یومِ عرفہ کے روزے کی فضیلت اور شرعی حکم صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

یوم عرفہ کا روزہ

سوال:

عرفہ کس دن ہوتا ہے؟

جواب:

عرفہ نو ذوالحجہ کو ہوتا ہے، کیونکہ اس دن حاجی عرفات میں جمع ہوتے ہیں، اسی مناسبت سے اسے یوم عرفہ کہا گیا۔ عرفہ کا روزہ نو ذوالحجہ کو رکھا جائے گا، ہر علاقہ میں جب نو ذوالحجہ ہوگی تو یوم عرفہ کا روزہ رکھا جائے گا۔

سوال:

عرفہ کا روزہ رکھنا کیسا ہے؟

جواب:

نو ذوالحجہ کا روزہ مشروع و مستحب ہے۔ اس کی بڑی فضیلت ہے۔
سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا:
يكفر السنة الماضية والباقية
”یہ روزہ گذشتہ اور آئندہ سال کے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہے۔“
(صحیح مسلم : 1162 )
یہ بالاتفاق صحیح متصل روایت ہے۔ عبداللہ بن معبد زمانی ثقہ ہیں، ان کا سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے سماع ہے، اگرچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے سماع کی نفی کی ہے، امام بخاری رحمہ اللہ کے علاوہ کسی نے سماع کی نفی نہیں کی۔ علامہ ابو بکر خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے المتفق والمفترق (3/1441) میں سماع کا اثبات کیا ہے۔
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا يضره ذلك
”امام بخاری رحمہ اللہ کا سماع کی نفی کرنا مضر نہیں۔“
(ديوان الضعفاء: 2319)
راوی مدلس نہ ہو تو اتصال کے لیے معاصرت کافی ہوتی ہے، جب ائمہ اس کی نفی نہ کریں۔ یہاں صرف امام بخاری رحمہ اللہ نے نفی کی ہے، جبکہ جمہور ائمہ حدیث نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے۔ یہ واضح دلیل ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی بات مرجوح ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ کے نزدیک یہ روایت متصل ہے۔
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ (749) حسن، امام ابو عوانہ (2924)، امام ابن خزیمہ (2087) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3631) نے صحیح کہا ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ (4179) نے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔
❀ امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا أجود حديث عندي في هذا الباب
”عرفہ کے روزے کے متعلق یہ سب سے عمدہ حدیث ہے۔“
(السنن الكبرى، تحت الحديث: 2826)
❀ امام محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا خبر عندنا صحيح سنده لا علة فيه توهنه ولا سبب يضعفه
”ہمارے نزدیک اس حدیث کی سند صحیح ہے، اس میں ایسی کوئی علت نہیں جو اسے کمزور کرے اور ایسا کوئی سبب نہیں جو موجب ضعف ہو۔“
(تهذيب الآثار [مسند عمر]: 1/290)
❀ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أصح الروايات فيه رواية عبد الله بن معبد الزماني عن أبي قتادة
”عرفہ کے روزے کے متعلق صحیح ترین روایت عبداللہ بن معبد زمانی عن ابی قتادہ ہے۔“
(شعب الإيمان، تحت الحديث: 3504)
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا إسناد حسن صحيح
”یہ سند حسن صحیح ہے۔“
(التمهيد: 21/162)
❀ حافظ بغوی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
(شرح السنة: 6/343)
❀ علامہ ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
(فضل يوم التروية وعرفة، ص 12)
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صوم عرفة كفارة سنتين
”عرفہ کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 3/97، مسند عبد بن حميد: 464، مسند أبي يعلى الموصلي: 7548، وسنده حسن)
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ہے:
كانت تصوم يوم عرفة
”آپ رضی اللہ عنہا عرفہ کا روزہ رکھتی تھیں۔“
(موطأ الإمام مالك: 1/375، وسنده صحيح)
❀ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قد استحب أهل العلم صيام يوم عرفة إلا بعرفة
”اہل علم نے عرفات میں موجود حجاج کے علاوہ باقی سب کے لیے عرفہ کے روزے کو مستحب قرار دیا ہے۔“
(سنن الترمذي، تحت الحديث: 749)
❀ امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہما اللہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مطابق یوم عرفہ کے روزے کے قائل تھے۔
(سنن الترمذي، تحت الحديث: 752)
سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
إن ناسا تماروا عندها يوم عرفة في صوم النبي صلى الله عليه وسلم فقال بعضهم هو صائم وقال بعضهم ليس بصائم فأرسلت إليه بقدح لبن وهو واقف على بعيره فشربه
”میرے پاس بعض لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عرفہ کے دن روزے کے بارے میں اختلاف کیا، بعض نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ ہے اور بعض نے کہا کہ آپ کا روزہ نہیں ہے۔ تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دودھ کا پیالہ بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اونٹنی پر سوار تھے تو آپ نے وہ دودھ نوش فرما لیا۔“
(صحيح البخاري: 1988، صحيح مسلم: 1123)
❀ حافظ بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا حديث متفق على صحته
”اس حدیث کے صحیح ہونے پر اتفاق ہے۔“
