نماز عید سے پہلے قربانی جائز نہیں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب قربانی کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔

نماز عید سے پہلے قربانی جائز نہیں

عن أبى بردة بن نيار أنه ذبح أضحيته قبل أن يذبح رسول الله صلى الله عليه وسلم فزعم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمره أن يعود بضحية أخرى، فقال أبو بردة: لا أجد إلا جذعا فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن لم تجد إلا جذعا فاذبحه
سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عید الاضحی کے دن اپنی قربانی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی (یعنی نماز عید) سے پہلے ذبح کر دیا تو کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ دوبارہ قربانی کرو۔ ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس صرف ایک جذع (بکری کا ایک سالہ بچہ) ہے تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہارے پاس جذع کے سوا کچھ بھی نہیں ہے تو اسے ہی ذبح کر دو۔“
تحقیق: سندہ صحیح
تخريج: الموطا
(روایت یحییٰ 383/2 ح 1063، ک 23 ب 43) التمہید 180/23، الاستذکار: 997
وأخرجه الدارمی (1969) من حدیث مالک به وله شواہد عند البخاری (955) ومسلم (1961) وغیرہما۔
تفقہ :
➊ نماز عید سے پہلے قربانی کرنا جائز نہیں ہے۔
➋ بکری کے اس بچے کو جذعہ کہتے ہیں جو آٹھ یا نو ماہ کا ہو گیا ہو۔ (القاموس المحیط ص 243)
نہ ملنے کی صورت میں بھیڑ کے جذعہ کی قربانی جائز ہے۔
➌ عبادات اور امور تقرب الی اللہ کی قبولیت میں شرعی حدود کی موافقت ضروری ہے۔
➍ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: قربانی کے دن کے علاوہ دو دن قربانی ہوتی ہے۔ (الموطا 638/2 ح 1071، وسندہ صحیح)
➎ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”قربانی سنت ہے، واجب نہیں اور میں پسند نہیں کرتا کہ کوئی آدمی مال و دولت ہونے کے باوجود اسے ترک کرے۔“
(الموطا 638/2 بعد ح 1073)
[موطا روایت ابن القاسم ص 578]