سیدہ عائشہ صدیقہؓ اور  سیدہ فاطمہ ؓ کے فضائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے فضائل

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلمہ! تو مجھے عائشہ کے بارے میں تکلیف نہ پہنچا کیونکہ سوائے عائشہ کے (بستر) کے تمہارے کسی ایک کے بستر میں مجھ پر وحی نہیں نازل ہوئی۔“
صحيح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبي ﷺ، باب فضل عائشه رضی الله عنها، رقم : 3775
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”جبرائیل امین علیہ السلام ریشم کے ایک سبز کپڑے میں میری تصویر لپیٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور فرمایا: یہ آپ کی دنیا اور آخرت میں بیوی ہے۔“
سنن ترمذی ، کتاب المناقب ، باب من فضل عائشه رضی الله عنها، رقم: 3880 – البانی رحمہ الله نے اسے ”صحیح“ کہا ہے ۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! یہ جبرائیل ہیں، جو تجھ کو سلام کہتے ہیں۔“ میں نے کہا: ”وعلیہ السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔ اللہ کے رسول جو آپ دیکھتے ہیں وہ ہم نہیں دیکھتے۔“
صحيح البخارى، أيضاً ، رقم: 3768
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ تمام لوگوں سے زیادہ آپ کو محبوب کون ہے؟ فرمایا: ”عائشہ۔“ پھر پوچھا گیا: مردوں میں سے؟ فرمایا: ان کے والد ابو بکر رضی اللہ عنہ۔ پوچھا گیا: پھر کون؟ فرمایا: ”عمر۔“
صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابه، باب من فضائل ابی بکر رضی الله عنه، رقم: 2384 .

◈ اعتکاف:

ازواج مطہرات کو اعتکاف کا اس قدر شوق تھا کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کے لیے خیمہ نصب کرنے کا حکم دیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو اپنا خیمہ نصب کروایا۔ ان کی دیکھا دیکھی تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے خیمے نصے کرائے، آپ نے دیکھا تو اپنے ساتھ ازواج مطہرات کے خیمے بھی گروا دیے۔ (کہ اس سے آپ کے سکون و جمعیت میں خلل واقع ہوتا تھا۔)
سنن ابوداؤد، کتاب الصيام، باب الإعتكاف، رقم: 2464 – البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔

◈ عمرہ:

بہر حال عمرہ فرض ہو یا نہ ہو، لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کو نہایت پابندی کے ساتھ ادا کرتے تھے اور جب وہ فوت ہو جاتا تھا تو ان کو سخت قلق ہوتا تھا، حجۃ الوداع کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا رو رہی ہیں۔ وجہ پوچھی تو بولیں کہ ”میں ضرورت نسوانی سے معذور ہوں، لوگ دو دو فرض (حج اور عمرہ) کا ثواب لے کر جاتے ہیں اور میں صرف ایک کا۔“ فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، اللہ تم کو عمرہ کا ثواب بھی عطا فرمائے گا“ چنانچہ آپ نے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو ساتھ کر دیا۔ اور مقام تنعیم میں جا کر انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا اور آدھی رات کو فارغ ہو کر آئیں۔
صحیح بخاری ، کتاب الحج، ابواب العمرة، رقم: 1788.
سنن ابو داؤد ، کتاب اللباس، رقم: 4036 – البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔

◈ محافظت یادگار رسولﷺ:

صحابہ کرام کے زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر یادگاریں محفوظ تھیں جن کو وہ جان سے زیادہ عزیز رکھتے تھے اور انہیں باعث برکت تصور کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کپڑوں میں انتقال فرمایا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو محفوظ رکھا تھا، چنانچہ ایک دن انہوں نے ایک صحابی کو ایک یمنی تہ بند اور ایک کمبل دکھا کر کہا کہ اللہ کی قسم! آپ نے ان ہی کپڑوں میں انتقال فرمایا تھا۔
سنن ابو داؤد ، کتاب اللباس، رقم: 4036 – البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔

◈ مسکین نوازی:

ایک دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روزہ سے تھیں اور گھر میں ایک روٹی کے سوا کچھ نہ تھا۔ اسی حالت میں ایک مسکین نے سوال کیا تو انہوں نے لونڈی سے کہا کہ وہ روٹی اس کو دے دو اس نے کہا: افطار کس چیز سے کیجیے گا؟ بولیں: ”دے تو دو۔“ شام ہوئی تو کسی نے بکری کا گوشت بھیجوا دیا، لونڈی کو بلا کر کہا: ”لے کھا یہ تیری روٹی سے بہتر ہے۔“
مؤطا مالك ، كتاب الصدقة ، باب الترغيب في الصدقة ، رقم : 5 .

