کیا حاجی کے لیے میدانِ عرفات میں عرفہ کا روزہ رکھنا درست ہے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

یومِ عرفہ کا روزہ میدانِ عرفات میں

یومِ عرفہ کا روزہ میدانِ عرفات میں مکروہ ہے کیونکہ اس دن مشقت طلب مناسک ادا کرنا ہوتے ہیں جن کی حالتِ روزہ میں انجام دہی کافی مشکل ہے۔ لہذا حجاجِ کرام کے لیے یومِ عرفہ کا روزہ ترک کرنا بہتر ہے۔ نیز عرفات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یومِ عرفہ کا روزہ چھوڑنا بھی اس عمل کے مکروہ ہونے کی دلیل ہے۔
① سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
شك الناس يوم عرفة فى صوم النبى صلى الله عليه وسلم، فبعثت إلى النبى بشراب فشربه
”عرفہ کے دن لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے میں شک کیا (کہ نہ معلوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا ہے یا نہیں؟) تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف (حقیقتِ حال سے واقفیت کے لیے) مشروب (دودھ) بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا۔“
صحيح بخاری : 1658۔ صحیح مسلم : 1123۔
② نیز جس روایت میں عرفات میں یومِ عرفہ کے روزہ کی ممانعت ہے، وہ کمزور اور ناقابلِ احتجاج ہے۔ وہ ضعیف روایت ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن صوم يوم عرفة بعرفة
”بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں عرفہ کے دن کے روزہ سے منع فرمایا۔“
ضعيف : سنن أبي داود : 2440۔ سنن ابن ماجه : 1732۔ الضعيفة : 404۔ اس میں مہدی بن حرب العبدی مجہول راوی ہے۔