مضمون کے اہم نکات
اصل امام کون؟
امام سے مراد وہ امام نہیں جو نماز پڑھاتا ہو، امام سے مراد وہ امام نہیں جو کسی فن میں مہارت رکھنے کی وجہ سے اس فن میں امام کہلاتا ہو، امام سے مراد وہ امام نہیں جو امیر یا حکمران ہو، امام سے مراد وہ امام بھی نہیں جو کسی نیکی میں پہل کرنے کی وجہ سے دوسروں کے لیے پیش رو بن جائے۔ بلکہ امام سے مراد وہ امام ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے منصب امامت پر سرفراز فرمایا ہو۔ جس کا ہر حکم واجب الاتباع ہو، جس کا ہر فقرہ ضابطہ حیات ہو، جس کا ہر فعل مشعل ہدایت ہو، جس کی اطاعت اللہ تعالی کی اطاعت ہو، جس کی امامت عارضی نہ ہو بلکہ قیامت تک کے لیے دائمی ہو اور جو معصوم ہو، جس سے دینی بات میں غلطی کا صدور ناممکن ہو اور جس کی ہر دینی بات وحی ہو۔
حاکم صرف ایک ہے: (یعنی) اللہ تعالی، اس کے بندوں پر صرف اسی کا حکم چلتا ہے، دوسروں کا نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم ہر بندے کے پاس براہ راست نہیں پہنچتا بلکہ وہ اپنے بندوں میں سے کسی ایک بندے کو منتخب کر لیتا ہے اور اس بندے کو اپنے تمام احکام سے مطلع فرماتا ہے۔ وہ بندہ اللہ تعالی کے تمام احکام سے دوسروں کو مطلع کر دیتا ہے۔ ایسے بندے کو نبی یا رسول کہتے ہیں۔
اطاعت رسولﷺ در اصل اطاعت الہی:
رسول بندوں اور اللہ تعالی کے درمیان واسطہ ہوتا ہے۔ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہوتی ہے۔ اس کی اطاعت عین اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہوتی ہے۔ ارشاد باری ہے: جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے در حقیقت اللہ ہی کی اطاعت کی۔ (النساء:80)
رسول خود اپنی اطاعت نہیں کراتا بلکہ اس کی اطاعت اللہ تعالی کے حکم سے کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ] کوئی رسول ہم نے نہیں بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔ (النساء:64)
کیونکہ اطاعت (جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں) صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے، لہذا بغیر اس کے حکم یا اجازت کے کسی دوسرے کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔ اگر کوئی شخص بغیر اللہ تعالی کے حکم یا اجازت کے دوسرے کی اطاعت کرتا ہے تو گویا اس نے اس دوسرے شخص کو اطاعت میں اللہ تعالیٰ کا شریک بنا لیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے کہ اپنے کسی بندے کی اطاعت کو انسانوں پر فرض قرار دے دے۔ اگر بندے خود کسی کو اطاعت کے لیے منتخب کر لیں تو گویا وہ خود اللہ بن بیٹھے۔ اللہ تعالی کے حق عطائے رسالت پر خود قابض ہو گئے اور یہ شرک ہے۔ اللہ تعالی فرماتاہے:
[اَللّٰہُ اَعۡلَمُ حَیۡثُ یَجۡعَلُ رِسَالَتَہٗ] اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کس کو عطا فرمائے۔ (الأنعام:124)
امام بنانا اللہ تعالیٰ کا کام ہے:
لہذا وہ جس کسی کو رسالت عطا فرماتا ہے اسے بنی نوع انسان کا امام و مطاع بنا دیتا ہے، امام بنانا لوگوں کا کام نہیں۔ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے علاوہ دوسروں کو اپنا مطاع اور امام بنالیں پھر انھی کی اطاعت کریں، انھی کے فتووں کو سند آخر سمجھیں، وہ شرک فی الحکم کے مرتکب ہوں گے۔
صرف رسول ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام انسانوں کے لیے امام بنا کر بھیجا جاتا ہے۔
رسول کو رسالت یا امامت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
[اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا] (اے ابراہیم) میں تمھیں لوگوں کے لیے امام بنا رہا ہوں۔ (البقرة:124)
ابراہیم علیہ السلام جانتے تھے کہ امام بنانا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے، لہذا وہ دعا فرماتے ہیں:
[وَمِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ] اے اللہ! میری اولاد میں سے بھی (امام بنانا)۔ (البقرة:124)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [لَا یَنَالُ عَہۡدِی الظّٰلِمِیۡنَ] ہاں! بناؤں گا لیکن یہ وعدہ گنہگاروں کے لیے نہیں ہوگا۔ (البقره:124)
