سامان کی واپسی، تجارت میں نرمی اور تنگ دست کو مہلت دینے کے احکام

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

كتاب البيوع

سامان واپس کرنا

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أقال مسلما أقال الله عز وجل عثرته
”جو شخص کسی مسلمان کے ساتھ اقالہ کرے (یعنی سودا منسوخ کر کے سامان واپس لے لے) تو اللہ تعالیٰ اس کی لغزشیں معاف کر دیتا ہے“۔
ابوداؤد، کتاب الإجارة، حدیث 3460۔

تجارت میں نرمی برتنا

① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
غفر لرجل كان قبلكم سهلا إذا باع ، سهلا إذا اشترى ، سهلا إذا اقتضى
”تم سے پہلے دور میں ایک آدمی تھا جسے بخش دیا گیا، اس لیے کہ وہ نرمی برتا تھا۔ جب بیچتا تو نرمی کرتا، جب خریدتا تو نرمی برتا اور جب (قرض کا) تقاضا کرتا تو بھی نرمی برتا تھا“۔
روایت صحیح ہے۔ صحیح البخاری، کتاب البيوع 2076۔ ترمذي 1320۔ ابن ماجه، کتاب التجارات 2203۔
② سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رحم الله رجلا سمحا إذا باع ، وإذا اشترى ، وإذا اقتضى
”اللہ ایسے نرمی کرنے والے شخص پر رحم فرمائے، جب وہ بیچتا ہے، جب خریدتا ہے اور جب وہ تقاضا کرتا ہے (تو نرمی کرتا ہے)“۔
بخاري، کتاب البيوع 2078۔ ترمذي، کتاب البيوع 1320۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله يحب سمح البيع ، سمح الشراء ، سمح القضاء
”یقینا اللہ تعالیٰ خرید و فروخت اور فیصلہ (ادائیگی و تقاضا) میں نرمی برتنے کو پسند کرتا ہے“۔
ترمذي، کتاب البيوع 1319۔ روایت حسن ہے۔

تنگ دست سے درگزر کرنا

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كان فى من قبلكم تاجر يداين الناس ، فإن رأى معسرا قال لفتيانه : تجاوزوا عنه لعل الله أن يتجاوز عنا ، فتجاوز الله عنه
”تم سے پہلے دور میں ایک تاجر تھا۔ وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا، اگر وہ کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے ملازم لڑکوں سے کہتا کہ اس سے درگزر کرو (معاف کر دو) شاید کہ اللہ ہم سے درگزر فرمائے، پس اللہ نے اس سے درگزر فرمایا“۔
بخاري، کتاب البيوع 2078۔ مسلم، کتاب المساقات 1562۔ النسائي، کتاب الجنائز 4695۔

تنگ دست کو مہلت دینے کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أنظر معسرا أو وضع له ، أظله الله يوم القيامة تحت ظل عرشه يوم لا ظل إلا ظله
”جس شخص نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اپنے عرش کے نیچے سایہ عطا فرمائے گا، جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا“۔
بخاري، کتاب البيوع 2078۔ مسلم، کتاب المساقات 1562۔ النسائي، کتاب الجنائز 4695۔