سفید بال اکھاڑنے، مصنوعی بال لگوانے اور گودنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

سفید بال اکھاڑنے کی ممانعت

① عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تنتفوا الشيب، فإنه ما من مسلم يشيب شيبة فى الإسلام إلا كانت له نورا يوم القيامة
”سفید بال نہ اکھاڑو کیونکہ جس مسلمان کے اسلام میں بال سفید ہوتے ہیں، تو روزِ قیامت اس کے لیے نور ہو گا۔“
اور ایک روایت میں ہے:
كتب اللہ له بها حسنة، وحط عنه بها خطيئة
”اللہ اس ایک سفید بال کی وجہ سے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس سے ایک گناہ دور کر دیتا ہے۔“
ابو داؤد، غذاء الألباب فی شرح منظومة 3722، السنن الکبری للبیہقی، الجزء السابع، مسند احمد 3/ 98، حدیث 11766۔

عورت کا اپنے بالوں میں دوسری عورت کے بال لگوانے کی ممانعت

① سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کسی عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو اس نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میری بیٹی کو چیچک ہو گئی تھی جس وجہ سے اس کے بال جھڑ گئے تھے، میں نے اس کی شادی کر دی ہے، کیا میں اس کے بالوں میں کسی دوسری عورت کے بال لگا دوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لعن اللہ الواصلة والمستوصلة
”بال لگانے والی اور بال لگوانے والی پر اللہ کی لعنت ہو۔“
بخاری، کتاب اللباس 5935، مسلم، کتاب اللباس والزینة 2122/115۔

گودنے کی ممانعت

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
والواشمة والمستوشمة
”اور جلد کو سوئی سے گود کر نیل وغیرہ چھڑکنے والی اور چھڑکانے (گدوانے) والی پر لعنت فرمائی۔“
بخاری، کتاب اللباس 5937، مسلم، کتاب اللباس والزینة 2125/119۔