چند مسنون دعائیں صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

چند مسنون دعائیں

① سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى
”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری، پاک دامنی اور تونگری (بے نیازی) کا سوال کرتا ہوں۔“
صحیح مسلم، کتاب الذكر والدعاء، باب في الادعية، رقم: 2721.
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ: دِقَّهُ وَجِلَّهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ
”اے اللہ! میرے تمام چھوٹے اور بڑے، پہلے اور پچھلے، علانیہ اور پوشیدہ گناہ معاف فرما دے۔“
صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب مايقال في الركوع والسجود، رقم: 482.
③ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے:
 اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ
”اے اللہ! میں اس عمل کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو میں نے کیا، اور ایسے عمل کے شر سے جو میں نے نہیں کیا۔“
صحیح مسلم، کتاب الذكر والدعاء، باب في الادعية، رقم: 2716.
④ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی دعا بتلائیں جو میں اپنی نماز میں مانگتا رہوں۔ آپ نے فرمایا: یہ پڑھا کرو:
اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا , وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ , فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ , وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
”اے اللہ! میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم کیا ہے، اور گناہوں کا تیرے سوا کوئی معاف کرنے والا نہیں، تو اپنی خاص مغفرت سے مجھے بخش دے اور مجھ پر رحمت فرما، بے شک تو بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔“
صحيح بخاري، كتاب الدعوات، باب الدعاء في الصلاة – رقم: 6326 ـ صحيح مسلم، کتاب الذكر والدعاء، باب الدعوات والتعوذ، رقم: 2705.
⑤ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَىٰ نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ
”پریشان آدمی کی دعا یہ ہے: اے اللہ! میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں مجھے لمحہ بھر کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر۔ میرے تمام حالات درست فرما دے۔ تیرے سوا کوئی الہ نہیں۔“
سنن ابو داؤد، ابواب النوم، باب ما يقول اذا اصبح، رقم: 5090 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”حسن الإسناد“ کہا ہے۔
⑥ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے:
اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي إِلَيْهَا مَعَادِي، وَاجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ.
”یا اللہ! میرے دین کی اصلاح فرما جو میرے انجام کا محافظ ہے، میری دنیا کی اصلاح فرما جس میں میری روزی ہے، میری آخرت کی اصلاح فرما جہاں مجھے (مرنے کے بعد) پلٹ کر جانا ہے، میری زندگی کو نیکیوں میں اضافے کا باعث بنا، اور موت کو ہر برائی سے بچنے کے لیے راحت بنا۔“
صحیح مسلم، کتاب الذكر والدعاء، باب في الادعية، رقم: 2720.
⑦ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ تھی:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ، وَجَمِيعِ سَخَطِكَ
” یا اللہ ! میں تیری نعمت کے زوال ، تیری عافیت سے محرومی، تیرے اچانک عذاب اور تیرے ہر طرح کے غصے سے پناہ مانگتا ہوں۔“
صحیح مسلم، کتاب الرقاق، باب اكثر اهل الجنة الفقراء، رقم: 2739.