◈ ایثار :

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں اپنی قبر کے لیے مخصوص جگہ کر رکھی تھی۔ لیکن جب امیر عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے درخواست کی تو انہوں نے یہ تختہ جنت ان کو دے دیا اور فرمایا:
كنت أريده لنفسي ولأوثرن به اليوم على نفسي
”میں نے خود اپنے لیے اس کو محفوظ کر رکھا تھا لیکن آج اپنے اوپر آپ کو ترجیح دیتی ہوں۔“
مستدرك حاكم: 13،11/3.

◈ فیاضی:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس قدر فیاض تھیں کہ جو کچھ ہاتھ میں آجاتا اس کو صدقہ کر دیتی تھیں۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کو روکنا چاہا تو اس قدر برہم ہوئیں کہ ان سے بات چیت نہ کرنے کی قسم کھالی۔ (بعد میں انہیں معاف کر دیا اور ان سے صلح کر لی۔)
صحیح بخاری ، کتاب المناقب، باب مناقب قريش، رقم: 3505.

◈ ذاتی انتقام نہ لینا:

اگر دشمن کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے تو ہمارے لیے انتقام لینے کا اس سے بہتر کوئی موقع نہیں مل سکتا، لیکن صحابہ کرام کے دل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے بغض و انتقام کی جگہ کب چھوڑی تھی؟
انتقام تو بڑی چیز ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے دشمنوں سے بغض رکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی محمد بن ابی بکر کو قتل کر دیا تھا ایک بار وہ کسی فوج کے سپہ سالار تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک شخص سے پوچھا کہ اس غزوہ میں معاویہ کا سلوک کیسا رہا؟ اس نے عرض کیا: ان میں کوئی عیب نہ تھا، سب لوگ ان کے مداح رہے، اگر کوئی اونٹ ضائع ہو جاتا تھا تو وہ اس کی جگہ دوسرا اونٹ دے دیتے تھے، اگر کوئی گھوڑا مر جاتا تھا تو وہ اس کی جگہ دوسرا گھوڑا دے دیتے تھے، اگر کوئی غلام بھاگ جاتا تو وہ اس کی جگہ دوسرا غلام دے دیتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ سن کر فرمایا: ”استغفر اللہ“ اگر میں ان سے اس بنا پر دشمنی رکھوں کہ انہوں نے میرے بھائی کو قتل کیا، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ! جو شخص میری امت کے ساتھ نرمی کرے تو بھی اس کے ساتھ نرمی کر۔ اور جو ان پر سختی کرے تو بھی اس پر سختی کر۔“
أسد الغابة ، تذكره معاوية بن خديج .

◈ مہمان نوازی :

مہمان نوازی اہل عرب کے محاسن اخلاق کا نہایت نمایاں جزو تھی اور اسلام نے اس کو اور بھی نمایاں کر دیا تھا، اس لیے صحابہ کرام کی زندگی میں مہمان نوازی کی بکثرت مثالیں ملتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بار وفد بنو متفق حاضر ہوا، سوئے اتفاق سے آپ گھر میں موجود نہ تھے لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فوراً خزیرہ (عرب کا مشہور کھانا تھا) تیار کرنے کا حکم دیا اور مہمانوں کے سامنے ایک طبق میں کھجوریں رکھوا دیں، آپ تشریف لائے تو حسب معمول سب سے پہلے دریافت کیا کہ کچھ ضیافت کا سامان ہوا یا نہیں؟ ان لوگوں نے کہا: ”یہ تو ہو چکا۔“
سنن ابوداؤد، كتاب الطهارة، رقم: 143 – البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔

◈ پرورش یتامیٰ:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی لڑکیاں یتیم ہو گئی تھیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی پرورش فرماتی تھیں۔
مؤطا مالك ، كتاب الزكاة، باب لا زكاة فيه من الحلى والتبر والصغير، رقم: 10.
اور ایسے ہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جن یتیموں کی پرورش کرتی تھیں ان کے مال لوگوں کو دے دیتی تھیں کہ تجارت کے ذریعہ سے اس کو ترقی دیں۔
مؤطا مالك ، كتاب الزكاة، باب زكاة أموال اليتامى والتجارة لهم فيها ، رقم: 14 .

