مضمون کے اہم نکات
کیا واقعی بغیر تکبر کے بھی پینٹ ٹخنوں سے نیچے رکھنا جائز نہیں؟
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کپڑا یا پینٹ ٹخنوں سے نیچے لٹکانا صرف اسی وقت حرام ہے جب اس کے پیچھے تکبر اور غرور کی نیت ہو۔ لیکن کیا واقعی احادیث صرف یہی بات بتاتی ہیں؟
آئیے اس مسئلے کو احادیث کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔
ہم یہاں صرف اس صورت کی بات کریں گے جہاں کوئی شخص تکبر کی نیت کے بغیر پینٹ یا تہبند ٹخنوں سے نیچے رکھتا ہے، کیونکہ تکبر کے ساتھ ایسا کرنے کی حرمت پر تو سب احادیث بالکل واضح ہیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، أخبرنا مالك، عن أبي الزناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا ينظر الله يوم القيامة إلى من جر إزاره بطرا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ قیامت کے دن اس شخص کی طرف نظرِ رحمت سے نہیں دیکھے گا جو اپنا ازار تکبر اور غرور کی وجہ سے گھسیٹتا ہے۔ [صحيح البخاري: 5788]
اس مسئلے میں غلط فہمی اکثر اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ لوگ دو قسم کی احادیث میں فرق نہیں کرتے۔
① ایک قسم وہ احادیث ہیں جن میں تکبر کی قید موجود ہے، اور ان میں سخت وعید آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا۔
② جبکہ دوسری قسم وہ احادیث ہیں جن میں تکبر کی کوئی قید نہیں بلکہ حکم عام ہے۔
حدثنا آدم، حدثنا شعبة، حدثنا سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن أبي هريرة ـرضى الله عنهـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما أسفل من الكعبين من الإزار ففي النار۔
سیدنا ابو ہریرہ رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ازار کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ آگ میں ہوگا۔ [صحيح البخاري: 5787]
اس حدیث کی علماء نے مختلف انداز سے تشریح کی ہے۔
ایک تشریح یہ کی گئی ہے کہ کپڑے کے نیچے آنے والا پاؤں کا حصہ آگ میں جائے گا، اور جب جسم کا ایک حصہ عذاب میں ہوگا تو ظاہر ہے کہ پورا انسان اس وعید سے محفوظ نہیں رہتا۔
اس مسئلے کو مزید واضح کرنے والی ایک اور حدیث ملاحظہ فرمائیں:
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، قال سألت أبا سعيد الخدري عن الإزار، فقال على الخبير سقطت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ” إزرة المسلم إلى نصف الساق ولا حرج – أو لا جناح – فيما بينه وبين الكعبين ما كان أسفل من الكعبين فهو في النار من جر إزاره بطرا لم ينظر الله إليه۔
عبدالرحمن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابو سعید خدری رضي الله عنه سے ازار کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: تم صحیح آدمی کے پاس آئے ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کا ازار آدھی پنڈلی تک ہونا چاہیے، اور آدھی پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہو تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن جو ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ آگ میں ہوگا۔ اور جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنا ازار گھسیٹے گا، اللہ قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہیں کرے گا۔
[سنن أبي داود: 4093]،[سنن ابن ماجه: 3573]،[مسند أحمد: 11010]
غور کیجیے! اس ایک حدیث میں دو الگ صورتیں اور دو الگ وعیدیں بیان ہوئی ہیں:
① بغیر تکبر کپڑا ٹخنوں سے نیچے رکھنا
وعید: جو ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ آگ میں ہوگا۔
② تکبر کے ساتھ کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانا
وعید: اللہ قیامت کے دن اس کی طرف نظرِ رحمت سے نہیں دیکھے گا۔
(یعنی) حدیث نے دونوں صورتوں کو الگ الگ ذکر کیا ہے اور دونوں پر وعید سنائی ہے۔
اسی بنا پر علماء کی ایک بڑی جماعت کا موقف ہے کہ تکبر نہ بھی ہو تب بھی مرد کے لیے کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانا جائز نہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضي الله عنهما کی حدیث میں ملتا ہے:
حدثني أبو الطاهر، حدثنا ابن وهب، أخبرني عمر بن محمد، عن عبد الله بن، واقد عن ابن عمر، قال مررت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي إزاري استرخاء فقال: يا عبد الله ارفع إزارك. فرفعته ثم قال زد . فزدت فما زلت أتحراها بعد . فقال بعض القوم إلى أين فقال أنصاف الساقين۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضي الله عنهما بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا جبکہ میرا تہبند نیچے لٹک رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: عبداللہ! اپنا تہبند اوپر کرو’ میں نے اوپر کر لیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اور اوپر کرو۔ تو میں نے مزید اوپر کر لیا۔ اس کے بعد میں ہمیشہ اس کا خیال رکھتا تھا۔ لوگوں نے پوچھا: کہاں تک؟ آپ ﷺ نے فرمایا: آدھی پنڈلی تک۔ [صحيح مسلم: 2086]،[كتاب الكبائر للذهبي، ص: 131-132]
