شب قدر کی فضیلت، علامات اور قرآن کریم کے نزول سے متعلق مسائل

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سوال:

سورت دخان آیت نمبر 3 میں لیلۃ مبارکہ سے کیا مراد ہے؟

جواب:

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ
”ہم نے اسے (قرآن کریم کو) برکت والی رات میں نازل کیا، ہم ڈرانے والے ہیں۔“
(44-الدخان: 3)
اس آیت میں لیلہ مبارکہ سے مراد لیلۃ القدر ہے، جو رمضان کے آخری عشرہ کی پانچ طاق راتوں میں سے کوئی رات ہوتی ہے۔ اسی رات قرآن کریم نازل ہوا، سورت قدر میں اس کی صراحت موجود ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
إنك لترى الرجل يمشي في الأسواق وقد وقع اسمه في الموتى ثم قرأ إنا أنزلناه في ليلة مباركة إنا كنا منذرين فيها يفرق كل أمر حكيم يعني ليلة القدر ففي تلك الليلة يفرق أمر الدنيا إلى مثلها من قابل
”آپ کسی شخص کو بازار میں چلتا پھرتا دیکھتے ہیں جبکہ اس کا نام فوت ہونے والوں میں درج ہو چکا ہوتا ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہما نے یہ آیات تلاوت کیں: ﴿إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ﴾ (الدخان: 3-4) ہم نے اسے (قرآن کریم کو) برکت والی رات میں نازل کیا، ہم ڈرانے والے ہیں، اس رات میں ہر پر حکمت معاملے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اس رات سے مراد شب قدر ہے، اس رات میں اگلے سال کی اسی رات تک ہونے والے (بڑے بڑے) دنیاوی معاملات کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔“
(المستدرك للحاكم: 3678، وسنده حسن)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مطابق ان آیات میں جس رات کا ذکر ہے وہ شب قدر ہے، لہذا بغیر دلیل اس رات سے مراد پندرہ شعبان کی رات لینا غلط ہے۔
بعض کہتے ہیں کہ آیت میں لیلہ مبارکہ سے مراد پندرہ شعبان کی رات ہے، یہ مؤقف بے دلیل ہے۔
❀ علامہ ابن العربی مالکی رحمہ اللہ (543ھ) فرماتے ہیں:
هو باطل قطعا لأنه لا يعضده أثر ولا خبر والصحيح أنها ليلة القدر
”یہ کہنا کہ لیلہ مبارکہ سے مراد پندرہ شعبان کی رات ہے قطعی طور پر باطل بات ہے، کیونکہ اس کی تائید کسی اثر یا حدیث سے نہیں ہوتی، صحیح یہی ہے کہ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے۔“
(المسالك في شرح موطأ مالك: 4/264)

سوال:

درج ذیل روایت کیسی ہے؟
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رمضان شروع ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قد جاءكم رمضان شهر مبارك افترض الله عليكم صيامه تفتح فيه أبواب الجنة وتغلق فيه أبواب الجحيم وتغل فيه الشياطين فيه ليلة خير من ألف شهر من حرم خيرها فقد حرم
”آپ کے پاس ماہ رمضان آ چکا ہے، یہ مبارک مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ پر اس مہینے کے روزے فرض کیے ہیں، اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو بیڑیاں ڈال دی جاتی ہیں، اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو اس کی خیر سے محروم رہ گیا وہ حقیقت میں محروم شخص ہے۔“
(مسند الإمام أحمد: 2/230، 425، سنن النسائي: 2106)

جواب:

سند ضعیف ہے۔ ابو قلابہ جرمی کا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں۔

سوال:

قرآن کریم کا نزول آسمان دنیا پر کب ہوا؟

جواب:

اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ سے مکمل قرآن کریم آسمان دنیا پر نازل کیا، پھر تھوڑا تھوڑا کر کے اور موقع مناسبت کے مطابق زمین پر اُتارا۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ
”یقیناً ہم نے اسے (قرآن کو) شب قدر میں (لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر) نازل کیا۔“
(97-القدر: 1)
❀ نیز فرمان الٰہی ہے:
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ
”ہم نے اسے (قرآن کریم کو) برکت والی رات میں نازل کیا، ہم ڈرانے والے ہیں۔“
(44-الدخان: 3)
اس آیت میں لیلہ مبارکہ سے مراد لیلۃ القدر ہے، جو رمضان کے آخری عشرہ کی پانچ طاق راتوں میں سے کوئی رات ہوتی ہے۔
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَىٰ مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنزِيلًا
”ہم نے قرآن کریم کو (آسمان دنیا سے زمین پر) ٹکڑوں میں نازل کیا تا کہ آپ اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں اور ہم نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے۔“
(بني إسرائيل: 106)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
أنزل الله القرآن إلى السماء الدنيا في ليلة القدر فكان الله إذا أراد أن يوحي منه شيئا أوحاه أو أن يحدث منه في الأرض شيئا أحدثه
”اللہ تعالیٰ نے شب قدر کو (پورے کا پورا) قرآن کریم آسمان دنیا پر نازل کیا، پھر جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا اتنا حصہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف) وحی کرتا رہا، یا زمین میں کوئی معاملہ رونما ہوا تو اسی مناسبت سے آیات نازل کرتا رہا۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 30187، فضائل القرآن لابن الضريس: 117، المستدرك للحاكم: 2877، وسنده صحيح)
اس اثر کو امام حاکم رحمہ اللہ نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔

سوال:

بعض لوگ چپ کا روزہ رکھتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب:

یہ شیطان کی پیروی ہے۔ ہر وقت چپ رہنا بیمار ذہن آدمی کا کام ہے۔ عقل مند کو اللہ تعالیٰ نے زبان دی ہے، وہ کلام کرتا ہے۔ چپ کا روزہ رکھنا وہ دین ہے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اختیار نہیں کیا، نیز اسلاف امت اس سے ناواقف تھے، بھلا یہ دین کیسے؟
البتہ حدیث نبوی میں فضول گوئی سے بچنے اور خیر اور بھلائی کی باتیں کرنے کا کہا گیا ہے۔ خیر و بھلائی پر مبنی باتیں بھرپور کہی جا سکتی ہیں۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يؤذ جاره ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه
”جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ پڑوسی کا احترام کرے اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ مہمان کا اکرام کرے۔“
(صحيح البخاري: 6475، صحيح مسلم: 47)
یہ حدیث نص صریح ہے کہ وہی بات کہنی چاہیے جو بھلی اور خیر کی حامل ہو اور جس کی مصلحت واضح ہو، اگر اس کی مصلحت میں شک ہو تو بات نہ کرنا ہی بہتر ہے۔

سوال:

ایک طالب علم نے نذر مانی کہ اگر وہ امتحان میں کامیاب ہو گیا تو رزلٹ کے اگلے دن روزہ رکھے گا لیکن اس نے رزلٹ کے اگلے روز روزہ نہیں رکھا، کیا حکم ہے؟

جواب:

جب وہ امتحان میں کامیاب ہو گیا تو رزلٹ کے اگلے روز اس کے لیے روزہ رکھنا ضروری تھا، کیونکہ اس نے معین دن کی نذر مانی تھی۔ اب اگر اس معین دن کا روزہ نہیں رکھا تو اس پر نذر کا کفارہ ہے۔