آیت بالا سے ثابت ہوا کہ امام بنانا اللہ تعالیٰ کا کام ہے نہ کہ انسانوں کا۔
دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ امام گنہگار نہیں ہوتا بلکہ معصوم ہوتا ہے، لہذا جو معصوم ہو گا وہی امام ہو گا۔ جو معصوم نہیں وہ امام بھی نہیں اور معصوم سوائے نبی کے اور کوئی نہیں ہوتا، لہذا سوائے نبی کے اور کوئی امام نہیں ہو سکتا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور چند اور رسولوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَجَعَلۡنٰہُمۡ اَئِمَّۃً یَّہۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡہِمۡ فِعۡلَ الۡخَیۡرٰتِ]
ہم نے ان رسولوں کو امام بنایا تھا، وہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ہم نے ان کو نیک کام کرنے کی وحی کی تھی۔ (الأنبياء:73)
اس آیت کے بعد بھی اللہ تعالٰی نے بہت سے نبیوں کا ذکر فرمایا ہے اور ان کے امام بنائے جانے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ان آیات سے ثابت ہوا کہ امام بنانا اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ امام صرف رسول ہی ہوتے ہیں۔ رسول کے علاوہ اگر کسی دوسرے کو امام بنا لیا جائے تو یہ شرک فی الحکم ہے۔
رسول ہی حاکم ہوتا ہے:
رسول ہی وہ ہستی ہے جس کو اپنے تمام اختلافات میں فیصلہ کرنے والا ماننا اور اس کے فیصلہ کو بلا چوں و چرا تسلیم کرنا حقیقی ایمان ہے، جیسا کہ ارشاد باری ہے: [فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَ یُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا]
اے رسول! آپ کے رب کی قسم! لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے تمام اختلافات میں آپ کا فیصلہ نہ مان لیں اور جو فیصلہ آپ کریں اس سے کسی قسم کی تنگی نہ محسوس کریں بلکہ اس کو برضا و رغبت تسلیم کر لیں۔ (النساء:65)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ تمام اختلافات میں رسول آخری سند ہیں۔ جو لوگ اپنے معاملات میں کسی غیر نبی کو سند مانتے ہیں، اس کے قول و فعل کو بلا چوں و چرا اور بے دلیل تسلیم کرتے ہیں، وہ گویا اس کو نبی کا درجہ دے دیتے ہیں۔ آیت بالا کی رو سے ایسے لوگ مومن نہیں ہو سکتے۔
اطاعت رسول باعث محبت الہی:
رسول ﷺ ہی وہ ہستی ہے جس کی پیروی کرنے سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
[قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ]
(اے رسول!) کہہ دیجیے! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو (میری پیروی کرو گے تو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمھارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ اللہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (آل عمران:31)
اطاعت رسول سبب ہدایت:
رسول ﷺ کی یہ ہی وہ ہستی ہے جس کی اطاعت اور پیروی سے ہدایت ملتی ہے۔ ارشاد باری ہے:
[وَاِنۡ تُطِیۡعُوۡہُ تَہۡتَدُوۡا] اگر تم رسول کی اطاعت کرو گے، تو ہدایت یاب ہو جاؤ گے۔ (النور:54)
[وَاتَّبِعُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ] رسول کی پیروی کرو، تاکہ تمھیں ہدایت مل جائے۔ (الأعراف:158)
کیا اللہ کی طرف سے ایسی سندیں رسول ﷺ کے علاوہ کسی اور کے حق میں بھی وارد ہوئی ہیں۔ اگر نہیں تو بے سند شخص کیسے امام ہو سکتا ہے اور تو اور کیسے اس کی اطاعت اور پیروی سے ہدایت مل سکتی ہے۔
رسول شریعت الہی کا شارح:
رسول ہی وہ ہستی ہے جو اپنے منصب کے لحاظ سے اس بات کی حقدار ہے کہ وہ منزل من اللہ شریعت کی تشریح و توضیح کر سکے، کسی دوسرے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ تشریح و توضیح کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکۡرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ]
