روزہ کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے؟ جماع، خون دینے اور دیگر مسائل

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سوال:

ایک شخص نے رمضان میں اذان فجر سے ذرا پہلے بیوی سے ہم بستری شروع کی اور اذان کے درمیان تک ہم بستری کرتا رہا، اس کے روزے کا کیا حکم ہے؟

جواب:

جب طلوع فجر کا یقین ہو گیا تو اس کے بعد روزے کا وقت شروع ہو چکا ہے، لہذا اس کے بعد ہم بستری کرنا جائز نہیں، مذکورہ صورت میں اس کا روزہ فاسد ہو چکا ہے، اس پر ظہار والا کفارہ ہے، یعنی ایک غلام آزاد کرنا، اس کی عدم دستیابی کی صورت میں دو مہینے کے لگاتار روزے رکھنا، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال قد هلكت قال وما شأنك قال وقعت على أهلي في رمضان فقال أتستطيع أن تعتق رقبة قال لا قال أتستطيع أن تصوم شهرين متتابعين قال لا قال أتستطيع أن تطعم ستين مسكينا قال لا قال اجلس فأتي النبي صلى الله عليه وسلم بعرق فيه تمر والعرق المكتل الضخم فقال خذ هذا فتصدق به قال على أفقر منا فما بين لابتيها أهل بيت أفقر منا فضحك النبي صلى الله عليه وسلم حتى بدت أنيابه قال خذ هذا وأطعمه عيالك
”ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا: میں ہلاک ہو گیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ہوا؟ اس نے کہا: میں رمضان (روزہ کی حالت) میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا آپ غلام آزاد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں؟ عرض کیا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا آپ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ سکتے ہیں؟ عرض کیا نہیں! پوچھا: کیا آپ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہیں؟ عرض کیا نہیں، فرمایا: بیٹھ جائیے، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک بڑا ٹوکرا لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے لیں اور صدقہ کر دیں۔ اس نے کہا: کیا ایسے گھرانے پر صدقہ کروں جو ہم سے زیادہ ضرورت مند ہے؟ ان دو سیاہ پہاڑوں کے درمیان (یعنی مدینہ میں) ہمارے گھر سے زیادہ کوئی محتاج نہیں۔ (یہ سن کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر مسکرائے کہ آپ کی ڈاڑھیں نظر آنے لگیں اور فرمایا: اسے لے جائیں اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دیں۔“
(صحيح البخاري: 1936، صحيح مسلم: 1111، المنتقى لابن الجارود: 384)

سوال:

نفلی روزہ کے دوران بیوی سے ہم بستری کر لی، کیا حکم ہے؟

جواب:

روزہ باطل ہو گیا، ان پر روزہ کی قضا مستحب ہے، ضروری نہیں، نیز کوئی کفارہ بھی نہیں۔

سوال:

حالت روزہ میں مجبوراً خون دینا پڑا، کیا روزہ باقی ہے؟

جواب:

روزہ باقی ہے۔

سوال:

درج ذیل روایت کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟
❀ امام یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله تعالى كره لكم العبث في الصلاة والرفث في الصيام والضحك عند المقابر
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ناپسند کیا ہے کہ آپ نماز میں عبث (فضول) کام کریں، روزے میں رفث (جماع اور جماع کے مقدمات) کریں اور قبرستان میں ہنسیں۔“
(الزهد لابن المبارك: 1557، مسند الشهاب للقضاعي: 1087)

جواب:

مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس روایت کو اسماعیل بن عیاش کی منکر روایات میں شمار کیا ہے۔
(ميزان الاعتدال: 1/242)
❀ علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إنه لم يثبت
”یہ روایت ثابت نہیں۔“
(التنبيه على مشكلات الهداية: 2/634)