تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ سیدنا عبد اللہ بن عمروؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ”بہتر اسلام کونسا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ کہ تم (دوسروں کو) کھانا کھلاؤ اور اسے بھی سلام کرو جسے تم جانتے ہو اور اسے بھی جسے تم نہیں جانتے“
[بخاري، كتاب الايمان، باب اطعام الطعام من الاسلام۔ الاستيذان، باب السلام للمعرفة و غير المعرفة]
2۔
[ترمذی۔ ابواب الاستیذان، باب فضل السلام]
3۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو ملے تو اسے سلام کہے۔ پھر اگر ان دونوں کے درمیان کوئی درخت، دیوار یا پتھر آجائے۔ پھر اس سے ملاقات کرے تو پھر سلام کہے۔“
[ابو داؤد، کتاب الادب۔ باب فی الرجل یفارق الرجل ثم یلقاہ ایسلم علیہ]
4۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھوٹا بڑے کو سلام کرے، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے۔ تھوڑے آدمی زیادہ کو سلام کریں۔ سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے اور چلنے والا کھڑے کو سلام کرے۔“
[بخاری، کتاب الاستیذان باب تسلیم الصغیر علی الکبیر۔۔ مسلم، کتاب السلام، باب یسلم الراکب علی الماشی۔۔ ترمذی، ابواب الاستیذان]
5۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ چند یہودی آپ کے پاس آئے اور کہا ’السام علیک‘ (تجھے موت آئے) میں سمجھ گئی وہ کیا کہہ رہے ہیں، تو میں نے کہا ’علیکم السام واللعنہ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ٹھہرو عائشہ! اللہ ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔“ میں نے جواب دیا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے سنا نہیں وہ کیا کہہ رہے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے وعلیکم تو کہہ دیا تھا“
[بخاری، کتاب الاستیذان، باب کیف الرد علی اھل الذمۃ السلام۔ مسلم، کتاب السلام، باب النہی عن ابتداء اہل الکتاب بالسلام و کیف یردعلیھم]
6۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں میں سے اللہ سے زیادہ قریب وہ ہے جو ان میں سے پہلے سلام کرتا ہے۔“
[ابو داؤد، کتاب الادب، باب فضل من بدأ بالسلام]
7۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب کوئی مجلس میں آئے تو سلام کہے اور جب جانے لگے تو بھی سلام کہے اور یہ دونوں سلام ایک ہی جیسے ضروری ہیں“
[ابو داؤد، کتاب الادب۔ باب فی السلام اذاقام من المجلس]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ روایت ابن ابی حاتم میں بھی اسی طرح مروی ہے، اسے ابوبکر مردویہ نے بھی روایت کیا مگر میں نے اسے مسند میں نہیں دیکھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سلام کے کلمات میں اس سے زیادتی نہیں، اگر ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری صحابی کے جواب میں وہ لفظ کہہ دیتے۔ مسند احمد میں ہے کہ ’ ایک شخص حضور کے پاس آئے اور «السلام علیکم یا رسول اللہ» کہہ کر بیٹھ گئے آپ نے جواب دیا اور فرمایا دس نیکیاں ملیں، دوسرے آئے اور «السلام علیکم ورحمتہ اللہ یا رسول اللہ» کہہ کر بیٹھ گئے آپ نے فرمایا بیس نیکیاں ملیں، پھر تیسرے صاحب آئے انہوں نے کہا «السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ» آپ نے فرمایا تیس نیکیاں ملیں۔ ‘ ۱؎ [سنن ترمذي:2689،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔
ذمی لوگوں کو خود سلام کی ابتداء کرنا تو ٹھیک نہیں اور وہ خود کریں تو جواب میں اتنے ہی الفاظ کہدے، بخاری و مسلم میں ہے ’ جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرے تو خیال رکھو یہ کہہ دیتے ہیں «السام علیک» تو تم کہہ دو و «علیک» ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:6257]
صحیح مسلم میں ہے ’ یہود و نصاری کو تم پہلے سلام نہ کرو اور جب راستے میں مڈبھیڑ ہو جائے تو انہیں تنگی کی طرف مضطر کر ‘۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2167] امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سلام نفل ہے اور جواب سلام فرض ہے اور علماء کرام کا فرمان بھی یہی ہے، پس اگر جواب نہ دے گا تو گنہگار ہو گا اس لیے کہ جواب سلام کا اللہ کا حکم ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
التحية: هي اللفظ الصادر من أحد المتلاقيين على وجه الإكرام والدُّعاء وما يقترن بذلك اللفظ من البشاشة ونحوها، وأعلى أنواع التحية ما ورد به الشرعُ من السلام ابتداءً وردًّا، فأمر تعالى المؤمنين أنَّهم إذا حُيُّوا بأيِّ تحيَّة كانت أن يردُّوها بأحسن منها لفظاً وبشاشةً أو مثلها في ذلك، ومفهوم ذلك النهي عن عدم الردِّ بالكلِّيَّة أو رَدِّها بدونها. ويؤخذ من الآية الكريمة الحثُّ على ابتداء السلام والتحيَّة من وجهين:
أحدهما: أنَّ الله أمر بردِّها بأحسنَ منها أو مثلِها، وذلك يستلزم أن التحيَّة مطلوبةٌ شرعاً.
والثاني: ما يُستفادُ من أفعل التفضيل، وهو أحسن، الدالُّ على مشاركة التحيَّة وردِّها بالحسن؛ كما هو الأصل في ذلك.
ويستثنى من عموم الآية الكريمة من حيَّا بحال غير مأمورٍ بها؛ كعلى مشتغل بقراءةٍ أو استماع خطبةٍ أو مصلٍّ ونحو ذلك؛ فإنه لا يُطلب إجابةُ تحيَّته، وكذلك يُستثنى مِن ذلك مَن أمر الشارع بهجره وعدم تحيَّته، وهو العاصي غير التائب، الذي يرتدِعُ بالهجر؛ فإنَّه يُهْجَرُ ولا يُحَيَّا ولا تُرَدُّ تحيَّته، وذلك لمعارضة المصلحة الكبرى، ويدخل في ردِّ التحيَّة كلُّ تحيَّة اعتادها الناس، وهي غير محظورة شرعاً؛ فإنه مأمورٌ بردِّها أو أحسن منها. ثم أوعد تعالى وتوعَّد على فعل الحسنات والسيئاتِ بقوله: {إنَّ الله كان على كلِّ شيءٍ حسيباً}: فيحفظُ على العباد أعمالهم حَسَنها وسيِّئها، صغيرها وكبيرها، ثم يجازيهم بما اقتضاه فضلُه وعدلُه وحكمُه المحمود.