روزے میں نسوار، تمباکو، خون، انجکشن اور دوا کے مسائل

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سوال:

روزہ کی حالت میں نسوار منہ میں رکھنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز نہیں۔ اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔

سوال:

تمباکو کا پتہ جلا کر اس کی راکھ سے روزے دار کے دانت صاف کرنا کیسا ہے؟

جواب:

اگر راکھ کا اثر پیٹ میں نہ جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔

سوال:

روزے دار کی نکسیر پھوٹ جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب:

روزہ نہیں ٹوٹتا۔

سوال:

روزہ میں بار بار غسل کرنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

روزے میں انجکشن کا کیا حکم ہے؟

جواب:

حالت روزہ میں اگر انجکشن لگانا ضروری ہو تو لگایا جا سکتا ہے۔

سوال:

روزہ دار کا آنکھ میں دوا ڈالنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

دودھ پلانے سے عورت کا روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں؟

جواب:

نہیں۔

سوال:

ریت منہ میں گئی، پھر تھوک دیا، کیا روزہ باقی ہے؟

جواب:

روزے پر کچھ اثر نہیں ہوا۔

سوال:

دانت سے خون آ گیا، روزے کا کیا حکم ہے؟

جواب:

دانت سے خون آنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اسے چاہیے کہ کلی کرے اور خون کو تھوک دے۔

سوال:

روزہ دار عورت اپنی شرمگاہ میں دوا رکھے تو روزے کا کیا حکم ہے؟

جواب:

اس سے روزہ نہ ٹوٹے گا۔

سوال:

تھوک کو نگلنے سے روزہ ٹوٹے گا یا نہیں؟

جواب:

نہیں۔

سوال:

تالاب میں نہا رہا ہے، ہوا خارج ہوئی تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟

جواب:

اس سے روزہ نہ ٹوٹے گا۔

سوال:

روزہ کی حالت میں بواسیر کے زخموں پر مرہم لگانا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے، اس سے روزہ نہ ٹوٹے گا۔

سوال:

تمباکو سونگھنے سے روزے کا کیا حکم ہے؟

جواب:

اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

سوال:

حالت روزہ میں سرمہ اور تیل لگانا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