سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب، قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کتاب دفاع صحابہ رضی اللہ عنھم سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

فضائل علی رضی اللہ عنہ

محب الدین طبری رحمہ اللہ (694ھ) فرماتے ہیں:
قد أجمع أهل السنة من السلف والخلف من أهل الفقه والأثر أن عليا أفضل الناس بعد عثمان، هذا مما لم يختلف فيه .
”پہلے اور بعد کے اہل سنت فقہا و محدثین کا اجماع ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے افضل صحابی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔“
(الرياض النضرة : 180/3)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں :
علي رضى الله عنه سيد كبير الشأن، قد أغناه الله تعالى أن تثبت مناقبه بالأكاذيب؛ ولكن الرافضة لا يرضون إلا أن يحتجوا له بالباطل، وأن يردوا ما صح لغيره من المناقب، فتراهم دائما يحتجون بالموضوعات، ويكذبون بالصحاح، وإذا استشعروا أدنى خوف لزموا التقية، وعظموا الصحيحين، وعظموا السنة، ولعنوا الرفض وأنكروا، فيعلنون بلعن أنفسهم شيئا ما يفعله اليهود ولا المجوس بأنفسهم، والجهل بفنونه غالب على مشايخهم وفضلائهم، فما الظن بعامتهم، فما الظن بأهل البر والخير منهم، فإنهم جاهلية جهلاء، وحمر مستنفرة، فالحمد لله على الهداية، فتعليمهم ونصحهم وجرهم إلى الحق بحسب الإمكان من أفضل الأعمال، نسأل الله التوفيق، وحسن الخاتمة منه آمين .
”سیدنا علی رضی اللہ عنہ عظیم الشان سردار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کو اس سے غنی کر دیا ہے کہ آپ کی شان میں جھوٹی روایات بیان کی جائیں مگر روافض اس وقت راضی ہوتے ہیں، جب وہ باطل روایات سے حجت پکڑیں اور صحیح احادیث سے ثابت فضائل کا انکار کر دیں، اس لیے آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ ہمیشہ من گھڑت روایات سے حجت پکڑتے ہیں اور صحیح احادیث کا انکار کرتے ہیں، جب انہیں کسی کا خوف لاحق ہوتا ہے، تو تقیہ کا سہارا لیتے ہیں، پھر صحیحین اور حدیث کی عظمت بیان کرتے ہیں، رافضیت پر لعنت کرتے ہیں اور اس کا انکار کرتے ہیں، یوں وہ خود پر اس طرح اعلانیہ لعنت کر رہے ہوتے ہیں کہ ایسے یہود اور مجوس نے بھی اپنی جانوں کے ساتھ نہیں کیا ہوتا۔ ہر قسم کی جہالت ان کے مشائخ اور فضلا پر غالب ہے، بھلا عام عوام کا کیا حال ہو گا؟! ان کے نیکو کاروں کا کیا حال ہوگا ؟! یہ کورے جاہل اور بدکے ہوئے گدھے ہیں، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ہدایت دی ہے۔ ممکن حد تک ان لوگوں کو تعلیم دینا، انہیں نصیحت کرنا اور انہیں حق کی طرف دعوت دینا افضل ترین عمل ہے، ہم اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی توفیق مانگتے ہیں اور حسن خاتمہ کا سوال کرتے ہیں، آمین !“
(تلخيص كتاب الموضوعات ص : 141)
میمون بن مہران رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
أربع لا تتكلم فيهن : علي، وعثمان، والنجوم، والقدر .
”چار چیزوں میں بات نہ کیجئے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ و سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ، نجوم اور تقدیر“
(مَساوِي الأخلاق للخرائطي : 748 وسنده حسن)

سبقت اسلام :

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أول من صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقال فى موضع آخر : أول من أسلم على .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے پہلے نماز سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ادا کی دوسری جگہ فرمایا : بچوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔“
(مسند الإمام أحمد : 371/4 ، فضائل الصحابة للنسائي : 34 ، سنن الترمذي : 3735 وسنده حسن)
اس روایت کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح ، امام حاکم رحمہ اللہ (143/3) نے ”صحیح الاسناد“ کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں :
أما على رضي الله عنه، فإنه أسلم قديما، وهو دون البلوغ على المشهور، ويقال : إنه أول من أسلم، وقد روي فى ذلك حديث عنه ولا يصح، والصحيح أنه أول من أسلم من العلمان، كما أن خديجة أول من أسلم من النساء، وأبو بكر الصديق أول من أسلم من الرجال الأحرار، وزيد بن حارثة أول من أسلم من الموالي .
”سیدنا علی رضی اللہ عنہ قدیم الاسلام صحابی ہیں ، ابھی تک وہ بالغ بھی نہ ہوئے تھے کہ اسلام کی نعمت سے سرفراز ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ سب سے پہلے اسلام لائے ، اس سلسلے میں بیان کی جانے والی حدیث ثابت نہیں ، درست یہی ہے کہ آپ بچوں میں سب سے پہلے ایمان لائے تھے، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا عورتوں میں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آزاد مردوں میں اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آزاد کردہ غلاموں میں سب سے اول مشرف بہ اسلام ہوئے ہیں۔“
(البداية والنهاية : 31/11)

