تبلیغی جماعت، فضائلِ اعمال اور عقائد کا قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

تبلیغی جماعت:

تبلیغی جماعت رائیونڈ کے متعلق بھی بحث ضروری ہے، اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل نکات قابل توجہ ہیں:

[1] یاد رہے یہ حنفی دیوبندی ہیں۔ تبلیغی جماعت کے لوگوں سے تبادلہ خیال اکثر ہوتا رہتا ہے،

جن میں عالم پڑھا لکھا طبقہ اور عام ارکانِ تبلیغی جماعت شامل ہیں۔ جب ان سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اس وقت امتِ مسلمہ میں کتنی قسم کا شرک ہو رہا ہے اور عبادت کتنی قسم کی ہو رہی ہے تو آج تک تبلیغی جماعت کا کوئی بھی رکن ایسا نہیں ملا جو ان باتوں کو جانتا ہو۔ یہ بہت افسوسناک بات ہے، توحید و شرک اور ان باتوں کی اقسام اور عبادت کی اقسام کا قرآن وحدیث کی روشنی میں مکمل علم تبلیغی جماعت والوں کو ہونا چاہیے، اگر اسلام کے ان بنیادی عقائد کا بھی کسی شخص کو علم نہ ہو تو وہ تبلیغ کس چیز کی کرے گا۔ اس کی مثال تو ایسی ہے کہ کوئی جہاد کے لیے نکلے، جب میدان گرم ہو تو وہ کہے کہ میرے پاس تو اسلحہ ہی کوئی نہیں۔ یہ بات انتہائی حیران کن ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی تیرہ سالہ مکی زندگی میں اسلام کے انہی بنیادی عقائد کی تبلیغ فرمائی، قرآن وحدیث اس پر گواہ ہیں۔

[2] تبلیغی جماعت کی تین کتابیں فضائلِ اعمال، فضائلِ صدقات اور خاص طور پر فضائلِ درود فوت شدگان اور اہل دنیا کے زندہ افراد کے درمیان رابطہ سے بھری پڑی ہیں۔ یہ باتیں شرک فی العلم اور شرک فی التصرف میں آتی ہیں جیسا کہ پہلے شرک فی العلم، توحید فی العلم اور شرک فی التصرف اور توحید فی التصرف کے تحت بیان ہو چکا ہے، یہ امور غور طلب ہیں۔

[3] تبلیغی جماعت کی مندرجہ بالا کتابوں میں کثرت سے ایسی باتیں لکھی ہیں اور بزرگوں کے ایسے اعمال لکھے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی سنت کے براہِ راست خلاف ہیں، ان باتوں پر غور کی ضرورت ہے۔ مثلا:

(1) فضائلِ اعمال میں لکھا ہے کہ اس کتاب کا آغاز مولانا زکریا نے اس وقت کیا جب وہ دماغی کام کرنے کے قابل نہ تھے۔

(2) تلاوتِ قرآن پاک سے جن مرنے لگے۔

(3) رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اتباع ہر شخص کو نہ کرنا چاہیے۔ (فضائلِ اعمال کی تلقین)

(4) صحابی شافعی المذہب۔ (عجیب منطق)

(5) شہید کی بیوہ سے بغیر عدت دوسرا نکاح۔ (فضائلِ اعمال کا کارنامہ)

(6) حسن رضی اللہ عنہ کو سات سال کی عمر میں چند احادیث یاد تھیں۔

(7) حسین رضی اللہ عنہ کو چھ برس میں صرف آٹھ احادیث یاد تھیں۔

(8) مولوی زکریا کے والد نے صرف دو سال کی عمر میں پاؤ پارہ حفظ کر لیا تھا۔

قرآن جیسی عظیم کتاب سے ہدایت اور رہنمائی لینے سے منع کرنا، فضائل اعمال کو پڑھنے کی تلقین کرنا، اجتماع میں اس کو پھیلانے کی بیعت لینا وغیرہ۔ یہ صرف دعویٰ ہی دعویٰ ہے جبکہ عملی طور پر محبت اپنے بزرگوں کے طریقے سے ہے جن کو پھیلا رہے ہیں۔ لہذا عام مسلمانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا ضروری تھا جس کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کی گئی ہے، اسی طرح تبلیغی جماعت کے اکابرین اور عقیدت مندوں سے بھی درخواست ہے کہ دین کے معاملے کو اپنی انا و ضد اور عزت کا مسئلہ نہ بنائیں اور فضائل اعمال کی اصلاح کر لیں یا پھر اس کو تبلیغ کے لیے پیش نہ کریں اور اس سے بہتر کتاب قرآن کریم کو دعوت و تبلیغ کے لیے پڑھیں اور سنائیں۔ اسی طرح تبلیغی اجتماعات میں بعض رسومات اور بدعات پر قائم رہنے کی بجائے ان کی اصلاح کر لیں:

