سلام کرنے کے فضائل
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا﴾
”اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو، یا انہی الفاظ کو لوٹا دو۔ بے شبہ اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔“
(4-النساء:86)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”تمام علمائے اسلام کا اتفاق ہے کہ سلام کرنا سنت ہے، اور جواب دینا فرض ہے، ان حضرات نے اسی آیت سے استدلال کیا ہے اور اس کا سبب یہ بھی ہے کہ سلام کا جواب نہ دینے میں مسلمان کی اہانت ہے جو حرام ہے، حسن بصری اور سفیان ثوری وغیرہما کا یہی قول ہے۔“
عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما أن رجلا سأل النبى صلى الله عليه وسلم أى الإسلام خير؟ قال: تطعم الطعام، وتقرأ السلام على من عرفت ومن لم تعرف .
سیدنا عبد اللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: اسلام کی کون سی بات زیادہ بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم (بھوکے کو) کھانا کھلاؤ، اور ہر شخص کو سلام کہو، چاہے تم اسے پہچانو یا نہ پہچانو۔“
صحیح بخاری، کتاب الإيمان، باب إطعام الطعام من الإسلام، رقم: 12۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تدخلون الجنة حتى تؤمنوا، ولا تؤمنوا حتى تحابوا، أولا أدلكم على شيء إذا فعلتموه تحاببتم؟ أفشوا السلام .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم جنت میں نہیں جاؤ گے، یہاں تک کہ ایمان لاؤ، اور تم مومن نہیں ہو گے، یہاں تک کہ ایک دوسرے سے محبت کرو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتلاؤں کہ جب تم اسے اختیار کرو گے تو آپس میں محبت کرنے لگو گے؟ (وہ یہ ہے کہ) تم آپس میں سلام کو پھیلاؤ اور عام کرو۔“
صحیح مسلم، کتاب الإيمان، باب بيان أنه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون، وأن محبة المؤمنين من الإيمان، رقم: 45۔
عن عمران بن الحصين رضي الله عنهما قال: جاء رجل إلى النبى صلى الله عليه وسلم فقال: السلام عليكم، فرد عليه السلام، ثم جلس، فقال النبى صلى الله عليه وسلم : عشر . ثم جاء آخر فقال: السلام عليكم ورحمة الله، فرد عليه فجلس، فقال: عشرون . ثم جاء آخر، فقال: السلام عليكم ورحمة الله وبركاته، فرد عليه السلام فجلس، فقال: ثلاثون .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: السلام علیکم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا۔ پھر وہ شخص بیٹھ گیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”(اس کے لیے) دس (نیکیاں ہیں)۔“ پھر دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا، پھر وہ بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بیس (نیکیاں ہیں)۔“ پھر تیسرا شخص آیا اور اس نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا، پھر وہ بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تیس (نیکیاں ہیں)۔“
سنن أبي داود، کتاب الأدب، باب كيف السلام؟ رقم: 5195۔ سنن ترمذی، أبواب الاستئذان، باب ما ذكر في فضل السلام، رقم: 2689۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