اطاعت سے انکار کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كل أمتي يدخلون الجنة إلا من أبى
”میری ساری امت جنت میں جائے گی سوائے اس کے جو خود انکار کر دے۔“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کون انکار کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أطاعني دخل الجنة ومن عصاني فقد أبى
”جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔“
بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة، حدیث 7280۔ مسند احمد، باقی مسند المكشرين 2/ 479، حدیث 8749.
بدعت کی ممانعت
① سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا، جس سے دل کانپ گئے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو پڑے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گویا کہ یہ الوداعی وعظ و نصیحت ہے لہذا آپ ہمیں کوئی وصیت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أوصيكم بتقوى الله، والسمع والطاعة، وإن تأمر عليكم عبد، فإنه من يعش منكم فسيرى اختلافا كثيرا، فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين، عضوا عليها بالنواجذ، وإياكم ومحدثات الأمور، فإن كل بدعة ضلالة
”میں تمہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے اور سمع و اطاعت کی وصیت کرتا ہوں خواہ تم پر کوئی غلام ہی امیر کیوں نہ ہو، اس لیے کہ تم میں سے جو شخص زندہ رہے گا وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا، پس تم میری اور خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا، اسے ڈاڑھوں سے مضبوط پکڑ لینا اور دین میں نئے نئے کام جاری کرنے سے بچنا کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔“
ابو داؤد، کتاب السنة 4607، ترمذی، کتاب العلم، 2676۔
② سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من ابتدع بدعة ضلالة لا يرضاها الله ورسوله كان عليه مثل آثام من عمل بها لا ينقص ذلك من أوزار الناس شيئا
”جس شخص نے کسی بدعت کا اجراء کیا جسے اللہ اور اس کے رسول پسند نہیں کرتے، تو اس بدعت پر عمل کرنے والے کا گناہ اس شخص پر بھی ہوگا (جس نے اسے شروع کیا) اور یہ لوگوں کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہیں کرے گا۔“
ترمذی، کتاب العلم الخ 2677۔
سنت سے بے رغبتی کی ممانعت
① سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، تین آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے متعلق پوچھنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے گھر آئے، پس جب انہیں بتایا گیا تو گویا انہوں نے اسے کم سمجھا، تو انہوں نے کہا: ہماری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا نسبت ہے؟ ان کے تو اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا: جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھتا رہوں گا۔ دوسرے نے کہا: میں مسلسل روزے رکھوں گا اور افطار نہیں کروں گا۔ تیسرے نے کہا: میں عورتوں سے دور رہوں گا اور کبھی شادی نہیں کروں گا۔
پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف تشریف لائے تو فرمایا:
أنتم الذين قلتم كذا وكذا؟ أما والله إني لأخشاكم لله وأتقاكم له، ولكني أصوم وأفطر، وأصلي وأرقد، وأتزوج النساء، فمن رغب عن سنتي فليس مني
”کیا تم لوگوں نے اس اس طرح کہا ہے؟ اللہ کی قسم! میں تم سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کا تقویٰ رکھنے والا ہوں، لیکن میں روزہ رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں، پس جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی تو وہ مجھ سے نہیں۔“
صحیح البخاری، کتاب النکاح، صحیح مسلم، کتاب النکاح۔
یہود و نصاریٰ کے طریقوں کی ممانعت
① سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لتتبعن سنن من كان قبلكم شبرا بشبر وذراعا بذراع حتى لو دخلوا جحر ضب تبعتموهم
”تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی بالکل اس طرح پیروی کرو گے جس طرح بالشت بالشت کے اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ہوتا ہے، حتیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی اس میں گھس جاؤ گے۔“
ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا پہلے لوگوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فمن؟
”تو پھر اور کون ہو سکتے ہیں؟“
بخاری، الاعتصام بالکتاب والسنة، حدیث 7320، مسلم، کتاب العلم، 6/ 2669۔
② سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوۂ حنین کے لیے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کے ایک ذات انواط نامی درخت کے پاس سے گزرے جس پر وہ اپنا اسلحہ لٹکایا کرتے تھے۔ تو انہوں نے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے) عرض کیا: اللہ کے رسول! جس طرح ان کا یہاں ذات انواط نامی درخت ہے اسی طرح ہمارے لیے بھی کوئی ذات انواط مقرر فرما دیں (تاکہ حصولِ برکت کے لیے ہم بھی اپنا اسلحہ اس پر لٹکا لیا کریں)۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سبحالن اله! هذا كما قال قوم موسى: ﴿اجْعَل لَّنَا إِلَٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ﴾ والذي نفسي بيده لتركبن سنة من كان قبلكم
”سبحان اللہ! یہ تو ایسے ہی ہے جیسے موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہا تھا: ہمارے لیے بھی ایک معبود مقرر کر دیں جیسے ان کے معبود ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اپنے سے پہلے لوگوں کی راہ پر چلو گے۔“
ترمذی، کتاب الفتن، حدیث 2180۔