سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بے شمار فضائل و مناقب ہیں۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سسر ہیں۔ نبوت سے پہلے، نبوت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی رہے۔ رفیق ہجرت، انیس غار اور سفر و حضر کے ساتھی ہیں۔ تمام غزوات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ قبر میں بھی ساتھی ہیں، جنت میں بھی ساتھ ہوں گے۔
علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں :
الذي يقطع به من الكتاب والسنة وأقوال علماء الأمة ويجب أن تؤمن به القلوب والأفئدة فضل الصديق على جميع الصحابة، ولا مبالاة بأقوال أهل الشيع ولا أهل البدع.
”جو بات کتاب و سنت، علمائے امت کے اقوال سے قطعی طور پر معلوم ہوتی ہے اور جس پر دل و جان سے ایمان لانا ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو تمام صحابہ پر فضیلت حاصل ہے، اس حوالہ سے شیعہ اور اہل بدعت کے اقوال کی کوئی حیثیت نہیں۔“
(تفسیر القرطبی : 148/8)
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو افضل الصحابہ اور اعلم الصحابہ کا اعزاز حاصل ہے۔
(بخاری : 3697، 466)
متواتر روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ کی افضلیت کا اقرار کرتے تھے۔
(بخاری : 3671 ، 3711)
آپ کو سبقت اسلام کا شرف حاصل ہے۔
(مسلم : 732)
آپ کے ایمان کی گواہی خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی۔
(بخاری : 3690 ، مسلم : 2388)
آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔
(بخاری: 3662، مسلم: 2384)
صحابہ کرام آپ رضی اللہ عنہ کو اپنا سردار، سب سے بہتر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب سمجھتے تھے۔
(بخاری: 3667)
آپ ان خوش نصیبوں میں سے ہیں، جنہیں جنت کے آٹھوں دروازوں سے بلایا جائے گا۔
(بخاری: 3666، مسلم: 1027)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں ہی آپ کو مصلیٰ امامت پر کھڑا کیا۔
(بخاری: 664، مسلم: 418)
اسلام کے پہلے خلیفہ منتخب ہوئے۔ آپ کا انتخاب مہاجرین و انصار نے کیا۔
(بخاری: 6830)
غلبہ اسلام کے لیے آپ کی بے شمار قربانیاں ہیں۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو خرید کر آزاد کیا۔
(بخاری: 3754)
آپ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کر کے خوشی محسوس کرتے تھے۔
(بخاری: 3908)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار آپ کو جنتی ہونے کی بشارت سنائی۔
(بخاری: 3674، مسلم: 2403)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنا بھائی اور ساتھی فرمایا۔
(بخاری: 3656)
ایک دفعہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مابین تلخ کلامی ہوگئی، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے معافی مانگی، عمر رضی اللہ عنہ نے پس و پیش سے کام لیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”کیا آپ لوگ میری خاطر میرے ساتھی کو معاف نہیں کر سکتے، کیا آپ لوگ میری خاطر میرے ساتھی کو معاف نہیں کر سکتے؟ (ایک وقت تھا کہ) میں نے کہا تھا: اے لوگو! مجھے آپ سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے، تو آپ سب نے میری تکذیب کی، مگر ابوبکر نے میری تصدیق کی۔“
(بخاری: 4640)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ رضی اللہ عنہ کی عزت و تکریم کرتے تھے۔
(مسند احمد: 160/3، وسندہ حسن)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائے مغفرت کی۔
(بخاری: 3661)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ”صدیق“ کے لقب سے نوازا۔
(بخاری: 3675)
حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں :
أجمعت الأئمة على تسميته صديقا.
”ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لقب ”صدیق“ پر مسلمین کا اجماع ہے۔“
(تہذیب الأسماء واللغات : 181/2)
علامہ زرکشی رحمہ اللہ (794ھ) لکھتے ہیں :
أجمع المسلمون على تسمية أبى بكر صديقا كما أجمعوا على تسمية نبينا محمد صلى الله عليه وسلم.
”سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ”صدیق“ لقب پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے، جیسا کہ مسلمانوں کا اجماع ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ”محمد“ ہے۔“
(تشنیف المسامع : 831/4)
ایک دفعہ عقبہ بن ابی معیط نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گلو اطہر میں چادر ڈال کر بھینچا، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فوراً دفاع کے لیے آگے بڑھے اور اسے کندھے سے پکڑ کر دور کیا۔
(بخاری: 3856)
سردار مکہ ابن دغنہ کافر نے آپ رضی اللہ عنہ کی تعریف و ستائش کی اور آپ کی فضیلت اور اہمیت کا اقرار کرتے ہوئے آپ کو معاشرے کا مفید فرد قرار دیا۔
(بخاری: 3905)
صحابہ کرام اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ اہل اسلام کو ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ کی آل کی وجہ سے بے شمار برکات نصیب ہوئیں۔
(بخاری: 334، مسلم: 367)
آپ رضی اللہ عنہ کے گھر کا کھانا بابرکت تھا، صحابہ نے گواہی دی کہ ہم نے آپ رضی اللہ عنہ کے گھر سے کھانا کھایا، ہم ایک لقمہ اٹھاتے، تو کھانا بڑھ جاتا حتیٰ کہ ہم نے سیر ہو کر کھانا کھایا، مگر کھانا پہلے سے زیادہ ہو چکا تھا۔
(بخاری: 602، مسلم: 2057)
آپ رضی اللہ عنہ فصیح اللسان اور فی البدیہہ خطیب تھے۔
(بخاری: 6830)
آپ کے کئی بلیغ خطبات کتب حدیث میں مذکور ہیں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو کپڑے سے باندھ رکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے، اللہ کی تعریف و ثنا کی، پھر فرمایا :
”ابوبکر سے زیادہ احسان مجھ پہ کسی نے نہیں کیے، مال کا احسان ہو یا جان کا۔ میں اگر کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن اسلام کی خلت زیادہ بہتر ہے، ابوبکر کے علاوہ اس مسجد کی طرف کھلنے والی ہر کھڑکی بند کر دی جائے۔“
(صحیح البخاری: 467، 3654)
یہ حدیث متواتر ہے۔
(نظم المتناثر للکتانی ص: 193)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ ابوبکر اور عبدالرحمن بن ابی بکر کو بلائیں، میں خلافت لکھ دیتا ہوں، پھر ارادہ ترک کر دیا، فرمایا :
يأبى الله والمؤمنون إلا أبا بكر.
”خلافت کے لئے ابوبکر کے علاوہ کسی کا نام آیا، تو اللہ تعالیٰ اور مومن انکار کر دیں گے۔“
(مسند الإمام احمد : 144/6، صحیح مسلم : 2387)
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اہل بیت سے والہانہ عقیدت و محبت رکھتے تھے اور ان کے حقوق کا پورا پورا لحاظ رکھتے تھے، بلکہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ اہل بیت کے حقوق کی رعایت اور ان کا احترام و اکرام کرتے ہوئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت و عقیدت کا اظہار کریں۔
(بخاری: 3713)
آپ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں سے بے حد شفقت و محبت اور احترام و اکرام والا معاملہ کرتی تھیں۔
(بخاری: 3503)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
إنا قد عرفنا يا أبا بكر فضيلتك، وذكر قرابتهم من رسول الله صلى الله عليه وسلم وحقهم، فتكلم أبو بكر، فقال : والذي نفسي بيده! لقرابة رسول الله صلى الله عليه وسلم أحب إلى أن أصل من قرابتي.
”ابوبکر! ہم آپ کی فضیلت و مرتبہ کے اقراری ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اہل بیت کی قرابت داری اور ان کے حقوق کا ذکر کیا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں سے حسن سلوک مجھے اپنے عزیز و اقارب سے زیادہ عزیز ہے۔“
(صحیح البخاری : 3711 ، 3712 ، صحیح مسلم : 1758)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
”مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ (عمر رضی اللہ عنہ) کو آپ کے ساتھیوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے ساتھ (جنت میں) جگہ دے گا، کیوں کہ میں اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتا تھا کہ میں، ابوبکر اور عمر گئے، میں، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے، میں، ابوبکر اور عمر نکلے۔“
(صحیح البخاری: 3685، صحیح مسلم: 2389)
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ واحد خلیفہ ہیں، جنہوں نے مرتدین کے خلاف جہاد کیا۔
(بخاری: 7284، مسلم: 21)
آپ رضی اللہ عنہ نے دو گتوں کے درمیان قرآن مجید جمع کروایا۔
(بخاری: 4986)
اسی لیے آپ کو ”جامع القرآن“ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ”صحابی“ کہا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا
”دو میں سے دوسرے، جب وہ دونوں غار میں تھے، تو وہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے ساتھی (ابوبکر رضی اللہ عنہ) سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کیجئے اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“
(سورۃ التوبہ : 40)
اس آیت کے تحت حافظ سیوطی رحمہ اللہ (911ھ) فرماتے ہیں :
أجمع المسلمون على أن الصاحب المذكور أبو بكر.