[1] آیاتِ قرآنی کی تحریف کا دھندہ ترک کر کے قرآن کریم کو اسی طرح پیش کریں جس طرح اللہ نے اتارا اور نبی ﷺ نے امت کو سمجھایا۔

[2] جہاد کی مخالفت چھوڑ دیں اور لوگوں کو کفر کے خلاف لڑنے کے لیے تیار کریں، تاکہ زمین سے فتنے ختم ہوں، اسلام غالب ہو، مسلمان آزادی کے ساتھ اللہ کے دین پر عمل کر سکیں اور دنیا میں امن قائم ہو۔ اللہ ہمیں دینِ اسلام کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور خاتمہ ایمان پر کرے اور موتِ شہادت کی نصیب فرمائے۔ آمین!!

[3] ہم نے کئی دفعہ عملی طور پر آزمایا کہ تبلیغی جماعت رائیونڈ والے نہ قرآن سناتے ہیں اور نہ سنتے ہیں، نہ احادیث کی کتابیں سنتے ہیں اور نہ سناتے ہیں۔ آزمائش شرط ہے۔

[4] اور آج کل امتِ مسلمہ میں جو شرک و کفر اور بدعات کی بھر مار ہے اس کا ذکر تک نہیں کرتے۔ اہل باطل سے اس قسم کی معرکہ آرائی اور مناظرے ہمیشہ اہل حق کا سرمایہ عمل رہے ہیں اور یہ بات کہ ان مناظروں میں کسی نے کفر و الحاد سے کھلی توبہ نہ کی، آئندہ مناظروں کی راہ میں کبھی رکاوٹ نہ بن سکی۔ یہ سب انبیاء کی سنت ہے۔ عمل بالمعروف  کے ساتھ نہی عن المنکر کی تبلیغ سنتِ انبیاء ہے۔ اگر آپ عمل بالمعروف کی تاکید کریں اور نہی عن المنکر کا ذکر تک نہ کریں تو یہ سنتِ انبیاء تو نہیں ہو سکتی بلکہ یہ تو طریقۂ یہود تھا جس پر قرآن نے یوں تنقید کی ہے:

کیا تم کتاب کے بعض حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے بعض کا انکار کرتے ہو۔ [البقرة:85]

رسول اللہ ﷺ نے تو نہی عن المنکر کے ساتھ اہل باطل کے فتنوں کا توڑ کرنے کا بھی بڑی صراحت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ [مسلم کتاب الایمان، باب بیان کون النهی عن المنكر من الايمان.. الخ 80/ 50، 78/49]

فضائل اعمال کے مختلف ایڈیشنوں کے حوالہ جات

[1] اس کتاب کا آغاز مولانا زکریا نے اس وقت کیا جب وہ دماغی کام کرنے کے قابل نہ تھے۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 7]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 6]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 7]

[2] تلاوت قرآن سے جن مرنے لگے۔ (انوکھا انداز)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 38]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 40]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 38]

[3] نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی اتباع ہر شخص کو نہ کرنا چاہیے۔ (فضائل اعمال کی تلقین)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 45]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 47]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 44]

[4] صحابی شافعی المذہب۔ (عجیب منطق)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 59]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 52]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 58]

[5] شہید کی بیوہ سے بغیر عدت دوسرا نکاح۔ (فضائل اعمال کا کارنامہ)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 127]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 133]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 125]

[6] حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو سات سال کی عمر میں چند احادیث یاد تھیں

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 162]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 149]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 158]

[7] حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو چھ برس میں صرف آٹھ احادیث یاد تھیں۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 163]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 170]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 159]

[8] مولوی زکریا کے والد نے صرف دو سال کی عمر میں پاؤ پارہ حفظ کر لیا تھا۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 164]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 171]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 160]

[9] قوائد و ضوابط سے بالاتر

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 5]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 547]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 5]

