سوموار کے روزے کی فضیلت اور شرعی حکم صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سوموار کا روزہ

سوال:

کیا صرف سوموار کا روزہ رکھنا جائز ہے؟

جواب:

جی ہاں۔
❀ سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
سئل عن صوم يوم الاثنين قال ذاك يوم ولدت فيه ويوم بعثت أو أنزل علي فيه
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: اس دن میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھے نبوت ملی۔“
(صحيح مسلم: 1162)

سوال:

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار کا روزہ رکھنا ثابت ہے؟

جواب:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار کو روزہ رکھنا ثابت ہے۔
❀ سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
سئل عن صوم يوم الاثنين قال ذاك يوم ولدت فيه ويوم بعثت أو أنزل علي فيه
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: سوموار کو میری ولادت ہوئی ہے اور اسی دن مجھے نبوت ملی یا (فرمایا:) اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔“
(صحيح مسلم: 1162)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ (749) حسن، امام ابو عوانہ (2924)، امام ابن خزیمہ (2087) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3631) نے صحیح کہا ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ (4179) نے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔
❀ امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا أجود حديث عندي
”یہ سب سے عمدہ حدیث ہے۔“
(السنن الكبرى، تحت الحديث: 2826)
❀ امام محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا خبر عندنا صحيح سنده لا علة فيه توهنه ولا سبب يضعفه
”ہمارے نزدیک اس حدیث کی سند صحیح ہے، اس میں ایسی کوئی علت نہیں جو اسے کمزور کرے اور ایسا کوئی سبب نہیں جو موجب ضعف ہو۔“
(تهذيب الآثار [مسند عمر]: 1/290)
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا إسناد حسن صحيح
”یہ سند حسن صحیح ہے۔“
(التمهيد: 21/162)
❀ حافظ بغوی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا۔
(شرح السنة: 6/343)
❀ علامہ ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
(فضل يوم التروية وعرفة، ص 12)

تنبیہ:

یہ بالاتفاق صحیح متصل روایت ہے۔ عبداللہ بن معبد زمانی ثقہ ہیں، ان کا سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے سماع ہے، علامہ ابو بکر خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے المتفق والمفترق (3/1441) میں سماع کا اثبات کیا ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے سماع کی نفی کی ہے۔
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا يضره ذلك
”امام بخاری رحمہ اللہ کا سماع کی نفی کرنا (یہاں) مضر نہیں۔“
(ديوان الضعفاء: 2319)
❀ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
قلت يا رسول الله إنك تصوم حتى لا تكاد تفطر وتفطر حتى لا تكاد أن تصوم إلا يومين إن دخلا في صيامك وإلا صمتهما قال أي يومين قلت يوم الاثنين ويوم الخميس قال ذانك يومان تعرض فيهما الأعمال على رب العالمين فأحب أن يعرض عملي وأنا صائم
”میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ روزے رکھنا شروع کرتے ہیں تو چھوڑتے نہیں ہیں اور جب چھوڑنے لگتے ہیں تو رکھتے نہیں ہیں، سوائے دو دنوں کے، ان دنوں میں آپ روزہ ضرور رکھتے ہیں۔ فرمایا: کون سے دن؟ عرض کیا: سوموار اور جمعرات، فرمایا: سوموار اور جمعرات کو رب العالمین کی طرف اعمال پیش کیے جاتے ہیں، لہذا میں پسند کرتا ہوں کہ جب میرے اعمال پیش ہوں تو میں روزے کی حالت میں ہوں۔“
(سنن النسائي: 2358، وسنده صحيح)