”مسلمانوں کا اجماع ہے کہ (آیت میں) مذکور ”صاحب“ سے مراد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔“
(تاریخ الخلفاء ص : 41)
علامہ ملا علی قاری حنفی رحمہ اللہ (1014ھ) فرماتے ہیں :
أجمع عليه المفسرون.
”(اس آیت میں صاحب سے مراد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔) اس پر مفسرین کا اجماع ہے۔“
(جمع الوسائل : 221/2)
صحیح بخاری (4663) اور صحیح مسلم (2381) وغیرہ میں ثابت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی غار میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی بنے۔
فرمان الٰہی ہے :
وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى
”عنقریب جہنم سے بڑے پرہیزگار کو بچالیا جائے گا۔“ سے مراد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔
(سورۃ اللیل : 17)
حافظ بغوی رحمہ اللہ (510ھ) فرماتے ہیں :
يعني أبا بكر الصديق، فى قول الجميع.
”تمام مفسرین کے مطابق اس سے مراد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔“
(تفسیر البغوی : 448/8)
علامہ فخر رازی رحمہ اللہ (606ھ) فرماتے ہیں :
أجمع المفسرون منا على أن المراد منه أبو بكر رضي الله تعالى عنه.
”ہمارے مفسرین کا اجماع ہے کہ اس سے مراد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔“
(تفسیر الرازی : 187/31)
فرمان الہی ہے :
وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ أُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ
”جو سچ لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی، یہی متقی ہیں۔“
(سورۃ الزمر : 33)
فرمان باری تعالی ہے :
وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
”تم میں سے اہل فضل اور وسعت والوں کو یہ قسم نہیں اٹھانی چاہیے کہ وہ اقرباء، مساکین اور راہ خدا میں ہجرت کرنے والوں پر خرچ نہیں کریں گے۔ انہیں چاہیے کہ معاف کر دیں اور دل صاف کر لیں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرما دے، وہ خوب بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔“
(سورۃ النور : 22)
یہ آیت کریمہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے متعلق نازل ہوئی۔
(بخاری: 2661)
یہ چاروں آیات سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہیں۔ ان میں آپ رضی اللہ عنہ کا نام ذکر نہیں ہوا، بلکہ وصف کمال ذکر کیا گیا ہے، اس سے آپ رضی اللہ عنہ کی عظمت اور فضیلت کو چار چاند لگ گئے۔
امام وکیع ابن الجراح رحمہ اللہ (197ھ) فرماتے ہیں :
لولا أبو بكر الصديق لذهب الإسلام.
”ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نہ ہوتے، تو اسلام مٹ جاتا۔“
(فضائل الصحابۃ لأحمد بن حنبل : 111، 114 وسندہ صحیح)
امام ابوزرعہ رازی رحمہ اللہ (264ھ) اور امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ (277ھ) نے اہل سنت کا متفقہ عقیدہ یوں بیان کیا ہے :
أدركنا العلماء فى جميع الأمصار حجازا وعراقا وشاما ويمنا فكان من مذهبهم: … خير هذه الأمة بعد نبيها صلى الله عليه وسلم أبو بكر الصديق، ثم عمر بن الخطاب، ثم عثمان بن عفان، ثم على بن أبى طالب عليهم السلام، وهم الخلفاء الراشدون المهديون.
