مضمون کے اہم نکات
اہلِ حدیث کب سے ہیں اور دیوبندیہ و بریلویہ کا آغاز کب ہوا؟
سوال:
ہم لوگ یہ سنتے رہتے ہیں کہ اہل حدیث حضرات انگریزوں کے دور میں شروع ہوئے ہیں۔ پہلے ان لوگوں کا نام ونشان نہیں تھا۔ براہِ مہربانی پاک وہند کے گزشتہ دور کے اہل حدیث علماء کے نام مختصر تعارف کے ساتھ تحریر فرمادیں۔
الجواب:
جس طرح عربی زبان میں [أهل السنة] کا مطلب ہے: سنت والے۔ اسی طرح اہل الحدیث کا مطلب ہے: حدیث والے۔ جس طرح سنت والوں سے مراد صحیح العقیدہ سنی علماء اور اُن کے صحیح العقیدہ عوام ہیں، اسی طرح حدیث والوں سے مراد صحیح العقیدہ محدثین کرام اور اُن کے صحیح العقیدہ عوام ہیں۔ یاد رہے کہ اہلِ سنت اور اہلِ حدیث ایک ہی گروہ کے دو صفاتی نام ہیں۔
صحیح العقیدہ محدثین کرام کی کئی اقسام ہیں۔ مثلاً
[1] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم
[2] تابعین عظام رحمہم اللہ
[3] تبع تابعین
[4] اتباع تبع تابعین
[5] حفاظ حدیث
[6] راویانِ حدیث
[7] شارحین حدیث وغیرہم رحمہم اللہ
صحیح العقیدہ محدثین کے صحیح العقیدہ عوام کی کئی اقسام ہیں۔ مثلاً
[1] بہت پڑھے لکھے لوگ
[2] درمیانہ پڑھے لکھے لوگ
[3] تھوڑا پڑھے لکھے لوگ
[4] ان پڑھ عوام
یہ کل (4+7) گروہ اہلِ حدیث کہلاتے ہیں اور ان کی اہم ترین نشانیاں درج ذیل ہیں۔
[1] قرآن وحدیث اور اجماعِ اُمت پر عمل کرنا۔
[2] قرآن وحدیث اور اجماع کے مقابلے میں کسی کی بات نہ ماننا۔
[3] تقلید نہ کرنا۔
[4] اللہ تعالیٰ کو ساتوں آسمانوں سے اوپر اپنے عرش پر مستوی ماننا۔ كما يليق بشأنه
[5] ایمان کا مطلب دلی یقین، زبانی قول اور جسمانی عمل ماننا۔
[6] ایمان کی کمی بیشی کا عقیدہ رکھنا۔
[7] کتاب وسنت کو سلف صالحین کے فہم پر سمجھنا اور اس کے مقابلے میں ہر شخص کی بات کو رد کر دینا۔
[8] تمام صحابہ، ثقہ و صدوق تابعین، تبع تابعین واتباع تبع تابعین اور تمام ثقہ و صدوق صحیح العقیدہ محدثین سے محبت کرنا۔ وغیر ذلک
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: [صاحب الحديث عندنا من يستعمل الحديث] ہمارے نزدیک صاحبِ حدیث وہ ہے جو حدیث پر عمل کرے۔ (الجامع للخطیب: 186، وسندہ صحیح)
حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: [ونحن لا نعني بأهل الحديث المقتصرين على سماعه أو كتابته أو روايته بل نعني بهم: كل من كان أحق بحفظه ومعرفته وفهمه ظاهرا وباطنا واتباعه باطنا وظاہرا]
اور ہم اہلِ حدیث سے مراد صرف سامعینِ حدیث، کاتبینِ حدیث یا راویانِ حدیث ہی نہیں بلکہ ہم اُن سے ہر وہ شخص مراد لیتے ہیں جو اسے کما حقہ یاد رکھتا ہے، ظاہری و باطنی معرفت و فہم رکھتا ہے، اور باطنی و ظاہری اتباع کرتا ہے۔ (مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ: 4/95)
حافظ ابن تیمیہ کے مذکورہ قول سے بھی اہل حدیث (کثرہم اللہ) کی دو قسمیں ثابت ہیں۔
[1] عاملین بالحدیث محدثین کرام
[2] حدیث پر عمل کرنے والے عوام
حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے مزید لکھا ہے: اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ لوگوں میں سے فرقہ ناجیہ ہونے کا سب سے زیادہ مستحق اہل الحدیث والسنۃ ہیں، جن کا رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کوئی متبوع (امام) نہیں جس کے لئے وہ تعصب رکھتے ہوں۔ (مجموع فتاویٰ: 3/347)
