قبروں پر بنی مساجد میں نماز کا حکم اور مسجد نبوی کا استثناء

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

قبر پر مسجد میں نماز جائز نہیں :

ایسی مساجد میں نماز پڑھنا مطلقاً ممنوع ہے جو قبروں پر بنائی گئی ہوں۔ بخلاف مسجد نبوی کے کہ اس میں ایک نماز کا ثواب ہزار نمازوں کے برابر ملتا ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے۔ مسجد نبوی کو فضیلت و عظمت کا یہ بلند درجہ رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں بھی حاصل تھا۔ اور حجرہ مبارک کے اس میں شامل ہونے سے پہلے خلفاء راشدین کے دور میں بھی جب کہ خود رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار صحابہ رضی اللہ عنہم اس میں نماز ادا کرتے تھے۔ اور اس میں نماز ادا کرنے کی جو فضیلت و عظمت اس دور میں تھی وہ اس میں حجرہ مبارک کے شامل ہو جانے کے بعد بھی باقی رہی۔ اور یہ تو ہم پہلے لکھ آئے ہیں کہ حجرہ مبارک ولید بن عبدالملک کے دور میں اس وقت مسجد نبوی میں شامل ہوا جب عہد صحابہ ختم ہو چکا تھا۔ ولید 80 ھ کے قریب تخت خلافت پر متمکن ہوا۔