نماز تراویح کے اہم عملی مسائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سوال:

کیا بدعتی امام کے پیچھے تراویح پڑھنا جائز ہے؟

جواب:

بدعتی کی امامت معتبر نہیں، لہذا فرائض و نوافل میں اس کی اقتدا درست نہیں۔

سوال:

تراویح میں ایک قرآن سے زائد تلاوت کرنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

تراویح میں آیت سجدہ تلاوت کی، اسی وقت سجدہ نہ کیا، بلکہ جب اسی رکعت کے دو سجدے کیے تو ساتھ تیسرا سجدہ تلاوت بھی کر لیا، کیا حکم ہے؟

جواب:

سجدہ تلاوت مسنون مستحب ہے، نماز میں اسی وقت کیا جائے گا جب آیت سجدہ تلاوت کی۔ نماز کے دو سجدوں کے بعد یا پہلے سجدہ تلاوت کرنا بالکل غلط ہے۔

سوال:

نماز تراویح میں جلسہ استراحت چھوٹ گیا، کیا سجدہ سہو لازم ہو گا؟

جواب:

ہر سہو پر سجدہ ہے، جلسہ استراحت چھوٹ جائے تو اس پر بھی سجدہ سہو ہے۔

سوال:

تراویح کی قرآت میں بعض آیات کے بعد دعائیہ کلمات کہنا کیسا ہے؟

جواب:

امام کے لیے بعض مقامات پر دعائیہ کلمات ادا کرنا مسنون و مستحب ہیں۔ البتہ سامعین اور مقتدیوں کے لیے ایسا کرنا ثابت نہیں۔

سوال:

کیا تراویح کی چار رکعت کے بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنا جائز ہے؟

جواب:

دعا کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ کسی وقت میں دعا کے مستحب یا واجب ہونے کا نظریہ نہ ہو، لہذا بغیر اہتمام کے تراویح کی چار رکعات کے بعد اجتماعی دعا کرنا جائز ہے۔

سوال:

بعض کہتے ہیں کہ تراویح کے سہو پر سجدہ سہو نہیں، کیا حکم ہے؟

جواب:

یہ بات بے ثبوت ہے۔ تراویح نفل ہے اور نفل کے سہو پر بھی سجدہ سہو ہے۔

سوال:

سخت بیمار آدمی جو اٹھنے یا بیٹھنے کی سکت نہیں رکھتا، کیا وہ لیٹ کر تراویح پڑھ سکتا ہے؟

جواب:

پڑھ سکتا ہے۔

سوال:

مسجد میں تراویح پڑھانے کا زیادہ حق مستقل امام کو ہے، یا کوئی بھی حافظ پڑھا سکتا ہے؟

جواب:

پہلا حق مستقل امام کا ہے، اگر وہ نہیں پڑھانا چاہتا تو کوئی بھی حافظ نماز تراویح کی امامت کرا سکتا ہے۔

سوال:

کیا وتر کے بعد نماز تراویح پڑھائی جا سکتی ہے؟

جواب:

پڑھائی جا سکتی ہے۔
❀ قیس بن طلق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رمضان میں ایک دن سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے۔ شام پڑ گئی تو ہمارے پاس افطاری کی۔ اسی رات ہمیں قیام کروایا اور وتر پڑھائے۔ پھر اپنی مسجد میں گئے اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی۔ وتر باقی رہ گئے تو ایک آدمی کو آگے کیا اور فرمایا: اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھائیں۔ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
لا وتران في ليلة
”ایک رات میں دو بار وتر نہیں۔“
(سنن أبي داود: 1439، سنن النسائي: 1680، سنن الترمذي: 470، وسنده حسن، وأخرجه أحمد: 4/23، وسنده حسن أيضًا)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، جب کہ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1101) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (2449) نے صحیح کہا ہے۔
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
(فتح الباري: 2/481)

سوال:

ایک شخص نے آدھی رکعات تراویح امام کے ساتھ ادا کی اور باقی آخری پہر میں ادا کی تو کیا حکم ہے؟

جواب:

