مضمون کے اہم نکات
محمد بن حسن شیبانی پر جہمیت کی نسبت
سوال: کن کن ائمہ اسلام نے محمد بن حسن شیبانی کو جہمی کہا ہے؟
جواب: کئی محدثین ائمہ دین نے محمد بن حسن بن فرقد شیبانی کو "جہمی” کہا ہے۔ جہمی فرقہ جہم بن صفوان کی طرف منسوب ہے۔ یہ صفات باری تعالیٰ کا انکار کرتا تھا۔
① امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ (233ھ) فرماتے ہیں:
[محمد جهمي کذاب]
محمد شیبانی جہمی کذاب ہے۔
[الضعفاء الكبير للعقيلي: 52/4، وسندہ صحيح]
② امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (241ھ) فرماتے ہیں:
[كان يذهب مذهب جهم]
یہ جہمی مذہب کا ماننے والا تھا۔
[تاريخ بغداد للخطيب:179/2، وسندہ صحيح]
③ امام بخاری رحمہ اللہ (256ھ) فرماتے ہیں:
[محمد الشيباني جهمي]
محمد شیبانی جہمی ہے۔
[خلق أفعال العباد: 63]
④ امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ (264ھ) فرماتے ہیں:
[كان محمد بن الحسن جهميا]
محمد بن حسن شیبانی جہمی تھا۔
[الضعفاء: 570/2]،[تاريخ بغداد: 179/2]،[لسان الميزان لابن حجر:122/5]
⑤ امام زکریا بن یحییٰ ساجی رحمہ اللہ (307ھ) فرماتے ہیں:
[كان يقول بقول جهم وكان مرجئا]
یہ جہمی مذہب کا قائل تھا، نیز مرجئی بھی تھا۔
[تاريخ بغداد للخطيب:179/2، وسندہ حسن]
فائدہ: امام ابن عدی رحمہ اللہ (365ھ) فرماتے ہیں:
[إنه ليس هو من أهل الحديث فينكر عليه وقد تكلم فيه من ذكرنا وقد استغنى أهل الحديث عما يرويه محمد بن الحسن وأمثاله]
بے شک محمد بن حسن شیبانی محدث نہیں تھا کہ اس کی روایات کو منکر قرار دیا جاتا، جن محدثین نے اس پر جرح کی ہے، ہم نے ذکر کر دیا ہے، محدثین محمد بن حسن شیبانی اور اس جیسوں کی روایت کردہ احادیث سے مستغنی ہیں۔
[الكامل في ضعفاء الرجال:378/7]