ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 86

وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡہَاۤ اَوۡ رُدُّوۡہَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَسِیۡبًا ﴿۸۶﴾
اور جب تمھیں سلامتی کی کوئی دعا دی جائے تو تم اس سے اچھی سلامتی کی دعا دو، یا جواب میں وہی کہہ دو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کا پورا حساب کرنے والا ہے۔ En
اور جب تم کو کوئی دعا دے تو (جواب میں) تم اس سے بہتر (کلمے) سے (اسے) دعا دو یا انہیں لفظوں سے دعا دو بےشک خدا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے
En
اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا انہی الفاظ کو لوٹا دو، بے شبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 86){ وَ اِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ …:} جہاد کا حکم دینے کے بعد اب صلح کے بعض احکام بیان فرمائے، چنانچہ فرمایا کہ اگر کفار کی طرف سے جنگ ختم کرنے اور صلح کرنے کی کوئی پیش کش کی جاتی ہے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا کم از کم اتنی پیش کش ضرور قبول کرو۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ [الأنفال: ۶۱] اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تو بھی اس کی طرف مائل ہو جا اور اللہ پر بھروسا کر۔ ایک مصداق اس آیت کا یہ ہے کہ جہاد کے سفر کے دوران کوئی شخص اگر اطاعت کے اظہار کے لیے یا اسلام قبول کرنے کے اظہار کے لیے سلام کہے تو یہ کہہ کر اسے قتل مت کرو کہ تو مومن نہیں۔ (دیکھیے نساء: ۹۴) اور ایک مصداق وہ ہے جو آیت کے صریح الفاظ سے واضح ہو رہا ہے کہ جب کوئی شخص تمھیں سلام کہے تو اسے اس سے بہتر الفاظ میں جواب دو۔ { تَحِیَّۃٌ حَيَاةٌ} میں سے باب تفعیل کا مصدر ہے، زندگی کی یا سلامتی کی دعا دینا، مراد سلام ہے۔ بہتر جواب دینے کی تفسیر حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ{اَلسَّلاَمُ عَلَيْكُمْ} کے جواب میں { وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ } کا اضافہ اور { اَلسَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ } کے جواب میں { وَ بَرَكَاتُهٗ } کا اضافہ کر دیا جائے، لیکن اگر کوئی شخص یہ سارے الفاظ بول دے تو انھی کے ساتھ جواب دیا جائے۔ {وَمَغْفِرَتُهُ وَ رِضْوَانُهُ} وغیرہ کا اضافہ صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ ہر لفظ کے اضافے کے ساتھ دس نیکیاں زیادہ ہوتی جائیں گی۔ [أحمد: 439/4، ۴۴۰، ح: ۱۹۹۷۰] گویا کوئی شخص جتنا سلام کہے اتنا جواب دینا فرض ہے، زائد مستحب ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

86۔ 1 تحیۃ اصل میں تحیۃ (تفعلۃ) ہے یا کے یا میں ادغام کے بعد تحیۃ ہوگیا۔ اس کے معنی ہیں۔ درازی عمر کی دعا (الدعاء بالحیاۃ) یہاں یہ سالم کرنے کے معنی میں ہے۔ (فتح القدیر) زیادہ اچھا جواب دینے کی تفسیر حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ السلام علیکم کے جواب میں و رحمتہ اللہ کا اضافہ اور السلام علیکم و رحمتہ اللہ کے جواب میں وبرکاتہ کا اضافہ کردیا جائے۔ لیکن کوئی السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہے تو پھر اضافے کے بغیر انہی الفاظ میں جواب دیا جائے، ایک اور حدیث میں ہے کہ صرف السلام علیکم کہنے سے دس نیکیاں اور اس کے ساتھ و رحمتہ اللہ کہنے سے بیس نیکیاں اور برکاتہ کہنے سے تیس نیکیاں ملتی ہیں۔ (مسند احمد، جلد 4 ص 439، 440) یاد رہے کہ یہ حکم مسلمانوں کے لیے ہے، یعنی ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان کو سلام کرے۔ لیکن اہل ذمہ یعنی یہود و نصاریٰ کو سلام کرنا ہو تو ایک تو ان کو سلام کرنے میں پہل نہ کی جائے۔ دوسرے اضافہ نہ کیا جائے بلکہ صرف وعلیکم کے ساتھ جواب دیا جائے (صحیح بخاری کتاب الاستیذان۔ مسلم، کتاب السلام)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