”ہم نے حجاز، عراق، شام اور یمن میں تمام علاقوں کے اہل علم کو دیکھا، ان کا مذہب تھا کہ… نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کی بہترین شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، پھر عمر بن خطاب، پھر عثمان بن عفان، پھر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم۔ یہ سب ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ہیں۔“
(أصول مذہب أہل السنۃ)
عباسی علما کا اجماعی عقیدہ ہے :
يجب أن يحب الصحابة من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم كلهم، ونعلم أنهم خير الخلق بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأن خيرهم كلهم وأفضلهم بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم، أبو بكر الصديق، ثم عمر بن الخطاب، ثم عثمان بن عفان، ثم على بن أبى طالب رضي الله عنهم.
”ضروری ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ سے محبت کی جائے، ہم جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ امت کے بہترین افراد ہیں۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت میں سب سے افضل اور بہترین ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، پھر عمر بن خطاب، پھر عثمان بن عفان، پھر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم۔“
(المنتظم فی تاریخ الملوک والأمم لابن الجوزی : 281/15 وسندہ صحیح)
حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں :
قال أهل السنة: أفضلهم أبو بكر الصديق.
”اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ صحابہ میں سب سے افضل ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔“
(شرح النووی : 148/15)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں :
أفضل أولياء الله بعد الرسل أبو بكر الصديق رضي الله عنه.
”رسولوں کے بعد افضل الاولیاء سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔“
(الفتاوی الکبری : 401/2)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) نقل کرتے ہیں :
إجماع علماء السنة على أن أبا بكر أعلم من علي، وما علمت أحدا من الأئمة المشهورين ينازع فى ذلك.
”علمائے اہل سنت کا اجماع ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ علم والے ہیں اور میں (ابن تیمیہ رحمہ اللہ) نہیں جانتا کہ کسی مشہور امام نے اس بارے میں کوئی اختلاف کیا ہو۔“
(الفتاوی الکبری : 430/4، مجموع الفتاوی: 399/4، منہاج السنۃ : 502/7)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
إن رجلا سأل النبى صلى الله عليه وسلم عن الساعة، فقال: متى الساعة؟ قال: وماذا أعددت لها، قال: لا شيء، إلا أني أحب الله ورسوله صلى الله عليه وسلم، فقال: أنت مع من أحببت، قال أنس: فما فرحنا بشيء، فرحنا بقول النبى صلى الله عليه وسلم: أنت مع من أحببت، قال أنس: فأنا أحب النبى صلى الله عليه وسلم وأبا بكر، وعمر، وأرجو أن أكون معهم بحبي إياهم، وإن لم أعمل بمثل أعمالهم.
”ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نے اس کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ کہنے لگا: کچھ بھی نہیں، بس میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں۔ فرمایا: آپ انہی کے ساتھ ہوں گے، جن سے محبت کرتے ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمیں اتنی خوشی کسی شے سے نہیں ہوئی، جتنی اس فرمان نبوی سے ہوئی کہ آپ انہی کے ساتھ ہوں گے، جن سے محبت کرتے ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ ان سے محبت کی وجہ سے میں انہی کے ساتھ ہوں گا، اگرچہ میرے اعمال ان جیسے نہیں۔“
(صحیح البخاری: 3688، صحیح مسلم: 2639)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
رأيت كأن ثلاثة أقمار سقطت فى حجرتي، فسألت أبا بكر رضي الله عنه، فقال: يا عائشة، إن تصدق رؤياك يدفن فى بيتك خير أهل الأرض ثلاثة، فلما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم ودفن، قال لي أبو بكر: يا عائشة، هذا خير أقمارك، وهو أحدها.