◈ شوہر کی خدمت:

ازواج مطہرات میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت محبوب تھیں، لیکن اس محبوبیت کا اثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت پر نہیں پڑتا تھا، بلکہ سب سے زیادہ ان ہی کو آپ کا شرف خدمت حاصل ہوتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کمال طہارت کی وجہ سے مسواک کو پہلے دھو لیا کرتے تھے اور اس پاک خدمت کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ادا فرماتی تھیں۔
سنن ابو داؤد، کتاب الطهارة ، رقم: 52 – البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔
اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام حج باندھتے تھے اور احرام کھولتے تھے تو وہ جسم میں خوشبو لگاتی تھیں۔
سنن ابو داؤد، كتاب المناسك ، باب الطيب ، عند الاحرام، رقم: 1745 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح “ کہا ہے۔
جب آپ خانہ کعبہ کو ہدی بھیجتے تھے تو وہ ان کے گلے کا قلادہ بنتی تھیں۔
سنن ابوداؤد، كتاب المناسك حج ، رقم: 1757 – البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے ۔

 سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے فضائل

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبرة في الاسلام، رقم: 3624 .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر سیرت کردار اور اٹھنے بیٹھنے، چال اور ڈھال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کسی ایک کو نہیں دیکھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: فاطمہ رضی اللہ عنہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں تو آپ کھڑے ہو جاتے، انہیں بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ اس طرح جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس جاتے تو وہ بھی کھڑی ہو جاتیں، اور آپ کو بوسہ دیتیں اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس تشریف لائیں اور آپ کو جھک کر بوسہ دیا اور سر اٹھا کر رونے لگیں۔ پھر دوسری بار آپ پر جھکیں تو سر اٹھا کر ہنسنے لگیں۔ میں نے خیال کیا کہ میں تو انہیں تمام عورتوں سے عقل مند سمجھتی ہوں مگر یہ تو عام عورتوں جیسی ہیں (کہ اس حالت میں بھی ہنس رہی ہیں) جب نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو میں نے ان سے پوچھا: جب آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکی تھیں تو سر اٹھا کر رونے لگی تھیں۔ اور جب دوبارہ جھکی تھیں تو پھر سر اٹھا کر ہنسنے لگی تھیں۔ ایسے کیوں کیا؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں اب یہ راز ظاہر کر دیتی ہوں، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ ”میں اس بیماری سے فوت ہونے والا ہوں۔“ تو (یہ سن کر) میں رو پڑی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی کہ ”میرے تمام اہل سے تو مجھ کو سب سے پہلے ملے گی۔“ تو اس پر میں ہنس پڑی۔
سنن ترمذی ، کتاب المناقب، باب ما جاء في فضل فاطمة رضى الله عنه، رقم: 3872 البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، اس لیے جس نے اسے ناراض کیا تو اس نے مجھے ناراض کیا۔“
صحیح بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبي ﷺ باب مناقب فاطمة رضى الله عنها، رقم : 3767 .

◈ تسبیح و تہلیل :

تسبیح و تہلیل پاک مذہبی زندگی کی مخصوص علامت ہے یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اکثر تسبیح و تہلیل کیا کرتے تھے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آٹا پیسنے کی وجہ سے ہاتھوں پر نشان پڑ چکے تھے۔ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، آپ موجود نہ تھے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے ایک خادم کا مطالبہ کر دیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لے گئے۔ دونوں میاں بیوی آپ کے استقبال کے لیے اٹھنے لگے تو آپ نے فرمایا: بیٹھے رہو۔ اور آپ ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے اور فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں جو تم نے مجھ سے سوال کیا تھا؟
دونوں نے کہا: ضرور! آپ نے فرمایا: جب سونے لگو تو تینتیس (33) مرتبہ سبحان الله تینتیس (33) مرتبہ الحمد لله اور تینتیس مرتبہ الله أكبر کہا کرو۔ یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے۔
سنن ابوداؤد، کتاب الأدب، رقم: 5062 – البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
(اس کے بعد دونوں میاں بیوی نے پوری زندگی اس وظیفے کو اپنا معمول بنائے رکھا۔)

◈ ماں باپ کے ساتھ سلوک:

صحابہ کرام والدین کی خدمت، اطاعت، اعانت اور ادب و احترام کا نہایت لحاظ کرتے تھے۔ ایک بار کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں اونٹ کی اوجھ ڈال دی۔ سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا دوڑ کے آئیں، اس کو آپ کے اوپر سے اتار کر پھینک دیا اور کفار کو برا بھلا کہا۔
صحیح بخاری ، کتاب الصلاة ، رقم: 520