اس حدیث میں کہیں بھی تکبر کا ذکر نہیں۔
نبی ﷺ نے سیدنا ابن عمر رضي الله عنهما کو کپڑا اوپر کرنے کا حکم دیا، حالانکہ آپ ﷺ نے ان پر تکبر کا الزام نہیں لگایا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ ممانعت صرف تکبر کی صورت میں ہے، کیا وہ یہ کہیں گے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضي الله عنهما تکبر کی نیت سے اپنا تہبند نیچے رکھتے تھے؟ یقیناً نہیں۔ پھر بھی رسول اللہ ﷺ نے انہیں کپڑا اوپر کرنے کا حکم دیا۔
یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے میں علماء کی ایک بڑی جماعت ان احادیث کو عام مانتی ہے اور مردوں کے لیے ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے کو ناجائز قرار دیتی ہے، چاہے تکبر کی نیت ہو یا نہ ہو۔
علامہ قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وقوله ﷺ: ارفع إزارك، يدل: على أن هذا لا يقر بل ينكر؛ وإن أمكن أن يكون من فاعله غلطا وسهوا.
نبی ﷺ کا فرمان: اپنا ازار اوپر کرو، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس عمل کو برقرار نہیں رہنے دیا جائے گا بلکہ اس پر نکیر کی جائے گی، اگرچہ کرنے والے سے یہ غلطی یا بھول سے ہی ہوا ہو۔ [المفهم: 5/406]
پھر نبی ﷺ نے واضح الفاظ میں فرمایا:
وارفع إزارك إلى نصف الساق فإن أبيت فإلى الكعبين وإياك وإسبال الإزار فإنها من المخيلة وإن الله لا يحب المخيلة۔
ابو جری جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
اپنا تہبند آدھی پنڈلی تک رکھو۔ اگر اتنا نہ کر سکو تو ٹخنوں تک رکھو۔ اور تہبند لٹکانے سے بچو، کیونکہ یہ تکبر میں سے ہے اور اللہ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔ [سنن أبي داود: 4084]
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے کپڑا لٹکانے کو خود تکبر کے کاموں میں سے قرار دیا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وحاصله أن الإسبال يستلزم جر الثوب، وجر الثوب يستلزم الخيلاء، ولو لم يقصد اللابس الخيلاء.
خلاصہ یہ ہے کہ کپڑا نیچے لٹکانا، کپڑا گھسیٹنے کو لازم کرتا ہے اور کپڑا گھسیٹنا تکبر کو لازم کرتا ہے، چاہے آدمی تکبر کی نیت نہ بھی رکھتا ہو۔
[فتح الباري:10/264]
اس کے بعد ایک اور حدیث ملاحظہ کیجیے:
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، أنبأنا شريك، عن عبد الملك بن عمير، عن حصين بن قبيصة، عن المغيرة بن شعبة، قال قال رسول الله ـ صلى الله عليه وسلم ـ ” يا سفيان بن سهل لا تسبل فإن الله لا يحب المسبلين.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے سفیان بن سہل! اپنا کپڑا نیچے مت لٹکاؤ، کیونکہ اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے کپڑے ٹخنوں سے نیچے لٹکاتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه: 3574]
غور کیجیے، یہاں بھی تکبر کی کوئی قید موجود نہیں۔ صرف کپڑا نیچے لٹکانے پر اللہ کی ناپسندیدگی بیان کی گئی ہے۔
اسی طرح سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
حدثنا قتيبة، حدثنا أبو الأحوص، عن أبي إسحاق، عن مسلم بن نذير، عن حذيفة، قال أخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بعضلة ساقي أو ساقه فقال: هذا موضع الإزار فإن أبيت فأسفل فإن أبيت فلا حق للإزار في الكعبين۔
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے میری پنڈلی کو پکڑا اور فرمایا: یہ ازار کی جگہ ہے۔ اگر اور نیچے کرنا ہو تو تھوڑا اور نیچے کر لو، لیکن ازار کا ٹخنوں پر کوئی حق نہیں۔ [سنن الترمذي: 1783]
یہ الفاظ نہایت واضح ہیں۔ جب نبی ﷺ فرما رہے ہیں کہ ازار کا ٹخنوں پر ہی کوئی حق نہیں، تو ٹخنوں سے نیچے ہونے کا حکم اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔
اس مسئلے میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل بھی قابلِ غور ہے۔
تکبر دل کا معاملہ ہے، اور دلوں کے حالات اللہ ہی جانتا ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس وحی نہیں آتی تھی کہ وہ ہر شخص کے دل کا حال جان سکیں، اس کے باوجود وہ لوگوں کو ٹخنوں سے نیچے کپڑا رکھنے پر ٹوکتے تھے۔
یہ اس بات کی مضبوط دلیل ہے کہ وہ اس حکم کو صرف تکبر کے ساتھ خاص نہیں سمجھتے تھے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنا کپڑا نیچے لٹکا رہا تھا۔
انہوں نے اس سے پوچھا: تم کس قبیلے سے ہو؟ اس نے اپنا تعارف کروایا اور معلوم ہوا کہ وہ قبیلۂ لیث سے تھا۔
وحدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، قال سمعت مسلم، بن يناق يحدث عن ابن عمر، أنه رأى رجلا يجر إزاره فقال ممن أنت فانتسب له فإذا رجل من بني ليث فعرفه ابن عمر قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم بأذنى هاتين يقول: من جر إزاره لا يريد بذلك إلا المخيلة فإن الله لا ينظر إليه يوم القيامة.
اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے اپنے ان دو کانوں سے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنا کپڑا گھسیٹتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہیں کرے گا۔ [صحيح مسلم: 2085]
یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس شخص کو کپڑا نیچے لٹکانے پر ٹوکا، حالانکہ انہیں اس کے دل کا حال معلوم نہیں تھا۔ پھر دلیل میں تکبر والی حدیث پیش کی۔
یہی طرزِ عمل بتاتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اس حکم کو عملی طور پر عام سمجھتے تھے اور کپڑا نیچے لٹکانے پر نکیر کرتے تھے۔
اسی طرح سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور بھی متعدد واقعات منقول ہیں جن میں انہوں نے لوگوں کو ٹخنوں سے نیچے کپڑا رکھنے پر تنبیہ فرمائی۔
[التمهيد لابن عبد البر: 247/3]
اور دیکھیے: جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شدید زخمی تھے، شہادت کا وقت قریب تھا، تب بھی انہوں نے اس سنت کی فکر نہیں چھوڑی۔
وجاء رجل شاب، فقال: أبشر يا أمير المؤمنين ببشرى الله لك… فلما أدبر إذا ثوبه يمس الأرض، قال: ردوا علي الغلام… قال: ابن أخي ارفع ثوبك، فإنه أبقى لثوبك، وأتقى لربك
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک نوجوان سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کی تعریف کی۔ جب وہ واپس مڑا تو اس کا کپڑا زمین کو لگ رہا تھا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس نوجوان کو میرے پاس واپس لاؤ۔ جب وہ واپس آیا تو فرمایا: میرے بھتیجے! اپنا کپڑا اوپر کر لو۔ یہ تمہارے کپڑے کو زیادہ محفوظ رکھے گا اور تمہارے رب سے زیادہ ڈر پیدا کرے گا۔ [صحيح البخاري: 3700]
ذرا سوچئے!
کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس نوجوان کے دل کا حال معلوم تھا؟ ہرگز نہیں۔ کیا وہ نوجوان تکبر کا مظاہرہ کر رہا تھا؟
ظاہر حالات تو اس کے برعکس تھے، کیونکہ وہ ایک زخمی اور وفات کے قریب صحابی کی تعریف کر رہا تھا۔
اس کے باوجود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کپڑا اوپر کرنے کا حکم دیا۔
یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اس حکم کو عام سمجھتے تھے اور اسے صرف تکبر کے ساتھ مخصوص نہیں کرتے تھے۔
أخبرنا سويد بن نصر، قال: أنبأنا عبد الله بن المبارك، عن موسى بن علي بن رباح، قال: سمعت أبي يقول: أخبرني عبيد بن خالد، قال: بينا أنا أمشي، وإذا رجل خلفي يقول: «ارفع إزارك، فإنه أنقى وأبقى». فإذا هو رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله، إنما هي بردة ملحاء. قال: «أما لك في أسوة؟» فنظرت فإذا إزاره إلى نصف ساقيه.