حافظ ابن کثیر نے بعض سلف (صالحین) سے نقل کیا ہے کہ: [ھذا اکبر شرف لأصحاب الحدیث لأن امامہم النبی ﷺ]
(یہ آیت: 71، سورہ بنی اسرائیل) اصحاب الحدیث کی سب سے بڑی فضیلت ہے، کیونکہ ان کے امام نبی ﷺ ہیں۔
(تفسیر ابن کثیر:4/164، الاسراء: 71)
سیوطی نے بھی لکھا ہے: [لیس لأھل الحدیث منقبۃ اشرف من ذلک لأ نہ لا امام لھم غیرہ ﷺ] اہل حدیث کے لئے اس سے زیادہ فضیلت والی کوئی بات نہیں، کیونکہ ان کا آپ ﷺ کے علاوہ دوسرا کوئی امام (متبوع) نہیں۔ (تدریب الراوی: 2/126 نوع: 27)
امام احمد بن حنبل، امام بخاری اور امام علی بن المدینی وغیرہم (رحمہم اللہ) نے اہل الحدیث کو طائفہ منصورہ قرار دیا ہے۔ (دیکھئے معرفۃ علوم الحدیث للحاکم: 2، وصححہ ابن حجر العسقلانی فی فتح الباری: 13/293 تحت ح 7311، مسألۃ الاحتجاج بالشافعی للخطیب: ص 47، سنن ترمذی مع عارضۃ الاحوذی: 9/74 ح 2229)
امام بخاری و امام مسلم کے ثقہ استاذ امام احمد بن سنان الواسطی رحمہ اللہ نے فرمایا: دنیا میں ایسا کوئی بدعتی نہیں جو اہل الحدیث سے بغض نہیں رکھتا۔ (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم: ص 4، وسندہ صحیح)
امام قتیبہ بن سعید الثقفی (متوفی 240ھ بعمر 90 سال) نے فرمایا: جب تو کسی آدمی کو دیکھے کہ وہ اہل الحدیث سے محبت کرتا ہے تو (سمجھ لے کہ) یہ شخص سنت پر ہے۔ (شرف اصحاب الحدیث للخطیب: 143، وسندہ صحیح)
تفصیل کے لئے دیکھئے میری کتاب: تحقیقی مقالات (ج 1 ص 161-174)
حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے: (امام) مسلم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ، ابویعلیٰ اور بزار وغیرہم اہل الحدیث کے مذہب پر تھے، وہ علماء میں سے کسی متعین کے مقلد نہیں تھے… (مجموع فتاویٰ 20/40، تحقیقی مقالات 1/168)
عبارات مذکورہ سے ثابت ہوا کہ اہل حدیث سے مراد دو گروہ ہیں:
[1] صحیح العقیدہ اور تقلید نہ کرنے والے سلف صالحین و محدثین کرام
[2] سلف صالحین اور محدثین کرام کے صحیح العقیدہ اور تقلید نہ کرنے والے عوام
راقم الحروف نے اپنے ایک تحقیقی مضمون میں سو سے زیادہ علمائے اسلام کے حوالے پیش کئے ہیں، جو تقلید نہیں کرتے تھے اور ان میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں:
امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام یحییٰ بن سعید القطان، امام عبداللہ بن المبارک، امام بخاری، امام مسلم، امام ابوداود السجستانی، امام ترمذی، امام ابن ماجہ، امام نسائی، امام ابوبکر بن ابی شیبہ، امام ابوداود الطیالسی، امام عبداللہ بن الزبیر الحمیدی، امام ابو عبید القاسم بن سلام، امام سعید بن منصور، امام بقی بن مخلد، امام مسدد، امام ابویعلیٰ الموصلی، امام ابن خزیمہ، امام ذہلی، امام اسحاق بن راہویہ، محدث بزار، محدث ابن المنذر، امام ابن جریر الطبری اور امام سلطان یعقوب بن یوسف المراکشی المجاہد وغیرہم۔ رحمہم اللہ اجمعین
یہ سب اہل حدیث علماء صدیوں پہلے روئے زمین پر گزر چکے ہیں۔