(اے رسول) ہم نے یہ شریعت آپ پر (اس لیے) نازل کی ہے تا کہ آپ لوگوں کے لیے نازل شدہ باتوں کی تشریح کر دیں اور لوگ (اپنی نجات کے متعلق) سوچ سکیں۔ (النحل:44)
رسول کے قول و فعل کی مخالفت فتنہ عظیم:
رسول ﷺ ہی وہ ہستی ہے جس کے قول و فعل کی مخالفت کرنا فتنہ عظیم اور عذاب الیم کودعوت دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[فَلۡیَحۡذَرِ الَّذِیۡنَ یُخَالِفُوۡنَ عَنۡ اَمۡرِہٖۤ اَنۡ تُصِیۡبَہُمۡ فِتۡنَۃٌ اَوۡ یُصِیۡبَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ]
ان لوگوں کو جو رسول کے قول و فعل کے خلاف چلتے ہیں، ڈرتے رہنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ کہیں وہ کسی فتنہ میں مبتلا ہو جائیں یا ان پر کوئی درد ناک عذاب نازل ہوجائے۔ (النور:63)
رسول کی زندگی اسوۂ حسنہ:
رسول ﷺ ہی وہ ہستی ہے جس کا طریقہ تمام مسلمانوں کے لیے ضابطہ حیات ہے، یہی وہ نمونہ ہے جس کے مطابق بن کر لوگ اللہ تعالیٰ سے کوئی امید رکھ سکتے ہیں۔ ارشاد باری ہے: [لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا]
بے شک تمھارے لیے رسول ( کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے ہے جو اللہ اور قیامت کی امید رکھتا ہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو۔(الأحزاب:33)
یہ نمونہ اللہ تعالیٰ نے بھیجا، اللہ کے نمونہ کے علاوہ دوسرے نمونے بنانا خود کو اللہ تعالیٰ کے منصب پر فائز کرنا ہے اور یہ شرک ہے۔ رسول ﷺ ہی وہ ہستی ہے جس کی ہر بات وحی الہی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے: [وَمَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی]،[اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی]
[اور نہ وہ اپنی خواہش سے بولتا ہے]،[ وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے] (النجم:4،3)
کیا یہ سند کسی اور کو حاصل ہے، اگر نہیں تو پھر کسی دوسرے کی بات کیسے سند ہو سکتی ہے۔ رسول ہی کی وہ ذات گرامی ہے جس کی ہر بات حق ہے، جو معصوم ہے، جو کبھی غلطی پر قائم نہیں رہتا۔ ارشاد باری ہے: [اِنَّکَ عَلَی الۡحَقِّ الۡمُبِیۡنِ] (اے رسول) بے شک آپ درخشاں حق پر قائم ہیں۔ (النمل:79)
کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سند کسی اور کو ملی ہے، اگر نہیں ملی تو وہ امام کیسے ہو سکتا ہے؟
امام وہی ہو سکتا ہے، جس کی ہر بات حق ہو۔
رسول ﷺ ہی وہ سراج منیر اور روشن چراغ ہے جس کی روشنی میں اللہ تعالٰی کی نازل کردہ شریعت کا مطالعہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ روشن چراغ نہ ہو تو پھر تاریکی میں نہ شریعت الہی کا مطالعہ ہو سکتا ہے نہ صراط مستقیم مل سکتی ہے۔ ظلمت میں سوائے ضلالت کے اور کیا مل سکتا ہے۔ انسانوں میں رسول ﷺ ہی وہ ہستی ہے جس کا فیصلہ مل جانے کے بعد کسی مومن کو اختیار باقی نہیں رہتا کہ وہ اس معاملہ میں خود کوئی رائے دے یا کسی دوسرے کی رائے لے۔ مومن کو رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ ہی پر عمل کرنا ہو گا اور بس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
[وَ مَا کَانَ لِمُؤۡمِنٍ وَّ لَا مُؤۡمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَمۡرًا اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہُمُ الۡخِیَرَۃُ مِنۡ اَمۡرِہِمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیۡنًا]
مومن مرد اور عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ جب اللہ اور رسول کسی معاملہ میں فیصلہ صادر فرما دیں تو پھر بھی انھیں اس معاملہ میں کسی قسم کا اختیار باقی رہے (کہ اس فیصلہ کے مطابق کریں یا نہ کریں) اور جو شخص بھی اللہ اور اس کے رسول کی نا فرمانی کرے گا گمراہی میں مبتلا ہو جائے گا۔ (الأحزاب:36)
کیا یہ حق اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی اور انسان کو دیا گیا ہے، اگر نہیں دیا گیا تو پھر وہ امام کیسے ہو سکتا ہے، وہ واجب الاتباع کیسے ہو سکتا ہے؟ کسی مومن کو اختیار نہیں کہ رسول (ﷺ) کا فیصلہ سننے کے بعد کوئی اور بات کہے سوائے اس کے کہ میں نے سنا اور میں اطاعت کروں گا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