سیدنا عبید بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں چل رہا تھا اور میری چادر نیچے گھسٹ رہی تھی۔ ایک شخص نے مجھے آواز دی: ‘اپنا کپڑا اوپر کرو، یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزگی اور زیادہ بقا کا سبب ہے۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ ﷺ تھے۔
میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! یہ تو صرف دھاریوں والی چادر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے لیے میری ذات میں نمونہ نہیں؟ عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ کا کپڑا آدھی پنڈلی تک تھا۔ [السنن الكبرى للنسائي: 9602]
اس حدیث میں غور کیجیے۔
صحابی رضی اللہ عنہ نے کوئی تکبر والی بات نہیں کی تھی، نہ ہی نبی ﷺ نے ان سے یہ پوچھا کہ تم تکبر کی وجہ سے کپڑا نیچے رکھتے ہو یا نہیں۔ بلکہ سیدھا حکم دیا: اپنا کپڑا اوپر کرو۔ اور جب انہوں نے اپنے کپڑے کی نوعیت بیان کی تو نبی ﷺ نے اپنی سنت اور اپنے عمل کی طرف رہنمائی فرمائی اور بتایا کہ اصل نمونہ آپ ﷺ کا طریقہ ہے۔ اسی لیے صحابی نے خاص طور پر یہ بات نقل کی کہ نبی ﷺ کا کپڑا آدھی پنڈلی تک تھا۔
حدثنا إسحاق بن سلیمان، عن أبی سنان، عن أبی إسحاق، قال: رأیت ناسا من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یأتزرون علی أنصاف سوقہم، فذکر أسامۃ بن زید، وابن عمر، وزید بن أرقم ، والبرائ بن عازب۔
ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے نبی ﷺ کے بہت سے صحابہ کو دیکھا جو اپنا ازار آدھی پنڈلی تک باندھتے تھے۔ پھر انہوں نے اسامہ بن زید، عبداللہ بن عمر، زید بن ارقم اور براء بن عازب رضی اللہ عنہم کا ذکر کیا۔ [مصنف ابن أبي شيبة: 26443]
یہ صرف ایک یا دو صحابہ کا عمل نہیں تھا بلکہ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا معمول یہی تھا کہ کپڑا آدھی پنڈلی تک رکھا جائے۔ اسی لیے علماء نے لکھا ہے کہ: نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا افضل اور معمول کا طریقہ آدھی پنڈلی تک کپڑا رکھنا تھا۔
البتہ آدھی پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان تک کپڑا رکھنا بھی جائز ہے۔
لیکن مردوں کے لیے ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا ممنوع ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سنت کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
شبہ نمبر: 1
کچھ احادیث میں تکبر کی شرط کیوں لگائی گئی ہے؟
جواب:
بعض لوگ کہتے ہیں کہ چونکہ کچھ احادیث میں تکبر کا ذکر آیا ہے، اس لیے بغیر تکبر کے ٹخنوں سے نیچے کپڑا رکھنا جائز ہونا چاہیے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ تکبر کی قید اس لیے ذکر کی گئی تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ جو شخص تکبر کے ساتھ اسبال کرتا ہے، اس کا گناہ اور اس کی سزا زیادہ سخت ہے۔
علامہ سندھی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أي: لا تستر الكعبين بالإزار، والظاهر أن هذا هو التحديد وإن لم يكن هناك خيلاء، نعم إذا انضم إلى الخيلاء اشتد الأمر، وبدونه الأمر أخف، والله تعالى أعلم.
ظاہر بات یہ ہے کہ ٹخنوں سے نیچے کپڑا رکھنا اس وقت بھی ممنوع ہے جب تکبر نہ ہو۔ ہاں! اگر تکبر بھی ساتھ شامل ہو جائے تو معاملہ اور زیادہ سخت ہو جاتا ہے۔
[حاشية السندي على سنن النسائي: 207/8 رقم:5329]
شبہ نمبر: 2
جب حدیث میں تکبر کی قید موجود ہے تو جس میں تکبر نہ ہو اُس پر حکم لاگو نہیں ہوگا؟
جواب:
اصولِ فقہ کا یہ قاعدہ ہر جگہ لاگو نہیں ہوتا۔
مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم]
تم پر تمہاری وہ سوتیلی بیٹیاں حرام ہیں جو تمہاری پرورش میں ہوں۔ [سورة النساء: 23]
یہاں: تمہاری پرورش میں ہوں” کی قید اس لیے ذکر ہوئی کیونکہ عام طور پر سوتیلا باپ اپنی بیوی کی سابقہ اولاد کی پرورش کرتا ہے۔
لیکن اگر کسی شخص نے اپنی سوتیلی بیٹی کی پرورش نہ بھی کی ہو تب بھی اس سے نکاح حرام ہی رہے گا۔
بالکل اسی طرح علامہ صنعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وأما التقييد بالخيلاء في بعض الأحاديث، فلأنه جرى على الغالب؛ إذ غالب من يجر ثوبه إنما يجره خيلاء، والحكم إذا جرى على الغالب لم يكن له مفهوم مخالف.