(شرح السنة: 6/345)
❀ اس حدیث پر امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ باب قائم کیا ہے:
باب صوم يوم عرفة
”یوم عرفہ کے روزے کا بیان۔“
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
قوله في صوم النبي صلى الله عليه وسلم هذا يشعر بأن صوم يوم عرفة كان معروفا عندهم معتادا لهم في الحضر وكأن من جزم بأنه صائم استند إلى ما ألفه من العبادة ومن جزم بأنه غير صائم قامت عنده قرينة كونه مسافرا وقد عرف نهيه عن صوم الفرض في السفر فضلا عن النفل
”راوی کے قول: ’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق‘ میں اشارہ ہے کہ صحابہ کے ہاں یوم عرفہ کا روزہ معروف تھا اور حضر میں رکھا جاتا تھا۔ جن صحابہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے میں ہیں ان کے مد نظر یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عبادت سے جڑے رہتے تھے۔ (لہذا آج بھی روزے سے ہوں گے) جن صحابہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ نہیں ہے ان کے پیش نظر یہ قرینہ تھا کہ آپ مسافر ہیں اور جب سفر میں فرض روزے کی ممانعت ہے تو نفل کی بالاولیٰ ہے۔“
(فتح الباري: 4/237)
در اصل روزہ نو ذوالحجہ کا ہے، چونکہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں تھے اس مناسبت سے اس کا نام «صوم عرفہ» قرار پایا۔ وہی دن چل کر ہم تک پہنچتا ہے۔ عرفات والے دن روزہ رکھنا ہر ایک کے لیے ممکن نہیں، کیونکہ سعودی عرب میں جب عرفہ کا دن طلوع ہوتا ہے تو دنیا کے کئی ممالک میں اس وقت رات طلوع ہوتی ہے، تو کیا وہ رات کا روزہ رکھیں گے؟ پاکستان کا وقت سعودی سے دو گھنٹے آگے ہے، وہاں یوم عرفہ ابھی طلوع نہیں ہوا ہوتا کہ پاکستان میں سحر کا وقت ختم ہو جاتا ہے اور وہاں یوم عرفہ ختم نہیں ہوا ہوتا کہ پاکستان میں افطار ہو جاتا ہے۔ جب سعودی سے نماز کے اوقات میں فرق ہے تو روزہ ان کے موافق کیسے ممکن ہے؟
حجاج کرام اگر مشقت محسوس نہ کریں تو عرفہ کا روزہ رکھ سکتے ہیں، اس بارے میں ممانعت والی روایت ثابت نہیں۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن صوم يوم عرفة بعرفة
”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں (حاجیوں کے لیے) یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔“
(سنن أبي داود: 2440، سنن ابن ماجه: 1732)
سند ضعیف ہے۔ مہدی بن حرب عبدی مجہول الحال ہے۔
❀ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا أعرفه
”میں اسے نہیں پہچانتا۔“
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/337، وسنده صحيح)
❀ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا أعرفه
”میں اسے نہیں پہچانتا۔“
(سؤالات أبي داود: 473)
حافظ ابن حزم رحمہ اللہ نے ”مجہول“ کہا ہے۔
(المحلى بالآثار: 4/439)
❀ اس حدیث کے بارے میں حافظ عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا يتابع عليه وقد روي عن النبي عليه السلام بأسانيد جياد أنه لم يصم يوم عرفة ولا يصح عنه أنه نهى عن صومه
”اس روایت پر متابعت نہیں کی گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جید سندوں سے یہ ضرور ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عرفہ میں) یوم عرفہ کا روزہ نہیں رکھا، مگر یہ ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عرفہ میں) یوم عرفہ کے روزہ سے منع کیا ہو۔“
(الضعفاء الكبير: 1/298)
❀ حافظ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا لا يحتج به
”اس حدیث سے حجت نہیں لی جائے گی۔“
(المحلى بالآثار: 4/439)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
من صحبني من ذكر وأنثى فلا يصومن يوم عرفة فإنه يوم أكل وشرب وذكر الله تعالى
”جو مرد اور عورت میرے ساتھ (حج کر رہے) ہیں وہ عرفہ (9 ذوالحجہ) کا روزہ ہرگز نہ رکھے، کیونکہ یہ کھانے پینے اور ذکر الٰہی کے دن ہیں۔“
(مصنف عبد الرزاق: 4/283، الرقم: 7820، المطالب العالية لابن حجر: 6/173، أخبار مكة للفاكهي: 2780)
سند ضعیف ہے۔ ندبہ مولاۃ میمونہ مجہولہ ہے، اسے صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ نے( الثقات: 5/487) میں ذکر کیا ہے۔
❀ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هي مجهولة لا تعرف
”یہ مجہولہ اور غیر معروف ہے۔“
(المحلى: 9/234، 1/397)
❀ اسی قول پر حافظ عبد الحق اشبیلی رحمہ اللہ نے اعتماد کیا ہے۔
(الأحكام الوسطى: 1/209)
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ندبہ کو ”مجہولات“ میں ذکر کیا ہے۔
(ميزان الاعتدال: 4/610)
اگر اس قول کو ثابت بھی مانیں تو اس کا تعلق اس حاجی سے ہے جس کے لیے عرفہ کا روزہ رکھنا مشکل ہو۔

تنبیہ:

یہ روزہ نو ذوالحجہ کا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ نو ذوالحجہ کو عرفات میں تھے اس مناسبت سے اسے یوم عرفہ کا روزہ کہہ دیا گیا، واللہ اعلم!

سوال:

درج ذیل روایت کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
❀ روایت ہے:
من صام عشر ذي الحجة فإن صيامه يعدل أجر شهيد
”جس نے عشرہ ذوالحجہ کے روزے رکھے تو اسے شہید کے برابر اجر ملے گا۔“

جواب:

باوجود بسیار کوشش کے اس روایت پر دسترس نہیں ہو سکی۔