[10] پندرہ علوم پر مہارت کے بغیر قرآن کا بیان ممنوع ہے۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 15]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 559]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 15]

[11] عشق۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 6]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 548]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 6]

[12] پندرھواں علم وہبی ہے جس کا شاید کوئی دعوے دار نہ ہو۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 16]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 561]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 16]

[13] عشق کی ممانعت بھی اور دوسرے مقامات پر فضیلت بھی۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 37]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 568-87]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 37]

[14] روزانہ آٹھ قرآن ختم۔ (فضائل اعمال کا ریکارڈ)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 45]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 597]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 45]

[15] قرآن سے مذاق۔ (سارا قرآن ایک نقطہ میں)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 50]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 603]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 50]

[16] عشق پیدا کرنے کی تدبی۔ عشق مبارک دولت ہے۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 58]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 614]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 58]

[17] محبوبہ برقع میں، آنکھیں اوپر ہی سے ٹھنڈی کرے گا۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 66]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 623]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 66]

[18] محبوب کی ہر ادا بھاتی ہے۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 8]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 200]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 7]

[19] گرتے پانی سے جھڑتے گناہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ دیکھ لیتے تھے۔ (فضائل اعمال کا دعویٰ)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 15]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 208]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 14]

[20] نبی پر موت مگر اپنے بزرگ مرتے نہیں۔ (فضائل اعمال کی دو رخی)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 22]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 261]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 21]

[21] صحابی دو رکعت نماز نہ پڑھ سکا۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 23]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 218]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 21]

[22] زندوں کا عمل مردوں پر پیش ہوتا ہے۔ (ایمان شکن دعویٰ)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 24]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 218]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 62]

[23] ایمان اور کفر کے درمیان فرق۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 26]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 220]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 24]

[24] نبی ﷺ کا ہجرت سے قبل جہادی ذوق۔ (مگر تبلیغی اس کے مخالف ہیں)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 30]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 225]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 28]

[25] سفیان ثوری پر دورہ غلبہ حال۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 42]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 239]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 40]

[26] شیطان سے دھوکا۔ (بزرگ کا کمال)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 37]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 232]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 35]

[27] تین کروڑ نماز کا ثواب۔ (مبالغہ کی حد)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 45]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 242]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 43]

[28] دو سو رکعات روزانہ یا تین سو۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 46]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 243]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 44]

[29] جاہل صوفی۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 56]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 464]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 54]

[30] دن بھر روزہ رات بھر تہجد۔ (بڑا بزرگ)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 63]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 261]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 62]

[31] چیخ ماری اور مرگئی۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 63]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 262]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 26]

[32] چالیس سال تک بے قراری۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 62]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 261]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 61]

[33] قصہ مچھلی کا۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 64]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 263]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 63]

[34] ایک وضو سے بارہ دن ساری نمازیں۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 65]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 264]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 64]

[35] مردہ قبر میں کھڑا ہوگیا۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 67]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 266]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 66]

[36] ایک بزرگ کی بیوی روتی رہی اور وہ عبادت میں مشغول رہا۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 68]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 267]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 67]

[37] پچاس برس تک ایک وضو سے عشاء اور صبح کی نماز پڑھی۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 28]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 267]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 67]

[38] ہمیشہ روزہ سے رہے۔ (خلاف حدیث)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 68]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 267]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 67]

[39] نماز میں بارہ ہزار چیزیں۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 80]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 280]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 79]

[40] رسی سے باندھ لیتے۔ (نبی ﷺ پر بہتان)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 78]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 278]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 78]

[41] ایک ہزار رکعات روزانہ۔ (ریکارڈ)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 83]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 283]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 82]

[42] نماز، ڈھول اور بزرگ۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 85]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 285]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 85]

[43] ظہر سے اگلے دن تک انتظار، بزرگ اور مہمان۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 86]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 286]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 86]

[44] عبادت کا انوکھا انداز

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: ]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: ]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: ]

[45] عشق۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 18]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 307]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 18]

[46] ستو پھانک رہے تھے۔ (بزرگ کا کمال)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 24]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 313]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 24]

[47] قصہ بادشاہ کا۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 30]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 322]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 30]

[48] شیطان اور عابد۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 30]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 322]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 30]

[49] حرم میں لوڈ شیڈنگ۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 35]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 328]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 35]

[50] عشق۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 43]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 239]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 43]

[51] شیطان سے ملاقات۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 43]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 339]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 43]

