عقائد اہل السنۃ والجماعۃ
سوال: کیا خضر علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں؟
جواب: خضر علیہ السلام اللہ کے بندے تھے اور کئی ایک محدثین نے بدلائل ثابت کیا ہے کہ وہ اللہ کے نبی تھے۔ امام قرطبی نے کہا وہ جمہور کے نزدیک نبی تھے۔ اس بات کی شہادت قرآنی آیات دیتی ہیں اس لیے بھی کہ نبی اپنے سے کم مقام والے سے علم نہیں سیکھتا اور باطن کے حکم پر انبیاء ہی کو اطلاع دی جاتی ہے اور ان کے آبِ بقا پینے والی کہانی بلا دلیل ہے۔
اللہ تعالیٰ نے کسی کے لیے بھی ہمیشگی نہیں رکھی۔ قرآن اس پر گواہ ہے:
[وَ مَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ الۡخُلۡدَ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مِّتَّ فَہُمُ الۡخٰلِدُوۡنَ]،[کُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَۃُ الۡمَوۡتِ ؕ]
[اور ہم نے تجھ سے پہلے کسی بشر کے لیے ہمیشگی نہیں رکھی، سو کیا اگر تو مر جائے تو یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں]،[ ہر جان موت کو چکھنے والی ہے]
(الأنبیاء:34-35)
ہر ایک نے موت کا جام پینا ہے اور خضر علیہ السلام کی موت پر امام بخاری، ابراہیم الحربي، ابو جعفر ابن المناوی، ابو یعلیٰ بن الفراء، ابو طاہر العبادی اور ابو بکر ابن العربی وغیرہ محدثین نے قطعی حکم صادر کیا ہے اور ان کی دلیل رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے جو آپ ﷺ نے آخری ایام میں فرمایا:
ایک صدی بعد سطحِ زمین پر جو لوگ آج موجود ہیں ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
[مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب بیان معنی قولہ ﷺ: ((على رأس مائة))…… الخ: 2538]
اور سورۂ آل عمران کی آیت (81) میں ہے: اور اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور دانائی عطا کروں پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے جو تمہاری کتاب کی تصدیق کرے تو تمھیں ضرور اس پر ایمان لانا ہوگا اور ضرور اس کی مدد کرنی ہوگی۔ لیکن کسی بھی صحیح خبر میں موجود نہیں کہ سیدنا خضر علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لائے ہوں اور نہ یہ ثابت ہے کہ انہوں نے آپ کے ساتھ مل کر قتال کیا ہو۔ آپ ﷺ نے بدر والے دن فرمایا تھا: اے اللہ! اگر یہ گروہ ہلاک کر دیا گیا تو تیری زمین میں عبادت نہیں کی جائے گی۔
[مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب الإمداد بالملائكة فی غزوۃ بدر: 1763]
اگر سیدنا خضر علیہ السلام موجود ہوتے تو یہ نفی صحیح نہ ہوتی۔ مزید تفصیل صحیح البخاری مع فتح الباری (6/ 434) وغیرہ میں ملاحظہ ہو۔ لہذا سیدنا خضر علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ یہی بات دلائل کی رو سے قوی اور مضبوط ہے۔ اس سلسلے میں کئی شعروں اور حکایتوں میں سیدنا خضر علیہ السلام کی تا قیامت زندگی اور عمرِ خضر کی جو باتیں کی جاتی ہیں وہ سراسر غیر شرعی اور قرآن و حدیث کے خلاف ہیں، جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