکن ہے کہ خود آدمی پر تہمت لگے تو اسے اتنی رسوائی نہ ہو جتنی اس کی بیوی پر تہمت لگنے سے ہوتی ہے۔“
(الصارم المسلول على شاتم الرسول: 45/1)
عباسی علما کا اجماعی عقیدہ ہے :
من سب سيدتنا عائشة رضي الله عنها فلا حظ له فى الإسلام.
”جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو برا بھلا کہا، اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔“
(المنتظم في تاريخ الملوك والأمم لابن الجوزي : 281/15 ، وسنده صحيح)
علامہ ابو اسحاق شیرازی رحمہ اللہ (476ھ) فرماتے ہیں :
قد أجمع المسلمون على عموم آية القذف وإن كانت نزلت فى شأن عائشة رضي الله عنها خاصة.
”مسلمانوں کا اجماع ہے کہ تہمت والی آیت عام ہے، گو کہ خصوصی طور پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق ہی نازل ہوئی ہے۔“
(التبصرة في أصول الفقه ص : 146)
علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں :
قوله تعالى : يَعِظُكُمُ اللَّهُ أَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا يعني فى عائشة، لأن مثله لا يكون إلا نظير القول فى المقول عنه بعينه، أو فيمن كان فى مرتبته من أزواج النبى صلى الله عليه وسلم، لما فى ذلك من أذاه رسول الله صلى الله عليه وسلم فى عرضه وأهله، وذلك كفر من فاعله.
”اللہ تعالیٰ کے فرمان: يَعِظُكُمُ اللَّهُ أَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا سے مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں، کیوں کہ مثلیت تب ہی ہوگی جب کسی کے بارے میں اسی طرح کی بات کی گئی ہو یا وہ ازواج مطہرات کے ہم پلہ ہو۔ کیونکہ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت و ناموس اور اہل بیت کے حوالے سے ایذا و تکلیف ہوتی ہے اور یہ کفریہ حرکت ہے۔“
(النور: 17 ، تفسير القرطبي: 205/12)
قاضی ابو یعلیٰ حنبلی رحمہ اللہ (458ھ) فرماتے ہیں :
من قذف عائشة بما برأها الله منه كفر بلا خلاف.
”جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر وہی تہمت لگائی، جس سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بری کر دیا ہے، تو اس کے کافر ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔“
(الصارم المسلول لابن تيمية ص : 566)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں :
قد حكى الإجماع على هذا غير واحد وصرح غير واحد من الأئمة بهذا الحكم.
”اس پر کئی اہل علم نے اجماع نقل کیا ہے اور بے شمار ائمہ نے اس حکم کی صراحت بھی کی ہے۔“
(الصارم المسلول على شاتم الرسول ص : 566)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
يا معشر المسلمين، من يعذرني من رجل قد بلغني عنه أذاه فى أهلي، والله ما علمت على أهلي إلا خيرا، ولقد ذكروا رجلا ما علمت عليه إلا خيرا، وما يدخل على أهلي إلا معي، قالت: فقام سعد بن معاذ أخو بني عبد الأشهل، فقال: أنا يا رسول الله أعذرك، فإن كان من الأوس ضربت عنقه، وإن كان من إخواننا من الخزرج أمرتنا ففعلنا أمرك.
”مسلمانوں کی جماعت! اس شخص (عبد اللہ بن ابی ابن سلول) کے خلاف میری مدد کون کرے گا؟ جس نے مجھے میری اہلیہ کے متعلق تکلیف پہنچائی ہے، اللہ کی قسم! میں اپنی بیوی کے متعلق بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں جانتا۔ ان لوگوں نے ایک ایسے شخص (صفوان رضی اللہ عنہ) کا نام ذکر کیا ہے، جس کے بارے میں بھی میں نے سوائے بھلائی کے کچھ نہیں دیکھا۔ وہ جب بھی میرے گھر آیا، تو میری معیت میں ہی آیا ہے۔ تو سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، یہ بنو عبد الاشہل قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ کی مدد کروں گا۔ اگر تو (تہمت لگانے والا) وہ شخص قبیلہ اوس سے ہے، تو میں اس کی گردن قلم کر دوں گا اور اگر وہ ہمارے خزرجی بھائیوں کے قبیلہ سے ہوا، تو اس کے متعلق آپ جو حکم فرمائیں گے، ہم بجا لائیں گے۔“
(صحيح البخاري : 4141 ، صحيح مسلم : 2770)
علامہ فخر رازی رحمہ اللہ (606ھ) فرماتے ہیں :
الإفك أبلغ ما يكون من الكذب والافتراء …. وأجمع المسلمون على أن المراد ما أفك به على عائشة، وإنما وصف الله تعالى ذلك الكذب بكونه إفكا لأن المعروف من حال عائشة خلاف ذلك لوجوه؛ أحدها: أن كونها زوجة للرسول صلى الله عليه وسلم المعصوم يمنع من ذلك.