[اِنَّمَا کَانَ قَوۡلَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذَا دُعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَہُمۡ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ]
جب مومنین کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے تا کہ اللہ اور اس کا رسول ان کے درمیان فیصلہ کریں تو ان کا قول سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہونا چاہیے کہ رہم نے سن لیا اور ہم نے اطاعت کی ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (النور:51)
کیا یہ منصب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی اور کو عطا ہوا ہے؟ یقینا نہیں اور جب یہ منصب کسی کو عطا نہیں ہوا تو پھر وہ واجب الاتباع کیسے ہو سکتا ہے، وہ امام کیسے ہو سکتا ہے؟
رسول ہی منبع ہدایت:
رسول اللہ ﷺ ہی کے متعلق اللہ تعالی کی گواہی ہے کہ وہ سیدھے راستے پر ہے۔ ارشاد باری ہے: [اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ] یقینا تو (ﷺ) سیدھے راستے پر ہے۔ (الزخرف:43)
رسول ﷺ ہی کے متعلق اللہ تعالی کی گواہی ہے کہ وہ سیدھے راستے کی طرف دعوت دیتاہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
[وَاِنَّکَ لَتَدۡعُوۡہُمۡ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ] (اے رسول!) بے شک آپ سیدھے راستے کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ (المؤمنون:73)
رسول اللہ ﷺ ہی کے متعلق اللہ تعالی کی گواہی ہے کہ اس کی پیروی سے سیدھا راستہ مل سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
[وَاتَّبِعُوۡنِ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ] (اے رسول! کہہ دیجیے) میری پیروی کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔ (الزخرف:61)
یہ آیات اس بات کی کھلی سند ہیں کہ رسول ﷺ صراط مستقیم پر ہیں، رسول ﷺ صراط مستقیم کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ رسول ﷺ کی پیروی صراط مستقیم ہے۔ بتائیے! یہ سندیں اور ضمانتیں کسی اور کے پاس ہیں۔ نہیں ہیں اور یقینا نہیں ہیں تو پھر وہ امام کیسے ہو سکتے ہیں۔ ان کی بات آخری سند کیسے ہو سکتی ہے۔ ان کے فتوے اور قیاسیات دین میں کسی طرح شامل ہو سکتے ہیں۔
رسول ﷺ ہی وہ ہستی ہے جس کی ہر دعوت اور ہر پکار حیات جاوداں بخشتی ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِیۡبُوۡا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحۡیِیۡکُمۡ]
اے ایمان والو! جب اللہ اور رسول تمھیں ایسی بات کی طرف بلائیں جو تمھارے لیے حیات بخش ہو تو فوراً ان کی بات قبول کر لیا کرو۔ (الأنفال:24)
رسول کی نافرمانی باعث حسرت و ندامت:
رسول ﷺ ہی وہ ہستی ہے جس کی پیروی نہ کرنا میدان محشر میں باعث حسرت و ندامت ہوگا۔ اللہ عز وجل فرماتا ہے:
[وَ یَوۡمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیۡہِ یَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِی اتَّخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِیۡلًا]
روز محشر گنہگار اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا اور کہے گا اے کاش! میں نے رسول کی پیروی کی ہوتی۔ (الفرقان:27)
اتباع رسول باعث رحمت:
رسول اللہ ﷺ ہی وہ ہستی ہے جس کی پیروی سے رحمت ملتی ہے۔ اللہ عز وجل کا فرمان ہے:
[وَ رَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ ؕ فَسَاَکۡتُبُہَا لِلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِاٰیٰتِنَا یُؤۡمِنُوۡنَ]،[ اَلَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ]
[اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے سو میں اسے ان لوگوں کے لیے ضرور لکھ دوں گا جو ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور (ان کے لیے) جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں]،[ وہ جو اس رسول کی پیروی کرتے ہیں] (الأعراف:157،156)
