اس روایت کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قریب المرگ والے کلام سے جوڑنا:
صحیح بخاری کی اسی 4108 نمبر حدیث کے ساتھ مرزا صاحب صحیح مسلم کی یہ حدیث اپنے گندے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے جوڑا کرتے ہیں:
عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَذَكَرَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ دِيكًا نَقَرَنِي ثَلَاثَ نَقَرَاتٍ، وَإِنِّي لَا أُرَاهُ إِلَّا حُضُورَ أَجَلِي، وَإِنَّ أَقْوَامًا يَأْمُرُونَنِي أَنْ أَسْتَخْلِفَ، وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُنْ لِيُضَيِّعَ دِينَهُ، وَلَا خِلَافَتَهُ، وَلَا الَّذِي بَعَثَ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ عَجِلَ بِي أَمْرٌ، فَالْخِلَافَةُ شُورَى بَيْنَ هَؤُلَاءِ السِّتَّةِ، الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ، وَإِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَقْوَامًا يَطْعَنُونَ فِي هَذَا الْأَمْرِ، أَنَا ضَرَبْتُهُمْ بِيَدِي هَذِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ فَأُولَئِكَ أَعْدَاءُ اللَّهِ، الْكَفَرَةُ الضُّلَّالُ…………..
”معدان بن ابو طلحہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا، اور کہا: میں نے (خواب) دیکھا ہے کہ جیسے ایک مرغ نے مجھے تین ٹھونگیں ماری ہیں۔ اور میں اس کی تعبیر یہی سمجھتا ہوں کہ میرا وقت آ چکا ہے۔ اور کچھ لوگ مجھ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ میں کسی کو اپنا خلیفہ مقرر کر دوں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو ضائع نہیں ہونے دے گا، نہ اس کے خلافتی نظام کو اور نہ اس چیز کو کہ جس کے ساتھ اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ اگر مجھے موت آ جائے تو خلافت کا معاملہ ان چھ حضرات کے باہمی مشورے سے طے پائے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت راضی تھے۔ اور میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ اس معاملے میں طعن کریں گے، میں نے انہیں اسلام کی خاطر اپنے ہاتھوں سے مارا ہے۔ پس اگر وہ ایسا کریں تو وہ اللہ کے دشمن، کافر اور گمراہ ہیں!“ (صحیح مسلم:567)
اور وہ چھ صحابہ رضی اللہ عنہم کون تھے، اس کے لیے مرزا صاحب صحیح بخاری کی حدیث نمبر: 3700 بیان کیا کرتے ہیں۔
حدیث میں ہے کہ جب کسی میں حیاء نہ رہے تو پھر وہ جو چاہے کرے۔ (صحیح بخاری:6120)
اور مرزا صاحب اسی بے حیائی کے مرض میں مبتلا ہیں۔ اس سے مرزا صاحب کا استدلال یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس خلافت کے معاملے میں طعن کرنے والوں کی پہلے سے خبر دی تھی، اور انہیں اللہ کے دشمن اور گمراہ قرار دیا، اور فرمایا کہ میں نے انہیں اپنے ہاتھوں سے مارا بھی ہے۔ اور یہاں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خلافت کے معاملے میں طعن کر رہے ہیں کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی خلافت کے زیادہ حقدار ہیں۔ اور ابن عمر نے اس کے جواب میں جو فرمایا کہ اس خلافت کا آپ سے زیادہ حقدار وہ ہے کہ جس نے آپ سے اسلام کی خاطر قتال کیا ہے، تو یہ ان دو باتوں کو ملاتے ہیں۔
ہم پیچھے دلائل سے ثابت کر چکے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کوئی طعن اور گستاخی نہیں کی بلکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک سیدنا عمر و علی رضی اللہ عنہما کی حکومتیں کیسی تھیں یہ بھی واضح کر دیا گیا۔ اور رہا جناب عمر کے نام سے دھوکا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمیں خود بتا کر گئے ہیں کہ جن کافروں، اللہ کے دشمنوں اور خلافت کے معاملے میں طعن کرنے والوں کے متعلق میں یہ بات کر رہا ہوں ان میں معاویہ رضی اللہ عنہ بالکل بھی نہیں ہیں!