[52] درس قرآن کی ممانعت۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 68]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 360]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 68]

[53] چیخ ماری اور مرگئی۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 77]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 380]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 77]

[54] جوتیاں سیدھی کرنا پڑتی ہیں۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 81]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 386]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 83]

[55] پچیس ہزار روزانہ۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 83]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 388]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 82]

[56] دو سو مرتبہ ایک سانس میں۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 83]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 388]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 82]

[57] قصہ ایک کافر بادشاہ کا۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 89]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 395]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 90]

[58] بزرگ، سپاہی اور گدھا۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 98]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 405]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 99]

[59] جھڑتے گناہوں کا نظارہ۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 149]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 466]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 150]

[60] استنجے سے اجتناب۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 149]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 466]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 150]

[61] بزرگی میں اضافے کے خطرے کے پیشِ نظر اور ذکر کی ممانعت۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 149]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 465]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 150]

[62] جمادات و حیوانات کی تسبیح۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 150]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 466]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 149]

[63] اللہ کو دیکھنے کا جھوٹا دعویٰ۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 161]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 480]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 161]

[64] جنت اپنے ساز و سامان کے ساتھ۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 162]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 481]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 162]

[65] حدیث تسبیح۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 165]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 485]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 164]

[66] جسے اچھا سمجھتا ہے ان کے قول پر عمل کرے۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 28]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 535]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 28]

[67] پیشہ کرنے کا حکم کرتے۔ (پیشہ کریں)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 31]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 538]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 30]

[68] جنت دوزخ کا نظارہ۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 83]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 388]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 84]

[69] تراویح چھوڑنے پر مقاتلہ۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 6]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 638]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 5]

[70] بزرگوں کی اتباع کی تلقین۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 5]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 641]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 7]

[71] گھر کی عورتوں کو دیکھ کر خوش ہوتا ہوں۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 20]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 656]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 20]

[72] کوفی جماعت جس نے کئی حاکم ہلاک کیے۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 23]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 660]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 23]

[73] پندرہ روز میں ایک مرتبہ کھانا کھایا۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 25]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 663]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 25]

[74] جنت کا لطف حاصل ہو رہا ہے۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 30]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 669]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 31]

[75] عمر بھر نہ روزہ رکھا نہ نماز پڑھی۔ (کرامت)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 33]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 673]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 33]

[76] ایک رات میں پورا قرآن پڑھ دیا۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 39]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 680]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 38]

[77] حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صحابی کو جگایا۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 42]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 686]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 44, 43]

[78] پچاس برس تک ایک وضو سے عشاء اور صبح کی نمازیں پڑھیں۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 39]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 680]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 39]

[79] قبر سے سلام کا جواب سنا۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 19]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 731]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 19]

[80] بیس جہادوں سے زیادہ ثواب۔ (نئی دریافت)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 28]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 742]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 30]

[81] نبی ﷺ کو خواب میں بوڑھا دیکھا یا جوان۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 51]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 769]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 53]

[82] شراب پی۔ (نبی ﷺ پر بہتان)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 51]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 770]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 55]

[83] عمر بھر میں درود ایک بار فرض ہے۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 81]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 807]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 86]

[84] نبی اکرم ﷺ کے داڑھی کے بالوں کی تقسیم۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 93]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 821]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 99]

[85] مردوں سے ملاقات کا طریقہ (70) ہزار بخشے گئے۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 95]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 823]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 100]

[86] ایک بڑا گناہ گار پورے قبرستان کی بخشش کا ذریعہ بن گیا۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 95]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 823]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 100]

[87] کثرتِ درود سے نبی ﷺ گھبرا گئے۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 97]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 825]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 103]

[88] شبلی پاگل اور یامحمد (ﷺ) کی پکار۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 98]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 826]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 104]

[89] منہ کالا۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 99]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 827]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 105]

[90] سود خور سور بن گیا۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 99]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 828]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 105]

[91] منہ کالی کے پیٹ پر نبیﷺ نے ہاتھ پھیرا۔ (نعوذ باللہ!)