جائز ہے، مگر جو فضیلت امام کے ساتھ قیام کرنے کی ہے، وہ اسے مکمل حاصل نہ ہو گی۔
❀ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام نہیں کروایا، تئیسویں شب کا تہائی حصہ قیام کروایا۔ چوبیسویں کو قیام نہیں کروایا، پھر پچیسویں کو نصف رات تک قیام کروایا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش کہ آپ پوری رات قیام کرواتے، تو فرمایا:
إن الرجل إذا صلى مع الإمام حتى ينصرف حسب له قيام ليلة
”باجماعت نماز پڑھنے پر پوری رات کے قیام کا ثواب ملتا ہے۔“
(مسند الإمام أحمد: 5/159، سنن أبي داود: 1375، سنن النسائي: 1606، سنن الترمذي: 806، سنن ابن ماجه: 1327، وسنده صحيح)

سوال:

اگر کوئی شخص خاص وظیفہ کا عادی ہے، کیا وہ اس کی وجہ سے نماز تراویح ترک کر سکتا ہے؟

جواب:

اسے تراویح ترک نہیں کرنی چاہیے، رمضان میں بھلا تراویح سے بہتر وظیفہ کیا ہو سکتا ہے؟

سوال:

کچھ لوگ تراویح کی چار رکعات کے بعد ”درود برخواجہ عالم“ کہتے ہیں، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب:

جائز نہیں۔

سوال:

جس نے بیماری یا سفر کی وجہ سے اگلے دن کا روزہ نہ رکھنا ہو، کیا وہ بھی نماز تراویح پڑھے گا؟

جواب:

تراویح کا تعلق روزہ رکھنے یا چھوڑنے سے نہیں ہے۔ جس نے سفر یا بیماری کی وجہ سے اگلے دن کا روزہ نہ رکھنا ہو، اس کے لیے بھی تراویح مسنون و مستحب ہے۔

سوال:

جس نے تراویح پڑھی مگر اگلے دن بلا عذر شرعی روزہ نہ رکھا، کیا تراویح کا ثواب ملے گا؟

جواب:

اگر بغیر عذر کے روزہ چھوڑا تو روزہ چھوڑنے کا گناہ ملے گا، مگر تراویح کا ثواب بھی ملے گا۔

سوال:

کیا تراویح میں پورا قرآن پڑھنا مستحب ہے؟

جواب:

عمومی دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ تراویح میں مکمل قرآن کریم کی تلاوت کرنا مستحب ہے، البتہ اس بارے کوئی نص وارد نہیں ہوئی۔

سوال:

اگر سجدہ تلاوت اس آیت پر آئے کہ جہاں امام نے قرآت مکمل کرنی تھی تو سجدہ کا کیا طریقہ ہے؟

جواب:

آیت سجدہ مکمل کر کے سجدہ کرے اور سجدہ سے اٹھ کر لمحہ بھر کے لیے قیام میں کھڑا ہو، پھر تکبیر کہہ کر رکوع کر لے۔

سوال:

صرف لقمہ دینے کے لیے تراویح میں شریک ہونا اور بعد میں نماز توڑ دینا کیسا ہے؟

جواب:

لقمہ کا یہ طریقہ جائز نہیں، لقمہ دینے کے لیے مقتدی ہونا ضروری نہیں، اگر کوئی شخص محسوس کرے کہ امام کو لقمہ کی ضرورت ہے تو جماعت کے باہر سے ہی لقمہ دے سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص جماعت میں شریک ہوا تو اب اسے نماز مکمل کرنی چاہیے، بلا عذر جماعت توڑنا جائز نہیں۔

سوال:

تراویح کی ایک ہی رکعت میں تین بار سورت اخلاص پڑھنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے، بشرطیکہ اسے لازم نہ سمجھے۔

سوال:

اگر کوئی حافظ ایک مسجد میں ایک ہفتہ میں قرآن کریم مکمل تراویح میں تلاوت کرے اور دوسری مسجد میں دوسرے ہفتے اور اسی طرح تیسری مسجد میں، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب:

اگر مقتدیوں کی فرمائش ہو تو کوئی حرج نہیں۔

سوال:

اگر امام تراویح میں کچھ آیات سہوا چھوڑ جائے اور دو دن بعد ان آیات کو دوبارہ تلاوت کر دے تو کیا حکم ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