86۔ جب کوئی شخص تمہیں [119] سلام کہے تو تم اس سے بہتر اس کے سلام کا جواب دو یا کم از کم وہی کلمہ کہہ دو۔ یقیناً اللہ ہر چیز کا حساب رکھنے والا ہے
[119] جب کوئی شخص دوسرے کو سلام کہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے حق میں اللہ تعالیٰ سے سلامتی کی دعا کرتا ہے۔ شرعی نقطہ نظر سے آپس میں سلام کہنا نہایت پسندیدہ عمل ہے کیونکہ اس سے اسلامی معاشرہ میں اخوت پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ اس بارے میں چند احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ سیدنا عبد اللہ بن عمروؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ”بہتر اسلام کونسا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ کہ تم (دوسروں کو) کھانا کھلاؤ اور اسے بھی سلام کرو جسے تم جانتے ہو اور اسے بھی جسے تم نہیں جانتے“
[بخاري، كتاب الايمان، باب اطعام الطعام من الاسلام۔ الاستيذان، باب السلام للمعرفة و غير المعرفة]
سلام کے آداب:۔
سیدنا عمرانؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا ’السلام علیکم‘ تو آپ نے فرمایا ”دس“ (یعنی اس کے لیے دس نیکیاں ہیں) پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا «السلام عليكم و رحمة الله» تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بیس“ پھر ایک اور آدمی آیا اس نے کہا «السلام عليكم و رحمة الله وبركاته» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تیس“
[ترمذی۔ ابواب الاستیذان، باب فضل السلام]
3۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو ملے تو اسے سلام کہے۔ پھر اگر ان دونوں کے درمیان کوئی درخت، دیوار یا پتھر آجائے۔ پھر اس سے ملاقات کرے تو پھر سلام کہے۔“
[ابو داؤد، کتاب الادب۔ باب فی الرجل یفارق الرجل ثم یلقاہ ایسلم علیہ]
4۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھوٹا بڑے کو سلام کرے، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے۔ تھوڑے آدمی زیادہ کو سلام کریں۔ سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے اور چلنے والا کھڑے کو سلام کرے۔“
[بخاری، کتاب الاستیذان باب تسلیم الصغیر علی الکبیر۔۔ مسلم، کتاب السلام، باب یسلم الراکب علی الماشی۔۔ ترمذی، ابواب الاستیذان]
5۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ چند یہودی آپ کے پاس آئے اور کہا ’السام علیک‘ (تجھے موت آئے) میں سمجھ گئی وہ کیا کہہ رہے ہیں، تو میں نے کہا ’علیکم السام واللعنہ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ٹھہرو عائشہ! اللہ ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔“ میں نے جواب دیا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے سنا نہیں وہ کیا کہہ رہے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے وعلیکم تو کہہ دیا تھا“
[بخاری، کتاب الاستیذان، باب کیف الرد علی اھل الذمۃ السلام۔ مسلم، کتاب السلام، باب النہی عن ابتداء اہل الکتاب بالسلام و کیف یردعلیھم]
6۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں میں سے اللہ سے زیادہ قریب وہ ہے جو ان میں سے پہلے سلام کرتا ہے۔“
[ابو داؤد، کتاب الادب، باب فضل من بدأ بالسلام]
7۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب کوئی مجلس میں آئے تو سلام کہے اور جب جانے لگے تو بھی سلام کہے اور یہ دونوں سلام ایک ہی جیسے ضروری ہیں“
[ابو داؤد، کتاب الادب۔ باب فی السلام اذاقام من المجلس]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سلام کہنے والے کو اس سے بہتر جواب دو ٭٭
مسلمانو! جب تمہیں کوئی مسلمان سلام کرے تو اس کے سلام کے الفاظ سے بہتر الفاظ سے اس کا جواب دو، یا کم سے کم انہی الفاظ کو دوہرا دو پس زیادتی مستحب ہے اور برابری فرض ہے، ابن جریر میں ہے ’ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا «السلام علیکم یا رسول اللہ» آپ نے فرمایا «وعلیک السلام ورحمتہ اللہ» پھر دوسرا آیا اس نے کہا «السلام علیک یا رسول اللہ و رحمتہ اللہ» آپ نے جواب دیا «وعلیک السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ» پھر ایک صاھب آئے انہوں نے کہا «السلام علیک و رحمتہ اللہ وبرکاتہ» آپ نے جواب میں فرمایا «وعلیک» تو اس نے کہا اے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فلاں اور فلاں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب دیا اور کچھ زیادہ دعائیہ الفاظ کے ساتھ دیا۔ جو مجھے نہیں دیا آپ نے فرمایا تم نے ہمارے لیے کچھ باقی ہی نہ چھوڑا اللہ کا فرمان ہے جب تم پر سلام کیا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا اسی کو لوٹا دو اس لیے ہم نے وہی الفاظ لوٹا دئیے۔‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10050:ضعیف]‏‏‏‏
یہ روایت ابن ابی حاتم میں بھی اسی طرح مروی ہے، اسے ابوبکر مردویہ نے بھی روایت کیا مگر میں نے اسے مسند میں نہیں دیکھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سلام کے کلمات میں اس سے زیادتی نہیں، اگر ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری صحابی کے جواب میں وہ لفظ کہہ دیتے۔ مسند احمد میں ہے کہ ’ ایک شخص حضور کے پاس آئے اور «السلام علیکم یا رسول اللہ» کہہ کر بیٹھ گئے آپ نے جواب دیا اور فرمایا دس نیکیاں ملیں، دوسرے آئے اور «السلام علیکم ورحمتہ اللہ یا رسول اللہ» کہہ کر بیٹھ گئے آپ نے فرمایا بیس نیکیاں ملیں، پھر تیسرے صاحب آئے انہوں نے کہا «السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ» آپ نے فرمایا تیس نیکیاں ملیں۔ ‘ ۱؎ [سنن ترمذي:2689،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کو عام لیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ خلق اللہ میں سے جو کوئی سلام کرے گا اسے جواب دو گو وہ مجوسی ہو، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں سلام کا اس سے بہتر جواب دینا تو مسمانوں کے لیے ہے اور اسی کو لوٹا دینا اہل ذمہ کے لیے ہے، لیکن اس تفسیر میں ذرا اختلاف ہے جیسے کہ اوپر کی حدیث میں گزر چکا ہے مراد یہ ہے کہ اس کے سلام سے اچھا جواب دیں اور اگر مسلمان سلام کے سبھی الفاظ کہہ دے تو پھر جواب دینے والا انہی کو لوٹادے۔
ذمی لوگوں کو خود سلام کی ابتداء کرنا تو ٹھیک نہیں اور وہ خود کریں تو جواب میں اتنے ہی الفاظ کہدے، بخاری و مسلم میں ہے ’ جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرے تو خیال رکھو یہ کہہ دیتے ہیں «السام علیک» تو تم کہہ دو و «علیک»۱؎ [صحیح بخاری:6257]‏‏‏‏
صحیح مسلم میں ہے ’ یہود و نصاری کو تم پہلے سلام نہ کرو اور جب راستے میں مڈبھیڑ ہو جائے تو انہیں تنگی کی طرف مضطر کر ‘۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2167]‏‏‏‏ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سلام نفل ہے اور جواب سلام فرض ہے اور علماء کرام کا فرمان بھی یہی ہے، پس اگر جواب نہ دے گا تو گنہگار ہو گا اس لیے کہ جواب سلام کا اللہ کا حکم ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی توحید بیان فرماتا ہے اور الوہیت اور اپنا یکتا ہونا ظاہر کرتا ہے اور اس میں ضمنی مضامین بھی ہیں، اسی لیے دوسرے جملے کو لام سے شروع کیا جو قسم کے جواب میں آتا ہے، تو اگلا جملہ خبر ہے اور قسم بھی ہے کہ وہ عنقریب تمام مقدم و مؤخر کو میدان محشر میں جمع کرے گا اور وہاں ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا، اس اللہ السمیع البصیر سے زیادہ سچی بات والا اور کوئی نہیں، اس کی خبر اس کا وعدہ اس کی وعید سب سچ ہے، وہی معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی مربی نہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