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 102]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 831]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 108]

[92] نبی اکرمﷺ کی روح آسمان سے اتری، روٹی ساتھ تھی۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 106]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 835]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 112]

[93] نبی ﷺ کی توجیہات۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 106]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 835]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 112]

[94] داڑھی کے بال ہاتھ میں تھے۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 106]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 835]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 112]

[95] روٹی اور عثمان (رضی اللہ عنہ) کی گستاخی۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 106]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 835]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 113]

[96] زعفران کی خوشبو۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 107]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 836]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 113]

[97] قبر سے مصافحہ کے لیے ہاتھ نکلے گا جس میں فتنہ ہوگا۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 111]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 841]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 117]

[98] نبی ﷺ کا سایہ نہ تھا۔

[کتب خانہ مدینہ، صفحہ: 114]،[مکتبہ مدینہ لاہور، صفحہ: 843]،[خواجہ محمد اسلام لاہور، صفحہ: 120]

یہاں تبلیغی جماعت کی کتاب فضائلِ اعمال کے کچھ مسائل پر تبصرہ کریں گے:

[1] اس کتاب کا آغاز مولانا زکریا نے اس وقت کیا جب وہ دماغی کام کرنے کے قابل نہ تھے۔

یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں حق و باطل کو گڈ مڈ کر دیا گیا ہے۔

 [3] نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اتباع ہر شخص کو نہ کرنی چاہیے۔ (فضائلِ اعمال کی تلقین)

آیت سورۃ النساء (115) کے صریحاً خلاف ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کے طریقے پر چلنے کی سختی سے تاکید فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو اس راستے سے ہٹ جائے گا وہ دوزخی ہے۔ (البقرة:137)

[4] صحابی شافعی المذہب۔ (عجیب منطق) یاد رہے امام شافعی 150 ہجری میں پیدا ہوئے اور تقلید چوتھی صدی ہجری میں شروع ہوئی۔

[5] شہید کی بیوہ سے بغیر عدت دوسرا نکاح۔ (فضائلِ اعمال کا کارنامہ)

کوئی صحابی رضی اللہ عنہ ایسا نہیں کر سکتا، لہذا یہ جھوٹ ہے۔

[8] مولوی زکریا کے والد نے صرف دو سال کی عمر میں پاؤ پارہ حفظ کر لیا تھا۔

کیا یہ ممکن ہے؟

[10]،[12] پندرہ علوم میں مہارت کے بغیر قرآن کا بیان ممنوع ہے اور پندرھواں علم وہی ہے، جس کا شاید کوئی دعویدار نہ ہو۔

نصِ قرآنی کے خلاف ہے۔ (القمر: 17، 22، 32، 40) جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے قرآن کو سمجھنے میں آسان کر دیا ہے۔

[14] آٹھ قرآن روزانہ ختم۔ (فضائلِ اعمال کا ریکارڈ)

ناممکن بھی اور حدیثِ بخاری (5052، 5054) کے خلاف بھی۔

[19] گرتے پانی سے جھڑتے گناہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ دیکھ لیتے تھے۔ (فضائلِ اعمال کا دعویٰ)

◈ یہ صریحاً غلو ہے، رسولِ کائنات ﷺ کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان دیکھیے: [وَ مِمَّنۡ حَوۡلَکُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ مُنٰفِقُوۡنَ ؕ وَ مِنۡ اَہۡلِ الۡمَدِیۡنَۃِ مَرَدُوۡا عَلَی النِّفَاقِ ۟ لَا تَعۡلَمُہُمۡ ؕ نَحۡنُ نَعۡلَمُہُمۡ ؕ سَنُعَذِّبُہُمۡ مَّرَّتَیۡنِ ثُمَّ یُرَدُّوۡنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیۡمٍ]

اور تمھارے گرد و نواح کے بعض منافق ہیں اور بعض مدینہ والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، تم انھیں نہیں جانتے، ہم انھیں جانتے ہیں، ہم انھیں دوگنی سزا دیں گے، پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (التوبہ:101)

حالانکہ منافق آپ (ﷺ) کے سامنے نمازیں پڑھتے، آپ کے ساتھ سفر کرتے، آپ کی مجلس میں حاضر ہوتے تھے اور آپ کو معلوم نہ تھا کہ یہ منافق ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سورت ،،التوبہ،، فتح مکہ کے بعد 9 ہجری میں نازل ہوئی اور آپ کی وفات 10 ہجری میں ہوئی۔

[22] زندوں کا عمل مردوں پر پیش ہوتا ہے۔ (ایمان شکن دعویٰ)

محض باطل ہے۔

[30] دن بھر روزہ رات بھر تہجد۔ (بڑا بزرگ)