”افک جھوٹ اور افترا سے زیادہ بڑا لفظ ہے۔ مسلمانوں کا اجماع ہے کہ اس سے مراد وہ تہمت ہے، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس جھوٹ پر افک کا لفظ استعمال کیا۔ کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سیرت کئی لحاظ سے اس الزام و تہمت کے برعکس تھی، جن میں سے ایک یہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا معصوم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ تھیں، جو کہ ایسی غلطی سے مانع ہے۔“
(تفسير الرازي : 337/23)
علامہ ابن جزی غرناطی رحمہ اللہ (741ھ) فرماتے ہیں:
الخير فى ذلك من خمسة أوجه، تبرئة أم المؤمنين، وكرامة الله لها بإنزال الوحي فى شأنها، والأجر الجزيل لها فى الفرية عليها، وموعظة المؤمنين، والانتقام من المفترين.
”واقعہ افک میں پانچ اعتبار سے خیر تھی، ➊ ام المؤمنین کی برأت کر دی گئی۔ ➋ اللہ تعالیٰ نے سیدہ کی شان میں وحی نازل کر کے ان کی عزت افزائی فرمائی۔ ➌ اس جھوٹے الزام پر (صبر کرنے سے) سیدہ کو بہت بڑا اجر ملا۔ ➍ مومنوں کو وعظ و نصیحت کی گئی۔ ➎ جھوٹے الزام لگانے والوں سے انتقام لیا گیا۔“
(تفسير ابن جزي : 63/2)
حافظ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) فرماتے ہیں :
هي ردة تامة، وتكذيب لله تعالى فى قطعه ببراءتها.
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانا مکمل ارتداد ہے اور اللہ تعالیٰ کو سیدہ کی قطعی برأت کرنے میں جھٹلانا ہے۔“
(المحلى بالآثار : 440/12)
علامہ عبد الخالق بن عیسیٰ ہاشمی حنبلی رحمہ اللہ (470ھ) فرماتے ہیں :
من رمى عائشة رضي الله عنها بما برأها الله منه فقد مرق من الدين ولم ينعقد له نكاح على مسلمة إلا أن يتوب ويظهر توبته.
”جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر وہ الزام لگایا، جس سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بری کر دیا ہے، تو وہ دین سے نکل گیا (کافر ہو گیا)۔ اس کا مسلمان خاتون سے نکاح منعقد نہ ہوگا، الا یہ کہ وہ اعلانیہ توبہ کر لے۔“
(الصارم المسلول لابن تيمية ص : 568)
علامہ ابن العربی رحمہ اللہ (543ھ) فرماتے ہیں :
إن أهل الإفك رموا عائشة المطهرة بالفاحشة، فبرأها الله، فكل من سبها بما برأها الله منه فهو مكذب لله، ومن كذب الله فهو كافر.
”اہل افک نے پاکدامن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر برائی کی تہمت لگائی، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بری کر دیا۔ لہٰذا جس نے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر وہ الزام لگایا، جس سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بری کر دیا ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کو جھٹلانے والا ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کو جھٹلایا، وہ کافر ہے۔“
(أحكام القرآن : 366/3)
حافظ ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ (620ھ) فرماتے ہیں :
من قذفها بما برأها الله منه فقد كفر بالله العظيم.