یعنی بعض احادیث میں "تکبر”کی قید اس لیے آئی ہے کیونکہ عام طور پر لوگ اپنا کپڑا تکبر کی وجہ سے نیچے لٹکایا کرتے تھے۔ لہٰذا اگر کسی روایت میں یہ قید نہ ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ حکم الٹ جائے گا اور بغیر تکبر کے اسبال جائز ہو جائے گا۔
[استيفاء الأقوال: ص:41-42]
مزید یہ بات اُس حدیث سے بھی مضبوط ہوتی ہے جس میں خود کپڑا لٹکانے کو تکبر کے اعمال میں شمار کیا گیا ہے۔
شبہ نمبر: 3
جن احادیث میں تکبر کی قید ہے، انہیں ان احادیث پر لاگو کرنا چاہیے جن میں یہ قید موجود نہیں؟
جواب:
یہ فقہی قاعدہ بعض مقامات پر تو لاگو ہوتا ہے، لیکن ہر جگہ نہیں۔
ایک دوسرا اصول یہ بھی ہے کہ: عام حدیث کو اس کے عموم پر رکھا جائے گا اور مقید حدیث کو اس کی قید کے ساتھ۔
یعنی: جو حدیث مطلق اور عام ہے، اس پر اسی طرح عمل کیا جائے گا۔
اور جو حدیث تکبر کی قید کے ساتھ ہے، اس پر اسی قید کے ساتھ عمل کیا جائے گا۔
اس کی مضبوط دلیل سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ والی حدیث ہے جس میں دونوں صورتیں ایک ہی حدیث میں جمع کر دی گئی ہیں:
ٹخنوں سے نیچے کپڑا رکھنا۔
تکبر کے ساتھ کپڑا گھسیٹنا۔
اور دونوں کے لیے الگ الگ سزا بیان کی گئی ہے۔
علامہ صنعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فدلت الأحاديث على أن ما تحت الكعبين في النار، وهو يفيد التحريم، ودلت أحاديث جر الثوب خيلاء على أن الله لا ينظر إليه، وهو يفيد التحريم أيضا، فأفادت هذه زيادة عقوبة للمتكبر، وبطل بهذا قول من قال: إن التحريم مشروط بالخيلاء.
احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کپڑا ٹخنوں سے نیچے ہو وہ آگ میں ہے، اور یہ حرمت کو لازم کرتا ہے۔ اسی طرح وہ احادیث جن میں تکبر کے ساتھ کپڑا گھسیٹنے کا ذکر ہے، ان میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور قیامت کے دن نظرِ رحمت نہ فرمانے کی وعید ہے، اور یہ بھی حرمت کو لازم کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ متکبر شخص کے لیے ایک اضافی اور زیادہ سخت سزا ہے۔ لہٰذا یہ دعویٰ باطل ہے کہ حرمت صرف تکبر کی صورت میں ہے۔”
[استيفاء الأقوال: ص:26]
مزید یہ کہ بعض اصولیین نے وضاحت کی ہے کہ جب معاملہ ممانعت اور حرمت کا ہو تو عام نص کو مقید نص پر قیاس کرکے محدود کرنا درست نہیں ہوتا۔
[إحكام الأحكام لابن دقيق العيد، 1/60]،[البحر المحيط للزركشي: 430/3- 431]
سب سے مشہور شبہ 4:
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی حدیث
حدثنا أحمد بن يونس ، حدثنا زهير ، حدثنا موسى بن عقبة ، عن سالم بن عبد الله ، عن أبيه رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: من جر ثوبه خيلاء، لم ينظر الله إليه يوم القيامة، قال أبو بكر: يا رسول الله إن أحد شقي إزاري يسترخي إلا أن أتعاهد ذلك منه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لست ممن يصنعه خيلاء.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کی طرف نظر نہیں فرمائے گا جو تکبر کے ساتھ اپنا کپڑا گھسیٹتا ہے۔ اس پر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! میرے تہبند کا ایک کنارہ نیچے ہو جاتا ہے، الا یہ کہ میں مسلسل اس کا خیال رکھوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو یہ کام تکبر کی وجہ سے کرتے ہیں۔
[صحيح البخاري: 5784]
بہت سے لوگ اسی حدیث کو اپنی سب سے مضبوط دلیل سمجھتے ہیں، لیکن غور کیا جائے تو یہ حدیث درحقیقت ان کے موقف کے خلاف دلیل بنتی ہے۔
اس حدیث سے کیا باتیں معلوم ہوتی ہیں؟
① ابو بکر رضی اللہ عنہ کا صرف ایک کنارہ نیچے ہو جاتا تھا۔
[وإنما كان يسترخي إزار أبي بكر -رضي الله عنه- من أحد شقيه؛ لأنه لم يكن يتعمد ذلك] وہ جان بوجھ کر دونوں طرف سے کپڑا نیچے نہیں رکھتے تھے۔
