مضمون کے اہم نکات
سوال:
حدیث میں آتا ہے کہ ماہِ رمضان میں جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں تو کیا رمضان میں فوت ہونے والے کو عذاب نہیں ہوتا؟
جواب:
عذاب قبر حق ہے، جو اپنے مستحق کو لاحق ہوتا ہے، خواہ وہ رمضان میں فوت ہو یا غیر رمضان میں۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا دخل شهر رمضان فتحت أبواب السماء وغلقت أبواب جهنم وسلسلت الشياطين
”ماہِ رمضان میں آسمان (جنت) کے دروازے کھول دیے جاتے، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے۔“
(صحيح البخاري: 1899، صحيح مسلم: 1079)
❀ علامہ سندھی حنفی رحمہ اللہ (1138ھ) فرماتے ہیں:
”اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ (رمضان کے علاوہ دنوں میں) جہنم کے دروازے کھلے رہتے ہیں، فرمان الٰہی: ﴿حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا﴾ (الزمر: 71) یہاں تک کہ جب وہ (کفار) اس (جہنم) کے پاس آئیں گے تو اس کے دروازے کھول دیے جائیں گے سے مذکورہ بات کی نفی نہیں ہوتی۔ اس آیت کا جواب یہ ہے کہ اس وقت کچھ وقت پہلے دروازے بند کر دیے جائیں گے (بعد میں کفار کے آنے پر کھولے جائیں گے تا کہ ایک دم ان پر جہنم کا خوف طاری ہو جائے۔) نیز (رمضان میں) جہنم کے دروازوں کا بند ہونا کافروں کے مرنے اور ان کے عذاب کا شکار ہونے کے منافی بھی نہیں ہے، کیونکہ انہیں عذاب دینے کے لیے قبر میں جہنم تک چھوٹا سا دروازہ کھلنا بھی کافی ہے، بڑے دروازے نہیں کھولے جاتے۔“
(حاشية السندي على صحيح البخاري: 1/343 [درسی نسخہ]، حاشية على النسائي: 4/126، حاشية على ابن ماجه: 1/503، واللفظ له)
سوال:
ایک نیکی کے لیے رمضان کے مہینے کو اس لیے خاص کرنا کہ اس میں زیادہ ثواب ملے گا، کیسا ہے؟
جواب:
جائز ہے۔ یقیناً ماہ رمضان کی فضیلت ہے، اس میں عمل صالح کا ثواب بڑھ جاتا ہے، البتہ اس عمل کو ماہ رمضان کے ساتھ خاص نہ کرے۔
سوال:
عرفہ کا دن جمعہ کو آیا تو کیا اس دن روزہ رکھا جائے گا؟
جواب:
وہ روزہ رکھے گا، کیونکہ اگرچہ خاص جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے مگر وہ جمعہ کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ رہا بلکہ عرفہ کی وجہ سے روزہ رکھ رہا ہے، لہذا اگر نو ذوالحجہ جمعہ کے دن آ جائے تو روزہ رکھا جائے گا۔
سوال:
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال قد هلكت قال وما شأنك قال وقعت على أهلي في رمضان فقال أتستطيع أن تعتق رقبة قال لا قال أتستطيع أن تصوم شهرين متتابعين قال لا قال أتستطيع أن تطعم ستين مسكينا قال لا قال اجلس فأتي النبي صلى الله عليه وسلم بعرق فيه تمر والعرق المكتل الضخم فقال خذ هذا فتصدق به قال على أفقر منا فما بين لابتيها أهل بيت أفقر منا فضحك النبي صلى الله عليه وسلم حتى بدت أنيابه قال خذ هذا وأطعمه عيالك
”ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا: میں ہلاک ہو گیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ہوا؟ اس نے کہا: میں رمضان (روزہ کی حالت) میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا آپ غلام آزاد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں؟ عرض کیا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا آپ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ سکتے ہیں؟ عرض کیا نہیں! پوچھا: کیا آپ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہیں؟ عرض کیا نہیں، فرمایا: بیٹھ جائیے، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک بڑا ٹوکرا لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے لیں اور صدقہ کر دیں۔ اس نے کہا: کیا ایسے گھرانے پر صدقہ کروں جو ہم سے زیادہ ضرورت مند ہے؟ ان دو سیاہ پہاڑوں کے درمیان (یعنی مدینہ میں) ہمارے گھر سے زیادہ کوئی محتاج نہیں۔ (یہ سن کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر مسکرائے کہ آپ کی ڈاڑھیں نظر آنے لگیں اور فرمایا: اسے لے جائیں اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دیں۔“
(صحيح البخاري: 1936، صحيح مسلم: 1111، المنتقى لابن الجارود: 384)
أتستطيع أن تطعم ستين مسكينا؟ کے الفاظ سے بعض یہ ثابت کرتے ہیں کہ کفارہ کا کھانا ساٹھ مسکینوں کو کھلانا ضروری ہے، ایسا نہیں کر سکتے کہ تیس مسکینوں کو تین مرتبہ کھانا کھلا دیا جائے۔ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟
جواب:
یہ کہنا کہ کفارہ کا کھانا ساٹھ مسکینوں کو کھلانا ضروری ہے، تیس مسکینوں کو تین مرتبہ کھلانے سے کفارہ ادا نہ ہوگا، درست موقف نہیں۔ اگر بغور مذکورہ بالا حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ساٹھ مساکین کا کھانا چند مساکین کو کئی مرتبہ کھلا دینا جائز ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کا ٹوکرا آنے والے شخص کو دیا اور فرمایا:
خذ هذا وأطعمه عيالك
”لیجئے، اپنے اہل و عیال کو کھلا دیں۔“
یقیناً اس شخص کے اہل خانہ ساٹھ افراد نہیں تھے۔
سوال:
درج ذیل روایت کی استنادی حیثیت کیا ہے؟
❀ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
نزل رجلان من أهل اليمن على طلحة بن عبيد الله فقتل أحدهما مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم مكث الآخر بعده سنة ثم مات على فراشه فأري طلحة بن عبيد الله أن الذي مات على فراشه دخل الجنة قبل الآخر بحين فذكر ذلك طلحة لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم كم مكث بعده قال حولا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى ألفا وثمان مائة صلاة وصام رمضان
”یمن سے دو شخص سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ہاں مہمان ٹھہرے، ان میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (جہاد کرتے ہوئے) شہید ہو گیا، جبکہ دوسرا شخص ایک سال بعد تک زندہ رہا اور پھر بستر پر (طبعی موت) فوت ہوا۔ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو خواب آیا کہ ان میں سے جو شخص بستر پر فوت ہوا وہ جنت میں دوسرے شخص سے ایک مدت قبل داخل ہو گیا۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنا خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وہ شخص کتنی مدت بعد تک زندہ رہا؟ عرض کیا: ایک سال، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (چونکہ) اس نے (شہید ہونے والے کی بہ نسبت) اٹھارہ سو (فرض) نمازیں (زائد) پڑھی ہیں اور رمضان کے روزے رکھے ہیں۔“
(مسند الإمام أحمد: 1/161، سنن ابن ماجه: 3925)
جواب:
سند ضعیف ہے۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کا سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔
❀ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أبو سلمة لم يسمع من أبيه ولا من طلحة بن عبيد الله