”جس نے سیدہ پر وہ تہمت لگائی، جس سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بری کر دیا ہے، تو اس نے اللہ عظیم کے ساتھ کفر کیا۔“
(لمعة الاعتقاد ص : 40)
حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں :
براءة عائشة رضي الله عنها من الإفك وهى براءة قطعية بنص القرآن العزيز فلو تشكك فيها إنسان والعياذ بالله صار كافرا مرتدا بإجماع المسلمين.
”واقعہ افک میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت ہو چکی ہے، یہ برأت قطعی ہے، جس پر قرآنی نص ہے، لہٰذا اللہ معاف کرے! جس انسان نے اس میں شک کیا، تو اس کے کافر اور مرتد ہونے پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔“
(شرح النووي : 117/17)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں :
إياك يا رافضي أن تلوح بقذف أم المؤمنين بعد نزول النص فى براءتها، فتجب لك النار.
”رافضی! ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے سے باز آجاؤ، بعد اس کے کہ ان کی برأت پر نص آچکی ہے، ورنہ تجھ پر جہنم واجب ہو جائے گی۔“
(سير أعلام النبلاء : 188/1)
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں :
اتفقت الأمة على كفر قاذفها.
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والے کے کفر پر امت کا اتفاق ہے۔“
(زاد المعاد في هدي خير العباد : 103/1)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں :
قد أجمع العلماء رحمهم الله قاطبة على أن من سبها بعد هذا ورماها بما رماها به بعد هذا الذى ذكر فى هذه الآية، فإنه كافر، لأنه معاند للقرآن.
”تمام علمائے کرام کا اس شخص کے کافر ہونے پر اجماع ہے، جو برأت کے بعد بھی آپ رضی اللہ عنہا کو برا بھلا کہے اور اس تہمت کے ساتھ متہم کرے، جس کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں، کیوں کہ وہ قرآن مجید کا واضح دشمن ہے۔“
(تفسير ابن كثير: 31/6–32)
علامہ زرکشی رحمہ اللہ (794ھ) فرماتے ہیں :
إن من قذفها فقد كفر لتصريح القرآن الكريم ببراءتها.
”جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی، وہ کافر ہے، کیونکہ قرآن کریم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت صراحت کے ساتھ ہو چکی ہے۔“
(الإجابة لإيراد ما استدركته عائشة على الصحابة ص : 52)
حافظ عراقی رحمہ اللہ (806ھ) فرماتے ہیں :
صارت براءة عائشة رضي الله عنها من الإفك براءة قطعية بنص القرآن فلو شك فيها إنسان والعياذ بالله تعالى صار كافرا مرتدا بإجماع المسلمين.
”واقعہ افک میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت ہو چکی ہے، یہ برأت قطعی ہے، جس پر قرآنی نص ہے، لہٰذا اللہ معاف کرے! جس انسان نے اس میں شک کیا، تو اس کے کافر اور مرتد ہونے پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔“
(طرح التثريب : 69/8 ، عمدة القاري للعيني : 235/13)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں :
… وتحريم الشك فى براءة عائشة.
”یہ حدیث دلیل ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت میں شک کرنا حرام ہے۔“
(فتح الباري : 481/8)
حافظ سیوطی رحمہ اللہ (911ھ) فرماتے ہیں :
قوله تعالى : إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ نزلت فى براءة عائشة رضي الله عنها فيما قذفت به ….. قال العلماء: قذف عائشة كفر لأن الله سبح نفسه عند ذكره، فقال : سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ كما سبح نفسه عند ذكر ما وصفه به المشركون من الزوجة والولد.
”آیت مبارکہ: إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ جو لوگ بہت بڑا بہتان باندھ لائے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی گئی تہمت کی برأت کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اہل علم کہتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانا کفر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس تہمت کا ذکر کرتے وقت اپنی تسبیح بیان کی ہے، فرمایا : سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ اللہ پاک ہے، یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ جب مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے بیوی اور اولاد کا اثبات کیا، تو اس کا ذکر کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی تسبیح و تقدیس بیان کی۔“
(الإكليل ص : 190)
علامہ بحرق شافعی رحمہ اللہ (930ھ) فرماتے ہیں :
حديث الإفك فى براءة عائشة رضي الله عنها عما قذفت به، فهي براءة قطعية بنص القرآن حتى إن من يشكك فى براءتها فهو كافر بالإجماع.
