ایام بیض کے روزے
سوال:
ایام بیض سے کیا مراد ہے؟
جواب:
ایام بیض سے مراد چاند کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ ہے، تین راتوں میں چونکہ چاند زیادہ روشن ہوتا ہے اس لیے انہیں بیض یعنی روشن کہا جاتا ہے۔
سوال:
ایام بیض کے روزوں کی کیا فضیلت ہے؟
جواب:
ایام بیض (چاند کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ) کے روزے رکھنا مشروع و مستحب ہے۔ اس پر صحیح احادیث دلیل ہیں، یہ تین روزے مہینے بھر کے روزوں کے برابر ہیں، اگر ہر مہینہ یہ تین روزے رکھے جائیں تو پورے سال کے روزوں کا ثواب ملے گا۔ ہر دور کے مسلمانوں کا اس پر عمل رہا ہے۔
❀ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
إذا صمت من الشهر ثلاثة أيام فصم ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة
”جب آپ ہر ماہ تین روزے رکھیں تو (قمری مہینہ کی) تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ (ایام بیض) کے روزے رکھا کریں۔“
(سنن النسائي: 2424، سنن الترمذي: 761، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن اور امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2128) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3656) نے صحیح کہا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے فرمایا:
إن بحسبك أن تصوم كل شهر ثلاثة أيام فإن لك بكل حسنة عشر أمثالها فإن ذلك صيام الدهر كله
”آپ کے لیے یہی کافی ہے کہ آپ ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیں تو آپ کو ہر نیکی کے بدلے دس گنا اجر ملے گا اور اس طرح پورا سال روزے رکھنے کے برابر اجر ملے گا۔“
(صحيح البخاري: 1975، صحيح مسلم: 1159)
❀ یزید بن عبداللہ بن شخیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:
صوم شهر الصبر وصوم ثلاثة أيام من كل شهر يذهبن وحر الصدر
”ماہ رمضان اور ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے سے دل کا کینہ ختم ہوتا ہے۔“
(مسند الإمام أحمد: 5/263، سنن أبي داود: 2999، سنن النسائي: 4151، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (6557) اور امام ابن الجارود رحمہ اللہ (1099) نے صحیح کہا ہے۔
❀ موسیٰ بن سلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
سألت ابن عباس عن صيام ثلاثة أيام البيض فقال كان عمر يصومهن
”میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایام بیض کے تین روزوں کے متعلق پوچھا تو فرمایا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ روزے رکھا کرتے تھے۔“
(مسند الحارث [بغية الباحث]: 340، وسنده صحيح)