”ابو سلمہ بن عبد الرحمن رحمہ اللہ نے اپنے والد اور طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا۔“
(تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري: 3/236)
❀ یہ روایت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
(مسند الإمام أحمد: 2/333)
مگر اس روایت میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر وہم اور خطا ہے، اسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے وہم قرار دیا ہے، درست یہی ہے کہ یہ روایت ابو سلمہ عن طلحہ کی سند سے ہے۔
(علل الدارقطني: 518)
سوال:
لیلۃ القدر کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
جواب:
شب قدر فضیلت والی رات ہے، یہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ہوتی ہے۔ اسی رات بیت معمور پر قرآن کریم کا نزول ہوا۔ اس رات فرشتوں کا نزول ہوتا ہے، کئی بڑے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ سنوی امور اسی رات طے پاتے ہیں۔ اس رات کی عبادت ایک ہزار مہینے کی عبادت سے بہتر ہے۔
اس رات بکثرت تلاوت قرآن کریم، ذکر الٰہی، نوافل، دعا اور صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اس رات میں کوئی خاص ذکر یا دعا متعین نہیں۔
ہمارے ہاں اکثر وقت کھانے پینے، گپ شپ اور وعظ و نصیحت میں صرف کر دیا جاتا ہے، اس سے اجتناب ضروری ہے، سارے کا سارا وقت عبادت الٰہی میں گزارا جائے، محض بیداری مطلوب نہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے پہل یہ رات متعین کر کے بتائی گئی، پھر اس کے تعین کا علم اٹھا لیا گیا اور فضیلت باقی رکھی گئی تا کہ مسلمان بڑھ چڑھ کر اس رات کو رب تعالیٰ کی رضا کے متلاشی بن کر گزاریں۔ یہ رات تا قیامت باقی ہے، اسے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرنا چاہیے، اہل سنت والجماعت کا اس پر اجماع ہے، جبکہ روافض کہتے ہیں کہ شب قدر کلی طور پر اٹھا لی گئی، اب اس کی فضیلت باقی نہیں۔
❀ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج يخبر بليلة القدر فتلاحى رجلان من المسلمين فقال إني خرجت لأخبركم بليلة القدر وإنه تلاحى فلان وفلان فرفعت وعسى أن يكون خيرا لكم التمسوها في السبع والتسع والخمس
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب قدر کی خبر دینے کے لیے باہر تشریف لائے تو (دیکھا کہ) دو مسلمان باہم جھگڑ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آپ کو شب قدر کے متعلق خبر دینے کے لیے نکلا تھا کہ اسی اثنا میں فلاں فلاں جھگڑ رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے شب قدر (کے تعین) کو اٹھا لیا، امید ہے کہ یہی آپ کے حق میں بہتر ہو، اب لیلۃ القدر کو (اکیسویں، تئیسویں) پچیسویں، ستائیسویں اور انتیسویں شب میں تلاش کریں۔“
(صحيح البخاري: 49، 2023)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ شب قدر اور اس کی فضیلت کو منسوخ نہیں کیا گیا، صرف اس کے تعین کو اٹھا لیا گیا اور یہ خبر دے دی گئی کہ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات شب قدر ہوگی، جو آخری عشرہ کی ساری کی ساری طاق راتوں میں عبادت کر لے گا وہ یقینی طور پر شب قدر کے اجر کو پا لے گا۔
شب قدر کے تعین کو اٹھانے میں بہتری اس اعتبار سے ہے کہ اگر تعین ہوتا تو لوگ اسی رات کو عبادت کرنے پر اکتفا کرتے، جب تعین کو اٹھا لیا گیا تو اب ہر کوئی شب قدر کی تلاش میں حرص کرے گا اور یوں نسبتاً زیادہ نیکیاں حاصل کر سکے گا۔
