کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ
کتاب و سنت کو لازم پکڑنا اور اس کے احکامات
① سیدنا مالک بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ روایت پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تركت فيكم أمرين لن تضلوا ما تمسكتم بهما: كتاب الله وسنة رسوله
”میں نے تم میں دو چیزیں: اللہ کی کتاب (قرآن مجید) اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت چھوڑی ہیں، جب تک تم ان دونوں پر جمے رہو گے، ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔“
الموطا، كتاب الجامع، باب القدر، حدیث 3، یہ روایت منقطع ہے، لیکن یہ روایت اپنے شواہد وغیرہ کے ساتھ حسن درجہ کی ہے، دیکھیں مستدرك للحاكم: 93/1، سلسلة الاحاديث الصحيحة 1761.
② سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إني تارك فيكم ما إن تمسكتم به لن تضلوا بعدي، أحدهما أعظم من الآخر: وهو كتاب الله حبل ممدود من السماء إلى الأرض، وعترتي أهل بيتي، ولن يتفرقا حتى يردا على الحوض، فانظروا كيف تخلفوني فيهما
”میں تم میں ایسی چیزیں چھوڑ رہا ہوں اگر تم اس پر جمے رہے تو میرے بعد گمراہ نہیں ہو گے، ان میں سے ایک دوسری سے بڑھ کر ہے اور وہ اللہ کی کتاب ہے جو کہ آسمان سے زمین کی طرف ایک رسی دراز کی گئی ہے اور دوسری چیز میرا کنبہ میرے اہل بیت ہیں اور وہ دونوں الگ نہیں ہوں گے حتی کہ وہ میرے پاس حوض پر آئیں گے۔ پس دیکھو کہ تم ان دونوں کے بارے میں کیسی جانشینی اختیار کرتے ہو۔ “
اس حدیث کے کئی شواہد اور متابعات ہیں، لہذا یہ حدیث صحیح ہے، دیکھیں مستدرك للحاكم: 109/3، 148 عن زيد بن أرقم، صحيح مسلم 2408/37 عن زيد بن ارقم، مسند احمد 366/4، عن زيد بن أرقم، السنة لابن أبي عاصم 1555 عن زيد 1558 – 1559 عن أبي سعيد الخدري۔
ترمذی، کتاب المناقب، حدیث 3788، یہ روایت دو ضعیف طرق سے مروی ہے، ان میں سے ایک میں عطیہ بن سعد العوفی راوی ہے وہ صدوق ہے کثرت سے خطائیں کرتا ہے مدلس ہے اور عن سے روایت کرتا ہے، دیکھئے تقریب 4631، اور دوسری روایت میں حبیب بن ابی ثابت ہے، ثقہ فقیہ اور کثیر الارسال اور تدلیس ہے، اور کثرت سے روایت معنعن ہے، تقریب 1084.
③ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اونٹنی قصواء پر خطاب کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
تركت فيكم ما إن أخذتم به لن تضلوا: كتاب الله وعترتي أهل بيتي
”میں نے تم میں ایسی چیز چھوڑی ہے اگر تم اس کے پابند رہے تو ہرگز گمراہ نہیں ہو گے: اللہ کی کتاب اور میرا کنبہ، میرے اہل بیت۔“
ترمذی، کتاب المناقب، حدیث 3786، اس کی سند ضعیف ہے، الطبرانی فی الاوسط، حدیث 4757، اس میں زید بن الحسن القرشی ابو الحسین الکوفی صاحب الانماط ضعیف ہے، دیکھئے: التقریب (2127)، یہ حدیث بھی صحیح ہے، گزشتہ حدیث کی تخریج ملاحظہ فرمائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنا
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے پہنتے تو اس کے نگینے کو ہتھیلی کی اندرونی طرف کر لیتے، پس لوگوں نے بھی ایسے کرنا شروع کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے تو اسے اتار دیا اور فرمایا:
إني كنت ألبس هذا الخاتم وأجعل فصه من داخل
”اگر میں اس انگوٹھی کو پہنتا تو اس کے نگینے کو اندرونی طرف کرتا“، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا۔
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
والله لا ألبسه أبدا
”اللہ کی قسم! میں اب اسے کبھی نہیں پہنوں گا“، تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
بخاری، کتاب الایمان والنذور، حدیث 6651، مسلم، کتاب اللباس والزینة، حدیث 2091/53۔
② اور انہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سونے کی انگوٹھی پہنا کرتے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا تو فرمایا:
لا ألبسه أبدا
”میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔“
بخاری، کتاب اللباس، حدیث 5867۔
پس لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
جن چیزوں سے اللہ نے منع کیا ان سے اجتناب کرنا
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
دعوني ما تركتكم، فإنما هلك من كان قبلكم بسؤالهم واختلافهم على أنبيائهم، فإذا نهيتكم عن شيء فاجتنبوه، وإذا أمرتكم بأمر فأتوا منه ما استطعتم
”جن چیزوں کے متعلق میں تمہیں نہ بتاؤں ان کے بارے میں مجھ سے نہ پوچھا کرو، تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء علیہم السلام سے زیادہ سوال کرنے اور ان سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ پس جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو اس سے اجتناب کرو اور جب تمہیں کوئی حکم دوں تو اس پر استطاعت کے مطابق عمل کرو۔“
بخاری، کتاب الاعتصام، حدیث 7288، مسلم، کتاب الفضائل، حدیث 131/1337۔