کیا صحابہ مرتد ہو گئے تھے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ خطبہ دیتے ہوئے اپنے حوض کا ذکر کیا۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطبے میں فرمایا :
ألا وإنه يجاء برجال من أمتي فيؤخذ بهم ذات الشمال، فأقول: يا رب أصيحابي، فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك، فأقول كما قال العبد الصالح : وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ فيقال: إن هؤلاء لم يزالوا مرتدين على أعقابهم منذ فارقتهم.
”میری امت کے لوگ میرے حوض پر آئیں گے۔ ان کو دائیں جانب سے پکڑ لیا جائے گا، میں کہوں گا : اللہ! یہ میرے امتی ہیں۔ کہا جائے گا: پیغمبر! تو نہیں جانتا کہ انہوں نے تیرے بعد کیا کیا بدعات ایجاد کر لی تھیں۔ تو میں وہی بات کہوں گا جو اللہ کے نیک بندے عیسیٰ علیہ السلام اپنی امت کے متعلق کہیں گے: میں جب تک ان میں تھا، ان کا گواہ تھا، پھر جب میں تیرے پاس آ گیا، تب تو ہی ان پر گواہ تھا۔ پھر کہا جائے گا: آپ کے ان کو چھوڑ آنے کے بعد یہ لوگ اپنے پاؤں کے بل پھر گئے تھے۔“
(صحیح البخاری : 4635 ، صحیح مسلم : 2807)
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ليردن على أقوام أعرفهم ويعرفوني، ثم يحال بيني وبينهم.
”میرے پاس حوض پر کچھ اقوام آئیں گی، میں انہیں پہچان لوں گا اور وہ مجھے پہچان لیں گے، پھر میرے اور ان کے درمیان دیوار حائل کر دی جائے گی۔“ (صحیح البخاری : 6583 ، صحیح مسلم : 2290)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حوض کوثر کا ذکر کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اللہ کے محبوب! آپ ہمیں پہچان لیں گے؟ فرمایا : جی ہاں۔
سيما ليست لأحد غيركم تردون على غرا محجلين من آثار الوضوء، وليصدن عني طائفة منكم فلا يصلون، فأقول: يا رب هؤلاء من أصحابي، فيجيبني ملك، فيقول : وهل تدري ما أحدثوا بعدك؟
”میری امت کی ایک مخصوص نشانی ہے، جو دوسروں کی نہیں ہے۔ آپ میرے پاس آئیں گے، تو وضو کے آثار کی وجہ سے چمک رہے ہوں گے، پھر ایک گروہ کو مجھ سے دور کر دیا جائے گا، وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ میں کہوں گا: اللہ! یہ میرے امتی ہیں، تو فرشتہ کہے گا : اے پیغمبر! کیا آپ جانتے ہیں کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا بدعات ایجاد کر لی تھیں؟“
(صحیح مسلم : 247)
ان احادیث میں ”اصحابی“ کا لفظ وارد ہوا ہے اور ہم نے اس کا ترجمہ امتی کیا ہے، کیونکہ عربی زبان میں صاحب، امتی کے معنی میں بھی مستعمل ہوا ہے، اسی طرح پیروکار کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے، جیسا کہ اصحاب ابی حنیفہ، اصحاب مالک، اصحاب شافعی وغیرہ کہا جاتا ہے، تو اس سے مراد ان کے مذہب پر چلنے والا طائفہ اور گروہ ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ بعض احادیث میں صریحاً امتی کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إني على الحوض حتى أنظر من يرد على منكم دوني، فأقول: يا رب مني ومن أمتي، فيقال: هل شعرت ما عملوا بعدك، والله ما برحوا يرجعون على أعقابهم.
”میں حوض پر ہوں گا کہ آپ میں سے کچھ لوگ میرے پاس آئیں گے، میں کہوں گا : اللہ! یہ مجھ سے ہیں اور میری امت سے ہیں۔ کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا اعمال کیے، یہ لوگ اپنے پاؤں کے بل پھر گئے۔“
(صحیح البخاری : 6593 ، صحیح مسلم : 27)
اس حدیث سے دو چیزیں کھل گئی ہیں :
➊ امتی کے لفظ نے اصحابی کا معنی متعین کر دیا ہے، احادیث ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں۔
➋ ایک ہی لفظ کے مختلف معنوں کی صریح مثال موجود ہے، وہ یوں کہ اس حدیث میں ایک لفظ استعمال ہوا ہے : مني یہ مجھ سے ہیں۔ یہی لفظ اہل بیت کے متعلق بھی استعمال ہوا ہے کہ وہ مني مجھ سے ہیں۔
اس سے وضاحت ہو گئی کہ ایک ہی لفظ مختلف مواقع پر الگ الگ معانی میں مستعمل ہو سکتا ہے، کیونکہ جب اہل بیت کے لیے مني بولا گیا، تو ایک خاص امتیاز دینا مراد تھا، لیکن اس روایت میں صرف امتی کے لیے مني کا لفظ بول دیا گیا، حالانکہ وہ بدعتی بھی ہے۔ لہٰذا صرف لفظوں کے پیچھے بھاگنا درست نہیں، ورنہ کوئی بدبخت ہی ہوگا جو مني کے لفظ سے اہل بیت کی مراد خاص کر کے ان کو اس حدیث کا مصداق ٹھہرا دے، ہم اس شخص پر تف کہتے ہیں اور اس کی عقل پر افسوس کرتے ہیں۔
اسی طرح جو شخص اصحابی کا لفظ صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے خاص کر لے، اس کی عقل پر بھی تھو کرتے ہیں۔
امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ (276ھ) فرماتے ہیں :
بھلا کیوں کر ہو سکتا ہے کہ جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسلام سے پھر جانا ہو، انہی لوگوں کی مثالیں اللہ تورات و انجیل میں بیان کر دے، ان سے رضا کے پیمانے جاری کر دے؟ اس کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں، یا تم کہو کہ اللہ کو ان کے مرتد ہو جانے کی خبر تھی، پھر بھی اللہ نے ان کی طرف رضا کے سرٹیفکیٹ بھیج دیے، یا تم کہو کہ اللہ کو خیر سے پتا ہی کوئی نہیں تھا، یہ تو ہم کو پتا چل گیا۔ جو بھی کہو گے، کافر قرار دیے جاؤ گے۔
(تأويل مختلف الحديث ص : 342)
یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ میں سے کوئی بھی مرتد نہیں ہوا تھا، بلکہ وہ عرب کے سخت دل بدو لوگ تھے، جو مرتد ہو گئے تھے۔
حافظ خطابی رحمہ اللہ (388ھ) لکھتے ہیں :
لم يرتد أحد من الصحابة بعده والحمد لله وإنما ارتد قوم من جفاة الأعراب.
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ میں سے تو کوئی بھی مرتد نہیں ہوا، بلکہ عرب کے سخت دل خانہ بدوشوں کا ایک گروہ مرتد ہوا تھا۔“
(إعلام الحديث : 1843/3)
اس تصریح سے بعض منکرین حدیث کا اعتراض بھی ہوا ہو جاتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ بخاری و مسلم میں قرآن کے مخالف احادیث موجود ہیں، قرآن تو صحابہ کی شان بیان کرتا ہے اور حدیث ان کو مرتد کہتی ہے، حالانکہ حدیث نے بالکل بھی صحابہ کو مرتد نہیں کہا، جیسا کہ ہم تفصیل بیان کر چکے۔