محبوب ترین کنیت :

ایک شخص سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا :
هذا فلان، لأمير المدينة، يدعو عليا عند المنبر، قال : فيقول : ماذا؟ قال : يقول له : أبو تراب فضحك، قال : والله ما سماه إلا النبى صلى الله عليه وسلم وما كان له اسم أحب إليه منه، فاستطعمت الحديث سهلا، وقلت : يا أبا عباس كيف ذلك قال : دخل على على فاطمة ثم خرج فاضطجع فى المسجد، فقال النبى صلى الله عليه وسلم : أين ابن عمك، قالت : فى المسجد، فخرج إليه فوجد رداء ه قد سقط عن ظهره، وخلص التراب إلى ظهره، فجعل يمسح التراب عن ظهره، فيقول: اجلس يا أبا تراب مرتين .
”مدینہ کا فلاں امیر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر برا بھلا کہتا ہے، پوچھا : کیا کہتا ہے؟ کہا : وہ منبر پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ابو تراب کہتا ہے ،سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ہنس دیے اور فرمایا : بخدا ! یہ نام تو ان کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا تھا، یہ نام تو ان کو سب سے زیادہ محبوب تھا۔ راوی نے پوری حدیث سننے کی غرض سے عرض کیا : ابوعباس! یہ کب کا واقعہ ہے؟ فرمایا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، پھر مسجد جا کر لیٹ گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ آپ کے عم زاد کہاں ہیں؟ عرض کیا : مسجد میں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد آئے ، دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے ہیں، نیچے سے چادر سرک گئی ہے اور مٹی ان کی پیٹھ کو لگ رہی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مٹی کو جھاڑنے لگے اور فرمایا : ابوتراب ! اٹھ جائیے ، ابوتراب ! اٹھ جائیے۔“
(صحيح البخاري : 3703 ، صحیح مسلم : 2409)

داماد رسول صلی اللہ علیہ وسلم :

سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة يخطب ثم قال : إن بني هشام استأذنوني فى أن ينكحوا ابنتهم عليا، وإني لا آذن، ثم لا آذن إلا أن يريد ابن أبى طالب أن يفارق ابنتي ، وأن ينكح ابنتهم ثم قال : إن فاطمة مضغة أو بضعة مني يؤذيني ما آذاها ويريبني ما أرابها، وما كان له أن يجمع بين بنت عدو الله، وبين ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بنو ہشام نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی رضی اللہ عنہ سے کر دیں، میں اجازت نہیں دوں گا، البتہ علی رضی اللہ عنہ میری بیٹی کو اگر طلاق دے دیں ، تو ان کی بیٹی سے نکاح کر سکتے ہیں، پھر فرمایا: فاطمہ رضی اللہ عنہا میرا جگر گوشہ ہے، اسے جو تکلیف دے گا، مجھے تکلیف دے گا، اسے جو بے قرار کرے گا، مجھے بے قرار کرے گا۔ علی رضی اللہ عنہ کے لئے جائز نہیں کہ میری بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کو بیک وقت نکاح میں رکھے۔“
(صحيح البخاري : 5230 ، صحیح مسلم : 2450)
صحیح بخاری (3729) میں ہے :
”سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے نکاح کا ارادہ ختم کر دیا۔“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ :

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
أنت مني، وأنا منك .
”آپ مجھ سے اور میں آپ سے ہوں۔“
(صحيح البخاري : 4251)
سیدنا حبشی بن جنادہ سلولی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
علي مني وأنا منه ولا يؤدي عني إلا أنا أو على .
”علی رضی اللہ عنہ مجھ سے اور میں علی رضی اللہ عنہ سے ہوں، میری ذمہ داری کو میں یا علی رضی اللہ عنہ ہی پوری کریں گے۔“
(فضائل الصحابة للنسائي : 44 ، مسند الإمام أحمد ، 164/4 وسنده صحيح)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نسبت :