کیا ایسا عمل کرنے والا شخص امتِ محمدیہ سے خارج نہ ہوا؟ کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ کے عمل اور فرمان کے سراسر خلاف ہے۔

[34]،[78] ایک وضو سے بارہ دن ساری نمازیں۔

کیا ایسا عمل کرنے والا شخص امت محمدیہ سے خارج نہ ہوا؟ یہ عملی طور پر ناممکن ہے۔

[37]،[38]،[73] پچاس برس تک ایک وضو سے عشاء اور صبح کی نماز۔ کیا ایسا عمل کرنے والا شخص امت محمدیہ سے خارج نہ ہوا؟

[41] 1000 ہزار رکعت روزانہ (ریکارڈ)

ہر پڑھا لکھا نمازی جانتا ہے کہ نماز کی ایک رکعت پر اوسطاً سوا منٹ لگتا ہے۔ ایک ہزار رکعت پر بارہ سو پچاس منٹ یعنی اکیس گھنٹے صرف ہوئے، اس طرح باقی لوازمات کے لیے صرف تین گھنٹے بچے۔ کیا روزانہ کا یہ معمول ممکن ہے؟ کیا یہ سنت رسول ﷺ یا طریقہ صحابہ رضی اللہ عنہم ہے؟

[63] اللہ کو دیکھنے کا جھوٹا دعویٰ۔

محض باطل ہے۔

[66]،[70] بزرگوں کی اتباع کی تلقین۔

یاد رہے علماء اور بزرگوں کی غیر مشروط اطاعت حرام ہے

[88]شبلی پاگل اور یا محمد ﷺ کی پکار۔

پھر بریلوی صاحبان اور تبلیغی جماعت کی تعلیمات میں کیا فرق رہ گیا؟

[98] نبی ﷺ کا سایہ نہ تھا۔

پھر بریلوی صاحبان اور تبلیغی جماعت کی تعلیمات میں کیا فرق رہ گیا؟

رسول اللہ ﷺ کا سایہ مبارک:

بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ بشر نہیں بلکہ صرف نور ہیں، اسی لیے آپ کا سایہ نہیں، یہ بھی جھوٹ ہے۔ آؤ میں قرآن و سنت سے ثابت کرتا ہوں کہ آپ ﷺ کا سایہ تھا:

پہلی دلیل:

[وَ لِلّٰہِ یَسۡجُدُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّ کَرۡہًا وَّ ظِلٰلُہُمۡ بِالۡغُدُوِّ وَ الۡاٰصَالِ] اور اللہ کو ہر وہ چیز سجدہ کرتی ہے جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں، خوشی سے اور ناخوشی سے اور ان سب کے سائے بھی سجدہ کرتے ہیں، صبح و شام۔ (الرعد:15)

اس آیت میں فرمایا جو آسمان اور زمین میں ہے، تو رسول اللہ ﷺ بھی زمین ہی میں ہیں، لہذا آپ بھی اللہ کو سجدہ کرتے تھے اور آپ کا سایہ بھی تھا۔ قرآن سے آپ ﷺ کا سایہ ثابت ہوا۔

دوسری دلیل:

[اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اِلٰی مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنۡ شَیۡءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُہٗ عَنِ الۡیَمِیۡنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰہِ وَ ہُمۡ دٰخِرُوۡنَ] کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی چیز پیدا کی ہے سب کے سائے دائیں بائیں پھرتے ہوئے نہایت عاجزی سے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہیں۔ (النحل:48)

تمام مخلوقات کے سائے اس آیت میں ثابت ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ بھی مخلوق ہیں، لہذا آپ ﷺ کا سایہ بھی ہوا۔

تیسری دلیل:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھیں کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیمار ہو گیا۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس زائد اونٹ موجود تھا۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: زینب! یہ اونٹ سواری کے لیے صفیہ کو دے دو۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس یہودیہ کو دوں۔ (سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا یہودی خاندان سے مسلمان ہوئی تھیں) رسول اللہ ﷺ یہ سن کر ناراض ہو گئے اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے کلام ترک کر دیا۔ ذوالحجہ کے چند دن، ماہِ محرم، ماہِ صفر اور ربیع الاول کے کچھ دن گزر گئے، طویل بائیکاٹ سے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے خیال کیا کہ اب رسول اللہ ﷺ کو میری حاجت نہیں رہی۔ اپنا سامان اور چارپائی کو اٹھانا چاہا اور فرماتی ہیں: (فَبَيْنَمَا أَنَا يَوْمًا بِنِصْفِ النَّهَارِ إِذَا أَنَا بِظِلِّ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مُقْبِلٍ)

