عقیدہ ختمِ نبوت اور ”امتی نبی“ کا رد

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری کی کتاب ختم نبوت سے ماخوذ ہے۔

امتی نبی

دین اسلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی امتی نبی یا خلیفہ نبی کی بعثت کا کوئی تصور نہیں ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
بينا أنا نائم أتيت بخزائن الأرض، فوضع فى كفي سواران من ذهب، فكبرا علي، فأوحى الله إلى أن أنفخهما، فنفختهما فذهبا، فأولتهما الكذابين اللذين أنا بينهما، صاحب صنعاء، وصاحب اليمامة .
”خواب میں میرے پاس زمین کے خزینے لائے گئے، پھر دو سونے کے کڑے میری ہتھیلیوں پہ رکھ دیئے گئے، یہ مجھ پر بھاری ہوئے تو اللہ نے وحی کی کہ ان پر پھونک دیجئے، میں نے پھونک دیا، تو وہ اڑ گئے، ان کی تعبیر میں نے اپنی زندگی میں موجود دو کذابوں سے کی، ایک صنعاء کا اور دوسرا یمامہ کا رہائشی ہوگا۔“
(صحيح البخاري : 4374 ، صحيح مسلم : 2274)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
قدم مسيلمة الكذاب على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجعل يقول : إن جعل لي محمد الأمر من بعده تبعته، وقدمها فى بشر كثير من قومه، فأقبل إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه ثابت بن قيس بن شماس، وفي يد رسول الله صلى الله عليه وسلم قطعة جريد، حتى وقف على مسيلمة فى أصحابه، فقال : لو سألتني هذه القطعة ما أعطيتكها، ولن تعدو أمر الله فيك، ولئن أدبرت ليعقرنك الله، وإني لأراك الذى أريت فيه، ما رأيت، وهذا ثابت يجيبك عني ثم انصرف عنه، قال ابن عباس : فسألت عن قول رسول الله صلى الله عليه وسلم : إنك أرى الذى أريت فيه ما أريت، فأخبرني أبو هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : بينا أنا نائم، رأيت فى يدي سوارين من ذهب، فأهمني شأنهما، فأوحي إلى فى المنام أن أنفخهما، فنفختهما فطارا، فأولتهما كذابين يخرجان بعدي، أحدهما العنسي، والآخر مسيلمة .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسیلمہ کذاب اپنی قوم کے بہت سے لوگوں کے ساتھ مدینہ آیا اور کہنے لگا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد مجھے نبی بنا دیں، تو میں ان کی اطاعت کر لیتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گئے، سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیلمہ سے کہا: میں تجھے یہ چھڑی بھی نہیں دوں گا، یقینا تیرے متعلق اللہ کا فیصلہ ضرور پورا ہوگا۔ اگر تو نے میری اطاعت نہ کی تو اللہ تجھے برباد کر دے گا۔ میں نے تیرے متعلق ایک خواب دیکھا تھا، وہ پورا ہوکر رہے گا۔ اب تیری مزید باتوں کا جواب ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ دیں گے، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس چلے آئے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بھی یہی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان خوابوں کے متعلق سوال کیا، تو مجھے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ خواب یہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں اپنے ہاتھوں میں دو کڑے دیکھے، مجھے یہ بوجھل محسوس ہوئے۔ پھر نیند میں مجھے وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونکوں، میں نے ان پر پھونک دیا، وہ اڑ گئے۔ ان کی تعبیر میں نے دو کذابوں سے کی ہے، جو میرے بعد پر پرزے نکالیں گے، ان میں ایک اسود عنسی اور دوسرا مسیلمہ ہے۔“
(صحيح البخاري : 4373 ، صحيح مسلم : 2273)
صحیح بخاری میں الفاظ ہیں :
فقال له مسيلمة : إن شئت خليت بيننا وبين الأمر، ثم جعلته لنا بعدك .
”مسیلمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد نبوت میرے حوالے کر دیں، تو میں فی الوقت نبوت کا دعوی نہیں کرتا۔“