ابو منصور عبدالقاہر بن طاہر البغدادی نے شام، جزیرہ، آذربائیجان اور باب الابواب وغیرہ کی سرحدوں پر رہنے والوں کے بارے میں فرمایا: وہ تمام اہل سنت میں سے اہل حدیث کے مذہب پر ہیں۔ (اصول الدین:ص317)
ابو عبداللہ محمد بن احمد بن البناء البشاری المقدسی (متوفی 380ھ) نے ملتان کے بارے میں فرمایا: [مذاہبہم: أكثرهم أصحاب حديث] ان کے مذاہب: ان میں اکثریت اہل حدیث ہے۔ (احسن التقاسیم فی معرفۃ الاقالیم: ص 363)
فرقہ دیوبندیہ کا آغاز 1867ء میں مدرسہ دیوبند کے ابتدا کے ساتھ ہوا اور فرقہ بریلویہ کے بانی احمد رضا خان بریلوی جون 1856ء میں پیدا ہوئے تھے۔
[1] فرقہ دیوبندیہ اور فرقہ بریلویہ دونوں کی پیدائش سے بہت پہلے شیخ محمد فاخر بن محمد یحییٰ بن محمد امین العباسی السلفی الٰہ آبادی (متوفی 1164ھ/ 1751ء) تقلید نہیں کرتے تھے۔ بلکہ کتاب وسنت کے دلائل پر عمل کرتے اور خود اجتہاد کرتے تھے۔ (دیکھئے نزہۃ الخواطر: 351/6، 351/2، تحقیقی مقالات 58/2)
[2] شیخ محمد حیات بن ابراہیم السندھی المدنی رحمہ اللہ (متوفی 1163ھ/ 1750ء) تقلید نہیں کرتے تھے اور عمل بالحدیث کے قائل تھے۔
ماسٹر امین اوکاڑوی نے محمد حیات سندھی، محمد فاخر الہ آبادی اور مبارکپوری تینوں کے بارے میں لکھا ہے: ان تین غیر مقلدوں کے علاوہ کسی حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی نے اسکو سہو کا تب بھی نہیں کہا۔ (تجلیات صفدر: 243/2، نیز دیکھئے تجلیات صفدر 355/5)
[3] ابوالحسن محمد بن عبد الہادی السندھی الکبیر رحمہ اللہ (متوفی 1141ھ بمطابق 1729ء) کے بارے میں امین اوکاڑوی نے لکھا ہے: حالانکہ یہ ابوالحسن سندھی غیر مقلد تھا۔ (تجلیات صفدر: 44/6)
یہ سب حوالے ہندوستان پر انگریزوں کے قبضے سے بہت پہلے کے ہیں، لہٰذا آپ نے جن لوگوں سے یہ سنا ہے کہ: اہل حدیث حضرات انگریزوں کے دور میں شروع ہوئے ہیں پہلے ان لوگوں کا نام ونشان نہیں تھا، بالکل جھوٹ اور افتراء ہے۔
رشید احمد لدھیانوی دیوبندی نے لکھا ہے: تقریباً دوسری تیسری صدی ہجری میں اہل حق میں فروعی اور جزئی مسائل کے حل کرنے میں اختلافِ انظار کے پیشِ نظر پانچ مکاتبِ فکر قائم ہو گئے یعنی مذاہب اربعہ اور اہل حدیث۔ اس زمانے سے لے کر آج تک انہی پانچ طریقوں میں حق کو منحصر سمجھا جاتا رہا۔
(احسن الفتاویٰ: ج 1 ص 316)
اس عبارت میں لدھیانوی صاحب نے اہل حدیث کا قدیم ہونا، انگریزوں کے دور سے بہت پہلے ہونا اور اہل حق ہونا تسلیم کیا ہے۔
حاجی امداد اللہ مکی کے ’’خلیفہ مجاز‘‘ محمد انوار اللہ فاروقی ،،فضیلتِ جنگ،، نے لکھا ہے:حالانکہ اہل حدیث کل صحابہ تھے۔
(حقیقۃ الفقہ: حصہ دوم ص 228 مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی)
محمد ادریس کاندھلوی دیوبندی نے لکھا ہے: اہل حدیث تو تمام صحابہ تھے۔ (اجتہاد اور تقلید کی بیمثال تحقیق: ص 48)
میری طرف سے تمام آلِ دیوبند اور تمام آلِ بریلی سے سوال ہے کہ انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی (یعنی ہندوستان پر انگریزی قبضے کے دور) سے پہلے کیا دیوبندی مسلک یا بریلوی مسلک کا آدمی موجود تھا؟ اگر تھا تو صحیح اور صریح صرف ایک حوالہ پیش کریں اور اگر نہیں تھا تو ثابت ہو گیا کہ بریلوی مذہب اور دیوبندی مذہب دونوں، ہندوستان پر انگریزی قبضے کے بعد کی پیداوار ہیں۔
وما علینا الا البلاغ