کہ میں اسی سوچ بچار میں بیٹھی تھی، دوپہر کا وقت تھا اچانک میں نے رسول اللہ ﷺ کا سایہ دیکھ لیا۔

[مسند أحمد: ح: 25516، 26780 وسنده صحيح في إسناده شميسة ووثقها يحيى بن معين تاريخ عثمان بن سعيد الدارمي ص: 131، ت 418۔ ومجمع الزوائد: 4/ 323]

احمد رضا خانی ترجمہ میں رسول اللہ ﷺ کے سایۂ مبارک کا ذکر موجود ہے لیکن حسبِ عادت تھوڑی سی گڑبڑ کے ساتھ۔

(دیکھیے ان کا ترجمہ مع تفسیر (النور:11،ف15)

چوتھی دلیل:

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم کو نبی ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی، نماز کے دوران آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا پھر پیچھے کر لیا۔ جب آپ ﷺ سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو آپ ﷺ سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کے بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں نے نماز کے دوران (کشفی حالت میں) جنت کو اپنے سامنے دیکھا تو اس کے میوے قریب ہی جھک رہے تھے۔ میں نے ارادہ کیا کہ ان میں سے کچھ میوے توڑ لوں تو جنت بحکم الہی غائب کر دی گئی۔ پھر میں نے جہنم کو دیکھا: ( ثم عرضت علي النار، بيني و بينكم حتى رأيت ظلي و ظلكم )

پھر مجھ پر جہنم کو میرے اور تمھارے درمیان پیش کیا گیا، یہاں تک کہ اس آگ کی روشنی میں میں نے اپنا سایہ اور تمھارا سایہ دیکھ لیا۔

[صحيح ابن خزيمة: ح: 892 و إسناده صحيح]،[المستدرك للحاكم: 2/ 356 و في النسخة الجديدة: 3/ 503، ح: 8308 و إسناده حسن لذاته]

قرآن و سنت کے دلائل سے میں نے ثابت کیا ہے کہ آپ ﷺ کا سایہ ہے۔

[91] منہ کالی کے پیٹ پر نبی ﷺ نے ہاتھ پھیرا۔ (استغفر اللہ)

یہ عصمتِ رسول (ﷺ) پر کھلا حملہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غیر محرم عورت کے پیٹ پر ہاتھ پھیرا۔ (نعوذ باللہ من ذلک!)

آخر میں تبلیغی جماعت کے ایک بہت بڑے عالم اور مبلغ کی کیسٹ کا حوالہ دینا بے جا نہ ہو گا۔ یہ کیسٹ وسیع پیمانے پر ملک میں تقسیم کی گئی ہے اور اس میں ان (ط۔ ج) کی ایک لمبی چوڑی تقریر ہے۔ جس میں وہ اور بہت سی چیزوں کے علاوہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ اپنے رب کے پاس گئے تو نور کے سب پردے ہٹ گئے اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ آمنے سامنے موجود تھے اور رسول اللہ (ﷺ) نے اپنے رب کا دیدار کیا۔ حالانکہ یہ بات قرآن مجید کے صریحاً خلاف ہے (الأنعام: 101 تا 103) اور حدیثِ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھی خلاف ہے، جس میں انھوں نے فرمایا: کہ جو شخص کہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا وہ شخص جھوٹا ہے۔ [بخاری، کتاب التفسير، سورة والنجم: 4855]

ہم تبلیغی جماعت والوں سے دست بستہ عرض کریں گے کہ قرآن کو بغور پڑھیں، بخاری و مسلم اور دیگر کتبِ احادیث بغور پڑھیں، حنفی فقہ کی مشہور کتابیں بغور پڑھیے، حقیقۃ الفقہ کتاب پڑھیے، علماء کا ایک بورڈ بنائیے جو قرآن و حدیث اور فقہ کی روشنی میں عقائد کی کتابیں لکھے۔ پھر تبلیغ کیجیے، شوق سے کیجیے، تبلیغی جماعت کے ہر رکن کو عقائد کی تعلیم دیں، تاکہ وہ عوام کو بتا سکیں۔