علی رضی اللہ عنہ سے محبت ، مودت اور دوستی اہل ایمان کا شیوہ ہے
من كنت مولاه، فعلي مولاه .
”جس کا میں مولیٰ ہوں، اس کے علی مولیٰ ہیں۔“
یہ حدیث متواتر ہے۔ مندرجہ ذیل اہل علم نے اس حدیث کو متواتر قرار دیا ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ)
(سير أعلام النبلاء : 335/8 ، تاريخ الإسلام : 146/5)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ)
(البداية والنهاية : 214/5)
علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ (833ھ)
(مناقب الأسد الغالب علي بن أبي طالب ص : 12)
حافظ سیوطی رحمہ اللہ (911ھ)
(قطف الأزهار المتناثرة في الأحاديث المتواترة ص : 277)
علامہ عجلونی رحمہ اللہ (1162ھ)
(كشف الخفاء : 261/2)
علامہ امیر صنعانی رحمہ اللہ (1182ھ)
(توضيح الأفكار : 219/1)
علامہ البانی رحمہ اللہ (1420ھ)
(سلسلة الأحاديث الصحيحة : 343/4)
امام ابن شاہین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هذا حديث غريب صحيح، وقد روى حديث غدير حم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم نحو مائة نفس، وفيهم العشرة، وهو حديث ثابت، لا أعرف له علة .
”یہ حدیث غریب صحیح ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غدیر خم والی حدیث قریباً سو صحابہ کرام نے بیان کی ہے۔ ان میں عشرہ مبشرہ صحابہ کرام بھی شامل ہیں۔ یہ حدیث ثابت ہے۔ مجھے اس میں کوئی علت نظر نہیں آتی۔“
(مذاهب أهل السنة ص : 87)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
له طرق جيدة .
”اس کی عمدہ سندیں ہیں۔“
(تذکرة الحفاظ : 164/3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كثير من أسانيدها صحاح وحسان .
”اس کی بہت سی سندیں صحیح اور حسن ہیں۔“
(فتح الباري : 74/7)
یہ حدیث درج ذیل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے :
◈ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ :
(مسند البزار : 632 ، وسنده حسن ، خصائص علي للنسائي : 85 ، وسنده حسن ، مسند الإمام أحمد : 370/4 ، وسنده صحيح ، وصححه ابن حبان : 6931 ، زوائد مسند الإمام أحمد بن حنبل : 152/1 ، زوائد فضائل الصحابة : 1206 ، وسنده حسن ، مسند الإمام أحمد : 366/5 ، وسنده صحيح ، وقال ابن كثير في البداية والنهاية 210/5 : وهذا إسناد جيد ، خصائص علي للنسائي : 87 ، وسنده صحيح)
◈ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ :
(فضائل الصحابة لأحمد : 959 ، السنة لابن أبي عاصم : 1371 ، وسنده حسن)
ریاح بن حارث رحمہ اللہ کہتے ہیں :
جاء رهط إلى على بالرحبة فقالوا : السلام عليك يا مولانا قال : كيف أكون مولاكم وأنتم قوم عرب؟ قالوا : سمعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم غدير حم يقول : من كنت مولاه، فإن هذا مولاه قال رياح : فلما مضوا تبعتهم، فسألت من هؤلاء؟ قالوا : نفر من الأنصار فيهم أبو أيوب الأنصاري.
”رحبہ میں ایک گروہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا : السلام علیکم اے ہمارے مولیٰ ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہارا مولیٰ کیسے ہوسکتا ہوں، حالانکہ آپ عرب ہو؟ انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کا میں مولیٰ ہوں، اس کے علی مولیٰ ہیں۔ ریاح رحمہ اللہ کہتے ہیں : جب وہ چلے گئے، تو میں ان کے پیچھے ہو لیا اور ان سے سوال کیا : یہ کون تھے؟ انہوں نے کہا: یہ انصار کے کچھ لوگ تھے ، ان میں ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔“
(مصنف ابن أبي شيبة : 60/13 ، مسند الإمام أحمد : 419/5 ، السنة لابن أبي عاصم : 1355 ، معجم الصحابة للبغوي : 1822 ، المعجم الكبير للطبراني : 4053،4052 ، الشريعة للآجري : 1517 ، وسنده صحيح)
سعید بن وہب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
قام خمسة أو ستة من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم فشهدوا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من كنت مولاه، فعلي مولاه .
