دجال کی بے بسی اور اس کی کمزوریاں صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

دجال کی بے بسی کا نظارہ :

اپنے ماتھے پر لکھا کافر (ک۔ف۔ر) نہ مٹا سکے گا :

عن أنس رضى الله عنه قال قال النبى صلى الله عليه وسلم : ما بعث نبي إلا أنذر أمته الأعور الكذاب ، ألا إنه أعور وإن ربكم ليس بأعور وإن بين عينيه مكتوب كافر
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر نبی نے اپنی امت کو کانے اور جھوٹے دجال سے ڈرایا ہے، خبر دار! وہ کانا ہے حالانکہ تمہارا رب کانا نہیں۔ اس دجال کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔
بخاری: کتاب الفتن : باب ذكر الدجال 7131 مسلم 2933 ابو داؤد 4316 ترمذی 2245
ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا پھر آپ نے ہجے کر کے بتایا (ک۔ف۔ر) جسے ہر مسلمان پڑھ سکے گا۔
مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال 2933 ۔ 7365

دجال کی دونوں آنکھیں عیب دار ہوں گی :

عن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : أعور العين اليمنى كأنها عنبة طافية
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال کی داہنی آنکھ کانی ہوگی گویا وہ انگور کا ابھرا ہوا دانہ ہے۔
بخاری كتاب الفتن باب ذكر الدجال 7123
عن حذيفة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الدجال أعور العين اليسرى
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال بائیں آنکھ سے کانا ہے۔
مسلم : كتاب الفتن : باب ذكر الدجال 2934

مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہوسکے گا :

عن فاطمة بنت قيس رضي الله عنها … فلا أدع قرية إلا هبطتها فى أربعين ليلة غير مكة وطيبة فهما محرمتان على كلتیهما
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دجال کے بارے میں طویل حدیث ہے جس میں دجال کہتا ہے کہ میں چالیس 40 دنوں میں ساری زمین کو روند ڈالوں گا البتہ مکہ اور مدینہ طیبہ یہ دونوں مجھ پر حرام کر دیئے گئے ہیں جب کبھی میں ان میں سے کسی ایک کی طرف داخل ہونے کا ارادہ لے کر نکلوں گا تو تلوار لہراتا ہوا فرشتہ میرا استقبال کرے گا جو مجھے ان میں داخل ہونے سے مانع ہوگا اور ان دونوں شہروں کے ہر راستے پر محافظ فرشتے کھڑے ہوں گے۔
مسلم : كتاب الفتن : باب قصة الجساسة 2942 ابو داؤد 4325 ترمذی 2253 نسائی 3547 احمد 419/6

قتل نہیں کرپائے گا

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال کے خروج کے وقت ایک مؤمن شخص اس کی طرف نکلے گا جسے دجال کے فوجی پکڑ کر پوچھیں گے کہ تو ہمارے رب پر ایمان لاتا ہے؟ مگر اس کے انکار کرنے پر وہ اسے قتل کرنا چاہیں گے تو ان میں سے بعض کہیں گے، کیا تمہارے رب (دجال) نے کسی کو قتل کرنے سے منع نہیں کیا! تو وہ اسے دجال کے پاس لے جائیں گے۔ جب وہ مؤمن دجال کو دیکھے گا تو کہے گا لوگو! یہی وہ دجال ہے جس کے فتنے سے ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے متنبہ فرمایا تھا۔ دجال اس کا پیٹ اور پشت لمبی کر کے اپنے فوجیوں سے اس کی خوب پٹائی کروائے گا اور کہے گا، اب ایمان لاتا ہے؟ تو وہ مؤمن کہے گا کہ تو جھوٹا کذاب ہے۔ دجال اس کے سر سے پاؤں تک آرے سے دو ٹکڑے کروا دے گا اور ان کے درمیان ٹہلے گا پھر کہے گا: اٹھ! تو وہ مؤمن (زندہ) اٹھ کھڑا ہوگا۔ دجال پھر پوچھے گا ہاں! اب مجھ پر ایمان لاتا ہے؟ تو وہ مؤمن کہے گا کہ اب تو مجھے پختہ یقین ہو گیا کہ تو دجال ہے اور لوگوں سے کہے گا، لوگو! یہ میرے بعد کسی پر مسلط نہیں ہو پائے گا تو دجال اسے ذبح کرنے کے لئے پکڑے گا مگر اس مؤمن کا گلا ہنسلی کی ہڈی تک تانبے کا بن جائے گا اور دجال اسے ذبح نہ کر سکے گا تو اس کے ہاتھ پاؤں پکڑ کر اسے پھینکے گا۔ لوگ سمجھیں گے کہ اس نے آگ میں پھینک دیا ہے حالانکہ اسے جنت میں ڈالا جائے گا۔ اللہ رب العالمین کی نگاہ میں یہ مؤمن سب سے بڑا شہید (گواہ) ہوگا۔
مسلم : كتاب الفتن : باب في صفة الدجال 2938

دجال سچے اور مخلص مسلمان كو نقصان نهيں پہنچا سكے گا

حضرت ہشام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے دجال (کی ربوبیت سے انکار کرتے ہوئے اس) سے کہا کہ تو جھوٹا ہے میرا رب تو اللہ ہے جس پر میں توکل کرتا ہوں (ربی اللہ علیہ توکلت) تو دجال اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
حاکم : كتاب الفتن و الملاحم 554/4 احمد 461/5 مجمع الزوائد 658/7 عبد الرزاق 395/11 السلسلة الصحيحة 727/6