رسول صرف اللہ سے ڈرتا ہے:
رسول ہی وہ ہستی ہے جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا، جو تقیہ نہیں کرتا، جو بے خوف و خطر حق بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
[الَّذِیۡنَ یُبَلِّغُوۡنَ رِسٰلٰتِ اللّٰہِ وَ یَخۡشَوۡنَہٗ وَ لَا یَخۡشَوۡنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰہَ]
جو لوگ اللہ کی رسالت کو پہنچاتے ہیں اور اللہ ہی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے (وہی آپ کے لیے نمونہ ہیں)۔ (الأحزاب:39)
بھلا جو لوگ غیر اللہ سے ڈرتے ہوں ، تقیہ کرتے ہوں، تقیہ کر کے حق کو چھپاتے ہوں وہ کیسے معصوم ہو سکتے ہیں؟ ان کی ہر بات کیسے حق ہو سکتی ہے؟ وہ کیسے امام ہو سکتے ہیں؟ امام تو در حقیقت وہ ہو سکتا ہے جو بے خوف و خطر اللہ کے احکام کی تبلیغ کرے اور کسی ملامت کرنے والے، طعنہ دینے والے کی پروا نہ کرے بلکہ اپنے مخالفین کو چیلنج دے کہ تم سب مل کر جو کچھ میرے خلاف کرنا چاہتے ہو کر گزرو اور مجھے ذراسی بھی مہلت نہ دو۔ سیدنا نوح علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں: [فَاَجۡمِعُوۡۤا اَمۡرَکُمۡ وَ شُرَکَآءَکُمۡ ثُمَّ لَا یَکُنۡ اَمۡرُکُمۡ عَلَیۡکُمۡ غُمَّۃً ثُمَّ اقۡضُوۡۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنۡظِرُوۡنِ]
تم اپنے تمام شرکاء کو جمع کرو پھر (میرے خلاف) جو کچھ کرنا چاہو سب مل کر اس کا فیصلہ کرو، تمھاری تدبیر کا کوئی گوشہ تم سے مخفی نہ رہ جائے۔ پھر میرے خلاف (جوچاہو ) کر گزرو اور مجھے (ذراسی بھی) مہلت نہ دو۔ (يونس:71)
سیدنا ہود علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں:
[فَکِیۡدُوۡنِیۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ] تم سب مل کر میرے خلاف جو تدبیر کرنا چاہو کر لو پھر مجھے (ذراسی بھی) مہلت نہ دو۔ (هود:55)
اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے:
[قُلِ ادۡعُوۡا شُرَکَآءَکُمۡ ثُمَّ کِیۡدُوۡنِ فَلَا تُنۡظِرُوۡنِ]
اے رسول! آپ کہہ دیجیے کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ اور سب مل کر میرے خلاف جو تدبیر کرنی چاہو کرو، پھر مجھے (ذراسی بھی) مہلت نہ دو۔ (الأعراف:195)
اس حکم الہی کی تعمیل میں رسول نے بھی اپنی قوم کو چیلنج دے دیا اور کسی قسم کا خوف نہیں کیا۔
الغرض رسولوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کی گواہی ہے کہ وہ کسی سے نہیں ڈرتے۔ وہ بے خوف و خطر ہر مسئلہ بیان کرتے ہیں۔ خواہ مخالفین اس مسئلہ کو سن کر کتنے ہی غیظ و غضب میں آئیں۔ اگر رسول ایسا نہ کریں تو حق رسالت ادا نہیں ہوگا۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
[وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ] اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اپنی رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔ (المائدة:65)
رسول تقیہ نہیں کرتے:
جن علماء کو لوگوں نے خود امام بنا لیا ہے اور ان کی اطاعت کو واجب قرار دے لیا ہے ان کے ایمان کے ثبوت میں بھی ان کے پاس کوئی یقینی ذریعہ نہیں۔ ہم صرف ان کے ظاہری عقائد و اعمال کی بنا پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ وہ مومن ہیں لیکن ان کے مومن ہونے سے یہ کب لازم آتا ہے۔ کہ ان کی تمام باتیں صحیح ہی ہوں گی، وہ تقیہ نہیں کریں گے، خوف و مصلحت کی خاطر حق کو نہیں چھپائیں گے۔ نہ ہمارے پاس ان کے متعلق وحی الہی کی ایسی کوئی سند ہے، نہ خود ان اماموں کے پاس وحی الہی کی ایسی کوئی سند ہے، نہ ان کے پاس وحی آتی ہے کہ ان کو غلطی سے بچائے، تو پھر بتائیے کہ ایسی صورت میں وہ امام کیسے ہو سکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ لَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَکُمۡ]
اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال ضائع مت کرو۔ (محمد:33)