وہ کس طرح؟ بتائیے کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر نہیں بنایا تھا؟ تو کیا آپ نے نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ کسی کافر اور اللہ کے دشمن کو اپنی خلافت راشدہ میں گورنر لگا رکھا تھا؟ اور جو کل کو خلافت میں طعن کرنے والا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کو اتنے بڑے عہدے پر فائز کر دینا ہی آپ رضی اللہ عنہ کی توثیق اور آپ کے اس حوالے سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر تمام تر اعتراضات بلکہ بکواسات کا جواب ہے۔
عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ لَقِيَ عُمَرَ بِعُسْفَانَ وَكَانَ عُمَرُ يَسْتَعْمِلُهُ عَلَى مَكَّةَ فَقَالَ مَنْ اسْتَعْمَلْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي فَقَالَ ابْنَ أَبْزَى قَالَ وَمَنْ ابْنُ أَبْزَى قَالَ مَوْلًى مِنْ مَوَالِينَا قَالَ فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى قَالَ إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّهُ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ قَالَ عُمَرُ أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ۔
”عامر بن واثلہ سے روایت ہے کہ جناب نافع بن عبدالحارث رضی اللہ عنہ مقام عسفان پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں مکہ کا گورنر بنا رکھا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اہل وادی، یعنی مکہ کے لوگوں پر (بطور نائب) کسے مقرر کیا ہے؟ نافع رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ابن ابزیٰ کو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ ابن ابزیٰ کون ہے؟ کہنے لگے: ہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے ایک غلام ہے۔ اس پر جناب عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ایک غلام کو اپنا جانشین بنا آئے؟ تو جناب نافع رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: وہ اللہ عزوجل کی کتاب کا قاری ہے اور احکام و مسائل کو خوب جانتا ہے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ”اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن) کے ذریعے بہت سے لوگوں کو بلندی عطا کرتا ہے اور اسی کے ذریعے لوگوں کو پست کرتا ہے۔“ (یعنی جو اسے پس پشت ڈال دیتے ہیں)۔“ (صحیح مسلم:1897)
گورنر تو دور گورنر کے جان نشین کے متعلق آپ رضی اللہ عنہ کا رویہ کیا ہے؟ کیا وہ غلام کافر تھا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کو معیوب جانا؟ نہیں! وہ سمجھتے تھے کہ اس قدر اہم اور بڑے عہدے کا ذمہ دار ایک غلام کو لگا آئے ہو جو اس کا اہل نہیں! وہ تو جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ کوئی عام غلام نہیں بلکہ اللہ کے دین کا علم رکھنے والا ہے تو پھر کہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ مطمئن ہوئے۔ تو جسے گورنر خود عمر رضی اللہ عنہ لگائیں اس کے متعلق کیا خیال ہے؟ کیا عمر رضی اللہ عنہ نے اتنے بڑے عہدے پر ایک ایسے انسان کو فائز کیا ہوا تھا جو آپ کے نزدیک کل کو خلافت میں طعن کرنے والا ہے، ان کے نزدیک جو کافر اور اللہ کا دشمن ہے (نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ)؟ اس سے یہ تو معلوم ہوا ہی کہ جناب عمر رضی اللہ عنہ کے اس قریب المرگ والے قول کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر فٹ کرنا بلکہ ایسا سوچنا بھی سو نہیں ہزار فیصد غلط ہے اور یہ طمانچہ خود عمر رضی اللہ عنہ ہی رافضیت کے منہ پر مار کر گئے ہیں ہمیں تو کوئی رد کرنے یا جواب دینے کی ضرورت ہی نہیں، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ایک دین دار، سمجھدار، معتبر، صاحب علم و فراست، اور اسلامی اقتدار کے بوجھ کو اٹھانے کی صلاحیت رکھنے والے انسان تھے۔
امام ذہبی رحمہ اللہ نے کیا خوب لکھا ہے:
وَقَالَ خَلِيفَةُ: ثُمَّ جَمَعَ عُمَرُ الشَّامَ كُلَّهَا لِمُعَاوِيَةَ، وَأَقَرَّهُ عُثْمَانُ۔ قُلْتُ: حَسْبُكَ بِمَنْ يُؤَمِّرُهُ عُمَرُ……
”امام خلیفہ بن خیاط رحمہ اللہ نے کہا کہ: پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سارے کا سارا شام جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے جمع کر دیا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اسے برقرار رکھا۔“
میں (ذہبی) کہتا ہوں کہ: ”تمہارے (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی توثیق کے) لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انہیں اقتدار پر فائز کرنا ہی کافی ہے۔“ (سیر اعلام النبلاء:132/3)
لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی پیشین گوئی بھی حق پر مبنی ہے پھر آپ کی مراد کون لوگ ہیں؟ تو وہ ہمیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں کھلم کھلا نظر آتے ہیں۔ لیکن مرزا صاحب اپنے روحانی رشتہ داروں کو بچاتے ہوئے ہمیں معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لے جاتے ہیں۔ روحانی رشتہ دار اس طرح کہ وہ بھی حضرت عثمان کی خلافت پر طعن کرتے تھے اور آج انجینئر صاحب بھی، اور یہ ان باغیوں کی حمایت بھی کرتے ہیں، اس سب کی تفصیل اور دلائل سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر مرزا صاحب کے اعتراضات کے باب میں ان شاء اللہ آ رہے ہیں۔ یہاں صرف اشارہ کرتے چلیں کہ امام قرطبی رحمہ اللہ سیدنا عثمان کی شہادت اور آپ کی خلافت پر طعن کرنے والوں کے متعلق فرماتے ہیں:
وجملة الأمر أن قومًا من أهل مصر وغيرهم غلب عليهم الجهل، والهوى، والتعصب، فنقموا عليه أمورًا أكثرها كذب، وسائرها له فيها أوجه من المعاذير، وليس فيها شيء يوجب خلعه، ولا قتله، فتحزّبوا، واجتمعوا بالمدينة، وحاصروه في داره۔
”اجمالی بات یہ ہے کہ مصر اور دیگر علاقوں کے کچھ لوگ جن پر جہالت، خواہش پرستی اور تعصب غالب آ گیا تھا، انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کیے/ الزامات لگائے جن میں سے اکثر تو جھوٹے تھے، اور باقی باتوں میں بھی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس واضح عذر موجود تھے۔ ان میں کوئی بات ایسی نہ تھی جو آپ رضی اللہ عنہ کو معزول یا قتل کیے جانے کا جواز فراہم کرتی۔ تو انہوں نے جماعت بنا لی، مدینہ میں جمع ہوئے، اور جناب عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔“ (المفہم:226/6)
لہٰذا یہی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل اور باغی تھے جو آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت میں طعن کرتے اور سیدنا عمر کی مراد یہی لوگ ہیں۔