(تَحِیَّۃ) کا لفظ دو ملاقاتیوں میں سے کسی ایک سے عزت و احترام نیز دعا اور بشاشت وغیرہ کے طور پر صادر ہوتا ہے۔ سلام و دعا کا بہترین طریقہ وہ ہے جو سلام کرنے اور اس کا جواب دینے کے بارے میں شریعت میں وارد ہوا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ جب انھیں کسی بھی طریقے سے سلام کیا جائے تو وہ الفاظ اور بشاشت کے اعتبار سے اس سے بہتر یا اسی طریقے سے سلام کا جواب دیں۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سلام کا بالکل جواب نہ دینے یا کمتر طریقے سے جواب دینے سے روکا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی ترغیب ہے کہ سلام کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ اس کے دو پہلو ہیں۔
(۱) اللہ تعالیٰ نے سلام کا بہتر طریقے سے یا ویسا ہی جواب دینے کا حکم دیا ہے اور اس سے یہ امر لازم آتا ہے کہ سلام درحقیقت شرعاً مطلوب ہے۔
(۲) لفظ (اَحَسَنَ) سے جو کہ اَفْعَلُ التَّفْضِیْل ہے، جو چیز مستفاد ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ سلام اور اس کا جواب لفظ حسن میں دونوں شریک ہیں جیسا کہ اس بارے میں یہ چیز اصل ہے۔
آیت کریمہ کے عموم سے وہ شخص مستثنیٰ ہے جو کسی کو ایسے حال میں سلام کرتا ہے جس میں اسے سلام کرنے کا حکم نہ تھا۔ مثلاً کسی ایسے شخص کو سلام کرنا جو قراء ت قرآن میں مشغول ہو، خطبہ سن رہا ہو یا نماز پڑھ رہا ہو۔(لیکن شریعت نے ان حالتوں میں سلام کرنے سے کہاں منع کیا ہے؟ اس لیے فاضل مفسر کا ان مقامات کو مستثنیٰ کرنا بلا دلیل ہے۔ بلکہ یہ مقامات بھی سلام کرنے کے عموم میں داخل ہیں اور نماز کی حالت میں سلام کرنے کی اور اشارے کے ساتھ جواب دینے کی صراحت ترمذی کی حدیث میں موجود ہے) (ص۔ی) کیونکہ وہ اپنے سلام کے جواب کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ اسی طرح وہ شخص بھی آیت کریمہ کے عموم سے مستثنیٰ ہے جس سے قطع کلامی اور سلام نہ کرنے کا حکم شارع نے دیا ہو۔ یہ وہ نافرمان شخص ہے جس نے توبہ نہ کی ہو جو بول چال اور سلام کی بندش کی وجہ سے نافرمانیوں سے باز آ جاتا ہے۔ پس ایسے شخص سے بول چال بند کر دی جائے اسے سلام کیا جائے نہ سلام کا جواب دیا جائے۔ یہ سب کچھ بڑی مصلحت کے قیام کی خاطر ہے۔ سلام کا جواب دینے میں ہر قسم کے سلام کا جواب دینا شامل ہے جس کے لوگ عام طور پر عادی ہیں۔ ایسا کرنا شرعاً ممنوع نہیں، کیونکہ بندہ سلام کا جواب دینے اور اس سے بہتر جواب دینے پر مامور ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے نیکی کے کاموں پر ثواب کا وعدہ اور برائی کے کاموں پر وعید سنائی ہے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُ٘لِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا پس وہ اپنے بندوں کے اچھے برے اور چھوٹے بڑے تمام اعمال کا حساب رکھتا ہے پھر وہ اپنے فضل و عدل اور قابل تعریف فیصلے کے تقاضے کے مطابق ان کو جزا و سزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

