پیشاب پاخانے کو روکتے ہوئے نماز پڑھنے کی ممانعت
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا صلاة بحضرة الطعام ، ولا هو يدافعه الأخبثان
”کھانے کی موجودگی اور پیشاب پاخانے کی حاجت کے وقت نماز نہیں ہوتی۔“
مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلوة 869/67۔ ابوداؤد، كتاب الطهارة 89۔ مسند احمد، باقی مسند الأنصار 6 / 49، حديث 24221۔
② سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
”تم میں سے کوئی اس حالت میں نماز نہ پڑھے کہ وہ اپنے سرین ملا رہا ہو یعنی پیشاب پاخانہ روک رہا ہو۔“
موطا، كتاب النداء للصلوة 1 / 160، حديث 50۔
نماز میں وسوسہ آنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الشيطان إذا سمع النداء بالصلاة أحال له ضراط حتى لا يسمع صوته فإذا سكت رجع فوسوس فإذا سمع الإقامة ذهب حتى لا يسمع صوته فإذا انتهت رجع فوسوس
”جب شیطان نماز کے لیے اذان سنتا ہے تو وہ گوز مارتا ہوا دور چلا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ اس مؤذن کی آواز نہیں سنتا، پس جب وہ خاموش ہو جاتا ہے تو وہ لوٹ آتا ہے اور وسوسے ڈالتا ہے، پھر جب وہ اقامت سنتا ہے تو دوبارہ چلا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ اس کی آواز نہیں سنتا، پس جب وہ اقامت مکمل ہو جاتی ہے تو وہ لوٹ آتا ہے اور وسوسے ڈالتا ہے۔“
بخاری، کتاب الاذان 608۔ مسلم، كتاب الصلوة 389/19۔
نماز میں آمین کہنا
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أمن الإمام فأمنوا فإنه من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه
”جب امام آمین کہے تو تم آمین کہو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے موافقت ہو گئی تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔“
بخاری، کتاب الاذان 780۔ مسلم، كتاب الصلوة 410۔ ابوداؤد، كتاب الصلوة 935۔
② سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہوتے وقت ہمارے کندھوں کو ہاتھ لگاتے اور فرماتے:
استووا ولا تختلفوا فتخلف قلوبكم ليلني منكم أولو الأحلام والنهى ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم
”برابر ہو جاؤ، باہم فرق نہ کرو ورنہ تمہاردے دلوں میں فرق آ جائے گا۔ تم میں سے جو اہل دانش ہیں وہ میرے قریب ہوا کریں۔ پھر جو ان کے قریب ہیں، پھر جو ان کے قریب ہیں۔“
مسلم، كتاب الصلوة 432۔ ابوداؤد، کتاب الصلوة 674۔ النسائی، کتاب الامامة 90/2۔
نماز میں تحمید
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا قال الإمام: سمع الله لمن حمده فقولوا: أللهم ربنا ولك الحمد. فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه
جب امام ”سمع الله لمن حمده“ اللہ نے سن لی جس نے اس کی حمد کی، کہے تو تم کہو: اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے حمد ہے کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو گیا، اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔
بخاری، کتاب الاذان 796۔ مسلم كتاب الصلوة 409۔ ابوداؤد، كتاب الصلوة 848۔ ترمذی 267۔