”حدیث افک، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی گئی تہمت کی برأت کے بارے میں ہے۔ یہ برأت قطعی ہے اور اس پر قرآن نص ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت میں شک کرے، وہ بالاجماع کافر ہے۔“
(حدائق الأنوار ص : 305)
علامہ ابن نجیم حنفی رحمہ اللہ (970ھ) فرماتے ہیں :
… بقذفه عائشة رضي الله عنها.
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔“
(البحر الرائق : 131/5 ، مجمع الأنهر لشيخي زاده : 692/1)
علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ (974ھ) لکھتے ہیں :
إن من نسب عائشة إلى الزنا كان كافرا وهو ما صرح به أئمتنا وغيرهم لأن فى ذلك تكذيب النصوص القرآنية ومكذبها كافر بإجماع المسلمين وبه يعلم القطع بكفر كثيرين من غلاة الروافض لأنهم ينسبونها إلى ذلك قاتلهم الله أنى يؤفكون.
”جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو زنا سے منسوب کیا، وہ کافر ہے، ہمارے ائمہ اور دیگر اہل علم نے اس بات کی صراحت کی ہے، کیونکہ اس سے قرآنی نصوص کی تکذیب لازم آتی ہے اور نصوص کی تکذیب کرنے والے کے کفر پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ اس سے یہ بات بھی قطعی طور پر معلوم ہوئی کہ بہت سے غالی روافض کافر ہیں، کیونکہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو زنا سے منسوب کرتے ہیں۔ اللہ انہیں ہلاک کرے، یہ کہاں بھٹکے ہوئے ہیں؟“
(الصواعق المحرقة : 193/1)
علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ (1252ھ) فرماتے ہیں :
لو كان يقذف السيدة عائشة رضي الله عنها فلا شك فى كفره.
”اگر کوئی عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتا ہے، تو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں۔“
(فتاویٰ شامی: 70/4)
نیز فرماتے ہیں :
لا شك فى تكفير من قذف السيدة عائشة رضي الله تعالى عنها.
”اس شخص کے کفر میں کوئی شک نہیں، جو عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتا ہے۔“
(فتاویٰ شامی : 237/4)
علمائے احناف کا متفقہ فتویٰ ہے :
لو قذف عائشة رضي الله تعالى عنها بالزنا كفر بالله.
”جس نے عائشہ رضی اللہ عنہا پر زنا کا الزام لگایا، اس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا۔“
(فتاویٰ عالمگیری : 264/2)
محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ (1206ھ) فرماتے ہیں :
من يقذف الطاهرة الطيبة أم المؤمنين زوجة رسول رب العالمين صلى الله عليه وسلم فى الدنيا والآخرة كما صح ذلك عنه فهو من ضرب عبد الله بن أبى ابن سلول رأس المنافقين، ولسان حال رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يا معشر المسلمين، من يعذرني فيمن آذاني فى أهلي، إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا ‎57‏ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا ، فأين أنصار دينه ليقولوا: نحن نعذرك يا رسول الله؟
”دنیا و آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ طیبہ زوجہ پر تہمت لگانے والا منافقین کے سردار عبد اللہ بن اُبی کی نسل سے ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زبان حال سے فرما رہے ہیں: مسلمانو! مجھے میری بیوی کے متعلق ایذا دینے والے کے خلاف میری مدد کون کرے گا؟ فرمان باری تعالیٰ ہے : إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا ‎57‏ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا ”اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچانے والے دنیا و آخرت میں ملعون ہیں اور ان کے لیے رسوا کن عذاب تیار ہے اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو ناحق ایذا پہنچاتے ہیں، وہ بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ کے دین کے مددگار کہاں گئے؟ جو یہ کہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم آپ کا دفاع کریں گے۔“
(الأحزاب : 57-58 ، رسالة في الرد على الرافضة ص : 25-26)
تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی ازواج مطہرات پاک دامن تھیں۔ وہ کسی سے برائی کا ارادہ نہیں کر سکتیں۔ زلیخا نامی عورت کا سیدنا یوسف علیہ السلام سے نکاح ثابت نہیں، اس بارے میں محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کا قول بے دلیل ہے۔