التحية: هي اللفظ الصادر من أحد المتلاقيين على وجه الإكرام والدُّعاء وما يقترن بذلك اللفظ من البشاشة ونحوها، وأعلى أنواع التحية ما ورد به الشرعُ من السلام ابتداءً وردًّا، فأمر تعالى المؤمنين أنَّهم إذا حُيُّوا بأيِّ تحيَّة كانت أن يردُّوها بأحسن منها لفظاً وبشاشةً أو مثلها في ذلك، ومفهوم ذلك النهي عن عدم الردِّ بالكلِّيَّة أو رَدِّها بدونها. ويؤخذ من الآية الكريمة الحثُّ على ابتداء السلام والتحيَّة من وجهين:

أحدهما: أنَّ الله أمر بردِّها بأحسنَ منها أو مثلِها، وذلك يستلزم أن التحيَّة مطلوبةٌ شرعاً.

والثاني: ما يُستفادُ من أفعل التفضيل، وهو أحسن، الدالُّ على مشاركة التحيَّة وردِّها بالحسن؛ كما هو الأصل في ذلك.

ويستثنى من عموم الآية الكريمة من حيَّا بحال غير مأمورٍ بها؛ كعلى مشتغل بقراءةٍ أو استماع خطبةٍ أو مصلٍّ ونحو ذلك؛ فإنه لا يُطلب إجابةُ تحيَّته، وكذلك يُستثنى مِن ذلك مَن أمر الشارع بهجره وعدم تحيَّته، وهو العاصي غير التائب، الذي يرتدِعُ بالهجر؛ فإنَّه يُهْجَرُ ولا يُحَيَّا ولا تُرَدُّ تحيَّته، وذلك لمعارضة المصلحة الكبرى، ويدخل في ردِّ التحيَّة كلُّ تحيَّة اعتادها الناس، وهي غير محظورة شرعاً؛ فإنه مأمورٌ بردِّها أو أحسن منها. ثم أوعد تعالى وتوعَّد على فعل الحسنات والسيئاتِ بقوله: {إنَّ الله كان على كلِّ شيءٍ حسيباً}: فيحفظُ على العباد أعمالهم حَسَنها وسيِّئها، صغيرها وكبيرها، ثم يجازيهم بما اقتضاه فضلُه وعدلُه وحكمُه المحمود.