قیامت کی نشانیاں : لوگ بدل جائیں گے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانیاں : لوگ بدل جائیں گے

عن مرداس الأسلمي رضى الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يذهب الصالحون الأول فالأول وتبقى حفالة كحفالة السعير أو التمر لا يباليهم الله بالة
”حضرت مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نیک لوگ یکے بعد دیگرے گزرتے چلے جائیں گے اور فضول لوگ باقی رہ جائیں گے جس طرح جو کا بھوسہ یا ردی کھجور باقی رہ جاتی ہے، اللہ تعالیٰ ان کی کچھ پرواہ نہیں کریں گے۔“
بخاری : کتاب المغازی : باب غزوة الحدیبیة (4156)
وعن أبى سعيد رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لتتبعن سنن من قبلكم شبرا بشبر وذراعا بذراع حتى لو دخلوا جحر ضب لتبعتموهم
”حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ تم پہلے لوگوں کے طور طریقے اس طرح اختیار کرو گے جس طرح بالشت بالشت کے اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ہوتا ہے حتی کہ اگر وہ گوہ (سانڈا) کے بل میں داخل ہوئے تو تم بھی ان کی پیروی کرو گے۔“
بخاری: کتاب احادیث الانبیاء : باب ما ذکر عن بنی اسرائیل (3456) مسلم (2669)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم اپنے امام (خلیفہ، امیر) کو قتل نہ کرو گے اور اپنی تلواروں کے ساتھ آپس میں ہی لڑو گے اور تمہارے بدترین لوگ تمہاری دنیا کے وارث بن جائیں گے۔“
ترمذی : کتاب الفتن : باب ماجاء فی الأمر بالمعروف (2170)
زبیر بن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس حجاج بن یوسف کے مظالم کی شکایت لے کر حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا : صبر کرو! تم جس دور سے گزر رہے ہو اس کے بعد آنے والا دور اس سے بھی زیادہ برا ہوگا کیونکہ یہ بات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
بخاری : کتاب الفتن : باب لا یأتی زمان الا الذی بعدہ شر منہ (7068)

فوائد :

➊ لوگوں کی عادات و صفات، حیثیت و کیفیات اور احوال و کردار کا بدل جانا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
➋ موجودہ دور میں اس نشانی کا ظہور وقوع پذیر ہے۔
➌ لوگوں کے بدلنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی صفات حسنہ صفات سیئہ سے بدل جائیں گی اور ان کے اخلاق و کردار بدنما اور داغدار ہوں گے، یہود و نصاری کے تابع فرمان اور اسلام سے باغی ہوتے جائیں گے۔
➍ ذمہ داری کا اہل برے لوگوں کو سمجھا جائے گا یا لوگوں کے اعمال بد کی وجہ سے بدترین لوگوں کو ان پر مسلط کر دیا جائے گا۔ ہر حاکم کے بعد آنے والا پہلے سے بھی بدتر ثابت ہو گا۔ الا ماشاء اللہ اور موجودہ حالات و واقعات اس پر گواہ ہیں۔
➎ ہر آنے والا دور پہلے سے بھی بدتر ثابت ہو گا اس میں زمانے کا قصور نہیں بلکہ یہ لوگوں کی شامت اعمال کا نتیجہ ہو گا۔