ایک حافظ کو قرآن کا ایک مقام مشکل لگتا ہے، اسے چھوڑ کر آگے تلاوت کرتا ہے، بعد میں کسی دن ان چھوڑی گئی آیات کی تلاوت کر لیتا ہے تو کیا حکم ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

نماز تراویح میں امام اور سامع کو برابر کھڑا کرنا کیسا ہے؟

جواب:

برابر کھڑا کرنا جائز نہیں۔ سامع صف میں ہی کھڑا ہو گا۔

سوال:

جو شخص آٹھ تراویح کو مسنون مانتے ہوئے اس سے زائد رکعات تراویح پڑھے تو کیا حکم ہے؟

جواب:

مسنون آٹھ ہیں، اس سے زائد نوافل پڑھنا جائز ہیں۔

سوال:

جو شخص تنہا تراویح پڑھ رہا ہے، وہ قرآت بلند آواز سے کرے یا آہستہ؟

جواب:

دونوں طرح جائز ہے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت اس قدر بلند تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تلاوت کر رہے ہوتے اور صحن میں سنائی دیتی۔“
(سنن أبي داود: 1327، شمائل الترمذي: 322، وسنده حسن)
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كانت قراءة النبي صلى الله عليه وسلم بالليل يرفع طورا ويخفض طورا
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کبھی بلند اور کبھی آہستہ آواز سے قراءت کرتے تھے۔“
(سنن أبي داود: 1328، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1159)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (2603) اور امام حاکم رحمہ اللہ (1/310) نے صحیح کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
❀ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات باہر تشریف لائے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ آہستہ آواز سے قراءت کر رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو وہ اونچی آواز سے تلاوت کر رہے تھے۔ جب وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر! میں آپ کے پاس سے گزرا، آپ آہستہ آواز سے نماز پڑھ رہے تھے۔ عرض کیا: اللہ کے رسول! جس ذات سے سرگوشی کر رہا تھا، اسے میں نے اپنی بات سنادی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میرا آپ کے پاس سے گزر ہوا، آپ بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے۔ عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے سوئے ہوؤں کو جگا رہا تھا اور شیطان کو بھگا رہا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر! آپ اپنی آواز قدرے بلند کیجیے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آپ اپنی آواز کو تھوڑا سا پست کیجیے۔“
(سنن أبي داود: 1329، سنن الترمذي: 447، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1161) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (733) نے صحیح کہا ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ (1/310) نے مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔

سوال:

کیا نماز تراویح میں نابالغ بچہ امام بن سکتا ہے؟

جواب:

حاضرین میں سب سے زیادہ قاری نابالغ بچہ ہو تو وہ فرض اور نفل ہر نماز کے لیے بن سکتا ہے۔
❀ سیدنا ابو یزید جرمی عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”ہم لوگوں کی گزرگاہ پر موجود پانی کے پاس رہتے تھے، چنانچہ ہم ان سے پوچھتے رہتے تھے کہ یہ دین کیسا ہے؟ انہوں نے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا: میرے والد اپنے محلے کے لوگوں کی طرف سے اسلام کی معلومات لینے گئے تو جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہے، پھر جب واپس آئے تو ہم نے ان کا استقبال کیا۔ وہ ہمیں دیکھ کر کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں ایک سچے رسول کے پاس سے آ رہا ہوں۔ پھر فرمایا: وہ آپ کو فلاں فلاں کاموں کا حکم دیتے ہیں اور فلاں فلاں کاموں سے روکتے ہیں، نیز یہ حکم دیتے ہیں کہ آپ فلاں نماز فلاں وقت پڑھیں اور فلاں نماز فلاں وقت پڑھیں، جب نماز کا وقت ہو تو ایک آدمی اذان کہے، پھر وہ امامت کرائے جو آپ میں سے قرآن زیادہ جانتا ہو، ہمارے محلے والوں نے غور کیا تو مجھ سے زیادہ قرآن جاننے والا کسی کو نہ پایا، کیونکہ میں قافلے والوں سے قرآن یاد کرتا رہتا تھا، چنانچہ انہوں نے مجھے آگے (کھڑا) کر دیا، میں چھ برس کی عمر میں انہیں نماز پڑھاتا رہا۔“
(صحيح البخاري: 4302)