”میں نے خواب دیکھا کہ تین چاند میرے حجرے میں اُترے ہیں۔ میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے تعبیر پوچھی، تو فرمایا: عائشہ! اگر آپ کا خواب سچا ہے، تو (اس کی تعبیر یہ ہے کہ) آپ کے گھر میں کائنات کے تین بہترین لوگ دفن ہوں گے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اور دفن ہوئے، تو مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عائشہ! آپ کے چاندوں میں سے سب سے بہترین چاند یہ ہیں۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ) ان چاندوں میں سے ایک ابوبکر رضی اللہ عنہ خود بھی تھے۔“
(المستدرک للحاکم : 4400 وسندہ صحیح)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا :
أما بعد أيها الناس، فإني قد وليت عليكم ولست بخيركم، فإن أحسنت فأعينوني، وإن أسأت فقوموني، الصدق أمانة، والكذب خيانة، والضعيف فيكم قوي عندي حتى أريح عليه حقه إن شاء الله، والقوي فيكم ضعيف عندي حتى آخذ الحق منه إن شاء الله، لا يدع قوم الجهاد فى سبيل الله إلا ضربهم الله بالذل، ولا تشيع الفاحشة فى قوم قط إلا عمهم الله بالبلاء، أطيعوني ما أطعت الله ورسوله، فإذا عصيت الله ورسوله فلا طاعة لي عليكم، قوموا إلى صلاتكم يرحمكم الله.
”اما بعد! اے لوگو! مجھے تم پر امیر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں، اگر میں اچھا کروں، تو میری مدد کرنا اور اگر غلط جاؤں، تو مجھے درست کر دینا۔ سچ امانت ہے اور جھوٹ خیانت۔ جو آپ میں کمزور شخص ہے، وہ میرے نزدیک قوی ہے، ان شاء اللہ میں اسے اس کا پورا پورا حق دوں گا اور جو آپ میں قوی ہے، وہ میرے نزدیک کمزور ہے، ان شاء اللہ میں اس سے (شرعی) حق وصول کروں گا۔ جو قوم جہاد فی سبیل اللہ چھوڑ دیتی ہے، اللہ تعالیٰ اسے رسوا کر دیتا ہے اور جس قوم میں فحاشی عام ہو جاتی ہے، اللہ تعالیٰ ان سب کو مصائب میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں رہوں، میری اطاعت کرتے رہنا اور جب میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کروں، تو آپ پر میری اطاعت نہیں ہے۔ اب آپ نماز کے لیے کھڑے ہو جائیں، اللہ آپ سب پر رحم کرے۔“
(سیرۃ ابن ہشام: 318/4، وسندہ حسن)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔
(البدایۃ والنہایۃ: 415/9)
سالم بن ابی حفصہ رحمہ اللہ کہتے ہیں :
”میں نے ابو جعفر محمد بن علی باقر رحمہ اللہ اور جعفر بن محمد صادق رحمہ اللہ سے سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: سالم! ان سے محبت رکھیے اور ان کے دشمنوں سے اظہار برأت کیجئے، کیونکہ وہ دونوں ہدایت کے امام تھے۔ سالم کہتے ہیں: مجھے جعفر بن محمد صادق رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا: سالم! بھلا بندہ اپنے دادا کو بھی گالی دے سکتا ہے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے دادا ہیں، مجھے قیامت کے دن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب نہ ہو، اگر میں ان (سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) سے محبت نہ رکھوں اور ان کے دشمنوں سے اظہار برات نہ کروں۔“
(الاعتقاد للبیہقی : 506 ، وسندہ حسن)
سیدنا زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ نے بعد از وفات کلام کیا :
أبو بكر الصديق الأمين خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم، كان ضعيفا فى جسمه، قويا فى أمر الله، صدق صدق، وكان فى الكتاب الأول.
”ابوبکر صدیق و امین، خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جسمانی طور پر کمزور ہیں، مگر اللہ کے حکم (کو اختیار و نافذ کرنے) میں قوی ہیں۔ یہ حق ہے، یہ حق ہے اور یہ بات پہلی کتابوں میں بھی مذکور ہے۔“
(من عاش بعد الموت لابن ابی الدنیا ص: 22، دلائل النبوۃ للبیہقی: 56/6 وسندہ حسن)
حافظ بیہقی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”صحیح“ کہا ہے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
أما قصة زيد بن خارجة وكلامه بعد الموت، وشهادته للنبي صلى الله عليه وسلم ولأبي بكر وعمر وعثمان بالصدق، فمشهورة مروية من وجوه كثيرة صحيحة .
”سیدنا زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ کا قصہ اور آپ رضی اللہ عنہ کا وفات کے بعد کلام کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی صداقت کی گواہی دینا، بہت ساری صحیح روایات سے مروی ہے۔“
(البداية والنهاية : 393/9)