عاجزی اختیار کرنے کی فضیلت قرآن وحدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

عاجزی اختیار کرنے کی فضیلت

اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا مالک ہے، اور بڑی زبردست قدرت والا ہے۔ لامحالہ جو ذات طاقت و قدرت والی ہو تو بڑا پن، کبریائی اور بزرگی بھی اسی کے لائق و سزاوار ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ہی کوئی اپنا اصل مقامِ عاجزی ترک کر کے بڑائی کا اظہار کرے تو یہ اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔ اور جس نے بھی اللہ کی چادر تکبر، کبریائی پر ہاتھ ڈالتے ہوئے اس کے احکامات سے روگردانی کی تو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ جس کی مشہور مثالیں، فرعون، قارون، قومِ عاد و ثمود وغیرہ ہیں۔ اور اپنے متواضع بندوں کو بلند مقام عطا فرمایا۔ جس کی مثال انبیاء کرام علیہم السلام، صدیقین، شہداء و صالحین ہیں۔
ارشاد فرمایا: ‏ ﴿وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا﴾
”رحمن کے نیک بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی اور عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب نادان لوگ ان کے منہ لگتے ہیں تو وہ سلام کر کے گزر جاتے ہیں۔“
(25-الفرقان:63)
﴿أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ﴾
”بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں اپنے رب کی عبادت میں گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو، اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو، اے میرے نبی! آپ کہہ دیجیے کہ علم والے اور بے علم کیا برابر ہو سکتے ہیں؟ یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل مند ہوں۔“
(39-الزمر:9)
﴿إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِهَا خَرُّوا سُجَّدًا وَسَبَّحُوا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ . تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ.﴾
”ہماری آیتوں پر وہی ایمان لاتے ہیں جنہیں جب کبھی ان آیتوں سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور تکبر سے الگ تھلگ رہتے ہیں۔ ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔“
(32-السجدة:15،16)
عن عياض بن حمار رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن الله أوحى إلى أن تواضعوا حتى لا يفخر أحد على أحد، ولا يبغي أحد على أحد .
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی ہے کہ آپس میں تواضع (عاجزی) اختیار کرو حتی کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر زیادتی کرے۔“
صحیح مسلم، کتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها، باب الصفات التي يعرف بها، رقم: 2865۔
عن أبى هريرة رضي الله عنه ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ما نقصت صدقة من مال، وما زاد الله عبدا بعفو إلا عزا، وما تواضع أحد لله إلا رفعه الله .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کسی مال کو گھٹاتا نہیں ہے، اور عفو و درگزر سے اللہ تعالیٰ عزت میں ہی اضافہ فرماتا ہے، اور جو صرف اللہ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بلند فرماتا ہے۔“
صحیح مسلم، کتاب البر، باب استحباب العفو والتواضع، رقم: 2588۔