[التمهيد لابن عبد البر، 3/247]
② وہ جان بوجھ کر ایسا نہیں کرتے تھے۔
[وإنما كان يسترخي إزاره لنحافته من غير تعمد منه] سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ جسمانی طور پر دبلے پتلے تھے، اس لیے کپڑا کبھی کبھار خود بخود نیچے سرک جاتا تھا۔ [شرح الكرماني، 21/53]،[عمدة القاري، 21/438]،[منحة الباري، 9/76]
③ جب کپڑا نیچے ہوتا تو فوراً اوپر کر لیتے تھے۔
[وكان أبو بكر رضي الله عنه يتعاهده ويرفعه إذا استرخى.] سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنے تہبند کی مسلسل نگرانی رکھتے تھے؛ جب وہ ڈھیلا ہو کر نیچے سرک جاتا تو اسے فوراً اوپر کر لیتے تھے۔ [عمدة القاري، 21/438]
④ ابو بکر رضی اللہ عنہ کو یقین تھا کہ وہ تکبر کی وجہ سے ایسا نہیں کرتے، پھر بھی انہوں نے سوال کیا۔
[وسؤال أبي بكر رضي الله عنه كان بعد علمه بأنه لا يفعله خيلاء، فلو كان الحكم مقصورا على الخيلاء لما كان لسؤاله معنى.] اگر حکم صرف متکبر لوگوں کے ساتھ خاص ہوتا تو پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ کے سوال کا کوئی معنی ہی نہ بنتا۔ [فيض الباري، 6/72]
⑤ نبی ﷺ وحی کے ذریعے لوگوں کے دلوں کا حال جان سکتے تھے۔
اسی لیے آپ ﷺ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہی دی۔
لیکن آج کوئی شخص کسی دوسرے کے دل کا حال نہیں جانتا۔
⑥ بعض علماء کے نزدیک یہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خاص فضیلت اور خصوصی رخصت تھی۔
یہ فضیلت نہ عمر رضی اللہ عنہ کو ملی، نہ عثمان رضی اللہ عنہ کو اور نہ علی رضی اللہ عنہ کو۔
تو پھر ہم اپنے لیے ایسی گواہی کیسے ثابت کر سکتے ہیں؟
⑦ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کپڑا غیر ارادی طور پر نیچے ہو جائے تو آدمی گناہگار نہیں ہوگا۔
لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کوئی شخص جان بوجھ کر اپنا کپڑا ٹخنوں سے نیچے رکھے۔
⑧ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو "کتاب اللباس” میں ذکر کیا ہے۔
یعنی یہ صرف تکبر کے مسئلے سے متعلق نہیں بلکہ لباس کے عمومی احکام سے بھی تعلق رکھتی ہے۔
⑨ اس حدیث کے راوی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما خود ہمیشہ اپنا کپڑا آدھی پنڈلی تک رکھتے تھے۔
اور ان سے کبھی یہ منقول نہیں کہ انہوں نے کسی شخص کو جان بوجھ کر ٹخنوں سے نیچے کپڑا رکھنے کی اجازت دی ہو۔
⑩ بلکہ ایک مرتبہ انہوں نے عبداللہ بن واقد کو کپڑا اوپر کرنے کا حکم دیا۔
وروى عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر: أنه رأى على عبد الله بن واقد ثوبا جديدا يجره، فقال: ارفع ثوبك. فقال: يا أبا عبد الرحمن، إن بساقي ضرعا (أو قروحا). فقال: ارفع ثوبك؛ فإن كل ثوب أسفل من الكعبين في النار.
عبداللہ بن واقد نے عرض کیا: میری ٹانگوں میں زخم ہیں۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پھر بھی اپنا کپڑا اوپر کرو، کیونکہ ہر وہ کپڑا جو ٹخنوں سے نیچے ہو، آگ میں ہے۔
اس پر ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فهذا ابن عمر قد كره ذلك على كل حال.
یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہر حال میں کپڑا نیچے لٹکانے کو ناپسند کرتے تھے۔ [التمهيد لابن عبد البر:3/247]
شبہ نمبر: 5
ہم تکبر کی وجہ سے نہیں کرتے۔
جواب:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ] اپنے آپ کو پاک صاف قرار مت دو۔ اللہ زیادہ جانتا ہے کہ کون متقی ہے۔ [سورۃ النجم: 32]
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قال قاضي أبو بكر بن العربي: لا يجوز للرجل أن يجوز ثوبه كعبيه ويقول: لا أجره خيلاء، لأن النهي قد تناوله لفظا، ولا يجوز لمن تناوله اللفظ حكما أن يقول: لا أمتثل لأن تلك العلة ليست في، فإنها دعوى غير مقبولة، بل جر ثوبه يدل على مخيلته.