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:
”اس (سورۃ القدر) میں یہ دلیل ہے کہ لیلۃ القدر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی تا قیامت ہر سال ہوگی، نہ کہ جیسے شیعہ کے بعض فرقوں کا گمان ہے کہ یہ کلی طور پر ختم کر دی گئی۔ شیعہ یہ مفہوم ایک حدیث نبوی سے اخذ کرتے ہیں کہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’تو یہ اٹھا لی گئی، یقیناً تمہارے لیے اس میں خیر ہے‘۔ جبکہ اس کا درست مفہوم یہ ہے کہ اس کا معین وقت اٹھا لیا گیا۔“
(تفسير ابن كثير: 8/446)
❀ علامہ ابن ملقن رحمہ اللہ (804ھ) فرماتے ہیں:
أجمع من يعتد به في الإجماع على بقائها إلى يوم القيامة وشذت الروافض فقالوا رفعت
”جن کا اجماع معتبر ہوتا ہے ان کا اجماع ہے کہ شب قدر قیامت تک باقی ہے، جبکہ روافض کی شاذ رائے ہے کہ شب قدر کو اٹھا لیا گیا ہے۔“
(التوضيح: 13/590، الإعلام بفوائد عمدة الأحكام: 5/397)
سوال:
میں پانچ سال کے لیے امریکہ میں پڑھنے گیا، اس دوران میں دین سے بہت دور تھا، میں نے پانچ سال نماز اور روزے کو ترک کر دیا، اب میں توبہ کرنا چاہتا ہوں تو میرے لیے کیا حکم ہے؟
جواب:
نماز اور روزے کا ترک کفر ہے؟ اگر آپ توبہ کر چکے ہیں اور آئندہ نماز اور روزہ کی پابندی کا عزم رکھتے ہیں تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے سابقہ گناہ معاف کر دے گا، اب آپ نماز روزہ جاری کر دیں اور فوت شدہ نمازوں اور روزوں پر توبہ کر لیں، ان کی قضا کی ضرورت نہیں۔
سوال:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کا فرمان نقل کرتے ہیں:
الصوم لي وأنا أجزي به
”روزہ میرا ہے، میں ہی اس کی جزا دوں گا۔“
(صحيح البخاري: 7538)
ہر عمل اللہ تعالیٰ کا ہے تو صرف روزہ کی نسبت اپنی طرف کیوں کی؟
جواب:
اہل علم نے اس کی کئی توجیہات بیان کی ہیں:
➊ یہ نسبت تشریفی ہے۔ اللہ تعالیٰ جس شے کی عظمت اور شرف بیان کرنا چاہتا ہے اسے اپنی طرف منسوب کر دیتا ہے، جیسے بیت اللہ، ناقۃ اللہ وغیرہ۔
➋ روزے کا علم میرے علاوہ کسی کو نہیں ہے، کیونکہ باقی اعمال کو انسان مخفی نہیں رکھ سکتا مگر روزے کو خفی رکھ سکتا ہے، اس کا علم کسی بشر یا فرشتے کو نہیں ہوتا۔
➌ ہر عمل کا اجر و ثواب لکھا جاتا ہے مگر روزہ ایسا عمل ہے جس کے اجر و ثواب کی انتہائی مقدار صرف اللہ کے علم میں ہے۔ فرشتے روزے کا اجر و ثواب لکھنے سے قاصر ہیں۔
سوال:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحل للمرأة أن تصوم وزوجها شاهد إلا بإذنه
”جس عورت کا خاوند موجود ہو تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ خاوند کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ رکھے۔“
(صحيح البخاري: 5195، صحيح مسلم: 1026)
اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر عورت کے لیے خاوند کی اجازت کے بغیر نفل روزہ رکھنا جائز ہوتا تو زیادہ بہتر تھا، کیونکہ اگر خاوند وظیفہ زوجیت ادا کرنا چاہتا تو عورت روزہ توڑ دیتی، ورنہ عورت روزہ پورا کر لیتی اور نیکی حاصل کر لیتی۔ اس کا کیا جواب ہے؟
جواب:
دراصل یہ حدیث خاوند کے حقوق بیان کرتی ہے۔ عورت نفل روزہ بھی خاوند کی اجازت سے نہ رکھے، کیونکہ اگر وہ بغیر اجازت روزہ رکھ لے تو خاوند کا دل نہیں چاہے گا کہ بیوی کا روزہ فاسد کر دے اور خاوند روزہ فاسد کرنے میں ہچکچاہٹ اور گھبراہٹ سی محسوس کرے گا۔ اس لیے بیوی کے لیے ضروری قرار دے دیا کہ وہ خاوند کے حقوق کی رعایت رکھے، یقیناً خاوند کا حق ادا کرنے میں بھی اللہ تعالیٰ نے نیکی رکھی ہے۔
البتہ اگر خاوند وظیفہ ازدواج قائم نہیں کرنا چاہتا تو بیوی خاوند سے اجازت لے کر روزہ رکھ لے، یہ حدیث عائلی زندگی کو خوشگوار بنانے کی ضامن ہے۔
سوال:
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
دخل علي النبي صلى الله عليه وسلم ذات يوم فقال هل عندكم شيء فقلنا لا قال فإني إذن صائم ثم أتانا يوما آخر فقلنا يا رسول الله أهدي لنا حيس فقال أرينيه فلقد أصبحت صائما فأكل
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس آئے اور پوچھا: کیا گھر میں کھانا موجود ہے؟ عرض کیا: جی نہیں۔ فرمایا: تب میں روزے سے ہوں، پھر کسی اور دن تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! تحفے میں حلوہ آیا ہے، فرمایا: لائیں، ویسے تو صبح میں نے روزہ رکھا تھا، پھر آپ نے حلوہ کھا لیا۔“
(صحيح مسلم: 1154)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
في الرواية الثانية التصريح بالدلالة لمذهب الشافعي وموافقيه في أن صوم النافلة يجوز قطعه والأكل في أثناء النهار ويبطل الصوم لأنه نفل فهو إلى خيرة الإنسان في الابتداء وكذا في الدوام وممن قال بهذا جماعة من الصحابة وأحمد وإسحاق وآخرون ولكنهم كلهم والشافعي معهم متفقون على استحباب إتمامه
”دوسری روایت امام شافعی اور آپ کے موافقین کی دلیل ہے کہ نفلی روزہ توڑ کر کچھ کھا لینا جائز ہے، اس سے روزہ فاسد ہو جائے گا۔ کیوں کہ یہ نفل ہے اور نفل جیسے ابتدا میں انسان کی مرضی پر ہوتا ہے ایسے ہی اسے جاری رکھنا بھی مرضی پر موقوف ہے۔ یہ موقف صحابہ کرام کی ایک جماعت، امام احمد، امام اسحاق رحمہم اللہ وغیرہم کا ہے، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ سمیت تمام اسے مکمل کرنا مستحب سمجھتے ہیں۔“
(شرح النووي: 8/35)
یہ اور دیگر احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نفل شروع کرنے سے انہیں پورا کرنا واجب نہیں ہوتا، بلکہ اگر کوئی نفل کو مکمل کرنے سے پہلے چھوڑ دے تو اس پر قضا مستحب ہی رہتی ہے، واجب نہیں ہوتی۔
لیکن بعض اہل علم کہتے ہیں کہ نفل شروع کرنے سے واجب ہو جاتے ہیں، اب اگر انہیں پورا نہ کیا جائے تو قضا لازم ہوتی ہے، اس پر وہ مندرجہ ذیل آیت کریمہ سے استدلال پیش کرتے ہیں۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ
”اپنے اعمال باطل مت کرو۔“
(محمد: 33)
اس استدلال کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
جواب:
جمہور اہل علم کا مذہب ہے کہ کسی نفل کام کو شروع کیا جائے تو اختتام تک نفل ہی رہتا ہے، واجب نہیں ہوتا، سوائے نفلی حج اور عمرہ کے۔
بعض اہل علم کی رائے ہے کہ نفل جب تک شروع نہ کر دیے جائیں نفل رہتے ہیں، لیکن جب ادا کرنا شروع کر دیا تو مکمل کرنا واجب ہے، مکمل نہ کرنے پر قضا لازم ہے۔ اس پر کئی نصوص سے استدلال کیے جاتے ہیں۔
مذکورہ بالا آیت سے استدلال درست نہیں:
➊ کسی سنی مفسر یا محدث نے آیت کا یہ معنی بیان نہیں کیا۔
➋ آیت سے اُخروی بطلان مراد ہے، یعنی اجر و ثواب سے محرومی ہو جاتی ہے، یہاں فقہی بطلان مراد نہیں۔
➌ اگر اس آیت سے استدلال کرنا ہے تو قضا کو فرض کہنا چاہیے، نہ کہ واجب۔ احناف کا نظریہ ہے کہ قرآنی نص سے ثابت ہونے والی چیز فرض ہوتی ہے۔
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
أما من احتج في هذه المسألة بقوله ولا تبطلوا أعمالكم فجاهل بأقوال أهل العلم فيها وذلك أن العلماء فيها على قولين فقول أكثر أهل السنة لا تبطلوها بالرياء أخلصوها لله وقال آخرون ولا تبطلوا أعمالكم بارتكاب الكبائر
”اس آیت سے یہ مسئلہ ثابت نہیں ہوتا، جو ایسا کرتا ہے وہ اہل علم کے اقوال سے بے خبر ہے، علما نے اس آیت کی دو تفاسیر بیان کی ہیں: اکثر اہل سنت کہتے ہیں کہ اعمال کو ریا کاری سے باطل مت کرو، خالص اللہ کے لیے عمل کرو۔ بعض علما کہتے ہیں کہ کبیرہ گناہوں کے ارتکاب سے اعمال ضائع مت کرو۔“
(الاستذكار: 3/358)
❀ سید احمد رضا بجنوری دیوبندی صاحب لکھتے ہیں:
”حضرت (انور شاہ کشمیری صاحب) نے یہ بھی فرمایا ہے کہ آیت: ﴿وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ﴾ سے استدلال زیادہ اچھا نہیں، کیونکہ آیت کا مقصد بطلان ثواب ہے، بطلان فقہی نہیں، لہذا وہ ﴿لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ﴾ کی طرح ہے۔“
(أنوار الباري: 4/142)
❀ علامہ عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ (1414ھ) فرماتے ہیں:
أجيب عن الاحتجاج بإجماع الصحابة بأنه مجرد دعوى بلا سند فلا يقبل قال القاري هو مردود لأن ذكر السند ليس بشرط لصحة الإجماع مع أن الآية سند معتمد لصحة الإجماع قلت لم يثبت نصا عن أحد من الصحابة أنه ذهب إلى وجوب الإتمام بعد الشروع فضلا عن إجماعهم على ذلك فلا يلتفت إلى دعوى الإجماع مع وجود النصوص الصريحة على عدم الوجوب وأما الاستناد بالآية فقد عرفت فساده
”اجماع صحابہ سے حجت پکڑنے کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ محض دعویٰ ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں، لہذا یہ اجماع قبول نہیں۔ علامہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے جواباً کہا: یہ بات مردود ہے، کیونکہ اجماع کی صحت کے لیے (کتاب و سنت میں اس کی) اصل کا ہونا شرط نہیں، اس کے باوجود (مذکورہ) آیت اجماع کی صحت پر معتبر بنیاد ہے۔ میں (مبارکپوری رحمہ اللہ) کہتا ہوں: کسی ایک بھی صحابی سے صراحت کے ساتھ ثابت نہیں کہ وہ نفل شروع کرنے کے بعد اسے پورا کرنے کے وجوب کا قائل ہو، چہ جائیکہ اس پر صحابہ کا اجماع ہو، لہذا اجماع کے دعویٰ کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا، حالانکہ عدم وجوب پر صریح نصوص موجود ہیں، رہا آیت سے استدلال تو اس کی کمزوری آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔“
(مرعاة المفاتيح: 1/68)
معلوم ہوا کہ آیت سے استدلال درست نہیں۔
سوال:
درج ذیل روایت کیسی ہے؟
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تقولوا رمضان فإن رمضان اسم من أسماء الله تعالى ولكن قولوا شهر رمضان
”رمضان نہ کہا کریں، کیونکہ رمضان اللہ تعالیٰ کا نام ہے، بلکہ ’ماہ رمضان‘ کہا کریں۔“
(الكامل لابن عدي: 8/313)
جواب:
سند ضعیف ہے۔ ابو معشر نجیح سندی ضعیف ہے۔ اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کو مرفوع حدیث بنا دیا ہے۔
❀ امام ابو حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا خطأ إنما هو قول أبي هريرة
”اس حدیث کا مرفوع ہونا خطا ہے، یہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔“
(علل الحديث: 734)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الضعف بين عليه
”اس روایت کا ضعف واضح ہے۔“
(تهذيب الأسماء واللغات: 3/127)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔
(فتح الباري: 4/113)