”پانچ یا چھ صحابہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : جس کا میں مولیٰ ہوں، علی اس کے مولیٰ ہیں۔“
(مسند الإمام أحمد : 336/5 ، خصائص علي للنسائي : 86 ، وسنده صحيح)
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیرخم کے موقع پر تین مرتبہ فرمایا :
أذكركم الله فى أهل بيتي .
”میں آپ کو اہل بیت کے بارے میں اللہ کا خوف دلاتا ہوں۔“
(صحیح مسلم : 2408)
خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلیفہ چہارم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا :
والذي نفسي بيده، لقرابة رسول الله صلى الله عليه وسلم أحب إلى أن أصل من قرابني .
”اس ذات کی قسم ، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کا خیال رکھنا مجھے اپنی عزیز داری سے کہیں زیادہ محبوب ہے۔“
(صحيح البخاري : 3712)
نیز فرمایا :
ارقبوا محمدا صلى الله عليه وسلم فى أهل بيته .
”اہل بیت کے حوالے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق کا خیال رکھیں۔“
(صحيح البخاري : 3713)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ و سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی محبت ایک دل میں :
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رافضی اور ناصبی لوگ کہتے ہیں :
إن حب عثمان وعلي لا يجتمعان فى قلب مؤمن وكذبوا قد جمع الله عز وجل حبهما بحمد الله فى قلوبنا .
”ایک مومن کے دل میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ دونوں کی محبت سما نہیں سکتی ، یہ ان کا جھوٹ ہے، الحمد للہ! اللہ تعالیٰ نے ہمارے دل میں دونوں کی محبت کو جمع کر دیا ہے۔“
(الشريعة : 1226 ، 1227 ، معجم ابن الأعرابي : 95 ، وسنده صحيح)
امام ابو شہاب حناط رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لا يجتمع حب أبى بكر وعمر وعثمان وعلي رضي الله عنهم إلا فى قلوب أنقياء هذه الأمة .
”سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سب کی محبت اس امت کے پارسا لوگوں کے دلوں میں ہی سماسکتی ہے۔“
(الشريعة : 1328 ، وسنده صحيح)
میمون بن مہران رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
إن أقواما يقولون : لا يسعنا أن نستغفر لعثمان وعلي، وأنا أقول : غفر الله لعثمان وعلي وطلحة والزبير .
”ایک گروہ کہتا ہے : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ و سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حق میں استغفار کرنا ہمارے بس میں نہیں ، میں کہتا ہوں : اللہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو معاف کرے۔“
(الشريعة : 1229 ، وسنده حسن)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تنقیص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص ہے :
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من أذى عليا فقد أذاني .
”جس نے علی رضی اللہ عنہ کو تکلیف دی، اس نے مجھے تکلیف دی۔“
(مسند أبي يعلى : 770 ، مسند البزار : 1166 ، زوائد فضائل الصحابة للقطيعي : 1078 ، وسنده حسن)
ابو رجاء عطاردی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
لا تسبوا عليا، ولا أهل هذا البيت، إن جارا لنا من بني الهجيم قدم من الكوفة فقال : ألم تروا هذا الفاسق ابن الفاسق؟ إن الله قتله، يعني الحسين عليه السلام، قال : فرماه الله بكوكبين فى عينه، فطمس الله بصره .
”سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کو برا نہ کہیں، بنو ہجیم سے تعلق رکھنے والا ہمارا ایک پڑوسی جو کوفہ سے آیا تھا، اس نے کہا : دیکھو اس فاسق ابن فاسق کو یعنی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو نعوذ باللہ ! اللہ نے اس کو ہلاک کر دیا۔ اس کی آنکھوں میں دو آسمانی انگارے لگے اور اس کی بینائی ختم ہوگئی۔“
(فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل : 972 ، المعجم الكبير للطبراني : 119/3 ، وسنده صحيح)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت سے بغض نفاق اور نار جہنم کا سبب ہے :
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
والذي فلق الحبة، وبرأ النسمة لعهد النبى الأمي صلى الله عليه وسلم إلى : لا يحبني إلا مؤمن، ولا يبغضني إلا منافق .
”قسم اس ذات کی ، جس نے دانے کو پھاڑا، جانداروں کو پیدا کیا! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ مجھ سے محبت صرف مومن کرے گا، مجھ سے بغض صرف منافق رکھے گا۔“
(صحیح مسلم : 78 ، خصائص علي للنسائي : 100)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
ليحبني قوم حتى يدخلوا النار في، وليبغضني قوم حتى يدخلوا النار فى بغضي .
”ایک قوم میری محبت میں غلو کی وجہ سے، دوسری قوم میرے ساتھ بغض کے سبب آگ میں داخل ہوگی۔“
(السنة لابن أبي عاصم : 983، وسنده صحيح)
تین خصوصیات :
عامر بن سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
أمر معاوية سعدا، فقال : ما منعك أن تسب أبا تراب؟ قال : أما ما ذكرت ثلاثا قالهن رسول الله صلى الله عليه وسلم فلن أسبة، لأن تكون لي واحدة منهن أحب إلى من حمر النعم، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول له، وخلفه فى بعض مغازيه، فقال له على : يا رسول الله تخلفني مع النساء والصبيان؟ فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى، إلا أنه لا نبوة بعدي؟ وسمعته يقول فى يوم خيبر : لأعطين الراية رجلا يحب الله ورسوله، ويحبه الله ورسوله فتطاولنا لها، فقال : ادعوا لي عليا فأتي به أرمد، فبصق فى عينيه، ودفع الراية إليه، ولما نزلت، زاد هشام : إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ البَيْتِ دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا، وفاطمة، وحسنا، وحسينا فقال : اللهم ، يعني هؤلاء أهلي .
”سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا اور پوچھا : آپ کی سیدنا ابو تراب یعنی علی رضی اللہ عنہ کو گالی نہ دینے کی وجہ کیا ہے؟ کہنے لگے: میں تو اس لیے گالی نہیں دیتا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین فرامین گرامی یاد ہیں، جو آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمائے تھے، ہر فرمان مجھے سرخ اونٹوں سے عزیز ہے۔ میں نے خود سنا تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کسی غزوہ میں پیچھے چھوڑ دیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ مجھے بچوں اور عورتوں کے ساتھ پیچھے چھوڑ دیں گے؟ فرمایا : آپ اس پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کا میرے ہاں وہی مقام ہے، جو موسیٰ علیہ السلام کے ہاں ہارون علیہ السلام کو حاصل تھا؟ البتہ میرے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر والے دن فرماتے سنا : میں جنگ کا جھنڈا اس کے حوالے کروں گا، جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہو اور وہ اللہ اور اس کے رسول کا محبوب ہو۔ ہم اس کی طمع کرنے لگ گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : علی کو میرے پاس لائیں ، انہیں لایا گیا ، آپ آشوب چشم کا شکار ہو چکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا اور جھنڈا تھما دیا۔ اللہ نے آپ کے ہاتھوں فتح بھی عطا فرمائی اور جب یہ آیت نازل ہوئی : إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ البَيْتِ اہل بيت ! اللہ تعالیٰ آپ سے ناپاکی کو دور کرنا چاہتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔“
(صحیح مسلم : 2404 ، خصائص علي للنسائي : 11)