آیت بالا سے معلوم ہوا کہ اعمال کی قبولیت کا دارو مدار اطاعت رسول میں ہم پر ہے۔ تمام اعمال حسنہ جو رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق نہ کیے جائیں باطل ہیں۔ کیا یہ حیثیت بھی کسی اور کو حاصل ہے۔ اگر نہیں تو وہ امام کیسے ہو سکتا ہے؟ اللہ تعالی فرماتا ہے:
[لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ]
یقیناً اللہ نے مومنین پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں ابھی میں سے ایک رسول معبوث کیا جو ان کو اللہ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے، ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ (آل عمران:164)
کیا ایسی سند اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی اور کو حاصل ہے، کیا کسی دوسرے کی اتباع سے تزکیہ نفس ہونا یقینی ہے، کیا کسی اور شخص کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ اس نے کتاب و حکمت کا جو مفہوم بتایا ہے وہ یقیناً صحیح ہے، اگر نہیں تو وہ امام کیسے ہو سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
[فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ] اگر تمھارا کسی معاملہ میں اختلاف ہو جائے تو اس معاملہ میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو۔ (النساء:59)
کیا آپس کے اختلافات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول (ﷺ) کے علاوہ بھی کسی اور کو آخری سند مقرر کیا گیا ہے۔ اگر نہیں تو پھر وہ امام کیسے ہو سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ لِتَحۡکُمَ بَیۡنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىکَ اللّٰہُ]
(اے رسول!) ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے، تاکہ آپ لوگوں کے درمیان (اس طرح) فیصلہ کریں جس طرح اللہ آپ کو بتائے۔ (النساء:105)
کیا کسی اور کے فیصلے بھی اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں صادر ہوتے ہیں، اگر نہیں تو ان کی بات کیسے سند ہو سکتی ہے؟
مندرجہ بالا آیات سے ثابت ہوا کہ صرف ایک ہی ہستی ایسی ہے جس کی اطاعت اللہ تعالی کی اطاعت ہے، جس کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے، جس کا طریقہ واجب الاتباع ہے، جس کی ہر بات وہی ہے، جو خود ہدایت پر ہے اور ہدایت کی طرف دعوت دیتا ہے، جس کی اطاعت و اتباع سے ہدایت ملتی ہے، جس کی پیروی سے ولایت ملتی ہے، جس کے پاس ان تمام باتوں کے لیے وحی الہی کی سند ہے اور وہ ہستی صرف محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے، تو پھر بتائیے رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور کی اطاعت سے کسی اور کو آخری سند یا امام بنانے سے سوائے نقصان کے اور کیا مل سکتا ہے۔ یہ نقصان دو قسم کا ہو گا: ایک شرک فی الحکم کا، اور دوسرا فرقہ بندی کا۔
شرک کسی قسم کا بھی ہو بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتا، لہذا اس سے بچنا بڑا ضروری ہے، ورنہ نجات نا ممکن ہے۔ فرقہ بندی اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے اور اس سے چھٹکارا حاصل کر نے کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ صرف ایک متفق علیہ امام کو امام مانا جائے۔ ایسا امام سوائے رسول اللہ ﷺ کے اور کون ہو سکتا ہے؟ کوئی فرقہ ایسا نہیں جو رسول اللہ ﷺ کو واجب الاتباع نہ مانتا ہو، ان کی پیروی کو ذریعہ نجات نہ سمجھتا ہو۔ اتباع رسول ﷺ مقصد ہے، علماء اور فقہاء ذریعہ تو ہو سکتے ہیں، مقصد نہیں بن سکتے۔ علماء اور فقہاء امام کائنات ﷺ کی باتیں ہم تک پہنچانے والے ہیں، خود امام نہیں ہیں۔ امام ہمارا صرف ایک ہے اور وہ وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہمارا امام بنایا ہے۔
آئیے! صرف اللہ کے بنائے ہوئے امام کو امام مانیے، فرقہ بندی ختم کر دیجیے، سب ایک مرکز پر جمع ہو جائیے اور ایک ہو جائیے۔
(وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ)