سلف صالحین کا ترکِ تقلید: 100 مستند حوالوں کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محدث العصر شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب اہل حدیث ایک صفاتی نام سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سلف صالحین اور تقلید

الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على محمد رسول الله: خاتم النبيين صلى الله عليه وسلم و رضي الله عن أصحابه أجمعين و من تبعهم إلى يوم الدين، أما بعد:
ارشاد باری تعالیٰ ہے: [قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ] کہہ دیجئے! کیا جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے وہ (دونوں) برابر ہیں؟ (الزمر: 9)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ لوگوں کی دو (بڑی) قسمیں ہیں:
[1] علماء (درجات کے لحاظ سے علماء کی کئی اقسام ہیں اور اُن میں طالبِ علم بھی شامل ہیں۔
[2] عوام (عوام کی کئی اقسام ہیں اور اُن میں ان پڑھ لا علم بھی شامل ہیں)

عوام کے لئے یہ حکم ہے کہ وہ اہل الذکر (علماء) سے پوچھیں۔ (دیکھئے سورۃ النحل: 43)

یہ پوچھنا تقلید نہیں ہے۔ دیکھئے منتہی الوصول لابن الحاجب النحوی (ص 218-219) اور میری کتاب: دین میں تقلید کا مسئلہ (ص16)

اگر پوچھنا تقلید ہوتا تو بریلویوں اور دیوبندیوں کے عوام موجودہ بریلوی اور دیوبندی علماء کے مقلد ہوتے اور اپنے آپ کو کبھی حنفی، ماتریدی یا نقشبندی وغیرہ نہ کہتے۔ کوئی سرفرازی ہوتا اور کوئی تقویٰ ہوتا اور کوئی گھمنی (!) حالانکہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں لہٰذا مطلق پوچھنے کو تقلید قرار دینا غلط اور باطل ہے۔

علماء کے لئے تقلید جائز نہیں بلکہ حسبِ استطاعت کتاب وسنت اور اجماع پر قولاً و فعلاً عمل کرنا ضروری ہے اور اگر ادلۂ ثلاثہ میں کوئی مسئلہ نہ ملے تو پھر اجتہاد (مثلاً متفقہ وغیر مختلفہ آثارِ سلف صالحین سے استدلال اور قیاسِ صحیح وغیرہ) جائز ہے۔

حافظ ابن القیم رحمہ اللہ (متوفی 751ھ) نے فرمایا: [و إذا كان المقلد ليس من العلماء باتفاق العلماء لم يدخل في شيء من هذه النصوص] اور جب مقلد علماء میں سے نہیں ہے جیسا کہ علماء کا اتفاق (اجماع) ہے (لہٰذا) وہ ان دلائل (آیات و احادیث میں بیان شدہ فضائل) میں داخل نہیں ہے۔ (اعلام الموقعین: ج 2 ص 200)

اس قول کے مفہوم سے معلوم ہوا کہ عالم مقلد نہیں ہوتا۔

حافظ ابن عبدالبر الاندلسی رحمہ اللہ (متوفی 463ھ) نے فرمایا: [وقالوا والمقلد لا علم له و لم يختلفوا في ذلك]
اور انہوں (علماء) نے فرمایا: اور مقلد لا علم (جاہل) ہوتا ہے اور اس میں اُن کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔
(جامع بیان العلم و فضلہ: ج 2 ص 231 باب فساد التقلید)

اس اجماع سے بھی یہی ثابت ہے کہ عالم مقلد نہیں ہوتا، بلکہ حنفیوں کی کتاب الہدایہ کے حاشیے پر لکھا ہوا ہے کہ: [يُحتمل أن يكون مراده بالجاهل المقلد لأنه ذكره في مقابلة المجتهد]
اس کا احتمال ہے کہ جاہل سے اُن کی مراد مقلد ہے کیونکہ انہوں نے اسے مجتہد کے مقابلے میں ذکر کیا ہے۔
(ہدایہ اخیرین: ص 132، حاشیہ: 6، کتاب ادب القاضی)

اس تمہید کے بعد اس تحقیقی مضمون میں ایک سو (100) علماء کے حوالے پیشِ خدمت ہیں، جن کے بارے میں صراحتاً ثابت ہے کہ وہ تقلید نہیں کرتے تھے:

حوالہ: 1

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [لا تقلدوا دينكم الرجال] إلخ اپنے دین میں مَردوں (یعنی لوگوں) کی تقلید نہ کرو۔ إلخ
(السنن الکبریٰ للبیہقی: 2/ 10،وسندہ صحیح) نیز دیکھئے دین میں تقلید کا مسئلہ (ص35)

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [اغد عالمًا أو متعلمًا ولا تغد إمعة بين ذلك] عالم بنو یا متعلم (سیکھنے والا، طالبِ علم) بنو، ان دونوں کے درمیان (یعنی ان کے علاوہ) مقلد نہ بنو۔ (جامع بیان العلم و فضلہ: 1/ 71-72 ح 108، وسندہ حسن)

إمعہ کا ایک ترجمہ مقلد بھی ہے۔ دیکھئے تاج العروس (ج 11 ص 4) المعجم الوسیط (ص 26) اور القاموس الوحید (ص 134)

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے نزدیک لوگوں کی تین قسمیں ہیں:
[1] عالم

[2] طالبِ علم

[3] مقلد
انہوں نے لوگوں کو مقلد بننے سے منع فرما دیا تھا اور عالم یا طالبِ علم بننے کا حکم دیا تھا۔

حوالہ: 2

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [أما العالم فإن اهتدى فلا تقلدوه دينكم۔ إلخ] اگر عالم ہدایت پر بھی ہو تو اپنے دین میں اس کی تقلید نہ کرو۔ إلخ (جامع بیان العلم و فضلہ: 2/ 222 ح 955، وسندہ حسن) نیز دیکھئے دین میں تقلید کا مسئلہ (ص35-37)

تنبیہ:

تمام صحابۂ کرام میں سے کسی ایک صحابی سے بھی تقلید کا صریح جواز قولاً یا فعلاً ثابت نہیں ہے بلکہ حافظ ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ (متوفی 456ھ) نے فرمایا: اول سے آخر تک تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اور اول سے آخر تک تمام تابعین کا ثابت شدہ اجماع ہے کہ ان میں سے یا ان سے پہلے کسی (اُمتی) انسان کے تمام اقوال قبول کرنا منع اور ناجائز ہے۔ إلخ (النبذة الکافیہ لابن حزم: ص 71)،( الرد علی من اخلد الی الارض للسیوطی: ص 131-132)،(دین میں تقلید کا مسئلہ:ص36-35)

حوالہ: 3

امام مالک بن انس المدنی رحمہ اللہ (متوفی 179ھ) امام دار الہجرۃ بہت بڑے مجتہد تھے۔ طحطاوی حنفی نے ائمۂ اربعہ (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد) کے بارے میں کہا: [وهم غير مقلدين] اور وہ غیر مقلد تھے۔ (حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار: ج1 ص51)
محمد حسین ’’حنفی‘‘ نامی ایک شخص نے لکھا ہے: ہر مجتہد اپنے مظنونات پر عمل کرے اسی لئے ائمہ اربعہ سب کے سب غیر مقلد ہیں۔ (معین الفقہ:ص 88)

ماسٹر امین اوکاڑوی نے کہا: مجتہد پر اجتہاد واجب ہے اور اپنے جیسے مجتہد کی تقلید حرام ہے۔إلخ (تجلیاتِ صفدر:ج3 ص430)

سرفراز خان صفدر گکھڑوی دیوبندی نے کہا: اور تقلید جاہل ہی کیلئے ہے جو احکام اور دلائل سے ناواقف ہے یا تعارضِ ادلہ میں تطبیق و ترجیح کی اہلیت نہیں رکھتا۔ (الکلام المفید فی اثبات التقلید: ص 234)

حوالہ: 4

امام اسماعیل بن یحییٰ المزنی رحمہ اللہ (متوفی 264ھ) نے فرمایا: میرا یہ اعلان ہے کہ امام شافعی نے اپنی تقلید اور دوسروں کی تقلید سے منع فرمایا ہے تاکہ (ہر شخص) اپنے دین کو پیشِ نظر رکھے اور اپنے لئے احتیاط کرے۔ (مختصر المزنی: ص1، دین میں تقلید کا مسئلہ:ص 38)

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: [ولا تقلدوني] اور میری تقلید نہ کرو۔ (آداب الشافعی و مناقبہ لابن ابی حاتم ص 51، وسندہ حسن، دین میں تقلید کا مسئلہ:ص38)،(نیز دیکھئے فقرہ نمبر:3)

حوالہ: 5

اہل سنت کے مشہور امام اور مجتہد احمد بن محمد بن حنبل رحمہ اللہ (متوفی 241ھ) نے امام اوزاعی اور امام مالک کے بارے میں اپنے شاگرد امام ابو داؤد سجستانی رحمہ اللہ سے فرمایا: [لا تقلد دينك أحدًا من هؤلاءإلخ] اپنے دین میں اُن میں سے کسی ایک کی بھی تقلید نہ کر۔۔ إلخ (مسائل ابی داؤد: ص 277) نیز دیکھئے فقرہ: 3

فائدہ:

علامہ نووی نے فرمایا: [فإن المجتهد لا يقلد المجتهد] کیونکہ بے شک مجتہد مجتہد کی تقلید نہیں کرتا۔ (شرح صحیح مسلم: ج1 ص210 تحت ح21)
ابن الترکمانی (حنفی) نے کہا: [فإن المجتهد لا يقلد المجتهد] کیونکہ بے شک مجتہد مجتہد کی تقلید نہیں کرتا۔ (الجوہر النقی علی السنن الکبریٰ للبیہقی: ج6 ص210)

تنبیہ:

بعض لوگوں نے (اپنے نمبر بڑھانے کے لئے) کئی علماء کو طبقاتِ مالکیہ، طبقاتِ شافعیہ، طبقاتِ حنابلہ اور طبقاتِ حنفیہ میں ذکر کیا ہے، جو کہ مذکورہ علماء کے مقلد ہونے کی دلیل نہیں مثلاً:
(1) امام احمد بن حنبل کو طبقاتِ شافعیہ للسبکی (ج 2 ص 199، دوسرا نسخہ ج 1 ص 264) میں ذکر کیا گیا ہے۔
(2) امام شافعی کو طبقاتِ مالکیہ (الدیباج المذہب ص 326 ت 437) اور طبقاتِ حنابلہ (1/ 280) میں ذکر کیا گیا ہے۔

کیا امام احمد امام شافعی کے مقلد اور امام شافعی امام مالک و امام احمد کے مقلد تھے؟

معلوم ہوا کہ طبقاتِ مذکورہ میں کسی عالم کا مذکور ہونا اُس کے مقلد ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ نیز دیکھئے: تنقیدِ سدید بر رسالہ اجتہاد و تقلید لشیخنا الامام ابی محمد بدیع الدین الراشدی السندی رحمہ اللہ (ص 33-37)

حوالہ: 6

امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی اکابلی رحمہ اللہ کے بارے میں طحطاوی حنفی کا قول گزر چکا ہے کہ وہ غیر مقلد تھے۔ دیکھئے فقرہ: 3

اشرفعلی تھانوی دیوبندی نے کہا: کیونکہ امام اعظم ابو حنیفہ کا غیر مقلد ہونا یقینی ہے۔ (مجالس حکیم الامت: ص345، ملفوظات حکیم الامت: ج24 ص332)

امام ابو حنیفہ نے اپنے شاگرد قاضی ابو یوسف سے کہا:میری ہر بات نہ لکھا کر، میری آج ایک رائے ہوتی ہے اور کل بدل جاتی ہے۔ کل دوسری رائے ہوتی ہے تو پھر پرسوں وہ بھی بدل جاتی ہے۔ (تاریخ یحییٰ بن معین، روایتہ الدوری ج 2 ص 607 ت 2461 وسندہ صحیح، دین میں تقلید کا مسئلہ ص 38-39)

فائدہ:

شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور حافظ ابن القیم رحمہما اللہ دونوں نے فرمایا کہ امام ابو حنیفہ نے تقلید سے منع کیا ہے۔ دیکھئے مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ (20 /10، 211) اعلام الموقعین (2/ 200، 207، 211، 228) اور الرد علیٰ من اخلد الی الارض للسیوطی (ص 132)

اپنے آپ کو حنفی سمجھنے والوں کی درج ذیل کتابوں میں بھی لکھا ہوا ہے کہ امام ابو حنیفہ نے تقلید سے منع کیا ہے: مقدمہ عمدۃ الرعایہ فی حل شرح الوقایہ (ص 9) لمحات النظر فی سیرۃ الامام زفر للکوثری (ص 21) حجۃ اللہ البالغہ (1/ 157)

حوالہ: 7

شیخ الاسلام ابو عبدالرحمن بقی بن مخلد بن یزید القرطبی رحمہ اللہ (متوفی 276ھ) کے بارے میں امام ابو عبداللہ محمد بن الفتوح بن عبداللہ الحمیدی الازدی الاندلسی الاثری الظاہری رحمہ اللہ (متوفی 488ھ) نے اپنے استاذ ابو محمد علی بن احمد عرف ابن حزم سے نقل کیا: [و كان متخيرا لا يقلد أحدا] اور وہ (کتاب وسنت اور راجح کو) اختیار کرتے تھے، کسی ایک کی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (جذوة المقتبس في ذكر ولاة الاندلس: ص 168، تاریخ دمشق لابن عساکر: 10/ 279)

حافظ ابن حزم کا قول کتاب الصلۃ لابن بشکوال (1/ 108 ت 284) میں بھی مذکور ہے اور حافظ ذہبی نے بقی بن مخلد کے بارے میں فرمایا: [و كان مجتهدا لا يقلد أحدا بل يفتي بالأثر] اور وہ مجتہد تھے، کسی ایک کی تقلید نہیں کرتے تھے بلکہ اثر (حدیث و آثار) کے مطابق فتویٰ دیتے تھے۔ (تاریخ الاسلام ج 20 ص 313 وفیات 276ھ)

فائدہ:

حافظ ابو سعد عبدالکریم بن محمد بن منصور التمیمی السمعانی رحمہ اللہ (متوفی 562ھ) نے فرمایا: [الأثري . . . هذه النسبة إلى الأثر يعني الحديث وطلبه و اتباعه] اثری… یہ اثر یعنی حدیث، حدیث کی طلب اور اس کی اتباع کی طرف نسبت ہے۔ (الانساب:1/ 84)

حافظ سمعانی رحمہ اللہ نے فرمایا: [الظاهري . . . هذه النسبة إلى أصحاب الظاهر وهم جماعة ينتحلون مذهب داود بن علي الأصبهاني صاحب الظاهر فإنهم يجرون النصوص على ظاهرها و فيهم كثرة]
ظاہری… یہ اصحابِ ظاہر کی طرف نسبت ہے اور یہ جماعت ہے جو داؤد بن علی اصبہانی ظاہری کے مذہب (طریقے) پر ہے، یہ لوگ نصوص (قرآن وحدیث کے دلائل) کو ظاہر پر جاری کرتے ہیں اور یہ لوگ کثرت سے ہیں۔ (الانساب: ج4 ص99)

حافظ سمعانی رحمہ اللہ نے فرمایا: [السَّلَفي. . . هذه النسبة إلى السلف و انتحال مذهبهم على ما سمعت]
سلفی… جیسا کہ میں نے سُنا ہے: یہ سلف اور اُن کے مذہب (مسلک) اختیار کرنے کی طرف نسبت ہے۔ (الانساب: ج3 ص273)

اس سے معلوم ہوا کہ صحیح العقیدہ مسلمین کے بہت سے صفاتی نام اور القاب ہیں لہٰذا سلفی، ظاہری، اثری، اہل حدیث اور اہل سنت سے مراد وہ صحیح العقیدہ مسلمان ہیں جو قرآن، حدیث اور اجماع کی اتباع کرتے ہیں اور کسی اُمتی کی تقلید نہیں کرتے۔ والحمد للہ

حوالہ: 8

امام ابو محمد عبداللہ بن وہب بن مسلم الفہری المصری رحمہ اللہ (متوفی 197ھ) کے بارے میں حافظ ذہبی نے فرمایا: [و كان ثقة حجة حافظًا مجتهدًا لا يقلّد أحدًا، ذا تعبد و زهد] اور آپ ثقہ (روایتِ حدیث میں) حجت، حافظ مجتہد تھے، آپ کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے، آپ عبادت اور زہد والے تھے۔ (تذکرۃ الحفاظ:1/ 305 ت 283)

حوالہ: 9

ابو علی الحسن بن موسیٰ الاشیب البغدادی قاضی موصل رحمہ اللہ (متوفی 209ھ) کے بارے میں حافظ ذہبی نے فرمایا: [و كان من أوعية العلم لا يقلد أحدا] اور وہ علم کے خزانوں میں سے تھے، کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (سیر اعلام النبلاء:ج9 ص560)

حوالہ: 10

ابو محمد القاسم بن محمد بن قاسم بن محمد بن سیار البیانی القرطبی الاندلسی رحمہ اللہ (متوفی 276ھ) کے بارے میں حافظ ذہبی نے فرمایا: [ولازم ابن عبدالحكم حتى برع في الفقه و صار إمامًا مجتهدًا لا يقلّد أحدًا وهو مصنف كتاب الإيضاح في الرد على المقلدين] اور انہوں نے (محمد بن عبد اللہ) ابن عبد الحکم (بن اعین بن لیث المصری) کی مصاحبت اختیار کی حتیٰ کہ فقہ میں بہت ماہر ہو گئے اور امام مجتہد بن گئے، آپ کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے، آپ الایضاح فی الرد علی المقلدین کتاب کے مصنف ہیں۔ (تذکرۃ الحفاظ 2/ 648 ت 671)

مقلدین کے رد میں آپ کی اس کتاب کا درج ذیل علماء نے بھی ذکر کیا ہے:

(1) الحمیدی الاندلسی الظاہری (جذوۃ المقتبس 1/ 118، بحوالہ المکتبۃ الشاملہ)
(2) عبدالوہاب بن علی بن عبدالکافی السبکی (طبقات الشافعیۃ الکبریٰ 1/ 530)
(3) صلاح الدین خلیل بن ایبک الصفدی (الوافی بالوفیات ج 24 ص 116)
(4) جلال الدین السیوطی (طبقات الحفاظ ص 288 ت 647)

تنبیہ:

ہمارے علم کے مطابق زمانۂ تدوینِ حدیث (پانچویں صدی ہجری) بلکہ آٹھویں صدی ہجری تک کسی ثقہ و صدوق صحیح العقیدہ عالم نے کتاب الدفاع عن المقلدین، کتاب جواز التقلید، کتاب وجوب التقلید یا اس مفہوم کی کوئی کتاب نہیں لکھی اور اگر کسی کو اس تحقیق سے اختلاف ہے تو صرف ایک صریح حوالہ پیش کر دے۔ هل من مجيب؟

حوالہ: 11

ابوبکر محمد بن ابراہیم بن المنذر النیسابوری شیخ الحرم رحمہ اللہ (متوفی 318ھ) کے بارے میں حافظ ذہبی نے فرمایا: [وكان مجتهدًا لا يقلّد أحدًا] اور آپ مجتہد تھے، کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (تذکرۃ الحفاظ:3/ 782 ت775، تاریخ الاسلام: 23/ 568)

علامہ نووی شافعی نے کہا: [ولا يلتزم التقيد في الاختيار بمذهب أحد بعينه ولا يتعصب لأحد ولا على أحد على عادة أهل الخلاف بل يدور مع ظهور الدليل و دلالة السنة الصحيحة و يقول بها مع من كانت و مع هذا فهو عند أصحابنا معدود من أصحاب الشافعي]
وہ اختیار میں کسی معین مذہب کی قید کا التزام نہیں کرتے تھے اور نہ کسی کے لئے تعصب کرتے تھے جیسا کہ اختلاف کرنے والے لوگوں کی عادت ہوتی ہے، بلکہ دلیل ظاہر ہونے اور سنتِ صحیحہ کے قائل تھے، چاہے دلیل کسی کے پاس ہو، اس کے باوجود ہمارے اصحاب نے انہیں اصحابِ شافعی میں ذکر کیا ہے… إلخ (تہذیب الاسماء واللغات: ج2 ص197)

نووی کی بات کا ایک حصہ نقل کر کے حافظ ذہبی نے فرمایا: [ما يتقيد بمذهب واحد إلا من هو قاصر في التمكّن من العلم كأكثر علماء أهل زماننا أو من هو متعصب]
ایک مذہب کی قید کو وہی اختیار کرتا ہے جو حصولِ علم پر قادر ہونے سے قاصر ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے زمانے کے اکثر ’’علماء‘‘ ہیں یا (پھر) جو متعصب ہوتا ہے۔ (سیر اعلام النبلاء: ج14 ص491)

ان حوالوں سے دو باتیں ظاہر ہیں:

(1) مذاہب کی تقلید وہی کرتا ہے جو جاہل یا متعصب ہے۔
(2) تقلیدی مذاہب والوں نے کئی علماء کو اپنے اپنے طبقات میں ذکر کر دیا ہے، حالانکہ مذکورہ علماء کا مقلد ہونا ثابت نہیں بلکہ وہ تقلید کے مخالف تھے لہٰذا مقلدین کی کتبِ طبقات کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔

حوالہ: 12

صدوق حسن الحدیث کے درجے پر فائز ابو علی الحسن بن سعد بن ادریس الکتامی القرطبی رحمہ اللہ (متوفی 331ھ) کے بارے میں حافظ ذہبی نے فرمایا: [و كان علامة مجتهدا لا يقلد و يميل إلى أقوال الشافعي] اور وہ علامہ مجتہد تھے، تقلید نہیں کرتے تھے اور اقوالِ شافعی کی طرف مائل تھے۔ (تذکرۃ الحفاظ:3/ 870 ت840)

حوالہ: 13

امام اوزاعی رحمہ اللہ (متوفی157ھ) کے عظیم شاگرد اور (اندلس کے) امیر (خلیفہ) ہشام بن عبدالرحمن بن معاویہ الاندلسی کے قاضی ابو محمد مصعب بن عمران القرطبی کے بارے میں ابن الفرضی نے فرمایا: [و كان لا يقلد مذهبا و يقضي بما رآه صوابا و كان خيرا فاضلا]
وہ کسی مذہب کی تقلید نہیں کرتے تھے، جسے صحیح سمجھتے اس کے مطابق فیصلہ کرتے اور آپ نیک فضیلت والے تھے۔
(تاریخ علماء الاندلس:ج1 ص189، دوسرا نسخہ:ج2 ص133، المکتبۃ الشاملہ)(تاریخ قضاۃ الاندلس (ج1 ص47، 142) اور المغرب فی حلی المغرب لابن سعید المغربی (1/ 32)

حوالہ: 14

ابو جعفر محمد بن جریر بن یزید الطبری السُّنی رحمہ اللہ (متوفی 310ھ) کے بارے میں حافظ ذہبی نے فرمایا: [و كان مجتهدًا لا يقلّد أحدًا] اور وہ مجتہد تھے، کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (العبر فی خبر من غبر: ج1 ص460)

ابن خلکان المورخ نے کہا: [و كان من الأئمة المجتهدين، لم يقلّد أحدًا] وہ ائمۂ مجتہدین میں سے تھے، آپ نے کسی کی تقلید نہیں کی۔ (وفیات الاعیان: 4/ 191 ت570)

حوالہ: 15

صدوق حسن الحدیث قاضی ابوبکر احمد بن کامل بن خلف بن شجرہ البغدادی رحمہ اللہ(متوفی 350ھ) کے بارے میں حافظ ذہبی نے فرمایا: [كان يختار لنفسه ولا يقلّد أحدًا] وہ اپنے آپ کے لئے (راجح کو) اختیار کر لیتے اور کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (سیر اعلام النبلاء: 15/ 545، تاریخ الاسلام: 25/ 435)

حوالہ: 16

ابوبکر محمد بن داؤد بن علی الظاہری رحمہ اللہ (متوفی 297ھ) کے بارے میں حافظ ذہبی نے فرمایا: [و كان يجتهد ولا يقلّد أحدًا] اور وہ اجتہاد کرتے تھے، کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (سیر اعلام النبلاء:13/ 109)

حوالہ: 17

ابوثور ابراہیم بن خالد الکلبی البغدادی الفقیہ رحمہ اللہ (متوفی 240ھ) کے بارے میں حافظ ذہبی نے فرمایا: [و برع في العلم ولم يقلد أحدا] اور وہ علم میں ماہر ہو گئے اور کسی کی تقلید نہیں کی۔ (العبر فی خبر من غبر:1/ 339)

حوالہ: 18

شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ الشامی رحمہ اللہ (متوفی 728ھ) سے پوچھا گیا: [هل البخاري ومسلم و أبو داود والترمذي والنسائي و ابن ماجه و أبو داود الطيالسي والدارمي والبزار والدارقطني والبيهقي و ابن خزيمة و أبو يعلى الموصلي : هل كان هؤلاء مجتهدين لم يقلّدوا أحدًا من الأئمة أم كانوا مقلدين؟]

کیا بخاری، مسلم، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابو داود طیالسی، دارمی، بزار، دارقطنی، بیہقی، ابن خزیمہ اور ابو یعلیٰ موصلی مجتہدین میں سے تھے، جنہوں نے ائمہ میں سے کسی کی تقلید نہیں کی یا یہ مقلدین تھے؟

تو حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے جواب دیا: [الحمد لله ربّ العالمين ، أما البخاري و أبو داود فإمّان في الفقه من أهل الاجتهاد . و أمّا مسلم والترمذي والنسائي و ابن ماجه و ابن خزيمة و أبويعلى والبزار ونحوهم فهم على مذهب أهل الحديث ليسوا مقلدين لواحد بعينه من العلماء ولا هم من الأئمة المجتهدين على الاطلاق]

سب حمد وثنا اللہ رب العالمین ہی کے لئے ہے۔ بخاری اور ابو داود تو فقہ میں اہل اجتہاد میں سے دو امام (یعنی مجتہدِ مطلق) تھے اور مسلم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ، ابو یعلیٰ، بزار اور ان جیسے دوسرے (سب) اہلِ حدیث کے مذہب پر تھے، کسی ایک معین عالم کے مقلد نہیں تھے اور نہ وہ مجتہدینِ مطلق والے اماموں میں سے تھے۔ إلخ (مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ:ج20 ص 39-40)

اس تحقیق اور گواہی سے چار باتیں معلوم ہوئیں:

(1) حافظ ابن تیمیہ کے نزدیک امام بخاری اور امام ابو داؤد مجتہدِ مطلق تھے لہٰذا ان کو حنفی، شافعی، حنبلی یا مالکی کہنا یا قرار دینا غلط ہے۔
(2) امام مسلم، امام ترمذی اور امام نسائی وغیرہ ہم سب اہلِ حدیث کے مذہب پر تھے اور کسی کے مقلد نہیں تھے لہٰذا انہیں شافعیہ وغیرہ کتبِ طبقات میں ذکر کرنا غلط ہے۔
(3) محدثینِ کرام میں سے کوئی بھی مقلد نہیں تھا۔
(4) مجتہدین کے دو طبقے ہیں:
اول: مجتہدینِ مطلق
دوم: عام مجتہد

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اس عظیم الشان قول سے ثابت ہوا کہ امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ (متوفی 256ھ) مقلد نہیں تھے بلکہ مجتہد تھے۔
حافظ ذہبی نے امام بخاری کے بارے میں فرمایا: [و كان إمامًا حافظًا حجةً رأسًا في الفقه والحديث مجتهدًا من أفراد العالم مع الدين والورع والتأله]
اور آپ امام حافظ (روایتِ حدیث میں) حجت، فقہ و حدیث کے سردار، دین، پرہیزگاری اور الہیت کے ساتھ دنیا کے یکتا انسانوں میں سے تھے۔
(الکاشف فی معرفة من لہ روایة فی الکتب الستة: ج 3 ص 18 ت 4790)

اس طرح کی بے شمار گواہیوں کی تائید میں عرض ہے کہ فیض الباری کا مقدمہ لکھنے والے متعصب دیوبندی نے کہا: [و اعلم أن البخاري مجتهد لا ريب فيه] اور جان لو کہ بخاری مجتہد ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ (مقدمہ فیض الباری: ج1 ص58)

سلیم اللہ خان دیوبندی (مہتمم جامعہ فاروقیہ دیوبندیہ کراچی) نے کہا:بخاری مجتہدِ مطلق ہیں۔ (تقریظ یا مقدمہ فضل الباری: ج1 ص36)

مجتہد کے بارے میں یہ اصول ہے کہ مجتہد تقلید نہیں کرتا۔ علامہ نووی شافعی نے کہا: کیونکہ بے شک مجتہد مجتہد کی تقلید نہیں کرتا۔
(شرح صحیح مسلم للنووی ج 1 ص 210 تحت ح 21، دیکھئے فقرہ: 5)

حوالہ: 19

امام ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم النیسابوری القشیری رحمہ اللہ (متوفی 261ھ) کے بارے میں حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ اہلِ حدیث کے مذہب پر تھے، کسی ایک معین عالم کے مقلد نہیں تھے۔ (دیکھئے فقرہ نمبر: 18)

امام مسلم نے فرمایا: [و قد شرحنا من مذهب الحديث و أهله] اور ہم نے حدیث اور اہلِ حدیث کے مذہب کی تشریح کی۔ إلخ
(مقدمہ صحیح مسلم طبع دار السلام: ص 6 ب)

تنبیہ:

امام مسلم کا مقلد ہونا کسی ایک مستند امام سے بھی صراحتاً ثابت نہیں ہے۔

حوالہ: 20

امام ابوبکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ النیسابوری رحمہ اللہ (متوفی 311ھ) کے بارے میں حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ اہلِ حدیث کے مذہب پر تھے، کسی ایک معین عالم کے مقلد نہیں تھے۔ دیکھئے فقرہ نمبر 18 (اور تحقیقی مقالات ج 2 ص 563)

عبدالوہاب بن علی بن عبدالکافی السبکی (متوفی 771ھ) نے کہا: [قلت: المحمدون الأربعة محمد بن نصر و محمد بن جرير و ابن خزيمة و ابن المنذر من أصحابنا و قد بلغوا درجة الاجتهاد المطلق ، و لم يخرجهم ذلك عن كونهم من أصحاب الشافعي المخرجين على أصوله المتمذهبين بمذهبه لوفاق اجتهادهم اجتهاده ، بل قد ادعى من هو بعد من أصحابنا الخلص كالشيخ أبي علي وغيره أنهم وافق رأيهم رأي الإمام الأعظم فاتبعوه ونسبوا إليه ، لا أنهم مقلدون]
میں نے کہا: محمد بن نصر (المروزی) محمد بن جریر (بن یزید الطبری) محمد بن (اسحاق بن) خزیمہ اور محمد (بن ابراہیم) بن المنذر چاروں ہمارے اصحاب میں ایسے تھے کہ اجتہادِ مطلق کے درجہ پر پہنچے اور اس بات نے انہیں اصحابِ شافعی سے نہیں نکالا، اُن کے اصول پر تخریج کرنے والے اور اُن کے مذہب کو اختیار کرنے والے کیونکہ اُن کا اجتہاد اُن (امام شافعی) کے موافق ہو گیا تھا بلکہ اُن کے بعد ہمارے مخلص اصحاب مثلاً ابو علی وغیرہ نے دعویٰ کیا کہ اُن کی رائے امامِ اعظم (امام شافعی) کی رائے کے موافق ہو گئی لہٰذا انہوں نے اس کی اتباع کی اور ان کے ساتھ منسوب ہوئے، نہ یہ کہ وہ مقلدین ہیں۔ إلخ
(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ ج 2 ص 78 ترجمہ ابن المنذر)

[المتمذهبين بمذهبه] والی بات تو سبکی نے اپنے نمبر بڑھانے کے لئے کی لیکن اُن کے اعتراف سے صاف ظاہر ہے کہ اُن کے نزدیک محمد بن نصر المروزی، محمد بن جریر الطبری، محمد بن اسحاق بن خزیمہ، محمد بن ابراہیم بن المنذر اور ابو علی (دیکھئے فقرہ: 97) سب کے سب تقلید نہ کرنے والے (اور اہلِ حدیث) تھے۔

فائدہ:

جس طرح حنفی حضرات اپنے نمبر بڑھانے کے لئے یا بعض علماء امام ابو حنیفہ کو امامِ اعظم کہتے ہیں، اسی طرح شافعی حضرات بھی امام شافعی کو امامِ اعظم کہتے ہیں۔
مثلاً:تاج الدین عبدالوہاب بن تقی الدین السبکی نے کہا: [محمد بن الشافعي: إمامنا، الإمام الأعظم المطلبي أبي عبدالله محمد بن إدريس]
(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ ج 1 ص 225، دوسرا نسخہ ج 1 ص 303)
احمد بن محمد بن سلامہ القلیوبی (متوفی 1069ھ) نے کہا: [قوله (الشافعي): هو الإمام الأعظم]
(حاشیۃ القلیوبی علیٰ شرح جلال الدین المحلی علیٰ منہاج الطالبین ج 1 ص 10، الشاملہ)

قسطلانی (شافعی) نے امام مالک کو ’الإمام الأعظم‘کہا۔
(ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری ج 5 ص 370 ح 3300، ج 10 ص 107 ح 6962)

قسطلانی نے امام احمد بن حنبل کے بارے میں کہا:،،الإمام الأعظم،، (ارشاد الساری ج 5 ص 35 ح 5105)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے مسلمانوں کے خلیفہ (امام) کو ’الإمام الأعظم‘کہا۔ (فتح الباری 3/ 112 ح 7138)

اب یہ مقلدین فیصلہ کریں (!!) کہ ان میں حقیقی ’’امامِ اعظم‘‘ کون ہے؟

ابو اسحاق الشیرازی نے بعض لوگوں کے بارے میں کہا: [والصحيح الذي ذهب إليه المحققون ما ذهب إليه أصحابنا و هو أنهم صاروا إلى مذهب الشافعي لا تقليدًا له، بل وجدوا طرقه في الإجتهاد و القياس أسد الطرق]
اور صحیح وہ ہے جو ہمارے محقق اصحاب کا مذہب ہے کہ وہ تقلید کی وجہ سے مذہبِ شافعی کے قائل نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے دیکھا کہ اجتہاد اور قیاس میں اُن کا طریقہ سب سے مضبوط ہے۔ (المجموع شرح المہذب: ج1 ص43)

اس کے بعد نووی نے کہا: [و ذكر أبو علي السِّنْجِي بكسر السين المهملة نحو هذا فقال: اتبعنا الشافعي دون غيره لأنا وجدنا قوله أرجح الأقوال و أعدلها ، لا أنا قلدناهإلخ]

ابو علی السنجی نے اسی طرح کی بات کہی: ہم نے اوروں کو چھوڑ کر شافعی کی اتباع اس وجہ سے کی کہ ہم نے اُن کا قول سب سے راجح اور صحیح ترین پایا، نہ اس وجہ سے اتباع کی کہ ہم اُن کے مقلد ہیں۔ إلخ (المجموع: 1/ 43)

ثابت ہوا کہ علماء کے ناموں کے ساتھ شافعی، حنفی اور مالکی وغیرہ کے دُم چھلوں کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ مقلدین تھے بلکہ صحیح یہ ہے کہ وہ مقلد نہیں تھے اور ان کا اجتہاد مذکورہ نسبت والے امام کے اجتہاد سے موافق ہو گیا تھا۔ نیز دیکھئے فقرہ: 95 (ص 54)

حوالہ: 21

قاضی ابوبکر محمد بن عمر بن اسماعیل الداودی (متوفی 429ھ) نے ثقہ عند الجمہور امام ابو حفص عمر بن احمد بن عثمان المعروف ابن شاہین البغدادی (متوفی 385ھ) کے بارے میں کہا: [و كان أيضًا لا يعرف من الفقه لا قليلاً و لا كثيرًا و كان إذا ذكر له مذاهب الفقهاء كالشافعي وغيره ، يقول : أنا محمدي المذهب]

وہ (تقلیدی) فقہ نہیں جانتے تھے، نہ تھوڑی اور نہ زیادہ (یعنی وہ اس تقلیدی فقہ کو کچھ حیثیت نہیں دیتے تھے۔) آپ کے سامنے جب فقہاء مثلاً شافعی وغیرہ کے مذہب کا ذکر کیا جاتا تو فرماتے: میں محمدی المذہب ہوں۔ (تاریخ بغداد 11/ 267 ت 6028وسندہ صحیح)

حوالہ: 22

سنن ابی داود کے مصنف امام ابو داؤد سجستانی سلیمان بن اشعث رحمہ اللہ (متوفی 275ھ) کو حافظ ابن تیمیہ نے مقلدین کے زمرے سے نکال کر مجتہدِ مطلق قرار دیا۔ (دیکھئے فقرہ: 18)

حوالہ: 23

سنن ترمذی کے مصنف امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورہ الترمذی رحمہ اللہ (متوفی 279ھ) کے بارے میں حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اہلِ حدیث کے مذہب پر تھے، کسی ایک معین عالم کے مقلد نہیں تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 18)

حوالہ: 24

سنن نسائی کے مصنف امام احمد بن شعیب النسائی رحمہ اللہ (متوفی 303ھ) کے بارے میں حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اہلِ حدیث کے مذہب پر تھے، کسی ایک معین عالم کے مقلد نہیں تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 18)

حوالہ: 25

سنن ابن ماجہ کے مصنف امام محمد بن یزید ابن ماجہ القزوینی رحمہ اللہ (متوفی 273ھ) کے بارے میں حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اہلِ حدیث کے مذہب پر تھے، کسی ایک معین عالم کے مقلد نہیں تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 18)

حوالہ: 26

امام ابو یعلیٰ احمد بن علی بن المثنیٰ الموصلی رحمہ اللہ (متوفی 307ھ) کے بارے میں حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اہلِ حدیث کے مذہب پر تھے، کسی ایک معین عالم کے مقلد نہیں تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 18)

حوالہ: 27

ابوبکر احمد بن عمرو بن عبدالخالق البزار البصری (صدوق حسن الحدیث) رحمہ اللہ (متوفی 292ھ) کے بارے میں حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اہلِ حدیث کے مذہب پر تھے، کسی ایک معین عالم کے مقلد نہیں تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 18)

حوالہ: 28

حافظ ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم الاندلسی القرطبی (متوفی 456ھ) نے تقلید کے بارے میں فرمایا: [والتقليد حرام . . . والعامي والعالم في ذلك سواء و على كل أحد حظه الذي يقدر عليه من الاجتهاد]
اور تقلید حرام ہے… اس میں عامی اور عالم (دونوں) برابر ہیں اور ہر ایک پر اپنی استطاعت کے مطابق اجتہاد ضروری ہے۔
(النبذة الکافیة فی احکام اصول الدین ص 70- 71)،(نیز دیکھئے الاحکام لابن حزم اور المحلّٰی فی شرح المجلیٰ بالحق و الآثار)

حافظ ابن حزم نے اپنے عقیدے والی کتاب میں کہا:کسی شخص کے لئے تقلید کرنا حلال نہیں ہے، چاہے زندہ (کی تقلید) ہو یا مردہ (کی تقلید)
(کتاب الدرة فیما یجب اعتقادہ ص 427، نیز دیکھئے دین میں تقلید کا مسئلہ ص 39)

حافظ ابن حزم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: [وأن يعصمنا من بدعة التقليد المحدث بعد القرون الثلاثة المحمودة. آمين]
اور (اللہ) ہمیں قابلِ تعریف قرونِ ثلاثہ کے بعد پیدا شدہ تقلید (یعنی مذاہبِ اربعہ کی تقلید کی بدعت) سے بچائے۔ آمین
(الرسالة الباهرة ج 1 ص 5، المکتبة الشاملة)

حوالہ: 29

حافظ ابن عبدالبر اندلسی رحمہ اللہ (متوفی 463ھ) نے اپنی مشہور کتاب میں باب باندھا ہے: [باب فساد التقليد والفرق بين التقليد والاتباع]
تقلید کے فساد کا باب اور تقلید اور اتباع میں فرق۔ (جامع بیان العلم و فضلہ ج 2 ص 218)

حافظ ابن عبدالبر کا مقلد ہونا قطعاً ثابت نہیں ہے بلکہ حافظ ذہبی نے فرمایا: [فإنه ممن بلغ رتبة الأئمة المجتهدين] پس بے شک وہ ائمہ مجتہدین کے مرتبے تک پہنچنے والوں میں سے تھے۔ (سیر اعلام النبلاء 18/ 157) اور یہ عام لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ مجتہد مقلد نہیں ہوتا۔ (نیز دیکھئے فقرہ: 5)

حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے بذاتِ خود فرمایا: [لا فرق بين مقلّد و بهيمة] مقلد اور جانور میں کوئی فرق نہیں ہے۔
(جامع بیان العلم و فضلہ ج 2 ص 228)

تنبیہ:

حافظ ابن عبدالبر اور خطیب بغدادی وغیرہما نے بعض عبارات میں عامی کے لئے (زندہ) عالم کی تقلید کو جائز قرار دیا ہے جس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جاہل آدمی عالم سے مسئلہ پوچھ کر اس پر عمل کرے۔ ہم بھی یہ کہتے ہیں کہ جاہل آدمی پر یہ ضروری ہے کہ وہ کتاب و سنت کے صحیح العقیدہ عالم سے مسئلہ پوچھ کر اُس پر عمل کرے لیکن اسے تقلید کہنا غلط ہے۔ اصولِ فقہ کا مشہور مسئلہ ہے کہ عامی کا مفتی (عالم) کی طرف رجوع تقلید نہیں ہے۔
دیکھئے مسلم الثبوت (ص289) اور دین میں تقلید کا مسئلہ (ص8-11)

حوالہ: 30

امیر المؤمنین خلیفہ ابو یوسف یعقوب بن یوسف بن عبدالمؤمن بن علی القیسی الکومی المراکشی الظاہری المغربی رحمہ اللہ (متوفی 595ھ) نے اپنی سلطنت میں احکامِ شریعت نافذ کئے، جہاد کا جھنڈا بلند کیا، عدل و انصاف کے ساتھ حدود کا نفاذ کیا اور میزانِ عدل قائم کی۔ اُن کے بارے میں ابنِ خلکان مورخ نے لکھا ہے۔ [و كان ملكًا جوادًا متمسكًا بالشرع المطهر يأمر بالمعروف و ينهى عن المنكر كما ينبغي من غير محاباة و يصلّي بالناس الصلوات الخمس و يلبس الصوف و يقف للمرأة و للضعيف و يأخذلهم الحق و أوصى أن يدفن على قارعة الطريق ليترحّم عليه من يمر به]
وہ سخی بادشاہ تھے، شریعتِ مطہرہ پر عمل کرنے والے، بغیر کسی خوف اور جانداری کے نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے تھے جیسا کہ مناسب ہے، لوگوں کو پانچ نمازیں پڑھاتے، اونی لباس پہنتے، عورت ہو یا کمزور ان کے لئے رُک کر اُن کا حق دلاتے تھے، آپ نے یہ وصیت فرمائی کہ مجھے راستے کے درمیان یعنی قریب دفن کیا جائے تاکہ وہاں سے گزرنے والے میرے لئے رحمت کی دعا کریں۔ (وفیات الاعیان ج 7 ص 10)

اس مجاہد اور صحیح العقیدہ خلیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں ابنِ خلکان نے مزید لکھا: [و أمر برفض فروع الفقه و أنَّ العلماء لا يفتون إلا بالكتاب العزيز والسنة النبوية ولا يقلّدون أحدًا من المجتهدين المتقدمين، بل تكون أحكامهم بما يؤدي إليه اجتهاد هم من استنباطهم القضايا من الكتاب والحديث والإجماع والقياس]

اور انہوں نے فروعاتِ فقہ (مالکی فقہ کی کتابیں) چھوڑ دینے کا حکم دیا اور فرمایا: علماء صرف قرآنِ مجید اور سنتِ نبویہ (حدیث) کے مطابق ہی فتوے دیں اور مجتہدینِ متقدمین میں سے کسی کی تقلید نہ کریں بلکہ اپنے اجتہاد و استنباط کے مطابق قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس سے فیصلے کریں۔
(تاریخ ابنِ خلکان: وفیات الاعیان ج 7 ص 11)

بعینہٖ یہی منہج، مسلک اور دعوت اہلِ حدیث (اہلِ سنت) کی ہے۔ والحمد للہ اہلِ حدیث کو کذب و افتراء کے ساتھ انگریزی دور کی پیداوار کہنے والے ذرا آنکھیں کھول کر چھٹی صدی کے اس تقلید نہ کرنے والے خلیفہ کے حالات پڑھیں تاکہ انھیں کچھ نظر آئے۔

اس مجاہد خلیفہ کے بارے میں حافظ ذہبی نے لکھا ہے کہ انھوں نے مقلد کے بارے میں کہا: قرآن اور سنن ابی داود (حدیث کی کتاب) پر عمل کرو یا پھر یہ تلوار حاضر ہے۔
(سیر اعلام النبلاء 21/ 312، ملخصاً)

حافظ ذہبی نے مزید فرمایا: [و عظم صيت العباد والصالحين في زمانه و كذلك أهل الحديث وارتفعت منزلتهم عنده فكان يسألهم الدعاء وانقطع في أيامه علم الفروع و خاف منه الفقهاء و أمر بإحراق كتب المذهب بعد أن يجرّد ما فيها من الحديث فأحرق منها جملة في سائر بلاده كالمدوّنة و كتاب ابن يونس و نوا در ابن أبي زيد والتهذيب للبرادعي والواضحة لابن حبيب۔ قال محيي الدين عبدالواحد بن علي المراكشي في كتاب المعجب له : ولقد كنت بفاس فشهدتُ يؤتى بالأحمال منها فتوضع و يطلق فيها النار]

اور اُن کے زمانے میں عبادت گزاروں اور صالحین کی شان بلند ہو گئی اور اسی طرح اہلِ حدیث کا مقام اُن کے ہاں بلند ہوا اور وہ اُن سے دعا کرواتے تھے، اُن کے زمانے میں علمِ فروع ختم ہو گیا (یعنی تقلیدی فقہ کا اختتام ہوا) اور (نام نہاد تقلیدی) فقہاء اُن سےڈرنے لگے، انھوں نے احادیث کو علیحدہ کرنے کے بعد (تقلیدی) مذہب کی کتابوں کو جلانے کا حکم دیا لہٰذا پورے ملک میں مدوّنہ، کتاب ابن یونس (المالکی)، نوادر ابن ابی زید، تہذیب البرادعی اور ابن حبیب کی الواضحہ جیسی کتابیں جلا دی گئیں۔

محی الدین عبد الواحد بن علی المراکشی نے اپنی کتاب المعجب (ص 352) میں کہا:میں فاس (ایک شہر) میں تھا جب میں نے دیکھا، کتابوں کے بھار لائے جاتے تھے پھر رکھ کر جلا دیے جاتے تھے۔ (تاریخ الاسلام للذہبی ج 42 ص 216)

اے اللہ! اس مجاہد خلیفہ اور امیر المومنین کو جنت میں اعلیٰ مقام نصیب فرما اور ہمارے گناہ بخش کر اپنے فضل و کرم سے ایسے صحیح العقیدہ مجاہدین و مومنین کی مصاحبت عطا فرما۔ آمین

حوالہ: 31

جلال الدین سیوطی (متوفی 911ھ) نے کہا: [ثم حدث بعدهم من اعتصم بهداهم وسلك سبيلهم في ذلك نحو: یحیی بن سعید القطان و عبدالرحمن بن مہدی و بشر بن المفضل و خالد ابن الحارث و عبدالرزاق و وکیع و یحیی بن آدم و حمید بن عبدالرحمن الرواسی والولید بن مسلم والحمیدی والشافعی و ابن المبارک و حفص ابن غیاث و یحیی بن زکریا بن ابی زائدہ و ابی داود الطیالسی و ابی الولید الطیالسی و محمد بن ابی عدی و محمد بن جعفر و یحیی بن یحیی النیسابوری و یزید بن زریع و إسماعیل بن علیۃ و عبدالوارث بن سعید وابنہ عبدالصمد و وہب بن جریر و أزہر بن سعد و عفان بن مسلم و بشر ابن عمر و ابی عاصم النبیل والمعتمر بن سلیمان والنضر بن شمیل و مسلم بن إبراہیم والحجاج بن منہال وأبي عامر العقدي وعبدالوہاب الثقفي والفریابي و وہب بن خالد وعبداللہ بن نمیر و غیرہم ما من هو لاء أحد قلّد إمامًا كان قبلہ]

پھر اُن کے بعد وہ لوگ آئے جو اُن کے راستے پر چلے اور ہدایت کو مضبوطی سے پکڑا۔ مثلاً: یحییٰ بن سعید القطان، عبدالرحمن بن مہدی، بشر بن المفضل، خالد بن الحارث، عبدالرزاق (بن ہمام الصنعانی)، وکیع (بن الجراح)، یحییٰ بن آدم، حمید بن عبدالرحمن الرواسی، ولید بن مسلم، (عبداللہ بن الزبیر) الحمیدی، (محمد بن ادریس) الشافعی، (عبداللہ) بن المبارک، حفص بن غیاث، یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ، ابو داؤد الطیالسی، ابو الولید الطیالسی، محمد بن ابی عدی، محمد بن جعفر، یحییٰ بن یحییٰ النیسابوری، یزید بن زریع، اسماعیل بن علیہ، عبدالوارث بن سعید، عبدالصمد بن عبدالوارث بن سعید، وہب بن جریر، ازہر بن سعد، عفان بن مسلم، بشر بن عمر، ابو عاصم النبیل، معتمر بن سلیمان، نضر بن شمیل، مسلم بن ابراہیم، حجاج بن منہال، ابو عامر العقدی، عبدالوہاب الثقفی، فریابی، وھیب (✓) بن خالد، عبداللہ بن نمیر اور دوسرے، ان میں سے کسی ایک نے بھی اپنے سے پہلے امام کی تقلید نہیں کی۔

(الرد على من أخلد إلى الأرض وجهل أن الاجتهاد في كل عصر فرض ص 136-137)

معلوم ہوا کہ امام احمد، امام علی بن المدینی اور امام یحییٰ بن معین وغیرہما کے استاذ [ثقہ متقن حافظ امام قدوۃ] امام ابو سعید یحییٰ بن سعید بن فروخ القطان البصری رحمہ اللہ (متوفی 198ھ) مقلد نہیں تھے۔

فائدہ:

یحییٰ بن سعید القطان نے امام سلیمان بن طرخان التیمی رحمہ اللہ (تابعی) کے بارے میں فرمایا: وہ ہمارے نزدیک اہل حدیث میں سے ہیں۔
(دیکھئے مسند علی بن الجعد: 1354، وسندہ صحیح، الجرح والتعدیل 4/ 125، وسندہ صحیح، میری کتاب علمی مقالات ج 2 ص 162)

حوالہ: 32

ثقہ ثبت حافظ عارف بالرجال والحدیث امام ابو سعید عبدالرحمن بن مہدی البصری رحمہ اللہ (متوفی 198ھ) بقولِ سیوطی مقلد نہیں تھے۔
(دیکھئے فقرہ نمبر 31)

حوالہ: 33

ثقہ ثبت عابد امام ابو اسماعیل بشر بن المفضل بن لاحق الرقاشی البصری رحمہ اللہ (متوفی 186ھ یا 187ھ) بقولِ سیوطی مقلد نہیں تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 34

ثقہ ثبت امام ابو عثمان خالد بن الحارث بن عبید بن مسلم الہجیمی البصری رحمہ اللہ (متوفی 186ھ) بقولِ سیوطی مقلد نہیں تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 35

ثقہ و صدوق عند الجمہور امام عبدالرزاق بن ہمام الصنعانی الیمنی رحمہ اللہ (متوفی 211ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 36

ثقہ حافظ عابد امام ابو سفیان وکیع بن الجراح بن ملیح الرواسی الکوفی رحمہ اللہ (متوفی 197ھ) بقولِ سیوطی تقلید کرنے والے نہیں تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 37

ثقہ حافظ فاضل ابو زکریا یحییٰ بن آدم بن سلیمان الکوفی رحمہ اللہ (متوفی 203ھ) کے بارے میں سیوطی نے کہا کہ انھوں نے اپنے سے پہلے کسی ایک امام کی بھی تقلید نہیں کی۔ (دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 38

ثقہ امام ابو عوف حمید بن عبدالرحمن بن حمید الرواسی الکوفی رحمہ اللہ (متوفی 189ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 39

ثقہ و صدوق اور مدلس امام ابو العباس ولید بن مسلم القرشی الدمشقی رحمہ اللہ (متوفی 194ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ نمبر: 31)

حوالہ: 40

امام بخاری کے استاذ ثقہ حافظ فقیہ امام ابوبکر عبداللہ بن زبیر بن عیسیٰ الحمیدی المکی رحمہ اللہ (متوفی 219ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 41

ثقہ ثبت فقیہ عالم جواد مجاہد امام عبداللہ بن المبارک المروزی رحمہ اللہ (متوفی 181ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 42

ثقہ و صدوق فقیہ ابو عمر حفص بن غیاث بن طلق بن معاویہ الکوفی القاضی رحمہ اللہ (متوفی 195ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 31)

تنبیہ:

حفص بن غیاث رحمہ اللہ نے فرمایا: [كنت أجلس إلى أبي حنيفة فأسمعه يسأل عن مسألة في اليوم الواحد فيفتي فيها بخمسة أقاويل ، فلما رأيت ذلك تركته و أقبلت على الحديث]
میں ابو حنیفہ کے پاس بیٹھتا تھا تو ایک دن میں ہی ایک مسئلے کے بارے میں اسے پانچ مختلف فتوے دیتے ہوئے سنتا، جب میں نے یہ دیکھا تو اسے چھوڑ دیا (ترک کر دیا) اور حدیث کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہو گیا۔ (تاریخ بغداد ج 13 ص 425 وسندہ صحیح)

ابراہیم بن سعید الجوہری رحمہ اللہ سے اس روایت کے راوی ابوبکر احمد بن جعفر بن محمد بن سلم ثقہ تھے۔ دیکھئے التنکیل بما فی تانیب الکوثری من الاباطیل (1/ 103 ت 13) عبداللہ بن احمد بن حنبل (السنہ: 316) اور احمد بن یحییٰ بن عثمان (کتاب المعرفۃ والتاریخ 2/ 789) دونوں نے اُن کی متابعت کر رکھی ہے یعنی انھوں نے اسی روایت کو امام ابراہیم بن سعید الجوہری رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔

معلوم ہوا کہ امام حفص بن غیاث الکوفی نے اہل الرائے کا مذہب چھوڑ کر اہل حدیث کا مذہب اختیار کر لیا تھا۔ رحمہ اللہ

حوالہ: 43

ثقہ متقن امام ابو سعید یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ الہمدانی الکوفی رحمہ اللہ (متوفی 184ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 44

ثقہ و صدوق حافظ ابو داود سلیمان بن داود بن الجارود الطیالسی البصری رحمہ اللہ (متوفی 204ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 45

ثقہ ثبت امام ابو الولید ہشام بن عبدالملک الباہلی الطیالسی البصری رحمہ اللہ (متوفی 227ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 46

ثقہ امام ابو عمر محمد بن ابراہیم بن ابی عدی البصری رحمہ اللہ (متوفی 194ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 47

ثقہ و صدوق و ثقہ الجمہور امام محمد بن جعفر الہذلی البصری المعروف: غندر رحمہ اللہ (متوفی 194ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 48

ثقہ ثبت امام ابو زکریا یحییٰ بن یحییٰ بن بکر بن عبدالرحمن التمیمی النیسابوری رحمہ اللہ (متوفی 226ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 49

ثقہ ثبت امام ابو معاویہ یزید بن زریع البصری رحمہ اللہ (متوفی 182ھ) بقولِ سیوطی مقلد نہیں تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 50

ثقہ حافظ امام ابو بشر اسماعیل بن ابراہیم بن مقسم الاسدی البصری رحمہ اللہ المعروف: ابنِ علیہ (متوفی 193ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 51

ثقہ ثبت سنی امام ابو عبیدہ عبدالوارث بن سعید بن ذکوان العنبری التنوری البصری رحمہ اللہ (متوفی 180ھ) بقولِ سیوطی مقلد نہیں تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 52

ثقہ و صدوق امام ابو سہل عبدالصمد بن عبدالوارث بن سعید البصری رحمہ اللہ (متوفی 207ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 53

ثقہ امام ابو العباس وہب بن جریر بن حازم بن زید البصری الازدی رحمہ اللہ (متوفی 206ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 54

ثقہ امام ابوبکر ازہر بن سعد السمان الباہلی البصری رحمہ اللہ (متوفی 203ھ) بقولِ سیوطی مقلد نہیں تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 55

ثقہ ثبت امام ابو عثمان عفان بن مسلم بن عبداللہ الباہلی الصفار البصری رحمہ اللہ (متوفی 219ھ) بقولِ سیوطی کسی کے مقلد نہیں تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 56

ثقہ امام ابو محمد بشر بن عمر بن الحکم الزہرانی الازدی البصری رحمہ اللہ متوفی (209ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 57

ثقہ ثبت امام ابو عاصم ضحاک بن مخلد بن ضحاک بن مسلم الشیبانی النبیل البصری رحمہ اللہ (متوفی 212ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 58

ثقہ امام ابو محمد معتمر بن سلیمان بن طرخان التیمی البصری رحمہ اللہ (متوفی 187ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 59

ثقہ ثبت امام ابو الحسن نضر بن شمیل المازنی البصری النحوی رحمہ اللہ (متوفی 204ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 60

ثقہ امام ابو عمرو مسلم بن ابراہیم الازدی الفراہیدی البصری رحمہ اللہ (متوفی 222ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 61

ثقہ فاضل امام ابو محمد حجاج بن منہال الانماطی السلمی البصری رحمہ اللہ (متوفی 217ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 62

ثقہ امام ابو عامر عبدالملک بن عمر والقیسی العقدی رحمہ اللہ (متوفی 205ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 63

ثقہ و صدوق امام ابو محمد عبدالوہاب بن عبدالمجید الثقفی البصری رحمہ اللہ (متوفی 194ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 64

ثقہ و صدوق امام محمد بن یوسف بن واقد الضبی الفریابی رحمہ اللہ (متوفی 212ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 31)
امام فریابی نے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے بارے میں فرمایا: اور ہم اہل حدیث کی ایک جماعت تھے۔
(الجرح والتعدیل 1/ 60 وسندہ صحیح، علمی مقالات ج 1 ص 164)

حوالہ: 65

ثقہ و صدوق امام ابوبکر وھیب بن خالد بن عجلان الباہلی البصری رحمہ اللہ (متوفی 165ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 31)

تنبیہ:

اصل میں وہب بن خالد لکھا ہوا ہے جو کہ کاتب یا ناسخ کی غلطی معلوم ہوتی ہے، اور اگر یہ غلطی نہ ہو تو اس طبقے میں ابو خالد وہب بن خالد الحمِیری الحمصی ثقہ تھے۔ (دیکھئے تقریب التہذیب: 7474)

حوالہ: 66

اہل سنت کے ثقہ امام ابو ہشام عبداللہ بن نمیر الکوفی الہمدانی رحمہ اللہ (متوفی 199ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 31)

حوالہ: 67

جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی (متوفی 911ھ) نے مزید فرمایا: [ثم تلاهم على مثل ذلك أحمد بن حنبل و إسحاق بن راهويه وأبو ثور و أبو عبيد و أبو خيثمة و أبو أيوب الهاشمي و أبو إسحاق الفزاري و مخلد ابن الحسين و محمد بن يحيى الذهلي و أبو بكر و عثمان ابنا أبي شيبة و سعيد بن منصور و قتيبة و مسدد و الفضل بن دكين و محمد بن المثنى وبندار ومحمد بن عبدالله بن نمير و محمد بن العلاء و الحسن بن محمد الزعفراني و سليمان بن حرب و عارم وغيرهم ليس منهم أحد قلّد رجلاً ، وقد شاهدوا من قبلهم و رأوهم فلو رأوا أنفسهم في سعة من أن يقلدوا دينهم أحدًا منهم لقلّدوا]
پھر اُن کے بعد احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، ابوثور، ابو عبید، ابو خيثمہ، ابو ایوب الہاشمی، ابو اسحاق الفزاری، مخلد بن الحسین، محمد بن یحییٰ الذہلی، ابوبکر بن ابی شیبہ، عثمان بن ابی شیبہ، سعید بن منصور، قتیبہ، مسدد، فضل بن دکین، محمد بن المثنیٰ، بندار، محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن العلاء، حسن بن محمد الزعفرانی، سلیمان بن حرب، عارم اور اُن جیسے دوسرے آئے، اُن میں سے کسی ایک نے بھی کسی آدمی کی تقلید نہیں کی، انھوں نے پہلے لوگوں کو دیکھا اور اُن کا مشاہدہ کیا تھا لہٰذا اگر اپنے دین میں کسی کی تقلید کی وسعت (جواز) پاتے تو اُن (پہلوں) میں سے کسی کی تقلید کرتے۔!
(الرد على من أخلد إلى الأرض ص 137)

سیوطی کی اس تصریح سے معلوم ہوا کہ ثقہ امام ابو محمد اسحاق بن ابراہیم بن مخلد الحنظلی المروزی المعروف: ابنِ راہویہ رحمہ اللہ (متوفی 238ھ) مقلد نہیں تھے۔
اُن (امام اسحاق بن راہویہ) کے بارے میں حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے: [مجتهد قرين أحمد بن حنبل] وہ مجتہد ہیں، احمد بن حنبل کے ہم نشین ساتھی (یا جوڑ) ہیں۔ (تقریب التہذیب: 332)

حوالہ: 68

ثقہ فاضل امام ابو عبید القاسم بن سلام البغدادی رحمہ اللہ (متوفی 224ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 67)

حوالہ: 69

ثقہ ثبت امام ابو خيثمہ زہیر بن حرب بن شداد النسائی البغدادی رحمہ اللہ (متوفی 234ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 67)

حوالہ: 70

ثقہ جلیل القدر امام ابو ایوب سلیمان بن داود بن علی الہاشمی الفقیہ البغدادی رحمہ اللہ (متوفی 219ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 67)

حوالہ: 71

ثقہ حافظ امام ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن الحارث الفزاری رحمہ اللہ (متوفی 189ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 67)

حوالہ: 72

ثقہ فاضل امام ابو محمد مخلد بن الحسین المہلبی البصری رحمہ اللہ (متوفی 191ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 67)

حوالہ: 73

ثقہ حافظ امام محمد بن یحییٰ بن عبداللہ بن خالد الذہلی النیسابوری رحمہ اللہ (متوفی 268ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے
(دیکھئے فقرہ: 67)

حوالہ: 74

ثقہ حافظ امام ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ ابراہیم بن عثمان الواسطی الکوفی رحمہ اللہ (متوفی 235ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 67)

حوالہ: 75

ثقہ حافظ امام ابو الحسن عثمان بن ابی شیبہ العبسی الکوفی رحمہ اللہ (متوفی 239ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 67)

حوالہ: 76

ثقہ مصنف امام ابو عثمان سعید بن منصور بن شعبہ الخراسانی المکی رحمہ اللہ (متوفی 227ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 67)

حوالہ: 77

ثقہ ثبت سنی امام ابو رجاء قتیبہ بن سعید بن جمیل الثقفی البغلانی رحمہ اللہ (متوفی 240ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 67)
امام قتیبہ بن سعید نے فرمایا: [إذا رأيتَ الرجل يحب أهل الحديث مثل يحيى ابن سعيد القطان و عبدالرحمن بن مهدي و أحمد بن حنبل و إسحاق بن راهويه و ذكر قومًا آخرين فإنه على السنة و من خالف هذا فاعلم أنه مبتدع]
جب تم کسی کو دیکھو کہ اہلِ حدیث سے محبت کرتا ہے، مثلاً یحییٰ بن سعید القطان، عبدالرحمن بن مہدی، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ سے اور انہوں نے دوسرے لوگوں کا ذکر کیا، تو یہ شخص سنت پر (یعنی سنی) ہے اور جو اس کے مخالف ہے تو جان لو کہ وہ بدعتی ہے۔
(شرف اصحاب الحدیث للخطیب: 143، وسندہ صحیح)

امام یحییٰ القطان، امام عبدالرحمن بن مہدی، امام احمد اور امام اسحاق بن راہویہ یہ سب کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔
دیکھئے فقرہ: 31، 32، 5، 67 (علی الترتیب)

حوالہ: 78

ثقہ حافظ امام ابو الحسن مسدد بن مسرہد بن مسربل بن مستورد الاسدی البصری رحمہ اللہ (متوفی 228ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 67)

حوالہ: 79 

ثقہ ثبت امام ابو نعیم الفضل بن دکین: عمرو بن حماد التیمی الملائی الکوفی رحمہ اللہ (متوفی 217ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 67)

حوالہ: 80

ثقہ ثبت امام ابو موسیٰ محمد بن المثنیٰ بن عبید البصری العنزی رحمہ اللہ (متوفی 252ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 67)

حوالہ: 81

ثقہ و صدوق امام ابوبکر محمد بن بشار بن عثمان العبدی البصری: بندار رحمہ اللہ (متوفی 252ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 67)

حوالہ: 82

ثقہ حافظ فاضل امام ابو عبدالرحمن محمد بن عبداللہ بن نمیر الہمدانی الکوفی رحمہ اللہ (متوفی 234ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 67)

حوالہ: 83

ثقہ حافظ امام ابو کریب محمد بن العلاء بن کریب الہمدانی الکوفی رحمہ اللہ (متوفی 247ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 67)

حوالہ: 84

ثقہ امام ابو علی الحسن بن محمد بن الصباح الزعفرانی البغدادی صاحب الشافعی رحمہ اللہ (متوفی 260ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 67)

حوالہ: 85

ثقہ امام حافظ سلیمان بن حرب الازدی البصری الواشحی رحمہ اللہ (متوفی 224ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 67)

حوالہ: 86

ثقہ و صدوق امام ابو النعمان محمد بن الفضل السدوسی البصری: عارم رحمہ اللہ (متوفی 224ھ) بقولِ سیوطی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 67)

فائدہ:

امام ابو النعمان کے بارے میں حافظ ذہبی نے فرمایا: [تغيّر قبل موته فما حدّث] وہ وفات سے قبل تغیر (اختلاط) کا شکار ہوئے لیکن انھوں نے (اس حالت میں) کوئی حدیث بیان نہیں کی۔ (الکاشف ج 3 ص 79 ت 5197)
معلوم ہوا کہ امام ابو النعمان کی روایات پر اختلاط کا اعتراض غلط اور مردود ہے۔

حوالہ: 87

جلال الدین سیوطی نے (غالباً حافظ ابن حزم اندلسی سے نقل کرتے ہوئے) فرمایا: [ولم أجد أحدًا ممن يوصف بالعلم قديمًا و حديثًا يستجيز التقليد ولا يأمر به و كذلك ابن وهب و ابن الماجشون والمغيرة بن أبي حازم و مطرف و ابن كنانة لم يقلّدوا شيخهم مالكًا في كل ما قال : بل خالفوه في مواضع و اختاروا غير قوله]

میں نے قدیم وجدید زمانے میں کسی عالم کو تقلید کو جائز قرار دیتے یا اس کا حکم دیتے ہوئے نہیں پایا، اسی طرح ابنِ وہب، ابن الماجشون، مغیرہ بن ابی حازم (☆) مطرف اور (عثمان بن عیسیٰ) ابنِ کنانہ نے اپنے استاذ (امام) مالک کی ہر بات میں تقلید نہیں کی بلکہ انھوں نے کئی مقامات پر اُن کی مخالفت کی اور اُن کے قول کو چھوڑ کر دوسرے اقوال اختیار کئے۔ (الرد على من أخلد إلى الأرض ص 137)

معلوم ہوا کہ (صدوق امام) ابو مروان عبدالملک بن عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ الماجشون القرشی التیمی المدنی رحمہ اللہ (متوفی 213ھ) سیوطی کے نزدیک تقلید نہیں کرتے تھے۔

تنبیہ:

اصل میں مغیرہ بن ابی حازم ہے جبکہ صحیح مغیرہ وابن ابی حازم ہے، جیسا کہ جوامع السیرۃ لابن حزم (1/ 326، الشاملہ) سے ظاہر ہے۔ مغیرہ سے مراد ابن عبدالرحمن المخزومی اور ابن ابی حازم سے مراد عبدالعزیز ہیں۔

حوالہ: 88

صدوق فقیہ مغیرہ بن عبدالرحمن بن الحارث بن عبداللہ بن عیاش المخزومی المدنی رحمہ اللہ (متوفی 188ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 87)

حوالہ: 89

صدوق فقیہ عبدالعزیز بن ابی حازم المدنی رحمہ اللہ (متوفی 184ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 87)

حوالہ: 90

ثقہ امام ابو مصعب مطرف بن عبداللہ بن مطرف الیساری المدنی ابن اخت مالک رحمہما اللہ (متوفی 220ھ) بقولِ سیوطی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 87)

حوالہ: 91

حافظ ابن حزم اندلسی نے فرمایا: [ثم أصحاب الشافعي و كانوا مجتهدين غير مقلدين كأبي يعقوب البويطي و إسماعيل بن يحيى المزني]
پھر شافعی (رحمہ اللہ) کے شاگرد مجتہدین غیر مقلدین تھے، جیسے ابو یعقوب البویطی اور اسماعیل بن یحییٰ المزنی (جوامع السیرۃ ج 1 ص 333، المکتبۃ الشاملہ) معلوم ہوا کہ ابن حزم کے نزدیک ابو یعقوب یوسف بن یحییٰ المصری البویطی صاحب الامام الشافعی رحمہ اللہ (ثقہ امام سید الفقہاء، متوفی 231ھ) غیر مقلد تھے۔

حوالہ: 92

ثقہ امام فقیہ ابو ابراہیم اسماعیل بن یحییٰ بن اسماعیل المزنی المصری رحمہ اللہ (متوفی 264ھ) بقولِ ابن حزم غیر مقلد تھے۔
(دیکھئے فقرہ: 91)،(نیز دیکھئے فقرہ: 4)

ابوعلی احمد بن علی بن الحسن بن شعیب بن زیاد المدائنی: [حسن الحدیث و ثقہ الجمہور] (متوفی 327ھ) نے اپنے استاذ امام مزنی رحمہ اللہ سے نقل کیا: جو شخص تقلید کا فیصلہ کرتا ہے تو اُسے کہا جاتا ہے: کیا تمھارے اس فیصلے کی تمھارے پاس کوئی دلیل ہے؟ اگر وہ جواب دے: جی ہاں، تو اس نے تقلید کو باطل کر دیا کیونکہ یہ فیصلہ تو دلیل کی بنیاد پر ہوا ہے نہ کہ تقلید کی بنیاد پر اور اگر وہ کہے: نہیں، تو اُس سے کہا جاتا ہے: تو نے کس لئے خون بہا دیئے، شرمگاہوں کو حلال کر دیا اور اموال ضائع کر دیئے؟ اللہ نے تجھ پر یہ سب حرام قرار دیا تھا لیکن تو نے بغیر دلیل کے حلال کر دیا… الخ (الفقیہ والمتفقہ 2/ 69- 70 وسندہ حسن) اس طویل کلام میں امام مزنی نے بڑے احسن اور عام فہم طریقے سے تقلید کو باطل قرار دیا۔ رحمہ اللہ

حوالہ: 93

خطیبِ مالقہ علامہ ابو محمد عبدالعظیم بن عبداللہ بن ابی الحجاج ابن الشیخ البلوی رحمہ اللہ (متوفی 666ھ) کے بارے میں حافظ ذہبی اور خلیل بن ایبک الصفدی دونوں نے کہا:[وله اختيارات لا يقلّد فيها أحدًا]اور ان کے خاص مسائل تھے، وہ ان میں کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔
(تاریخ الاسلام ج 49 ص 226، الوافی بالوفیات ج 19 ص 12)

حوالہ: 94

سیوطی نے حافظ ابن حزم سے نقل کیا: [و من آخر ما أدركنا على ذلك شيخنا أبو عمر الطلمنكي فما كان يقلّد أحدًا و ذهب إلى قول الشافعي في بعض المسائل والآن محمد بن عوف لا يقلّد أحدًا و قال بقول الشافعي في بعض المسائل]

اور آخرمیں ہم نے جنہیں پایا ہے، ہمارے استاذ ابو عمر الطلمنکی کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے اور بعض مسائل میں انہوں نے شافعی کے قول پر فتویٰ دیا اور اب محمد بن عوف (؟) کسی کی تقلید نہیں کرتے اور بعض مسائل میں انہوں نے شافعی کے قول پر فتویٰ دیا ہے۔ (الرد على من أخلد إلى الأرض ص 138)

ثابت ہوا کہ ثقہ امام حافظ ابو عمر احمد بن محمد بن عبداللہ المعافری الاندلسی الطلمنکی رحمہ اللہ (متوفی 429ھ) حافظ ابن حزم کے نزدیک کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔ امام طلمنکی کے بارے میں حافظ ذہبی نے فرمایا: [الإمام المحقّق المحدّث الحافظ الأثري] امام محقق محدث حافظ اثری (سیر اعلام النبلاء 17/ 567)(نیز دیکھئے فقرہ: 7)

حوالہ: 95

کئی حنفی و غیر حنفی فقہاء نے ابو بکر القفال، ابو علی اور قاضی حسین سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا: [لسنا مقلّدين للشافعي بل وافق رأينا رأيه]

ہم شافعی کے مقلدین نہیں ہیں بلکہ ہماری رائے اُن کی رائے کے موافق ہو گئی ہے۔
(دیکھئے النافع الکبیر لمن یطالع الجامع الصغیر لعبدالحی اللکنوی ص 7، تقریرات الرافعی ج 1 ص 11، التقریر والتحبیر ج 3 ص 353)

معلوم ہوا کہ (ان علماء کے نزدیک) علامہ ابوبکر عبداللہ بن احمد بن عبداللہ القفال المروزی الخراسانی الشافعی رحمہ اللہ (متوفی 417ھ) مقلدین میں سے نہیں تھے۔

حوالہ: 96

سابقہ حوالے سے ثابت ہے کہ قاضی ابو علی حسین المروزی الشافعی رحمہ اللہ (متوفی 462ھ) مقلدین میں سے نہیں تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 95)

حوالہ: 97

ابو علی الحسن (الحسین) بن محمد بن شعیب السنجی المروزی الشافعی رحمہ اللہ (متوفی 432ھ) مقلدین میں سے نہیں تھے۔ (دیکھئے فقرہ: 95)
معلوم ہوا کہ جن علماء کو شافعی کہا جاتا ہے، وہ اپنے اعلان اور اپنی گواہی کے مطابق مقلدین میں سے نہیں تھے۔
نیز دیکھئے طبقات الشافعیہ الکبریٰ للسبکی (ج 2 ص 78 ترجمہ محمد بن ابراہیم بن المنذر النیسابوری) اور فقرہ: 11

حوالہ: 98

شیخ الاسلام حافظ تقی الدین ابو العباس احمد بن عبدالحلیم الحرانی عرف ابن تیمیہ رحمہ اللہ (متوفی 728ھ) نے فرمایا: [إنما أتناول ما أتناول منها على معرفتي بمذهب أحمد ، لا عليَّ تقليدي له]
میں تو احمد کے مذہب سے وہی لیتا ہوں جس کی معرفت رکھتا ہوں، میں اُن کی تقلید نہیں کرتا۔ (اعلام الموقعین لابن القیم ج 2 ص 241-242)
حافظ ابن تیمیہ نے فرمایا: اور اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ عوام پر فلاں یا فلاں کی تقلید واجب ہے، تو یہ قول کسی مسلمان کا نہیں ہے۔
(مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ ج 22 ص 249)

اور فرمایا: کسی ایک مسلمان پر بھی علماء میں سے کسی ایک متعین عالم کی ہر بات میں تقلید واجب نہیں ہے، رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی شخصِ متعین کے مذہب کا التزام کسی ایک مسلمان پر واجب نہیں ہے کہ ہر چیز میں اسی کی پیروی شروع کر دے۔
(مجموع فتاویٰ ج 20 ص 209، نیز دیکھئے دین میں تقلید کا مسئلہ ص 40)

حافظ ابن تیمیہ کے بارے میں اُن کے شاگرد حافظ ذہبی نے فرمایا: [المجتهد المفسر۔۔ إلخ] مجتہد مفسر (تذکرۃ الحفاظ ج 4 ص 1496 ح 1175)

حوالہ: 99

حافظ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ (متوفی 751ھ) نے تقلید کے رد پر ”اعلام الموقعین عن رب العالمین“ کے نام سے زبردست کتاب لکھی اور فرمایا:
[و إنما حدثت هذه البدعة في القرن الرابع المذموم على لسان رسول الله ﷺ]

اور (تقلید کی) یہ بدعت چوتھی صدی میں پیدا ہوئی ہے جس (صدی) کی مذمت رسول اللہ ﷺ نے اپنی (مقدس) زبان سے بیان فرمائی ہے۔
(اعلام الموقعین ج 2 ص 208، دین میں تقلید کا مسئلہ ص 32)

اہلِ حدیث کے نزدیک سلف صالحین کے متفقہ فہم کی روشنی میں قرآن، حدیث اور اجماع پر عمل ہونا چاہئے اور تقلید جائز نہیں ہے۔ چونکہ حافظ ابن القیم بھی اسی مسلک کے قائل و فاعل تھے لہٰذا ظفر احمد تھانوی دیوبندی نے اپنے خاص دیوبندی انداز میں کہا: [لأنا رأينا أن ابن القيم الذي هو الأب لنوع هذه الفرقة] کیونکہ ہم نے دیکھا کہ اس فرقے (یعنی اہلِ حدیث) کی قسم کے باپ ابنِ القیم ہیں۔
(اعلاء السنن ج 20 ص 8، عنوان: الدین القیم، ترجمہ از ناقل) نیز دیکھئے فقرہ نمبر 1، سے پہلے تمہید۔

حوالہ: 100

حافظ ابو عبداللہ شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان الذہبی رحمہ اللہ (متوفی 748ھ) نے کئی مقامات پر کھل کر تقلید کی مخالفت کی اور فرمایا: [و كل إمام يؤخذ من قوله و يترك إلا إمام المتقين الصادق المصدوق الأمين المعصوم صلوات الله و سلامه عليه ، فيا لله العجب من عالم يقلد [دينه] إمامًا بعينه في [كل] ما قال مع علمه بما يرد على مذهب إمامه من النصوص النبوية فلا قوة إلا بالله]
اور ہر امام کا قول لیا بھی جاتا ہے اور ترک بھی کیا جاتا ہے، سوائے امام المتقین الصادق المصدوق الامین المعصوم (محمد ﷺ) کے، آپ پر اللہ کی بارگاہ سے صلوٰۃ و سلام ہو، پس اللہ کی قسم! تعجب ہے اس عالم پر جو اپنے دین میں کسی متعین امام کی تقلید کرتا ہے، اس کے ہر قول میں، اس علم کے باوجود کہ احادیثِ صحیحہ اس کے امام کے مذہب کو رد کر دیتی ہیں۔ ولا قوة إلا بالله
(تذکرۃ الحفاظ ج 1 ص 16، ترجمہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ)

حافظ ذہبی کا آخر میں (لاحول) ولا قوۃ الا باللہ لکھنا اس کی دلیل ہے کہ اُن کے نزدیک تقلید ایک شیطانی کام ہے لہٰذا اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس شیطانی کام سے ہمیشہ بچائے۔ آمین [نیز دیکھئے فقرہ: 11]

ہم نے اپنے دعوے اور لفظِ تقلید کی شرط کے مطابق ایک سو (100) علمائے اُمت کے ایسے حوالے پیش کر دیئے ہیں جو صراحت کے ساتھ تقلید نہیں کرتے تھے یا تقلید کے مخالف تھے۔ ہمارے علم کے مطابق کسی ایک ثقہ و صدوق صحیح العقیدہ مستند امام سے مروجہ تقلید کا وجوب یا اس پر عمل ثابت نہیں اور دنیا کا کوئی شخص بھی اس تحقیق کے خلاف کسی مستند امام سے تقلید کے وجوب یا اس پر عمل کا ایک حوالہ پیش نہیں کر سکتا۔
ولو كان بعضهم لبعض ظهيرًا. والحمد لله

تنبیہ:

ایک سو حوالوں والی اس تحقیق کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہے کہ جن علماء کا اس مضمون میں تذکرہ یا نام نہیں وہ تقلید کرتے تھے بلکہ تقلید کی ممانعت پر تو خیر القرون کا اجماع ہے۔
(دیکھئے الرد على من أخلد إلى الأرض ص 131- 132، اور دین میں تقلید کا مسئلہ ص 34- 35)

ان کے علاوہ بہت سے اور علماء بھی تھے جن سے تقلید کے لفظ کی صراحت کے ساتھ اس (تقلید) کی ممانعت اور رد ثابت ہے۔ مثلاً:

[1] جلال الدین سیوطی (متوفی 911ھ) نے تقلید کے رد پر ایک عظیم الشان کتاب: [الرد على من أخلد إلى الأرض وجهل أن الاجتهاد في كل عصر فرض]
لکھی اور اس میں ’باب فساد التقلید‘ باندھا اور حافظ ابن حزم سے بطورِ تائید نقل کیا: [التقليد حرام] تقلید حرام ہے۔ (ص 131)

سیوطی نے دوسری کتاب میں کہا: یہ کہنا واجب (فرض) ہے کہ ہر وہ شخص جو رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی دوسرے امام سے منسوب ہو جائے، اس انتساب پر وہ دوستی رکھے اور دشمنی رکھے تو یہ شخص بدعتی ہے، اہل سنت والجماعت سے خارج ہے، چاہے (انتساب) اصول میں ہو یا فروع میں۔ (الکنز المدفون والفلک المشحون ص 149، دین میں تقلید کا مسئلہ ص 40-41)

[2] زیلعی حنفی (!) نے کہا: [فالمقلد ذهل والمقلد جهل] پس مقلّد غلطی کرتا ہے اور مقلّد جہالت کا ارتکاب کرتا ہے۔ (نصب الرایہ ج 1 ص 219)

[3] عینی حنفی (!) نے کہا: [فالمقلد ذهل والمقلد جهل و آفة كل شيء من التقليد]

پس مقلّد غلطی کرتا ہے اور مقلّد جہالت کا ارتکاب کرتا ہے اور ہر چیز کی مصیبت تقلید کی وجہ سے ہے۔ (البنایہ شرح الہدایہ ج 1 ص 317)

[4] طحاوی حنفی (!) سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا: [وهل يقلّد إلا عصبي أو غبي] تقلید تو صرف وہی کرتا ہے جو متعصب یا بے وقوف ہوتا ہے۔ (لسان المیزان: ج1 ص280)

[5] ابو حفص ابن الملقن (متوفی 804ھ) نے کہا:[و غالب ذلك إنما يقع (من) التقليد و نحن (براء منه) بحمد الله و منه]
اور عام طور پر ایسی باتیں تقلید کی وجہ سے واقع ہو جاتی ہیں اور ہم اس (تقلید) سے بری ہیں، اللہ کی تعریف اور اس کے احسان کے ساتھ۔
(البدر المنیر فی تخریج الاحادیث والآثار الواقعۃ فی الشرح الکبیر ج 1 ص 293)

[6] ابو زید قاضی عبیداللہ الدبوسی (حنفی!) نے فرمایا:تقلید کا ماحصل (خلاصہ) یہ ہے کہ مقلّد اپنے آپ کو جانوروں چوپایوں کے ساتھ ملا دیتا ہے۔ اگر مقلّد نے اپنے آپ کو جانور اس لئے بنا لیا ہے کہ وہ عقل و شعور سے پیدل ہے تو اس کا (دماغی) علاج کرانا چاہئے۔
(تقویم الادلہ فی اصول الفقہ ص 390، ماہنامہ الحدیث حضرو: 22 ص 16)

[7] الشيخ العالم الكبير محمد فاخر بن محمد يحيى بن محمد امين العباسی السلفی الہٰ آبادی رحمہ اللہ: (متوفی 1164ھ) تقلید نہیں کرتے تھے بلکہ کتاب وسنت کے دلائل پر عمل کرتے اور خود اجتہاد کرتے تھے۔ (دیکھئے نزہۃ الخواطر ج 6 ص 350 ت 636)

انھوں (فاخر الہٰ آبادی رحمہ اللہ) نے فرمایا: جمہور کے نزدیک کسی خاص مذہب کی تقلید کرنا جائز نہیں ہے بلکہ اجتہاد واجب ہے۔ تقلید کی بدعت چوتھی صدی ہجری میں پیدا ہوئی ہے۔ (رسالہ نجاتیہ ص 41- 42، دین میں تقلید کا مسئلہ ص 41)

عالم تو کتاب وسنت و اجماع اور آثارِ سلف صالحین سے اجتہاد کرے گا جبکہ جاہل کا اجتہاد یہ ہے کہ وہ صحیح العقیدہ عالم سے کتاب وسنت کے مسائل پوچھ کر اُن پر عمل کرے اور یہ تقلید نہیں ہے۔

[8] ابوبکر یا ابو عبداللہ محمد بن احمد بن عبداللہ المعروف: ابن خویز منداد البصری المالکی (متوفی چوتھی صدی ہجری کا آخر) نے فرمایا: [التقليد معناه في الشرع الرجوع إلى قول لا حجة لقائله عليه و ذلك ممنوع منه في الشريعة و الإتباع ما ثبت عليه حجة]
شریعت میں تقلید کا معنی یہ ہے کہ ایسے قائل کے قول کی طرف رجوع کرنا جس پر کوئی دلیل نہیں ہے اور ایسا کرنا شریعت میں ممنوع ہے، اور اتباع اسے کہتے ہیں جو دلیل سے ثابت ہو۔ (جامع بیان العلم و فضلہ ج 2 ص 231)

تنبیہ:

اس قول کو حافظ ابن عبدالبر نے نقل کیا اور کوئی رد نہیں کیا لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ ابن خویز منداد کے شاذ اقوال میں سے نہیں ہے۔
نیز دیکھئے لسان المیزان (ج 5 ص 292)

[9] معاصرین میں سے یمن کے مشہور شیخ مقبل بن ہادی الوادعی رحمہ اللہ نے فرمایا: تقلید حرام ہے، کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ کے دین میں (کسی کی) تقلید کرے۔ (تحفۃ المجیب علی اسئلۃ الحاضر والغریب ص 205، دین میں تقلید کا مسئلہ ص 43)

[10] سعودی عرب کے چیف جسٹس شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ نے فرمایا: میں بحمد اللہ متعصب نہیں ہوں لیکن میں کتاب وسنت کے مطابق فیصلے کرتا ہوں، میرے فتووں کی بنیاد قال اللہ اور قال الرسول پر ہے، حنابلہ یا دوسروں کی تقلید پر نہیں ہے۔
(الاقناع ص 92، دین میں تقلید کا مسئلہ ص 43)

[11] ابن الجوزی کی عدمِ تقلید کے لئے دیکھئے اُن کی کتاب: المشکل من حدیث الصحیحین (ج 1 ص 833) اور ماہنامہ الحدیث حضرو: 37

بریلویوں کے پیر سلطان باہو نے کہا: کلید سراسر جمعیت ہے اور تقلید بے جمعیتی اور پریشانی بلکہ اہلِ تقلید جاہل اور حیوان سے بھی بدتر ہوتے ہیں۔
(توفیق الہدایت ص 20، طبع پروگریسو بکس لاہور)

سلطان باہو نے مزید کہا: ’’اہلِ توحید صاحبِ ہدایت، عنایت اور تحقیق ہوتے ہیں۔ اہلِ تقلید صاحبِ دنیا، اہل شکایت اور مشرک ہوتے ہیں۔
(توفیق الہدایت ص 167)

ایک سو حوالوں میں ذکر کردہ علماء اور بعد کے مذکورین کے مقابلے میں دیوبندی اور بریلوی فرقوں کے علماء یہ کہتے ہیں کہ تقلید واجب ہے اور گزشتہ ادوار کے علماء مقلدین تھے۔!!!

ان آلِ تقلید کے چار حوالے اور آخر میں اُن کا روپ پیشِ خدمت ہے:

[1] محمد قاسم نانوتوی دیوبندی نے کہا: دوسرے یہ کہ میں مقلد امام ابو حنیفہ کا ہوں، اس لئے میرے مقابلے میں آپ جو قول بھی بطور معارضہ پیش کریں وہ امام ہی کا ہونا چاہئے۔ یہ بات مجھ پر حجت نہ ہوگی کہ شامی نے یہ لکھا ہے اور صاحبِ درِ مختار نے یہ فرمایا ہے، میں اُن کا مقلد نہیں ہوں۔
(سوانح قاسمی ج 2 ص 22)

[2] محمود حسن دیوبندی نے ایک مسئلے کے بارے میں کہا: حق و انصاف یہ ہے کہ اس مسئلے میں شافعی کو ترجیح حاصل ہے اور ہم مقلد ہیں ہم پر ہمارے امام ابو حنیفہ کی تقلید واجب ہے۔ واللہ اعلم (تقریر ترمذی ص 36، دین میں تقلید کا مسئلہ ص 24)

[3] احمد رضا خان بریلوی نے ایک رسالہ لکھا: [أجلى الأعلام أن الفتوى مطلقًا على قول الإمام]
یعنی فتویٰ مطلقاً امام ابو حنیفہ کے قول پر ہی ہوگا۔

تقلید کے بارے میں جھوٹ بولتے ہوئے اور دھوکا دیتے ہوئے احمد رضا خان بریلوی نے کہا: خاص مسئلہ تقلید میں ان کے مذہب پر گیارہ سو برس کے ائمہ دین و علمائے کاملین و اولیائے عارفین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین معاذ اللہ سب مشرکین قرار پاتے ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ ج 11 ص 387)

[4] احمد یار نعیمی بریلوی نے کہا: کہ ہمارے دلائل یہ روایات نہیں۔ ہماری اصل دلیل تو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے۔ (جاء الحق ج 2 ص 91، قنوت نازلہ دوسری فصل)

عرض ہے کہ گیارہ سو برس میں کسی ایک ثقہ و صحیح العقیدہ عالم سے آپ لوگوں کی مروجہ تقلید کے وجوب یا جواز کا قولاً یا فعلاً کوئی ثبوت نہیں ہے۔ میری طرف سے تمام آلِ دیوبند اور آلِ بریلی کو چیلنج ہے کہ اس تحقیقی مضمون میں ذکر شدہ سو (100) مستند حوالوں کے مقابلے میں خیر القرون کے صحیح العقیدہ سلف صالحین سے صرف دس (10) حوالے پیش کر دیں جن میں یہ لکھا ہوا ہو کہ مسلمانوں پر چاہے (علماء ہوں یا عوام) ائمہ اربعہ (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد) میں سے صرف ایک کی تقلید واجب ہے اور باقی تینوں کی حرام ہے، اور مقلد کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے امام کا قول چھوڑ کر قرآن اور حدیث پر عمل کرے۔ اگر ہے تو حوالہ پیش کریں!

اور اگر ایسا کوئی ثبوت نہیں، اور ہرگز نہیں بلکہ میرے ذکر کردہ حوالوں نے اس خود ساختہ تقلیدی بُت کو ریزے ریزے کر کے ختم کر دیا ہے لہٰذا گیارہ سو سال کے علماء کا نام لے کر جھوٹا رعب نہ جمائیں۔ خیر القرون کے تمام سلف صالحین کا اجماع اور بعد کے جمہور سلف صالحین کا تقلید کی مخالفت اور رد کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مسئلہ سلف صالحین کے بالکل خلاف ہے۔ اگر مروجہ تقلید کو واجب کہا جائے تو کتاب وسنت اور اجماع کی مخالفت کے ساتھ ساتھ چودہ سو سال کے سلف صالحین کی مخالفت اور رد لازم آتا ہے جو کہ اصلاً باطل ہے۔ وما علينا إلا البلاغ

آخر میں تقلید نہ کرنے والے علماء کے نام حروفِ تہجی کی ترتیب سے پیشِ خدمت ہیں:

تنبیہ: نام کے سامنے مضمون کا فقرہ نمبر لکھا ہوا ہے۔

ابراہیم بن خالد الکلبی (17)
ابراہیم بن محمد بن الحارث (71)
ابن ابی شیبہ (74)
ابن القیم (99)
ابن الملقن (100/5)
ابن المنذر (11)
ابن باز (100/10)
ابن تیمیہ (98)
ابن جریر طبری (14)
ابن حزم (28)
ابن خزیمہ (20)
ابن خواز منداد (100/8)
ابن شاہین (21)
ابن عبدالبر (29)
ابن علیہ (50)
ابن ماجہ (25)
ابو النعمان (86)
ابو الولید طیالسی (45)

ابوایوب الہاشمی (70)
ابوبکر بن ابی شیبہ (74)
ابوثور الکلبی (17)
ابو حنیفہ (6)
ابوخیثمہ (69)
ابو داؤد سجستانی (22)
ابوداؤد طیالسی (44)
ابو عاصم النبیل (57)
ابو عامر العقدی (62)
ابو عبید (68)
ابوعلی السنجی (97)
ابو عمر طلمنکی (94)
ابوکریب الہمدانی (83)
ابو نعیم الکوفی (79)
ابویعلیٰ الموصلی (26)
ابو یوسف الخلیفہ (30)
احمد بن حنبل (5)
احمد بن شعیب النسائی (24)
احمد بن علی بن المثنیٰ (26)
احمد بن عمرو بن عبد الخالق البزار (27)
احمد بن کامل القاضی (15)
ازہر بن سعید السمان (54)
اسحاق بن راہویہ(67)
اسماعیل بن ابراہیم ابن علیہ (50)
اسماعیل بن یحییٰ المزنی (92)
بخاری (18)
بزار (27)
بشر بن المفضل (33)
بشر بن عمر (56)
بقی بن مخلد (7)
بندار (81)
بویطی (91)
ترمذی (23)
حجاج بن منہال (61)
حسن بن سعد القرطبی (12)
حسن بن محمد الزعفرانی (84)
حسن بن موسیٰ الاشیب (9)
حفص بن غیاث (42)
حمید بن عبدالرحمن (38)
حمیدی (40)
خالد بن الحارث (34)
دبوسی (6/100)
ذہبی (100)
ذہلی (73)
زبیر بن حرب (69)
زیلعی (2/100)
سعید بن منصور(76)
سلیمان بن اشعث : ابوداود (22)
سلیمان بن حرب (85)
سلیمان بن داود الہاشمی (70)
سیوطی (1/100)
شافعی (4)
ضحاک بن مخلد (57)
طحاوی (4/100)
طلمنکی (94)
عارم (86)
عبدالرحمن بن مہدی (32)
عبدالرزاق بن ہمام (35)
عبدالصمد بن عبد الوارث (52)
عبدالعزیز بن ابی حازم (89)
عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز (10/100)
عبدالعظیم بن عبداللہ بن ابی الحجاج البلوی (93)
عبداللہ بن المبارک (41)
عبداللہ بن زبیر الحمیدی (40)
عبداللہ بن مسعود (1)
عبداللہ بن نمیر (66)
عبداللہ بن وہب (8)
عبدالملک بن عبدالعزیز بن ابی سلمہ الماجشون (87)
عبدالملک بن عمرو : ابو عامر (62)
عبدالوارث بن سعید (51)
عبدالوہاب بن عبدالمجید (63)
عثمان بن ابی شیبہ(75)
عفان بن مسلم (55)
عمر بن احمد بن عثمان (21)
عینی (3/100)
غندر (47)
فاخر الہ آبادی (7/100)
فریابی (64)
فزاری (71)
فضل بن دکین (79)
قاسم بن سلام (68)
قاسم بن محمد القرطبی (10)
قاضی حسین مروزی (96)
قتیبہ بن سعید (77)
قطان : یحییٰ بن سعید (31)
قفال مروزی (95)
مالک بن انس (3)
محمد بن ابراہیم بن المنذر (11)
محمد بن ابی عدی (46)
محمد بن اسحاق بن خزیمہ (20)
محمد بن العلاء بن کریب (83)
محمد بن المثنیٰ (80)
محمد بن بشار (81)
محمد بن جریر بن یزید (14)
محمد بن جعفر : غندر (47)
محمد بن داود الظاہری (16)
محمد بن عبداللہ بن نمیر (82)
محمد بن عیسیٰ الترمذی (23)
محمد بن فضل السدوسی (86)
محمد بن یحییٰ الذہلی (73)
محمد بن یزید : ابن ماجہ (25)
محمد بن یوسف الفریابی (64)
مخلد بن الحسین (72)
مزنی (92)
مسدد بن مسرہد (78)
مسلم بن ابراہیم الفراہیدی (60)
مسلم بن الحجاج (19)
مصعب بن عمران (13)
مطرف بن عبداللہ الیساری (90)
معاذ بن جبل (2)
معتمر بن سلیمان التیمی (58)
مغیرہ بن عبد الرحمن (88)
مقبل بن ہادی الیمنی (9/100)
نسائی (24)
نضر بن شمیل (59)
وکیع بن الجراح (36)
ولید بن مسلم (39)
وہب بن جریر (53)
وہیب بن خالد (65)
یحییٰ بن آدم (37)
یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ (43)
یحییٰ بن سعید القطان (31)
یحییٰ بن یحییٰ نیساپوری (48)
یزید بن زریع (49)
یعقوب بن یوسف المراکشی (30)
یوسف بن یحییٰ البویطی (91)

چند فوائد

[1] علامہ سیوطی (متوفی 911ھ) فرماتے ہیں: [و الذي يجب أن يقال : كل من انتسب إلى إمام غير رسول الله ﷺ يوالي على ذلك ويعادي عليه فهو مبتدع خارج عن السنة والجماعة سواء كان في الأصول أو الفروع]
یہ کہنا واجب (فرض) ہے کہ ہر وہ شخص جو رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی دوسرے امام سے منسوب ہو جائے، اسی (انتساب) پر وہ دوستی رکھے اور دشمنی رکھے تو یہ شخص بدعتی ہے، اہلِ سنت والجماعت سے خارج ہے، چاہے یہ (انتساب) اصول میں ہو یا فروع میں۔
(الکنز المدفون والفلک المشحون ص: 149)

[2] امام الحکم بن عتیبہ رحمہ اللہ (المتوفی 115ھ) فرماتے ہیں: [ليس أحد من خلق الله إلا يؤخذ من قوله ويترك إلا النبي صلى الله عليه وسلم]
نبی کریم ﷺ (فداہ ابی و امی و روحی) کے علاوہ اللہ کی مخلوق میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے کہ جس کی بات لی اور چھوڑی نہ جا سکتی ہو۔ صرف آپ ﷺ ہی (ایسی بابرکت اور پاکیزہ) شخصیت ہیں جن کی ہر بات لی جائے گی۔
(جامع بیان العلم و فضلہ 2/91، دوسرا نسخہ 2/112، تیسرا نسخہ 2/181، واسنادہ حسن لذاتہ)