(صحيح البخاري : 4378)
سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما رآني قال : أنت وحشي قلت : نعم، قال : أنت قتلت حمزة قلت : قد كان من الأمر ما بلغك، قال : فهل تستطيع أن تغيب وجهك عني قال : فخرجت فلما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج مسيلمة العذاب، قلت : لأخرجن إلى مسيلمة، لعلي أقتله فأكافي به حمزة، قال : فخرجت مع الناس، فكان من أمره ما كان، قال : فإذا رجل قائم فى ثلمة جدار، كأنه جمل أورق ثائر الرأس، قال : فرميته بحربتي، فأضعها بين ثدييه حتى خرجت من بين كتفيه، قال : ووثب إليه رجل من الأنصار فضربه بالسيف على هامته .
”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: آپ وحشی ہیں؟ میں نے کہا جی ہاں! فرمایا: حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل آپ نے کیا تھا؟ عرض کیا: جی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحیح خبر پہنچی ہے۔ فرمایا: آپ میرے سامنے آنے سے اجتناب کیجئے گا، میں وہاں سے چلا آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مسیلمہ کذاب کے فتنہ نے زور پکڑا، تو دل میں خیال آیا کہ مسیلمہ کو میں قتل کروں گا، تا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا بوجھ میرے سر سے اتر جائے۔ میں اس سے جنگ کرنے والے لشکر میں شامل ہو گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی دیوار کے شگاف میں کھڑا ہے، جو خاکستری اونٹ کی طرح گندم گوں تھا اور اس کے بال پراگندہ تھے۔ میں نے اسے دیکھا، تو اپنا نیزہ اس کے سینے میں پیوست کر دیا اور اس کا سینہ پیٹھ تک چر گیا، پھر ایک انصاری نے تلوار سے اس کا سر قلم کر دیا۔“
(صحيح البخاري : 4072)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أن مسيلمة بعث رجلين أحدهما ابن أثال بن حجر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أتشهدان أن محمدا رسول الله؟، قالا : نشهد أن مسيلمة رسول الله، فقال النبى صلى الله عليه وسلم : آمنت بالله ورسله، لو كنت قاتلا وفدا قتلتكما .
”مسیلمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی بھیجے، ایک اثال بن حجر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول مانتے ہو؟ کہنے لگے : ہم مسیلمہ کو اللہ کا رسول مانتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہوں، اگر میں قاصدوں کا قتل روا رکھتا تو تمہیں قتل کردیتا۔“
(مسند أبي يعلى : 5097 وسنده حسن)
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”حسن“ کہا ہے۔
(مجمع الزوائد : 314/5)
سیدنا نعیم بن مسعود اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول حين قرأ كتاب مسيلمة الكذاب، قال للرسولين : فما تقولان أنتما؟ قالا : نقول كما قال، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : والله لولا أن الرسل لا تقتل لضربت أعناقكما .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مسیلمہ کا خط پڑھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصدوں سے پوچھا، آپ کا عقیدہ کیا ہے؟ کہنے لگے : وہی جو خط میں لکھا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے قانون میں قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا، وگرنہ میں تمہاری گردنیں اڑا دیتا۔“
(مسند الإمام أحمد : 487/3 ، سنن أبي داود : 2761 وسنده حسن)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ”حسن“ کہا ہے۔
(العلل الكبير للترمذي : 715)
امام حاکم رحمہ اللہ (52/3، 143/2) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر ”صحیح“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
صحیح بخاری (4379) میں ہے کہ اسود عنسی کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔

محل استشہاد

ان احادیث پر تدبر کیجئے ! مسیلمہ کذاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتا ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطیع بن جاتا ہوں، بشرطیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت میرے پاس ہوگی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ایک چھڑی دینے کو بھی تیار نہیں ہوتے۔ یہ اس نے ارادہ ظاہر کیا تھا، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کہا، وگرنہ اسے قتل کر دیا جاتا، بعد میں جب اس نے دو قاصد بھیجے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ اگر قاصد قتل نہ کرنے کا قانون آڑے نہ آتا، تو میں تمہیں قتل کر دیتا۔
اس حدیث سے امتی نبی کے وجود کی بھی نفی ہوتی ہے، کیوں کہ مسیلمہ نے کہا تھا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع بن جاتا ہوں، بشرطیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مجھے نبوت ملے، یعنی وہ امتی بننے کو تیار تھا، لیکن اس کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نبوت عطا نہیں کی، بلکہ کذاب قرار دے کر واضح کر دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کی بات کرتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے عطا نہیں کرتے، بلکہ کذاب قرار دیتے ہیں، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمل سے لا نبي بعدي والی حدیث کا معنی متعین کر رہے ہیں، سمجھا رہے ہیں کہ اس حدیث کو اپنے ظاہری معنی پر رکھا جائے گا، اس کا کوئی دوسرا معنی نہیں کیا جائے گا۔ اجماع امت بھی اسی معنی کا موید ہے، نہ کہ کسی دوسرے معنی کا۔
فرمان باری تعالیٰ ہے :
فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ
”اللہ کی کتاب اور اس کی آیات کے بعد کس پر ایمان لاؤ گے۔“
(الجاثية : 6)
مذکورہ صدر احادیث پر ایک اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں نبوت کا دعوی کر چکے تھے، چنانچہ یہ کہنا کیوں کر درست ہے کہ میرے بعد وہ نبوت کا دعوی کریں گے۔ جواب یہ ہے کہ بعدي کا معنی یہاں یہ ہے کہ میرے دعوی نبوت کے بعد لوگ نبوت کا دعوی کریں گے، یہ معنی نہیں کہ میری وفات کے بعد لوگ نبوت کا دعوی کریں گے۔ یہ بات ہر وہ شخص سمجھ سکتا ہے، جس کا فہم حدیث وکار محدثین سے ادنی سا بھی مسن ہو، اس معنی پر قرائن یہ ہیں:
◈ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیلمہ سے کہا تھا کہ مجھے تیرے متعلق خبر دے دی گئی ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی بتا دیا گیا تھا کہ اب یہ شخص نبوت کا دعوی کرے گا۔
◈ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور ہی میں انہوں نے نبوت کا دعوی کر دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لئے فرمایا تھا :
أولتهما الكذابين اللذين أنا بينهما، صاحب صنعاء، وصاحب اليمامة .
”میں نے ان دو کڑوں کی تعبیر صنعاء اور یمامہ کے دو جھوٹوں سے کی ہے۔“
اس سے واضح ہوتا ہے کہ بعدي سے مراد وہاں یہ تھی کہ میرے دعوی نبوت کے بعد جو دو لوگ نبوت کا دعوی کریں گے۔

ایک اشتباہ :

قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) لکھتے ہیں :
هذا الحديث قد ظهر ، فلو عد من تنبأ من زمن النبى صلى الله عليه وسلم إلى الآن، ممن اشتهر بذلك وعرف واتبعته جماعة على ضلالته؛ لوجد هذا العدد فيهم ومن طالع كتب الخبر والتاريخ عرف صحة هذا، فلولا التطويل لسردنا منهم هذا العدد، والله أعلم .
”یہ حدیث پوری ہو چکی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے لے کر اب تلک کے جھوٹے مدعیان نبوت کا شمار کیا جائے تو اس تعداد کو پہنچ جائیں گے، طوالت کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم ان کا ذکر کر دیتے، تاریخ کا مطالعہ کرنے والے تو یہ بات جانتے ہیں۔“
(إكمال المعلم : 463/8)
اس عبارت سے یہ سمجھ لیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن جھوٹے داعیان نبوت کے بارے میں بتایا تھا، ان کی تعداد پوری ہوگئی ہے، لہذا اب جو آئے گا وہ سچا ہی ہوگا لیکن یہ محض ایک شبہ ہی ہے :
این خیال است و محال است و جنوں
کیونکہ یہ قاضی صاحب رحمہ اللہ کا خیال ہے ممکن ہے کہ تمہیں نہ آئے ہوں اور انہوں نے کمزور دلائل کی بنیاد پر سمجھ لیا کہ تیس پورے ہو گئے۔
اصل یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو کوئی بھی نبوت کا دعوی کرے گا، جھوٹا ہے۔
علامہ شاطبی رحمہ اللہ (790ھ) لکھتے ہیں :
أن يكون تجديد وحي بحكم بعد النبى صلى الله عليه وسلم، وهو منهي عنه بالإجماع .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تجدید وحی کا دعوی بالاجماع ممنوع ہے۔“
(الاعتصام : 260/1۔261)