قاضی ابو بکر ابن العربی نے کہا: کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنا کپڑا ٹخنوں سے نیچے رکھے اور پھر کہے کہ میں تکبر کی وجہ سے نہیں کرتا۔ کیونکہ نص کا حکم اس صورت کو بھی شامل ہے۔ یہ دعویٰ قبول نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ ٹخنوں سے نیچے کپڑا رکھنا خود تکبر کی علامت ہے۔ [فتح الباري:264/10]
اور اسی مقام پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث سے استدلال کیا: کپڑا لٹکانے سے بچو، کیونکہ یہ تکبر میں سے ہے۔ [فتح الباري:264/10]
اور اگر مان لیا جائے کہ ہر صورت میں تکبر نہ بھی ہو، تب بھی حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ ایسا عمل ہے جس میں تکبر کا بہت زیادہ امکان پایا جاتا ہے۔
[وأقل ما فيه أن يكون مظنة للخيلاء] [فتح الباري:264/10]
آخر میں ایک سوال:
نبی ﷺ نے کئی صحابہ کو کپڑا اوپر کرنے کا حکم دیا۔ کیا ہم کہیں گے کہ وہ صحابہ تکبر کی وجہ سے ایسا کر رہے تھے؟ ہرگز نہیں۔
تو پھر یہ بات واضح ہوئی کہ حکم صرف تکبر والی صورت تک محدود نہیں۔
اور اگر کسی کو یہ کہنے کا حق ہو سکتا تھا کہ: میں تکبر کی وجہ سے نہیں کرتا، تو سب سے پہلے یہ حق ابو بکر رضی اللہ عنہ کو تھا۔
لیکن انہوں نے کبھی اپنی پاکیزگی اور دل کی صفائی کا دعویٰ نہیں کیا۔
تو پھر ہم اور آپ کیسے کر سکتے ہیں؟
واللہ أعلم بالصواب۔
شبہ نمبر: 6
کچھ لوگ ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں آتا ہے:
یزید بن ابی حبیب رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ:
[أخبرنا أنس بن عياض الليثي، عن يزيد بن أبي حبيب، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأتزر، فيرفع إزاره من خلفه، ويرخيه من قدمه.]رسول اللہ ﷺ اپنا ازار آگے کی طرف نیچے رکھتے اور پیچھے کی طرف اوپر اٹھاتے تھے۔ [الطبقات الكبرى لابن سعد:1/395]
امام سیوطی رحمہ اللہ نے اس روایت کو مرسل قرار دیا ہے۔
[رواه ابن سعد في «الطبقات» عن يزيد بن أبي حبيب مرسلا.] [الجامع الصغير مع التنوير، 8/563]
جواب
① یہ روایت مرسل ہے اور محدثین کے نزدیک مرسل حدیث، ضعیف حدیث کی قسم میں سے ہے۔
② مرسل حدیث اس روایت کو کہتے ہیں جس میں تابعی سیدھا نبی ﷺ سے روایت کرے اور درمیان کا راوی ذکر نہ ہو۔
③ یزید بن ابی حبیب رحمہ اللہ تابعی تھے۔ ان کی نبی ﷺ سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔
④ اس لیے سند میں انقطاع موجود ہے اور یہ روایت حجت نہیں بن سکتی۔
شبہ نمبر: 7
عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن محمد بن أبي يحيى، قال حدثني عكرمة، أنه رأى ابن عباس يأتزر فيضع حاشية إزاره من مقدمه على ظهر قدميه ويرفع من مؤخره، قلت لم تأتزر هذه الإزرة؟ قال: رأيت رسول الله ﷺ يأتزرها.
میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے ازار پہنا ہوا تھا۔ سامنے سے اس کا کنارہ پاؤں کے اوپر تک تھا اور پیچھے سے اسے اوپر اٹھایا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا: آپ اس طرح کیوں پہنتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح پہنتے دیکھا ہے۔
[سنن أبي داود: 4096]
کچھ لوگ اس روایت سے دلیل لیتے ہیں کہ کپڑا ٹخنوں سے نیچے رکھنا جائز ہے۔
جواب
① سب سے پہلے، حدیث میں کہیں نہیں لکھا کہ کپڑا ٹخنوں سے نیچے تھا۔
② پاؤں کے اوپر تک کپڑا پہنچنا اور ٹخنوں سے نیچے ہونا دونوں الگ باتیں ہیں۔
③ خاص طور پر جب حدیث میں پیچھے کا حصہ اوپر اٹھایا ہوا تھا۔
④ اور جب اس مسئلے کی دوسری متعدد صحیح احادیث کو سامنے رکھا جائے تو اسی معنیٰ کو ترجیح ملے گی کہ کپڑا ٹخنوں سے نیچے نہیں تھا۔
⑤ اس لیے اس روایت کو ان تمام صحیح روایات کی روشنی میں سمجھا جائے گا، جس کا واضح مطلب نکلتا ہے کہ کپڑا ٹخنوں سے نیچے نہیں تھا۔
شبہ نمبر: 8
کچھ لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضي الله عنه کی روایت پیش کرتے ہیں:
حدثنا وکیع ، عن سفیان، عن منصور، عن أبی وائل، عن ابن مسعود؛ أنہ کان یسبل إزارہ، فقیل لہ، فقال: إنی رجل حمش الساقین۔
ابن مسعود رضي الله عنه اپنا ازار نیچے رکھتے تھے۔ جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں ایسا آدمی ہوں جس کی پنڈلیاں پتلی ہیں۔
[مصنف ابن أبي شيبة: 25313]
جواب
① اس اثر میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ ابن مسعود رضي الله عنه ٹخنوں سے نیچے کپڑا رکھتے تھے۔
صرف اتنا ہے کہ وہ کپڑا کچھ نیچے رکھتے تھے۔
لیکن کتنا نیچے؟ اس کی کوئی وضاحت موجود نہیں۔
اس لیے اس اثر سے ٹخنوں سے نیچے کپڑا رکھنے کی دلیل لینا درست نہیں۔
② اگر کسی کی پنڈلیاں پتلی ہوں تو وہ آدھی پنڈلی سے کچھ نیچے کپڑا رکھ کر انہیں چھپا سکتا ہے۔
اس کے لیے ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا ضروری نہیں۔
③ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمه الله فرماتے ہیں:
ويمكن أن يحمل إسباله على أنه كان لا يجاوز الكعبين، وكان يتجافى عن المستحب وهو نصف الساق، وهذا هو المتعين؛ لأنه لا يظن به مخالفة النهي.