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
لما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى تبوك خرج على يشيعه، فبكى، وقال : يا رسول الله، أتتركني مع الخوالف؟ فقال النبى صلى الله عليه وسلم : يا على أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا النبوة .
”غزوہ تبوک کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جارہے تھے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ، رونے لگے ، عرض کیا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے چھوڑ کر جارہے ہیں آپ؟ فرمایا : علی رضی اللہ عنہ ! آپ کی نسبت مجھ سے وہی ہے، جو موسیٰ کی ہارون سے تھی ،سوائے نبوت کے ۔ تو کیا یہ اعزاز آپ کو پسند نہیں؟“
(صحیح مسلم : 2404 ، خصائص علي للنسائي : 47)
یہ حدیث متواتر ہے۔
(قطف الأزهار المتناثرة للسيوطي ص : 281 ، نظم المتناثر للكتاني ص : 206)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ اہل بیت سے ہیں :

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ، فاطمہ رضی اللہ عنہا، حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کو چادر میں لے کر یہ دعا کی :
أللهم أهل بيتي أذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا .
”اے اللہ ! یہ بھی میرے اہل بیت ہیں، گندگی ان کے قریب نہ پھٹکنے دینا اور انہیں کمال درجہ کی طہارت نصیب فرما۔“
(مسند الإمام أحمد : 298/6 وسنده حسن)
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آیت مباہلہ (سورۃ آل عمران : 61) نازل ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ، فاطمہ رضی اللہ عنہا، حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کو بلا کر فرمایا:
اللهم هؤلاء أهلي .
”اے اللہ ! یہ بھی میرے اہل بیت ہیں۔“
(صحیح مسلم : 2404)
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللهم هؤلاء أهل بيتي، وأهل بيتي أحق .
”اے اللہ ! یہ بھی میرے اہل بیت ہیں اور میرے اہل بیت عزت و تکریم کے زیادہ حق دار ہیں۔“
(مسند الإمام أحمد : 107/4 وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (1976) نے ”صحیح“ کہا ہے، نیز امام بیہقی رحمہ اللہ (السنن الکبری: 152/2) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔
امام حاکم رحمہ اللہ (3/ 147) نے امام بخاری و مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر ”صحیح“ اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر قرار دیا ہے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد ہیں:

سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : الخلافة فى أمتي ثلاثون سنة، ثم يكون ملك، ثم قال سفينة : أمسك، خلافة أبى بكر وخلافة عمر ثنتا عشرة سنة وستة أشهر وخلافة عثمان ثنتا عشرة سنة وستة أشهر ثم خلافة على تحملة الثلاثين قلت : فمعاوية؟ قال : كان أول الملوك .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : میری اُمت میں خلافت تیس سال ہوگی ، پھر بادشاہت ہوگی۔ سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : شمار کر لیجئے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت بارہ برس چھ ماہ تھی، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت بارہ سال تھی ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت نے تیس سال پورے کر دیئے۔ سعید بن جمہان رحمہ اللہ نے پوچھا : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ؟ فرمایا : وہ پہلے بادشاہ تھے۔“
(مسند الطيالسي : 1203 ، مسند الإمام أحمد : 221/5 ، سنن الترمذي : 2226 وسنده حسن)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں :
هذا الحديث فيه رد صريح على الروافض المنكرين لخلافة الثلاثة، وعلى النواصب من بني أمية ومن تبعهم من أهل الشام فى إنكار خلافة على بن أبى طالب .
”یہ حدیث روافض کا صریح رد کرتی ہے، اس میں تین کی خلافت کا ذکر ہے، بنو امیہ اور اہل شام کے ناصبیوں کا رد کرتی ہے کہ اس میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خلافت کا اثبات ہے اور وہ انکار کرتے ہیں۔“
(البداية والنهاية : 154/9)

خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑیں:

