قبر پرستی، بت پرستی اور شیطانی دھوکے سلف کے اقوال کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

ہر زیارت یہ انسانی شکل میں جن اور شیطان :

جہاں بھی کسی قبر کی پوجا ہو رہی ہو وہاں شیطان کا ڈیرا ہوتا ہے جو مشرکین سے بصورتِ انسانی ہمکلام ہوتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مشہور قول ہے کہ:
فى كل صنم شيطان يتراءى للسدنة ويكلمهم
”ہر صنم کے اندر شیطان ہوتا ہے جو مجاوروں سے گفتگو کرتا ہے۔“
(تفسير الدر المنثور: 2/639)
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ: ”ہر صنم کے پاس ایک جن ضرور ہوتا ہے۔“
(تفسير ابن أبي حاتم: 3/1067)
یہ بھی ایک قول نقل کیا گیا ہے کہ اناث سے مراد بے جان چیزیں ہیں۔ حسن رحمہ اللہ کا قول یہ ہے کہ: ”ہر وہ چیز جس میں روح نہ ہو اسے اناث کہتے ہیں جیسے لکڑی، پتھر وغیرہ۔“ الزجاج کا کہنا ہے کہ: بے جان اشیاء کی خبر مونث کی طرح لائی جاتی ہے، جیسے:
لا حجارة تعجبني الدارهم تنفعك
یہ قانون بے جان چیزوں کے ساتھ خاص نہیں بلکہ لفظ اللہ کے سوا ہر لفظ کی جمع صیغہ تانیث سے آسکتی ہے جیسے ملک سے الملائکتہ وغیرہ۔