ابن مسعود رضي الله عنه سے جو کپڑا نیچے رکھنا منقول ہے اس سے مراد مستحب حد (آدھی پنڈلی) سے نیچے رکھنا ہے۔ یہ ہرگز تصور نہیں کیا جا سکتا کہ ان کا کپڑا ٹخنوں سے نیچے ہوتا تھا۔
[فتح الباري:264/10]
خلاصہ:
تمام دلائل کو جمع کرنے کے بعد نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ:
◈ مردوں کے لیے جان بوجھ کر ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا منع ہے۔
◈ چاہے تکبر کی نیت ہو یا نہ ہو، دونوں صورتیں احادیث میں مذمت کے ساتھ آئی ہیں۔
◈ ہاں، جو شخص تکبر کے ساتھ ایسا کرے اس کا گناہ اور عذاب زیادہ سخت ہے۔
امام ذہبی رحمه الله کہتے ہیں:
وترى الجاهل يقول: أنا لا أجره خيلاء، ولا يدري أن النفس تعصي، وتزهو، وتزكي نفسها، ويتأول حديثا عاما، ويترخص بقول أبي بكر الصديق: إن أحد شقي إزاري ينفلت.
ونحن نقول: أبو بكر لم يكن يشده هكذا أسفل من الكعبين، بل كان يشده فوق، ثم يسترخي، وقد قال صلى الله عليه وسلم: (إزرة المؤمن إلى نصف ساقه، ولا جناح عليه فيما بين ذلك وبين الكعبين)
آپ کسی جاہل شخص کو دیکھتے ہیں جو کہتا ہے: میں اپنا کپڑا تکبر سے نہیں گھسیٹ رہا۔ اور وہ نہیں جانتا کہ نفس گناہ کرتا ہے، اپنے آپ پر غرور کرتا ہے، اور اپنے آپ کو پاک صاف قرار دیتا ہے۔ وہ ایک عام حدیث کو چھوڑ کر دوسری حدیث سے تاویل نکالتا ہے، اور ابوبکر صدیق رضي الله عنه کے واقعے سے رخصت (اجازت) ڈھونڈتا ہے۔
اور ہم کہتے ہیں: ابوبکر رضي الله عنه جان بوجھ کر اپنا ازار ٹخنوں سے نیچے نہیں باندھتے تھے، بلکہ وہ اسے ٹخنوں سے اوپر باندھتے تھے، پھر وہ (خود بخود) نیچے کھسک جاتا تھا۔ اور نبی ﷺ نے فرمایا:مومن کا ازار اس کی آدھی پنڈلی تک ہے، اور آدھی پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان (کپڑا رکھنے) میں کوئی گناہ نہیں۔
[سير أعلام النبلاء، 3/234]
آخر میں نبی ﷺ کی یہ عظیم حدیث یاد رکھیے:
وحدثنا محمد بن المثنى، ومحمد بن بشار، وإبراهيم بن دينار، جميعا عن يحيى بن حماد، – قال ابن المثنى حدثني يحيى بن حماد، – أخبرنا شعبة، عن أبان بن تغلب، عن فضيل الفقيمي، عن إبراهيم النخعي، عن علقمة، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر۔
جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
[صحيح مسلم: 91]
اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو تکبر سے پاک کرے، ہمارے اعمال کو سنت کے مطابق بنا دے اور ہمیں نبی ﷺ کی ہر سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