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين .
”میری اور خلفائے راشدین کی سنت لازم پکڑیں۔“
(سنن أبي داود : 4607 ، سنن الترمذي : 2676 ، مسند الإمام أحمد : 126/4-127 وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن صحیح“ ، امام ابن حبان رحمہ اللہ (5)، حافظ ضیاء مقدسی رحمہ اللہ (إتباع السنة واجتناب البدع : 2) نے ”صحیح“ ، حافظ بزار رحمہ اللہ (جامع بيان العلم وفضله لا بن عبد البر : 2306) نے ”ثابت صحیح“ اور حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ (جامع بيان العلم وفضله : 2306) نے ”ثابت“ کہا ہے۔
امام حاکم رحمہ اللہ (95/1) فرماتے ہیں :
صحيح، ليس له علة .
”یہ حدیث صحیح ہے ، اس میں کوئی علت نہیں۔“
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
حافظ ابونعیم اصبہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هذا حديث جيد من صحيح حديث الشاميين .
”یہ شامیوں کی صحیح مرویات میں سے جید حدیث ہے۔“
(المسند المستخرج على صحيح الإمام مسلم : 36/1)
حافظ بغوی رحمہ اللہ (شرح السنة : 102) نے ”حسن“ کہا ہے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
صححه أيضا الحافظ أبو نعيم الأصفهاني والدغولي، وقال شيخ الإسلام الأنصاري : هو أجود حديث فى أهل الشام وأحسنه .
”اسے حافظ ابو نعیم اصفہانی رحمہ اللہ اور حافظ دغولی رحمہ اللہ نے بھی ”صحیح“ قرار دیا ہے۔
شیخ الاسلام انصاری رحمہ اللہ کہتے ہیں :
”یہ شامیوں کی مرویات میں سے یہ حدیث جید اور عمدہ ترین ہے۔“
(تحفة الطالب بمعرفة أحاديث مختصر ابن الحاجب : 36)

اللہ و رسول سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہیں :

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم خيبر : لأعطين هذه الراية غدا رجلا يفتح الله عليه، يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله فلما أصبح الناس غدوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم كلهم يرجو أن يعطى، فقال : أين على بن أبى طالب؟ فقالوا : يا رسول الله، يشتكي عينيه، قال : فأرسلوا إليه فأتي به، فبصق رسول الله فى عينيه، ودعا له، فبرأ كأن لم يكن به وجع، فأعطاه الراية، فقال على : يا رسول الله، أقاتلهم حتى يكونوا مثلنا؟ قال : انفذ على رسلك حتى تنزل بساحتهم، ثم ادعهم إلى الإسلام، وأخبرهم بما يجب عليهم من حق الله، فوالله لأن يهدي الله بك رجلا واحدا خير لك من أن تكون لك حمر النعم .
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن فرمایا: کل میں اسے جھنڈا دوں گا کہ اللہ اس کے ہاتھوں فتح عطا فرمائے گا، وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہوں گے۔ اب ہر ایک کی خواہش کہ جھنڈا مجھے ملے، سو اگلی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آن پہنچے۔ فرمایا: علی کہاں ہیں؟ عرض کیا : آنکھوں میں تکلیف ہے، لہذا نہیں آسکے، فرمایا: ان کو لائیے ، وہ آئے تو لعاب دہن ان کی آنکھوں میں ڈالا ، پھر دعا فرمائی اور آنکھیں اس طرح صحت پا گئیں کہ گویا کبھی تکلیف ہی نہ تھی۔ انہیں جھنڈا دے دیا گیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! میں تب تک ان سے لڑتا رہوں گا ، جب تک کہ وہ ہمارے جیسے نہ ہو جائیں گے، فرمایا : علی ! نرمی سے چلتے جائیے، میدان جنگ میں پہنچ کر انہیں اسلام کی دعوت دیجئے ، انہیں بتلائیے کہ اللہ کے حقوق ان پر کیا ہیں ؟ بخدا! ایک شخص بھی آپ کی وجہ سے ہدایت پا جاتا ہے، تو وہ سرخ اونٹوں سے بہتر سرمایہ ہے۔“
(صحيح البخاري : 4210 ، صحیح مسلم : 2404)
صحیح مسلم (1807) میں ہے کہ مرحب کہنے لگا :
قد علمت خيبر أني مرحب … شاكي السلاح بطل مجرب . إذا الحروب أقبلت تلهب .
”سارا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں، ہتھیاروں سے لیس لڑائی میں تجربہ کار اور بہادر ثابت ہوتا ہوں ، جب شعلہ زن جنگ بھڑک جائے۔“
تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں کہا :
أنا الذى سمتني أمي حيدره … كليث غابات كريه المنظره
”میرا نام میری ماں نے حیدر رکھا ہے۔ جنگلات کے ہولناک منظر والے شیروں کی طرح ہوں۔“
أوفيهم بالصاع كيل السندرة
”دشمنوں کو پورا پورا بدلہ دیتا ہوں، جیسے وسیع پیمانے میں پورا پورا دیا جاتا ہے۔ دشمن کو خوب سبق سکھاتا ہوں۔“
پھر آپ رضی اللہ عنہ نے مرحب کے سر پر تلوار مار کر قتل کر دیا اور آپ فتح یاب ہوئے۔