مسنہ کی عدم دستیابی کی صورت میں
اگر اونٹ، گائے اور بھیڑ، بکری کا دو دانتا جانور ملنا مشکل ہو تو عسرت و تنگی اور مجبوری کی صورت میں بھیڑ کے کھیرے کی قربانی جائز ہے، دلائل آئندہ احادیث ہیں:
① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تذبحوا إلا مسنة، إلا أن يعسر عليكم، فتذبحوا جذعة من الضأن
”تم (قربانی میں) صرف دو دانتا ہی ذبح کرو، البتہ اگر (دو دانتا کا حصول) تمھارے لیے مشکل ہو جائے تو بھیڑ کا کھیرا ذبح کرو۔“
② کلیب بن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كنا فى سفر فحضر الأضحى فجعل الرجل منا يشتري المسنة بالجذعتين والثلاثة، فقال لنا رجل من مزينة، كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى سفر فحضر هذا اليوم، فجعل الرجل يطلب المسنة بالجذعتين والثلاثة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الجذع يوفي مما يوفي منه الثني
”ہم سفر میں تھے کہ عید الاضحیٰ آگئی، چنانچہ ہم میں سے ہر شخص دو یا تین (بھیڑ کے) کھیروں کے عوض دو دانتا (بکری) خریدنے لگا، اس پر مزینہ قبیلے کے ایک آدمی نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں محوِ سفر تھے کہ یہ دن (عید قربان) آ گیا اور ہر شخص دو یا تین (بھیڑ کے) کھیروں کے بدلے دو دانتا (بکری) طلب کرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ بھیڑ کا کھیرا اس کام کو پورا کرتا ہے، جسے دو دانتا (بکری) پورا کرتی ہے۔“
حسن: سنن نسائی، کتاب الضحايا، باب المسنة والجذعة: 4388۔ مستدرک حاکم: 226/4 عاصم بن کلیب اور کلیب بن شہاب صدوق راوی ہیں۔
③ کلیب بن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے بیان کیا:
كنا مع النبى صلى الله عليه وسلم قبل الأضحى بيومين نعطي الجذعتين بالثنية فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الجذعة تجزي ما تجزي منه الثنية
”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اور عید الاضحیٰ سے دو روز قبل دو دانتا (بکری) کے عوض (بھیڑ کے) دو کھیرے دیتے تھے، (اس پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک (بھیڑ کا) کھیرا اس (قربانی) سے کفایت کرتا ہے، جس سے دو دانتا (بکری) کافی ہے۔“
حسن: سنن نسائی، کتاب الضحايا، باب المسنة والجذعة 4389۔ سنن بیہقی 271/9۔ مسند أحمد 368/5
فوائد:
① دو دانتا جانور باسہولت میسر نہ آنے کی صورت میں بھیڑ کے کھیرے کی قربانی جائز ہے۔
② دو دانتا کے میسر نہ آنے کی دو صورتیں ہیں:
① منڈی میں دو دانتا نایاب ہو۔
② منڈی میں دو دانتا جانور کے نرخ انتہائی تیز ہوں۔
بصورتِ دیگر دو دانتا جانور کے باسہولت میسر آنے کی صورت میں بھیڑ کے کھیرے کی قربانی جائز نہیں۔
اگر دو دانتا جانور باآسانی میسر ہو تو:
اگر دو دانتا جانور باآسانی میسر ہو تو بھیڑ کے کھیرے کی قربانی جائز نہیں، بھیڑ کے کھیرے کی قربانی صرف اس وقت جائز ہے، جب دو دانتا جانور کا حصول مشکل ہو، مطلق بھیڑ کا کھیرا کافی نہیں، نیز بھیڑ کے کھیرے کے مطلق جواز کے بارے میں مروی روایات ضعیف اور غیر مستند ہیں۔
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نعم أو نعمت الأضحية الجذع من الضأن، فانتهبها الناس
”بہترین قربانی بھیڑ کا کھیرا ہے (یہ سن کر) لوگ بھیڑ کے کھیرے کو تیزی سے خریدنے لگے۔“
ضعیف: جامع ترمذي، أبواب الأضاحي، باب ما جاء في الجذع من الأضاحي: 1499. مسند أحمد: 444/2. سنن بیہقی: 271/9، کدام بن عبد الرحمن السلمی اور ابو کہاش السلمی مجہول راوی ہیں
② سیدنا بلال بن ابی ہلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يجوز الجذع من الضأن أضحية
”قربانی میں بھیڑ کا کھیرا جائز ہے۔“
ضعیف: مسند أحمد 368/6. سنن ابن ماجہ، کتاب الأضاحي، باب ما يجزئ من الأضاحي: 3139. سنن بیہقی: 271/9 محمد بن ابی یحییٰ اسلمی کی والدہ مجہولہ ہیں.
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
نزل جبريل عليه السلام إلى النبى صلى الله عليه وسلم فقال: كيف رأيت عيدنا؟ فقال: لقد تباهى به أهل السماء، اعلم يا محمد! أن الجذع من الضأن خير من السيد من المعز، وأن الجذع خير من السيد من البقر، وأن الجذع من الضأن خير من السيد من الإبل، ولو علم الله ذبحا خيرا منه فدى به إبراهيم عليه السلام
”جبرائیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (انھیں) پوچھا: ہماری عید کے بارے میں بتائیے (تم اس کی منزلت کیا محسوس کرتے ہو؟) انھوں نے کہا: عید پر آسمان کے فرشتے باہم فخر کرتے ہیں، اے محمد! جان لو کہ بھیڑ کا کھیرا بکری کے دو دانتا سے بہتر ہے، بھیڑ کا جذعہ گائے کے دو دانتا سے افضل ہے اور بھیڑ کا جذعہ اونٹ کے دو دانتے سے بھی بہتر ہے۔ کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ اس (بھیڑ کے کھیرے) سے بہتر کوئی ذبیحہ سمجھتے تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو فدیہ میں وہ جانور دیتے۔“
ضعیف: مستدرک حاکم: 222/4، 233. مسند بزار: 1207. اسحاق بن ابراہیم حنینی ضعیف راوی ہے
④ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الجذع من الضأن خير من السيد من المعز
”بھیڑ کا کھیرا بکری کے دو دانتا سے افضل ہے۔“
ضعیف: مسند أحمد: 402/2۔ مستدرک حاکم 227/4۔ اسحاق بن ابراہیم حنینی ضعیف اور ثمامہ بن وائل بن حصین ابو ثفال مجہول راوی ہے