پاکبازی اور تقدس کا تعلق انسانی کردار سے ہے کسی زمین سے نہیں
ذرا غور فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مہاجرین و انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تو سلمان فارسی اور ابو درداء رضی اللہ عنہما کے مابین اخوت ہوئی۔ ابو درداء دمشق اور سلمان فارسی عراق میں تھے۔ ابو درداء نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہما کو لکھ بھیجا کہ آپ ارض مقدس میں میرے ہاں تشریف لے آئیں۔ اس کے جواب میں سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے جو پیغام بھیجا وہ سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔ فرماتے ہیں:
”إن الأرض لا تقدس أحدا وإنما يقدس الرجل عمله“
”ارض پاک کسی کو پاک باز نہیں بناتی بلکہ انسان کا کردار اسے مقدس بناتا ہے۔“
مؤطا امام مالک (769/2) کتاب الوصية – حلية الأولياء لأبي نعيم (1/205)
جہاد کے لیے سرحدوں پر قیام سکونت مکہ و مدینہ سے افضل ہے
علماء کا اتفاق ہے کہ حرمین شریفین میں قیام کرنے سے سرحدوں پر (اسلام کے لیے) جہاد کرنا افضل ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہجرت و جہاد کے لیے مدینہ منورہ میں قیام کرنا افضل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سب مخلوق کو پیدا کیا۔ وہی ان کو ہدایت اور رزق عطا فرماتا ہے اور مدد کرتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی شخص ذرہ بھر چیز کا مالک نہیں۔